Baaghi TV

Blog

  • جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل میں مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی.

    سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    فیصلے کے مطابق مجرم نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر سوئے ہوئے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا اور اپنے ستر سالہ والد غلام محمد کو بے دردی سے قتل کر دیا، جبکہ مداخلت کرنے پر سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی زخمی کیا،چار زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ ان بیانات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں، جبکہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھ چکا تھا۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونےاور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونےاور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن فی اونس سونے کی قیمت میں 16ڈالر کی کمی ریکارڈ ہونے سے نئی عالمی قیمت 4ہزار 730ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی مقامی صرافہ بازاروں آج پیر کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1600روپے کم ہونے کے نتیجے میں 4لاکھ 95ہزار 362روپے فی تولہ کی سطح پر آگئی ہےاسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 1371روپے گھٹ کر 4لاکھ 24ہزار 693روپے ہو گئی۔

    مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 130 روپے کی کمی سے 7ہزار 934 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 111روپے کی کمی سے 6ہزار 802روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    ہارورڈ میں پاکستان کا بڑا ایونٹ،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی

    امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس 2026 منعقد کی گئی-

    ہارورڈ یونیورسٹی نے 12 اپریل 2026 کو پاکستان کانفرنس-2026 کے عنوان سے ایک بڑے سمپوزیم کی میزبانی کی، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، حنا ربانی کھر، معید یوسف، اسماء شیرازی، حسن شہریار یاسین، اور دیگر کئی شخصیات نے شرکت کی ممتاز غیر ملکی مندوبین میں مائیکل کوگل مین، کرس وان ہولن اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز شامل تھےپینل مباحثوں میں معیشت، خارجہ پالیسی، ڈیجیٹل تبدیلی، ثقافت، اختراع، غیر ملکی پاکستانیوں کی تخلیقی شراکت، ہنر، تعلیم، صحت، میڈیا اور بہت سے دیگر موضوعات شامل تھے۔

    700 سے زائد شرکاء، 50 مقررین، اور 17 پینلز کے ساتھ، یہ کانفرنس پاکستان کی رفتار میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہےایران میں امریکہ/اسرائیل جنگ میں پاکستان کی ثالثی کو زبردست پذیرائی ملی پاکستان کی مستقل مزاجی پر مبنی خارجہ پالیسی کو سراہا گیا پینلز نے ہندوستان کی بالادستی کی خارجہ پالیسی کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں حقیقی رکاوٹ کے طور پر شناخت کیا۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے درمیان علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، بھارت کی بالادستی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی امن کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔

    سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور علاقائی امن کے لیے اس کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ بندی کی کوششوں اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کی متوازن، عملی اور مستقبل کی طرف نظر آنے والی خارجہ پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔

    رضا بکر نے پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کے سیشن کو ماڈریٹ کیا جس میں مقررین پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، ماہر اقتصادیات عاطف میاں اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر درون آسموگلو شامل تھے۔ پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا گیا پینل نے اتفاق کیا کہ مسلسل اصلاحات نے اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی تھی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے معاشی نقطہ نظر، اصلاحات کی رفتار اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کا خاکہ پیش کیا، پاکستان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حالیہ سفارتی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کی لچک اور ترقی کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔

    امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے پاکستان کی صلاحیت کی تعریف کی اور علاقائی کشیدگی میں ثالثی کے کردار کو سراہا عاطف میاں نے پاکستان کے اقتصادی نقطہ نظر پر سیشن کے دوران ساختی اصلاحات اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا امجد ثاقب نے انٹرپرائز اور کمیونٹی سے چلنے والی ترقی پر بات چیت کے دوران جامع ترقی اور سماجی اختراع پر زور دیا۔

    پاکستان کانفرنس کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت اور کلیدی ملک قرار دے دیا، کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے،قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں انسانی صلاحیتیں اور نوجوان نسل سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    سفیر نے محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کو عالمی محور بننے کی پیشگوئی کی تھی جو آج حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے،پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کے باعث اسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ملا، جو عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، تاہم قوم اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

    رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگاانہوں نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

  • نرگس کے ڈانس سے متعلق بیان پر ڈاکٹر عمر عادل کی وضاحت

    نرگس کے ڈانس سے متعلق بیان پر ڈاکٹر عمر عادل کی وضاحت

    ڈاکٹر عمر عادل حالیہ دنوں میں وہ اداکارہ نرگس کے حوالے سے اپنے بیان کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں،میزبان و اداکارہ فضا علی کے شو میں انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت پیش کی۔

    میزبان فضا علی نے شو کے دوران ڈاکٹر عمر عادل سے نرگس کے رقص کو روحانیت سے جوڑنے کے حوالے سے سوال کیا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پڑھے لکھے شخص کی جانب سے ایسا بیان کیسے دیا جا سکتا ہے اس پر ڈاکٹر عمر عادل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک مہذب انسان ہیں اور ان کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تھیٹر میں ہونے والے تمام رقص درست ہیں ان کے مطابق وہ صرف نرگس کے حوالے سے بات کر رہے تھے اور انہوں نے اس کے انداز میں روحانیت محسوس کی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ہر رنگ اور ہر وجود میں روحانیت دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر کوئی شخص ایسا محسوس نہیں کر سکتا تو یہ اس کی سوچ کا فرق ہے اور آپ نے وہ سنا جو آپ سننا چاہتی ہیں، میں تو اپنی بات پر قائم ہوں کہ میں نے جو پرفارمنس دیکھی وہ عمدہ تھیں اور مجھے خوبصورت چیز دیکھ کر خدا یاد آتا ہے، رقص کرنے والی خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اصل ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوتی ہے جو ایسے پروگرامز میں شرکت کرتے ہیں مجھے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے اور میں نے صرف اپنی ذاتی رائے پیش کی ہے۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر عمر عادل نے نرگس کی پرفارمنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہتے ہیں ڈانس میں فحاشی نہیں ہوتی آپ کی نظر میں فحاشی ہو گی میں بہت گناہ گار انسان ہوں لیکن نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنسو آ جاتے تھے وہ پرفارمنس ہی اس قسم کی دیتی تھیں، حسین چیز میں رب دکھنا چاہیے، ان کے گیتوں کے بول جو ہمیں سمجھ آتے ہیں آپ اپنی توجہ درست سمت میں رکھیں، جس پر کئی صارفین نے ڈاکٹر عمر عادل کے بیان پر تنقید کی۔

  • کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران

    ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں، ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا دفاع ان کا ایک فطری اور قانونی فریضہ ہے، اور اسی بنیاد پر ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا مکمل حق رکھتا ہےایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔

    ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی دشمن کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی، ایران آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے ایک مستقل اور سخت نظام نافذ کرے گا۔

    مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ سمندری قزاقی کے مترادف ہے اگر ایران کی بندرگاہوں اور سمندری سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ایران کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

  • آسٹریلوی فوج کی 125 سالہ تاریخ میں  پہلی بار خاتون بطور آرمی چیف نامزد

    آسٹریلوی فوج کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون بطور آرمی چیف نامزد

    آسٹریلیا نے تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو اپنی فوج کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوئل جولائی میں آرمی چیف مقرر کی جائیں گی،وزیر اعظم انتھونی البانی نے ایک بیان میں کہا کہ جولائی سے ہمارے پاس آسٹریلوی فوج کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون آرمی چیف ہوں گی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے سوزن کی تقرری کو ایک "بڑا تاریخی لمحہ” قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ سوزن کی کامیابی ان خواتین کے لیے بہت اہم ہو گی جو آج آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور ان خواتین کے لیے جو مستقبل میں آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خدمات انجام دینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

    سوزن لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹیورٹ کی جگہ لیں گی،سوزن کی تقرری اس وقت ہوئی ہے جب آسٹریلیا کی فوج اپنی صفوں میں خواتین افسران کی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ آسٹریلیو فوج کو منظم جنسی ہراسانی اور امتیازی سلوک کے الزامات کی لہر کا بھی سامنا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں  پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہاز آمنے سامنے،ویڈیو

    آبنائے ہرمز سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے آمنے سامنے آںے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں کو سخت فوجی وارننگ دے کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے گزر گئے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی جانب سے نشر کی گئی فوٹیج میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ اور امریکی نیوی کے درمیان ریڈیو پر ہونے والی گفتگو دکھائی گئی ہے اس ویڈیو اور آڈیو میں سمندر میں کشیدہ ماحول کی عکاسی کی گئی، جس میں ایرانی فورسز کی جانب سے بار بار دی گئی وارننگ کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نیوی نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک امریکی میزائل ڈسٹرائر کو فوری طور پر راستہ بدلنے اور بحر ہند کی جانب واپس جانے کا حکم دیا آڈیو میں ایک ایرانی اہلکار کو کہتے سنا گیا کہ آپ کو فوراً اپنا راستہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے جاری کردہ آڈیو میں امریکی جہاز کی طرف سے محتاط مگر واضح جواب بھی سنائی دیتا ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ وارننگ صرف ایک جہاز تک محدود نہیں تھی بلکہ خلیج عمان میں موجود تمام جہازوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ ایرانی جنگی جہازوں سے کم از کم 10 میل کا فاصلہ رکھیں، بصورت دیگر بغیر کسی مزید اطلاع کے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اس دوران بار بار حتمی وارننگ بھی جاری کی اور کہا کہ اگر احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • دنیا کا معمر ترین کبوتر انتقال کر گیا

    دنیا کا معمر ترین کبوتر انتقال کر گیا

    دنیا کے معمر ترین پالتو کبوتروں میں شمار ہونے والا سفید کبوتر ’شوگر‘ 44 سال 72 دن کی عمر میں انتقال کر گیا –

    رپورٹس کے مطابق “شوگر” نامی یہ کبوتر اپنے مالک کے ساتھ کئی دہائیوں تک رہا اور غیر معمولی عمر پانے کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا، عام طور پر کبوتروں اور فاختاؤں کی اوسط عمر تقریباً 20 سال ہوتی ہے تاہم شوگر نے اس سے دگنی سے بھی زیادہ عمر پائی،23 جون 1981 کو امریکا میں پیدا ہونے والا شوگر اپنے 77 سالہ مالک ڈیوین اورینڈر کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتا اور ان کے ساتھ ٹی وی دیکھتا اور موسیقی سنتا تھا۔

    مالک کے مطابق شوگر نہایت خوش اور مطمئن رہتا تھا اور دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی یہاں تک کہ جب ڈیوین اسپتال گئے تو شوگر نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بے چین رہا جبکہ واپسی پر دوبارہ معمول پر آ گیا۔

    شوگر نے قید میں سب سے زیادہ عمر پانے والے کبوتر کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا جبکہ شوگر نے یہ ٹائٹل جرمن فاختہ ‘میتھوسیلا’ سے 15 سال سے زائد کے فرق سے پیچھے چھوڑ دیااگرچہ مالک کی خواہش تھی کہ وہ 50 سال کی عمر تک پہنچے اور اس کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے تاہم شوگر ایسٹر کے روز انتقال کر گیا وہ اپنے مالک اور دنیا بھر کے لوگوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا شوگر کی عمر پر سوشل میڈیا صارفین حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں اور مالک کے ساتھ اس کی محبت کو سراہا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسی طرح 2025 میں ماسکو کے چڑیا گھر میں ایک لمبی عمر پانے والا ٹیپر بھی 37 سال کی عمر میں ہلاک ہوا تھا، جبکہ عام طور پر ایسے جانور جنگل میں کم عمر پاتے ہیں۔

  • محسن نقوی کا  اسلام آباد مذاکرات کے دوران سیکیورٹی  اداروں کی کارکردگی پر خراج تحسین

    محسن نقوی کا اسلام آباد مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر خراج تحسین

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اور سول اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے-

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی، پنجاب رینجرز، پنجاب پولیس، موٹروے پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اسلام آباد انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، باہمی تعاون اور چوکس رویے کا مظاہرہ کیا، ان اداروں کے مؤثر اور مربوط سیکیور ٹی انتظامات کی بدولت مذاکرات کے دوران ایک محفوظ، پرامن اور منظم ماحول یقینی بنایا گیا، جو ایک اہم قومی سرگرمی کے لیے نہایت ضروری تھا، قوم کو اپنے سیکیورٹی اداروں کی محنت، لگن اور انتھک خدمات پر فخر ہے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں

  • یوگنڈا کے آرمی چیف کا ترکیہ سے  عجیب و غریب انوکھا مطالبہ

    یوگنڈا کے آرمی چیف کا ترکیہ سے عجیب و غریب انوکھا مطالبہ

    افریقی ملک یوگنڈا کے صدر کے صاحبزادے اور فوج کے سربراہ جنرل مہوزی کائنرو گابا نے ترکیہ سےعجیب و غریب مطالبہ کر کے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری اپنے بیانات میں یوگنڈا کے آرمی چیف جنرل مہوزی نے الزام عائد کیا کہ ترکیہ صومالیہ میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے منصوبوں سے خطیر منافع کما رہا ہے، جبکہ ان منصوبوں کو گزشتہ کئی سالوں سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھاری قیمت یوگنڈا کی فوج ادا کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے یوگنڈا کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا گیا، لہٰذا ترکیہ کو اس کا مالی معاوضہ ادا کرنا چاہیے،مالی مطالبات کے ساتھ ساتھ جنرل مہوزی نے ایک غیر معمولی شرط بھی رکھی کہ ترکیہ انہیں ایک خوبصورت دلہن کا رشتہ دے، بصورتِ دیگر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے یوگنڈا کے شہریوں کو ترکیہ کا سفر کرنے سے بھی روک دیا ساتھ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ترکیہ نے 30 دن کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو یوگنڈا ان کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دے گا۔

    واضح رہے کہ جنرل مہوزی اپنے بے باک اور متنازع بیانات کے لیے مشہور ہیں،وہ اس سے قبل اسرائیل کی حمایت میں جنگ میں کودنے کی دھمکی ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے اپنی کمان میں یوگنڈا کے ایک لاکھ فوجی اسرائیل بھیجنے کے لیے تیار ہیں اور امریکہ سے بھاری رقم کے مطالبات بھی کرچکے ہیں –

    اس سے قبل اکتوبر 2022 میں انہوں نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے شادی کے بدلے میں 100 نایاب گائیں دینے کی بھی پیشکش کی تھی، جنہیں انہوں نے دنیا کی خوبصورت ترین گائیں قرار دیا تھا حالیہ ایران-امریکا مذاکرات سے ایک روز قبل انہوں نے بیان جاری کیا کہ جس میں انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ انتظار میں ہیں، ایران ان کےساتھ جلد از جلد امن معاہدہ کرے،اس پوسٹ کے سامنے کے آنے کے بعد دیگر ’ایکس‘ صارفین کے علاوہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں ایرانی سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا پر ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق یوگنڈا کی افواج گزشتہ دو دہائیوں سے صومالیہ میں عسکریت پسند گروپ ‘الشباب’ کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اور جنرل مہوزی کا حالیہ بیان اسی تناظر میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی معاشی مداخلت کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔