Baaghi TV

Blog

  • بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    بلوچستان کے معدنی منصوبے سے پیداوار شروع، بیرٹ، سیسہ اور جست کی برآمدات کا راستہ ہموار

    ‎اسلام آباد: پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بلوچستان میں بیرٹ منصوبے سے پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس منصوبے سے بیرٹ، سیسہ اور جست جیسی اہم معدنیات کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات متوقع ہیں۔
    ‎پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے مطابق کمپنی نے معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے 2004 میں اس منصوبے کی لیز حاصل کی تھی۔ طویل منصوبہ بندی، فنی جائزوں اور انتظامی مراحل کے بعد اب منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
    ‎پی پی ایل کے مطابق نومبر 2025 میں منصوبے کے معاہدے میں ترمیم کی گئی جس کے تحت حکومت بلوچستان کو بھی بیرٹ پراجیکٹ میں شراکت دار بنایا گیا۔ اس اقدام کو مقامی ترقی اور صوبائی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منصوبے کی منیجمنٹ اور تکنیکی مشاورت کی ذمہ داری جرمنی کی معروف کمپنی ڈی ایم ٹی کو سونپی گئی ہے، جو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق کان کنی اور پیداوار کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔
    ‎پی پی ایل کا کہنا ہے کہ خضدار اور نوکنڈی کے علاقوں میں بیرٹ، سیسہ اور جست کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف معدنیات کی ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات بڑھنے سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
    ‎کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے مقامی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے شعبے میں یہ پیش رفت مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری اور معدنی منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

  • ‎نجی جائیداد کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ٹیلی کام بل پر حکومتی وضاحت

    ‎نجی جائیداد کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ٹیلی کام بل پر حکومتی وضاحت

    ‎اسلام آباد: وزارت قانون و انصاف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں شہریوں کے نجی جائیداد کے حقوق، مالک کی رضامندی اور قانونی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے رائٹ آف وے شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاہم بعض قانونی شقوں میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
    ‎کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کسی بھی نجی زمین، عمارت یا جائیداد کے استعمال کے لیے مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ لازمی شرط ہوگا۔ کسی فرد، کمپنی یا نجی ادارے کی ملکیت میں موجود جائیداد تک رسائی یا اس کے استعمال کا کوئی اقدام رضامندی کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق قانون میں نجی زمین، نجی جائیداد، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی واضح تعریفیں شامل کی جائیں گی تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ زمین کے اوپر اور زیر زمین ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
    ‎کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ٹیلی کام ادارے اور کسی سرکاری یا رہائشی ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے، جو 45 دن کے اندر فیصلہ کرے گی۔ متاثرہ فریق کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔
    ‎وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے پالیسی مقاصد اور مجوزہ ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر حتمی مسودہ مزید غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    ‎وزارت نے زور دیا کہ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابل اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ شہریوں کے آئینی، قانونی اور ملکیتی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

  • غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانا نسل کشی کے ارادے کی علامت قرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ

    غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانا نسل کشی کے ارادے کی علامت قرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے واقعات اسرائیلی کارروائیوں کے ایک تشویشناک پہلو کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ طرزِ عمل فلسطینی عوام کو تباہ کرنے کے ارادے کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
    ‎منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور نفسیاتی صدمات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی فلسطینی بچے ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
    ‎اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بچوں کو حاصل تحفظ کے باوجود غزہ میں ان کی جانوں کو خطرات لاحق رہے اور جنگ بندی کے بعد بھی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
    ‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسلسل نشانہ بنانا ان عوامل میں شامل ہے جن کی بنیاد پر کمیشن اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن نے گزشتہ برس بھی اپنی ایک رپورٹ میں غزہ میں نسل کشی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو "پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
    ‎اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے بھی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے حماس کے حملوں، یرغمالیوں کے معاملے اور شہری علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی جیسے عوامل کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف الزامات سیاسی مقاصد کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔
    ‎یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال اور شہری ہلاکتوں کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث اور تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔

  • شدید گرمی پر کانفرنس بھی شدید گرمی کے باعث منسوخ

    ‎لندن: برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر نے معمولاتِ زندگی کو اس قدر متاثر کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی سے نمٹنے کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک اہم کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی۔
    ‎یہ تقریب لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) میں لندن کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران منعقد ہونا تھی، جہاں دنیا بھر کے ماہرین شدید گرمی کے اثرات اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔ تاہم منتظمین نے اعلان کیا کہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ریڈ ایکسٹریم ہیٹ وارننگ کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔
    ‎منتظمین کے مطابق شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی حالات کے پیش نظر شرکاء کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس مسئلے پر آگاہی اور حل تلاش کرنے کے لیے کانفرنس منعقد کی جا رہی تھی، وہی مسئلہ اس کی منسوخی کی وجہ بن گیا۔
    ‎دوسری جانب برطانوی محکمہ موسمیات نے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ میں مزید توسیع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق غیر معمولی حد تک گرم اور مرطوب موسم کا سلسلہ کل رات تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
    ‎ریڈ وارننگ لندن، جنوب مشرقی اور جنوب مغربی انگلینڈ، ویلز، ویسٹ مڈلینڈز، ایسٹ مڈلینڈز اور مشرقی انگلینڈ کے علاقوں کے لیے جاری کی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی صحت عامہ، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سرگرمیوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • برطانیہ میں گرج چمک اور  طوفان کی ییلو وارننگ جاری

    برطانیہ میں گرج چمک اور طوفان کی ییلو وارننگ جاری

    ‎لندن: برطانیہ میں شدید گرمی کے بعد محکمہ موسمیات نے کل کے لیے گرج چمک اور طوفانی بارشوں کی ییلو وارننگ جاری کر دی ہے۔ وارننگ کے تحت جنوب مغربی انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شام کے اوقات میں تیز بارش، آسمانی بجلی اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ گرمی کی شدید لہر کے بعد موسم میں اچانک تبدیلی متوقع ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں طوفانی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موسمی نظام پیر کی شب پیش آنے والے طوفان جیسا ہو سکتا ہے، جب ملک بھر میں تقریباً 30 ہزار آسمانی بجلی کی چمکیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
    ‎حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث بعض عمارتوں اور عارضی ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے، تیز بارش اور ژالہ باری کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال سے متعلق تازہ ترین ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت بعض علاقوں میں معمولات زندگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اس لیے عوام کو پیشگی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔

  • ‎عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں

    ‎عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں

    ‎اسلام آباد: وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے عراق جانے والے پاکستانی زائرین اور زیارت گروپ آرگنائزرز کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے عراقی حکومت کی نئی ویزا شرائط پر سختی سے عمل درآمد کی تاکید کی ہے۔
    ‎وزارت کے مطابق عراقی حکام نے زیارت ویزا کے غلط استعمال، غیر قانونی قیام اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نئے ضوابط نافذ کیے ہیں۔ ان ہدایات کے تحت فیملی ویزا پر اکیلے سفر کرنے والے افراد کو عراق میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎نئی شرائط کے مطابق 50 سال سے کم عمر ایسے مرد زائرین جو تنہا سفر کر رہے ہوں، انہیں بھی عراق میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ مزید برآں اگر کسی زائر کا ویزا مسترد ہو جائے یا اسے عراق میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو ادا کی گئی ویزا فیس واپس نہیں کی جائے گی۔
    ‎وزارت نے واضح کیا ہے کہ عاشورہ اور اربعین کے لیے ایک ہی ویزا استعمال نہیں کیا جا سکتا اور ہر مذہبی سفر کے لیے الگ ویزا درکار ہوگا۔ عراقی ویزا صرف 30 روز کے لیے مؤثر ہوگا جبکہ مقررہ مدت سے زائد قیام کی صورت میں جرمانہ، ملک بدری اور مستقبل میں عراق میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق عراق پہنچنے پر پاکستانی زائرین کے پاسپورٹ عراقی امیگریشن حکام کی تحویل میں رہیں گے اور واپسی کے وقت انہیں واپس کیے جائیں گے۔
    ‎وزارت مذہبی امور نے تمام زائرین اور ٹور آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل نئی شرائط سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچنے کے لیے عراقی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔

  • ایران کا جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار، حتمی معاہدے سے مشروط قرار

    ایران کا جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار، حتمی معاہدے سے مشروط قرار

    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جن جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے یا جوہری مواد سے متعلق معاملات ہیں، ان تک رسائی کے حوالے سے کوئی موجودہ منصوبہ طے نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ تمام امور صرف ایک جامع اور حتمی معاہدے کے فریم ورک میں ہی زیر غور آئیں گے۔
    ‎ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری تنصیبات کے معائنے اور نگرانی سے متعلق معاملات کا حل اس وقت ممکن ہوگا جب دوسری جانب سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے معائنہ کار ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔ تاہم ایران کے تازہ بیان نے اس حوالے سے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
    ‎امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مستقل بنیادوں پر وسیع جوہری معائنوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ تہران آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔
    ‎تاہم ایرانی حکام کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری معائنوں اور نگرانی کے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان حتمی مذاکرات کا اہم اور متنازع حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر اور معائنہ کاروں کی رسائی مستقبل کے کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے بنیادی چیلنج بنے رہیں گے۔

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ :ایران امریکا امن معاہدے پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ :ایران امریکا امن معاہدے پر تبادلہ خیال

    ‎اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن عمل، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎گفتگو کے آغاز میں اسحاق ڈار نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی 105 ویں سالگرہ پر وانگ یی اور چینی قیادت کو مبارکباد پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے ایران امریکا اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
    ‎اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور نگرانی و تنازعات کے حل سے متعلق تین الگ الگ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں، جن کا مقصد 60 روز کے اندر فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
    ‎نائب وزیراعظم نے امن عمل کے دوران چین کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی امن منصوبے اور پاکستان چین پانچ نکاتی امن اقدام کو خصوصی اہمیت دی۔
    ‎چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستانی قیادت اور اسحاق ڈار کو کامیاب سفارتی ثالثی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، فعال ثالثی اور امن کے فروغ کے لیے کردار کو سراہا۔
    ‎وانگ یی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتا رہے گا۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین خطے میں پائیدار امن، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے مل کر کام کریں گے۔

  • مراکش غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا

    مراکش غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا

    ‎رباط/تل ابیب: مراکش غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق مراکشی فوجی افسران 18 جون کو جنوبی اسرائیل میں قائم بین الاقوامی استحام فورس کے ہیڈکوارٹر پہنچ گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مراکش نے رواں سال فروری میں غزہ میں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب عملی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مراکشی حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد غزہ میں استحکام، امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی جلد تعیناتی کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور اگر مستقبل میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو مختلف طاقتور ممالک پر مشتمل اتحاد رضاکارانہ طور پر مدد کے لیے تیار ہوگا۔
    ‎غزہ میں بین الاقوامی فورس کی ممکنہ تعیناتی کو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر فلسطینی گروپوں اور خطے کے دیگر ممالک کا ردعمل ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق مراکش کی شمولیت عرب دنیا میں ایک نئی سفارتی اور سیکیورٹی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچے سے متعلق سوالات بھی بدستور موجود ہیں۔

  • پی ٹی آئی نے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کا چیلنج قبول کر لیا

    پی ٹی آئی نے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کا چیلنج قبول کر لیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف 2018 ہی نہیں بلکہ 2014 اور 2024 کے انتخابات کی بھی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
    وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ جماعت 2018 کے انتخابات کی شفاف تحقیقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقیقت سامنے لانی ہے تو تمام متنازع انتخابات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ قوم کے سامنے اصل حقائق آسکیں۔
    ‎پی ٹی آئی کے مطابق بانی چیئرمین عمران خان نے 2014 میں صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور جب ان حلقوں کی جانچ پڑتال ہوئی تو متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے وسیع تحقیقات سے گریز کیا۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے ہر حلقہ کھولنے کی پیشکش کی تھی اور اپوزیشن جس حلقے پر اعتراض کرتی، اس کی جانچ کے لیے حکومت تیار تھی۔ پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے انتخابات کے دوران بھی انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھے، سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں ہوئیں اور انتخابی عمل پر دباؤ ڈالنے کی شکایات سامنے آئیں۔
    ‎ترجمان نے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو 2014، 2018 اور 2024 کے انتخابات کا تفصیلی جائزہ لے اور اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔