اسلام آباد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مون سون سیزن اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ادویات اور طبی سامان کی بڑی کھیپ فراہم کر دی ہے، جس سے تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار افراد مستفید ہو سکیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کے مطابق ادویات اور طبی سامان پر مشتمل 9 ٹرک ملک کے مختلف علاقوں کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ امدادی سامان بالخصوص سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں استعمال کیا جائے گا تاکہ متاثرہ آبادی کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ترجمان نے بتایا کہ فراہم کی جانے والی کھیپ میں اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات، ڈرپ بوتلیں، بلڈ پریشر اور الرجی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے آئی پی سی کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مون سون کے دوران پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ملیریا، ڈینگی اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے امراض کی تشخیصی کٹس بھی پاکستان کے حوالے کی گئی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر طبی تیاریوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ طبی امداد پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور قدرتی آفات کے دوران عوام کو ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Blog
-

عالمی ادارۂ صحت کی پاکستان کو ادویات کی بڑی کھیپ
-

حزب اللہ نے مارچ سے اب تک اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد حملے کیے، اسرائیلی وزیر خارجہ
تل ابیب: اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ سے اب تک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 7 ہزار سے زائد راکٹ، میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔
تل ابیب میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گدعون ساعر نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان چند سرحدی معاملات کے علاوہ کوئی بڑا تنازع موجود نہیں، اور ان مسائل کو مختصر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کو اسرائیل اور لبنان دونوں کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم نے مارچ کے آغاز میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔ ان کے مطابق حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں راکٹ حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر کسی بھی ملک کے شہروں پر مسلسل راکٹ اور ڈرون حملے کیے جائیں تو وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد اپنے شہریوں کی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں استحکام کی بحالی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ مذاکرات میں سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی معاملات اور حزب اللہ کی سرگرمیوں سمیت مختلف امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ -

لاہور: گاڑی سے ملنے والی لاش کا معمہ حل، واقعہ خودکشی نکلا
لاہور: لاہور کے علاقے ڈیفنس میں دو روز قبل سڑک کنارے کھڑی گاڑی سے ملنے والی لاش کے معاملے کو پولیس نے حل کر لیا ہے۔ تحقیقات کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی عادل کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خودکشی کی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کو مشکوک قرار دے کر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی گئی تھیں، تاہم شواہد اور تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ متوفی خاندانی تنازعات اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
پولیس نے بتایا کہ گاڑی سے ایک پولیس وردی بھی برآمد ہوئی تھی، جس کے باعث کیس نے مزید توجہ حاصل کی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ برآمد ہونے والی وردی سب انسپکٹر طاہر کی تھی اور متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ڈیفنس کے علاقے میں سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی سے لاش ملنے پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ اب تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔ -

امیرِ قطر کا وزیراعظم شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہا
اسلام آباد: قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تاریخی معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خوشگوار گفتگو میں امیرِ قطر نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے قطر کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کی کامیابی میں قطر کی مسلسل حمایت انتہائی اہم رہی۔ انہوں نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی اور اسٹریٹجک کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن کی کاوشوں سے مذاکراتی عمل کو کامیابی ملی۔
دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکراتی عمل کی مثبت رفتار برقرار رہنی چاہیے تاکہ مستقل اور کامیاب نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہوگا۔
گفتگو کے دوران امیرِ قطر نے راس لفان انڈسٹریل سٹی کی برزان گیس تنصیب میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے قطر میں مقیم تین لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی میزبانی اور ان کی فلاح کے لیے قطری حکومت کے اقدامات کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال دوحہ کے اپنے دوروں کو یاد کرتے ہوئے امیرِ قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ جواب میں شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے رواں سال پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ دوطرفہ تعاون اور علاقائی صورتحال پر مزید بات چیت کی جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ -

حج 2026، وزیراعظم شہباز شریف کا ایوارڈ یافتہ پاکستانی منتظمین کو خراج تحسین
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حج 2026 کے انتظامات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے سرکاری و نجی شعبے کے منتظمین سے ملاقات کی اور سعودی حکومت کی جانب سے ملنے والے لبیتم ایکسی لینس ایوارڈز پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستانی نجی شعبے کے تین حج آرگنائزرز نے شاندار خدمات کے باعث سعودی عرب کا معتبر لبیتم ایکسی لینس ایوارڈ حاصل کیا۔ محمد عفان ذیشان کے المعراج آرگنائزر نے پہلی، محمد شاہد رفیق کے ابراہیم آرگنائزر نے دوسری جبکہ زعیم اختر کے الفتح آرگنائزر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بریفنگ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سمرو کو بھی حج 2026 کے دوران غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں لبیتم ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام منتظمین اور ڈی جی حج کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے دیا گیا یہ اعزاز پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے فخر کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حج 2026 کے دوران پاکستانی عازمین کو فراہم کی جانے والی معیاری سہولیات اور بہترین انتظامات کا اعتراف ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں حج انتظامات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، جو پوری قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خدمت، محنت اور دیانت داری ہی وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو عظیم بناتے ہیں۔
شہباز شریف نے منتظمین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عازمین حج کی خدمت کے ذریعے انہوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برس حج انتظامات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور پاکستان مزید بین الاقوامی اعزازات حاصل کرے گا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا، ڈی جی حج عبدالوہاب سمرو اور ایوارڈ یافتہ نجی حج منتظمین بھی شریک تھے۔ -

لیبیا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
راولپنڈی: لیبیا کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور فوجی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی جی ایچ کیو آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور فوجی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ دونوں فریقین نے پیشہ ورانہ فوجی تربیت، سیکیورٹی تعاون اور دفاعی شعبے میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج خطے میں امن، استحکام اور دوست ممالک کے ساتھ تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
لیبیا کے اعلیٰ فوجی عہدیدار نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ملاقات کو پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعلقات کے فروغ اور فوجی تعاون میں مزید پیش رفت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ -

شمالی کوریا بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرے گا، کم جونگ اُن کا اعلان
پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے اور مزید بڑے جنگی جہاز تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس سے ملک کی فوجی صلاحیتوں میں مزید اضافے کے منصوبوں کا اشارہ ملتا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے مغربی بندرگاہی شہر نامفو میں 5 ہزار ٹن وزنی جنگی جہاز "چوئے ہیون” کی باضابطہ شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحری بیڑے کو جوہری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ایک اسٹریٹجک پالیسی ہے، جس کا مقصد ملک کی دفاعی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ نیا جنگی جہاز ملک کے جدید ترین اور طاقتور ہتھیاروں سے لیس ہے۔ کم جونگ اُن اس جہاز سے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی ایک اور بڑا ڈسٹرائر "کانگ کون” بھی بحریہ میں شامل کیا جائے گا، جبکہ 10 ہزار ٹن وزنی اسٹریٹجک جنگی جہازوں کی تیاری کا منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بڑے جنگی جہازوں کی تیاری شمالی کوریا کی بحری قوت کو جنوبی کوریا کے قریب لا سکتی ہے اور اسے خطے میں مزید مؤثر سمندری طاقت کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔
شمالی کوریا خود کو ایک "ناقابل واپسی جوہری ریاست” قرار دیتا ہے اور اس عسکری توسیع کو امریکا اور جنوبی کوریا کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ کم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور سیئول کی مشترکہ فوجی سرگرمیوں نے خطے کو جوہری تصادم کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔
واضح رہے کہ کورین جزیرہ نما آج بھی تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہے کیونکہ1950 سے 1953 کی کوریا جنگ کسی امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔ شمالی کوریا کے حالیہ اقدامات نے ایک بار پھر خطے میں سیکیورٹی اور استحکام سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ -

لاہور میں خواتین کو بلیک میل کرنے والا جعلی عامل گرفتار
لاہور: لاہور میں خواتین کو بلیک میل کرنے اور جعلی روحانی عملیات کے ذریعے دھوکہ دہی میں ملوث ایک مبینہ جعلی عامل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزم کے خلاف تحقیقات کے دوران اہم شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم خواتین کو مختلف مسائل کے حل، روحانی علاج اور عملیات کے نام پر اپنے جال میں پھنساتا تھا، جس کے بعد انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے 40 خواتین کا ذاتی ڈیٹا برآمد ہوا ہے، جبکہ 763 قابل اعتراض ویڈیوزاور 1338 تصاویر بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔ ان تمام مواد کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف سائبر کرائم، بلیک میلنگ اور دھوکہ دہی سمیت مختلف دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
حکام نے شہریوں، خصوصاً خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نام نہاد عاملوں، جعلی پیروں اور روحانی علاج کے دعویدار افراد سے محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور متاثرہ خواتین کی شناخت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ -

ایل پی جی مہنگی ہوتے ہی منافع خور سرگرم
کراچی: ایل پی جی کی سرکاری قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں منافع خور مافیا متحرک ہو گیا ہے اور سرکاری نرخ 306 روپے 76 پیسے فی کلو کے بجائے گیس 400 روپے فی کلو سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی نئی قیمت مقرر کی تھی، تاہم مختلف شہروں میں دکانداروں اور ڈسٹری بیوٹرز نے سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال نے پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً کراچی میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں گھریلو صارفین ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف ایل پی جی کی قیمتیں ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
مہنگی ایل پی جی کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ رکشا ڈرائیورز، چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے ان کی آمدنی اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عوام کا مؤقف ہے کہ کھلے عام منافع خوری کے باوجود مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی، جس سے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع کمانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں پر سخت نگرانی کی جائے، سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور منافع خور عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ -

امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی سفارتی کامیابی، اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان نے نہایت فعال، مؤثر اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے مسلسل رابطے رکھے اور سفارتی عمل کی قیادت کی۔ ان کی کوششوں کی بدولت مذاکراتی عمل آگے بڑھا اور معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے چھ مختلف مراحل پر مشتمل پیچیدہ مذاکرات کے دوران مکمل رازداری برقرار رکھی اور ابتدائی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو کامیابی سے حتمی شکل دی۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس سفارتی معلومات کو انتہائی محدود دائرے میں رکھا گیا اور معاہدے کی تکمیل تک انہیں قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان واحد مسلم ملک تھا جس نے فوری طور پر اس کارروائی کی مذمت کی، جس کے بعد پس پردہ سفارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔ بحران کے دوران پاکستانی حکام نے دنیا بھر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ 152 سفارتی رابطے کیے تاکہ تمام فریقین کو اعتماد میں رکھا جا سکے۔
وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی بار ایسا موقع آیا جب سفارتی عمل ناکامی کے قریب پہنچ گیا، خصوصاً ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی حملوں کے بعد صورتحال انتہائی حساس ہو گئی تھی۔ ایسے وقت میں پاکستانی سفارت کاروں نے فوری طور پر ایرانی قیادت سے رابطہ کیا اور مزید فوجی کارروائی سے گریز کی درخواست کی تاکہ مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا نتیجہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں سامنے آیا، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 47 برس بعد پہلی براہ راست اعلیٰ سطحی ملاقات کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد علاقائی کشیدگی، جوہری امور اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوا۔
اسحاق ڈار نے صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی جانب سے فراہم کی گئی مالی معاونت کو قومی دفاع، سیکیورٹی اور دیگر اہم وفاقی ذمہ داریوں پر مؤثر انداز میں خرچ کیا جائے گا۔