Baaghi TV

Blog

  • ‎صابری سسٹرز کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں عالمی اعزاز مل گیا

    ‎صابری سسٹرز کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں عالمی اعزاز مل گیا

    ‎نیویارک: پاکستان کی معروف قوالی جوڑی صابری سسٹرز کو نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹی فائے کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر نمایاں کیا گیا ہے، جو پاکستانی موسیقی اور خواتین فنکاروں کے لیے ایک بڑا عالمی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ اعزاز اسپاٹی فائے کے ایکول پروگرام کے تحت دیا گیا، جس کا مقصد دنیا بھر کی باصلاحیت خواتین فنکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اور ان کی فنی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ صابری سسٹرز کی تصویر 17 جون کو ٹائمز اسکوائر کے ڈیجیٹل بل بورڈ پر آویزاں کی گئی۔
    ‎انعمتہ صابری اور سمن صابری پر مشتمل یہ جوڑی پاکستان کے معروف صابری گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، جسے برصغیر میں قوالی کی روایت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ دونوں فنکار مرحوم امجد صابری کی بھتیجیاں ہیں اور ان کے خاندان نے کئی دہائیوں سے قوالی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
    ‎صابری سسٹرز کو 2017 میں اپنے مرحوم چچا امجد صابری کو خراج عقیدت پیش کرنے والے کلام کے ذریعے خاص شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے عاطف اسلم، عاصم اظہر اور فرحان سعید سمیت متعدد معروف گلوکاروں کے ساتھ بھی کامیاب پراجیکٹس کیے۔
    ‎اس اعزاز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صابری سسٹرز نے کہا کہ اسپاٹی فائے کے ایکول پروگرام میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عابدہ پروین اور صنم ماروی جیسی عظیم فنکاراؤں کے نقش قدم پر چلنا ان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔
    ‎دونوں بہنیں اس وقت اپنے پہلے برطانیہ کے موسیقی دورے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جہاں وہ روایتی قوالی اور جدید موسیقی کا منفرد امتزاج پیش کریں گی۔

  • پشاور : بڈھ بیر میں 15 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی

    پشاور : بڈھ بیر میں 15 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی

    پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 15 سالہ کمسن طالبہ کو مبینہ طور پر درندگی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
    رپورٹ کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون حرکت میں آیا اور متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقامی تھانے میں ملزمان کے خلاف باقاعدہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کے والد کے بیان کی روشنی میں ایف آئی آر (FIR) درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ بچی کا طبی معائنہ (میڈیکل ٹیسٹ) کروانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
    مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد سے جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

  • برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘  10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ کا مشہور بِلّا ’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بن گیا۔

    مشہور بِلّے ’لیری دی کیٹ‘ کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں رہتے ہوئے 15 سال مکمل ہو گئے، اس دوران وزیرِ اعظم آفس میں 6 وزرائے اعظم آئے اور گئے، لیکن یہ بِلّا 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنے ’چیف ماؤزر‘ کے عہدے پر براجمان رہا ’لیری دی کیٹ‘ نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں چیف ماؤزر کے طور پر 6 مختلف وزرائے اعظم کے ساتھ خدمات انجام دیں،اس دوران ’لیری دی کیٹ‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔

    اس کو فروری 2011ء میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا نے اپنے بچوں کے لیے پالتو جانور کے طور پر ’بیٹر سی ڈاگز اینڈ کیٹس ہوم‘ سے گود لیا تھااب 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بطور چیف ماؤزر ’لیری دی کیٹ‘ کی ذمے داری چوہوں کی تعداد کو قابو میں رکھنا ہے۔

    برطانیہ میں 1920ء کی دہائی سے اس سرکاری عہدے پر کوئی نہ کوئی بلی فائز رہتی ہے ، اسی لیے اب یہ 19 سالہ بِلّا اس عہدے پر فائز ہےیہ بِلّا مرکزی لندن میں وزیرِاعظم کے گھر کے دروازے کے باہر بار بار دکھائی دینے کی وجہ سے عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز بھی بن گیا ہے اس کا سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک آفیشل اکاؤنٹ بھی موجود ہے اور اسے لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے،محمد باقر قالیباف

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے،محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی شکست کا اعلان ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے-

    باقر قالیباف نے نے آذربائیجان میں اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے ایک بڑے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے اسلام آباد کا یہ معاہدہ اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور باہر کے ملکوں کی مداخلت کو بالکل قبول نہ کریں، اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری اور ایک دوسرے کی عزت کی بنیاد پر ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے بڑے رہنما چک شومر نے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر امریکی عوام کو پریشانی، افراتفری اور بہت بڑے نقصان کے سوا کچھ نہیں دیااس لڑائی کے ہر ایک سیکنڈ کے ساتھ امریکی عوام کے پیسوں کا خرچہ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام ٹرمپ کی اس تاریخی غلطی کا بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں۔

    چک شومر نے اس جنگ کو دنیا کی تاریخ کی سب سے بری پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا مذاق اور مہنگی جنگ ہے جس کا کوئی فائدہ یا مقصد ہی نہیں تھا حکومت نے جنگ شروع کرتے وقت جو فائدے سوچے تھے، ان میں سے ایک بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیر خارجہ اب عوام کے سا منے آ کر جواب دینے سے بھاگ رہے ہیں اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ پسِ پردہ کیا خفیہ سودا ہوا ہے اس نام نہاد سمجھوتے کی تفصیلات اس لیے چھپائی جا رہی ہیں کیونکہ حکو مت یہ سب دکھانے سے ڈرتی ہے اور وہ خود جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بری کارکردگی دکھائی ہے، ایران جنگ کو اب فوراً ختم ہونا چاہیے اور ٹرمپ کو یہ لڑائی کبھی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

  • ائیر لائنز کو ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریزکا مشورہ

    ائیر لائنز کو ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریزکا مشورہ

    یورپی یونین کی فضائی تحفظ کی ایجنسی نے ایئرلائنز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریز کریں-

    ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے ای اے ایس اے نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، قطر، بحرین، کویت، اردن اور اسرائیل کے فضائی آپریشنز کے حوالے سے بھی ایئرلائنز کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    ایجنسی کے مطابق خطے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا امکان اب بھی موجود ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے اطراف کسی بھی اچانک کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے فضائی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلسل سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں، خطرات کا تازہ تجزیہ تیار رکھیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصو بے بھی تیار رکھیں۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ سفارتی پیش رفت کے باوجود علاقائی صورتحال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی، جس کے باعث بین الاقوامی فضائی ادارے احتیاطی تدابیر برقرار رکھے ہوئے ہیںفضائی حدود سے متعلق ایسی ہدایات عالمی مسافروں، ایئرلائنز اور کارگو آپریٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ممکنہ خطرات سے قبل تیاری کرنا ہوتا ہے۔

  • برطانیہ کے خصوصی ایلچی کی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق

    برطانیہ کے خصوصی ایلچی کی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق

    برطانیہ کے خصوصی ایلچی نے ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی تصدیق کی اور پاکستان کے حقِ دفاعِ پر زور دیا

    ایک ٹی وی انٹرویو میں برطانیہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ لنڈسے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کابل اور قندہار میں موجود حکام کو افغان سرزمین سے جنم لینے والے خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی کیمپوں، اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور سرحد پار سہولت کاری کا وجود خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہر ریاست کو واضح دہشت گرد خطرات کے خلاف اپنے دفاع کا جائز اور قانونی حق حاصل ہے۔

    رچرڈ لنڈسے کے بیانات اس بین الاقوامی مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔انٹرویو میں افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کی موجودگی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کو اجاگر کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کابل اور قندہار کے حکام کو اس حوالے سے مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔محفوظ ٹھکانے، تربیتی مراکز، اسلحے کی ترسیل اور دہشت گرد عناصر کو مالی معاونت پاکستان اور پورے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو فروغ دینے والے عوامل ہیں۔

    برطانوی خصوصی ایلچی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاستوں کو واضح اور فوری نوعیت کے دہشت گرد خطرات کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا جائز حق حاصل ہے، اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اسی اصولِ دفاعِ خودی پر مبنی ہوتے ہیں۔لنڈسے نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کا سدباب کرنا اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ان افراد کی ذمہ داری ہے جو اس وقت افغانستان میں اختیار رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، مالی و لاجسٹک معاونت کے نظام کو توڑنے اور دہشت گرد عناصر کو سرحدی علاقوں سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

    یہ انٹرویو ٹی ٹی پی کی مسلسل سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر پر زور دیتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو تشدد جاری رکھنے کے لیے درکار جگہ اور معاونت سے محروم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ہے، جبکہ امریکا کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار سمجھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

    یہ انکشاف امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ عالمی سروے میں ہوا ہے سروے فروری سے مئی 2026 کے درمیان دنیا کے 36 ممالک میں 42 ہزار 151 بالغ افراد سے کیا گیا یہ وہ عرصہ تھا جب ایک جانب چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی تھی، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلا ف فوجی کارروائی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

    سروے کے نتائج کے مطابق اوسطاً صرف 23 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی شرکاء نے ان پر کم یا بالکل اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا جبکہ 24 ممالک میں سے 16 میں ٹرمپ پر اعتماد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کسی بھی ملک میں اس حوالے سے بہتری نہیں دیکھی گئی۔

    امریکا کے بارے میں عالمی رائے بھی زیادہ مثبت نہیں رہی سروے میں شامل 36 ممالک میں صرف 37 فیصد افراد نے امریکا کے بارے میں موافق رائے دی، جبکہ 57 فیصد نے منفی تاثر کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا، اٹلی، نائجیریا، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا اور ترکی سمیت کئی ممالک میں امریکا کی مقبولیت میں دوہرے ہندسوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے کردار کے بارے میں بھی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے صرف 35 فیصد افراد کا خیال تھا کہ امریکا دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ صرف 32 فیصد نے کہا کہ واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت دیگر ممالک کے مفادات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔

    امریکی جمہوریت کے حوالے سے بھی عالمی تاثر منفی ہوا ہے سروے میں 39 فیصد افراد نے کہا کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی شخصی آزادیوں کا احترام کرتی ہے، جبکہ 56 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ جن 13 ممالک میں یہ سوال 2021 میں بھی پوچھا گیا تھا، ان میں سے 12 میں امریکا کے بارے میں مثبت رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    امریکا کے قریبی اتحادی ممالک میں بھی اس پر اعتماد کم ہوا ہے کینیڈا میں 2022 میں 83 فیصد افراد امریکا کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے تھے، لیکن 2026 میں یہ شرح کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور سمیت ایشیا پیسیفک خطے کے اہم اتحادی ممالک میں بھی اسی نوعیت کی کمی سامنے آئی آسٹریلیا میں 2023 کے بعد سے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے والا ملک سمجھنے والوں کی تعداد میں 30 پوائنٹس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی فلپائن اس رجحان سے نمایاں طور پر مختلف رہا وہاں 77 فیصد افراد نے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں معاون قرار دیا، جبکہ یہی وہ ملک تھا جہاں ٹرمپ کو سب سے زیادہ حمایت بھی حاصل رہی۔

    سروے کے مطابق ٹرمپ پر سب سے زیادہ اعتماد فلپائن، اسرائیل، نائجیریا، کینیا اور گھانا میں دیکھا گیا نائجیریا میں مذہبی بنیادوں پر واضح فرق سامنے آیا، جہاں 87 فیصد مسیحیوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح صرف 33 فیصد رہی اس کے برعکس ترکی اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں مقیم فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ پر اعتماد انتہائی کم، یعنی سنگل ڈیجٹ سطح تک محدود رہا۔

    سیاسی نظریات کے لحاظ سے بھی ٹرمپ کے بارے میں آراء مختلف رہیں 27 ممالک میں سے 18 میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد نے بائیں بازو کے افراد کے مقابلے میں ٹرمپ پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا یورپ کی دائیں بازو کی مقبول جماعتوں کے حامی بھی ان کے حامیوں میں شامل تھے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان حلقوں میں بھی حمایت میں کمی دیکھی گئی۔

    سروے میں بین الاقوامی معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا رہا 74 فیصد شرکاء نے ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کو ناپسند کیا اسی طرح تجارتی محصولات (ٹیرف)، روس یوکرین جنگ، غزہ کی صورتحال اور دیگر اہم خارجہ پالیسی معاملات پر بھی اکثریت نے ان کی حکمت عملی کو مسترد کیا۔

    البتہ اسرائیل اس معاملے میں ایک استثنا رہا، جہاں ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کو 73 فیصد افراد کی حمایت حاصل تھی انسانی امداد اور امیگریشن کے معاملات میں بعض ممالک میں ٹرمپ کو نسبتاً بہتر درجہ بندی ملی، تاہم مجموعی طور پر اکثریت نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

    سابق امریکی صدور کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فرانس، جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی کم سطح پر ہے، اگرچہ یہ ان کے پہلے دورِ صدارت کے اختتام کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، ان کی درجہ بندی سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے آخری دورِ حکومت کے برابر یا اس سے کچھ بہتر رہی، تاہم سابق صدر باراک اوباما کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی، جنہیں عالمی سطح پر مسلسل زیادہ پذیرائی حاصل رہی تھی۔

  • کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں 3 سال کی بچی سے مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    مقدمہ اغوا، قتل، زیادتی، تشدد اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، معصوم بچی کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند ملی تھی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ یہ کیس بدترین اور سفاکانہ زیادتی کی مثال ہے، مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، وجہ موت کے تعین کیلئے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے جبکہ کیمیکل ایگزا من رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہوگا۔

    ایف آئی آر میں والد نے بتایا ہے کہ بیٹی 12 بجے گھر سے باہر کھیلنے گئی تھی واپس نہیں آئی، جس پر اہلیہ نے کال کرکے اطلاع دی، میں فوری گھر آیا، بیٹی کو کافی تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی، پونے 8 بجے جب گھر واپس آئے تو گلی میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایاکہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کرگئے ہیں، بچی کے دادا نے میری بیٹی کلثوم کی لاش کی تصدیق کی تھی۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی میں ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی اور ایس ایس پی اسپیشل برانچ سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں، کمیٹی تمام پہلوؤں کاجائزہ لےکر جلد رپورٹ پیش کرے گی جبکہ کمیٹی روزانہ کیس میں ہونیوالی پیش رفت سے آئی جی سندھ کو آگاہ کرے گی۔

    اس حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو سخت سزا دلانے کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • طلاق کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا،کنول فاروق

    طلاق کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا،کنول فاروق

    پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ریئلٹی ٹی وی اسٹار کنول فاروق نے انکشاف کیا کہ میری شادی ناکام ثابت ہوئی اور اس تجربے نے مجھے جذباتی طور پر شدید متاثر کیا۔

    کنول فاروق نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی ناکام شادی اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے، اپنی گفتگو کے دوران وہ کئی مواقع پر آبدیدہ بھی ہو گئیں اور کہا کہ اس تجربے کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا۔

    کنول فاروق نے انکشاف کیا کہ میری شادی ناکام ثابت ہوئی اور اس تجربے نے مجھے جذباتی طور پر شدید متاثر کیا، میں نے اپنے سابق شوہر سے اس وقت شادی کی جب میرے پاس زیادہ مالی وسائل موجود نہیں تھے میرے دوستوں نے ہمارے لیے انگوٹھی کا انتظام کیا تاکہ میں اپنے اہلِ خانہ کو رشتہ دکھا سکوں میں نے اپنے شریکِ حیات کی محبت اور وعدوں پر مکمل اعتماد کیا، لیکن بعد ازاں مجھے شدید دل آزاری کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر یہ رشتہ طلاق پر ختم ہوا،کنول فاروق نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ماضی کی یاد یں اب بھی انہیں جذباتی کر دیتی ہیں۔

    واضح رہے کہ کنول فاروق کو ریئلٹی شو ’تماشہ سیزن 4‘ میں شرکت کے بعد ملک بھر میں خاصی شہرت حاصل ہوئی-

  • جامعہ سلفیہ میں اجلاس، ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی  فوری  بازیابی کا مطالبہ

    جامعہ سلفیہ میں اجلاس، ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی فوری بازیابی کا مطالبہ

    رپورٹ، خنیس الرحمان

    گزشتہ روز ایچ ایٹ کی حدود میں مبینہ طور پر جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے پرنسپل ڈاکٹر حفیظ الرحمان کے اغواء کے حوالے سے جامعہ سلفیہ میں مختلف دینی، مذہبی اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور قائدین کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر بھر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، جامعہ سلفیہ، مرکزی جمعیت اہلحدیث، جمعیت علمائے اسلام، تحریک تحفظِ مدارس و مساجد، تحفظِ حقوقِ علمائے اوقاف، سپریم کونسل پاکستان سمیت مختلف دینی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوئے۔شرکائے اجلاس نے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے مبینہ اغوا کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنتے ہیں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کی فوری تحقیقات کرتے ہوئے حقائق قوم کے سامنے لائیں۔اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

    اجلاس میں خطاب کرنے والے مقررین نے کہا کہ اگر مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو مختلف دینی و مذہبی جماعتیں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔ مقررین کے مطابق احتجاجی اقدامات بھی زیر غور ہیں جن میں اسلام آباد میں احتجاج اور سڑکوں کی بندش شامل ہو سکتی ہے۔اجلاس کے بعد شرکاء کی جانب سے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی رہائی کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔ مجمع نے "پاکستان زندہ باد” اور "ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو رہا کرو” کے نعرے لگا کر اپنے مطالبات کا اعادہ کیا۔شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاملے کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور تمام اقدامات آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیے جائیں گے۔

    یاد رہے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو ان کی اہلیہ کی موجودگی میں اسلام آباد ایچ ای سی کے باہر سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواء کیا ۔ڈاکٹر حفیظ الرحمان جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے پرنسپل اور جامع مسجد محمدی جی نائن میں محکمہ اوقاف کے خطیب ہیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث اسلام آباد کے ناظم تعلیمات ہیں ۔