Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے-

    ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھی ہے جو باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے فروغ سے مزید مضبوط ہو سکتا ہےایرانی سفیر نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ برادر ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کاوشوں سے مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہو ئے، جہاں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں،ایرانی اعلیٰ سطح مذاکراتی وفد نے وقار، خود اعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ مذاکرات کیے، تاکہ ایرا نی عوام کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تمام فریقین کے مفاد ات کے لیے پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

  • اتحاد میڈیا کونسل پاکستان کے مرکزی دفتر قصور میں اہم میٹنگ

    اتحاد میڈیا کونسل پاکستان کے مرکزی دفتر قصور میں اہم میٹنگ

    قصور
    اتحاد میڈیا کونسل پاکستان کے مرکزی دفتر میں مرکزی صدر کی ممبران کے ہمراہ بانی و چیئرمین اور مرکزی جنرل سیکرٹری سے ملاقات

    تفصیلات کے مطابق
    قصور اتحاد میڈیا کونسل پاکستان کے مرکزی دفتر میں آج ایک اہم ملاقات کا انعقاد ہوا، جس میں تنظیم کے مرکزی صدر سہیل احمد بھٹی نے ممبران کے ہمراہ شرکت کی۔ مرکزی صدر نے بانی و چیئرمین محمد احمد کمبوہ اور مرکزی جنرل سیکرٹری محمد حسنین کمبوہ سے خصوصی ملاقات کی، جس میں تنظیمی امور، کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر مرکزی صدر کے ہمراہ آنے والے ممبران میں غلام سرور کھوکھر، عتیق الرحمان، محمد شہزاد اور محمد عثمان شامل تھے، جبکہ مرکزی قیادت نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران اتحاد میڈیا کونسل پاکستان کو مزید فعال،مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم کو ملک بھر میں مزید وسعت دی جائے گی اور صحافتی میدان میں مثبت کردار ادا کیا جائے گا۔ آخر میں تمام عہدیداران اور ممبران نے باہمی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے اور تنظیم کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔

    تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا،جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔

    امریکا کے اس اعلان کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا، امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

  • مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فضائی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایران کے خلاف محدود نوعیت کے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے،ایک اور زیر غور آپشن یہ ہے کہ امریکا وقتی نوعیت کی ناکہ بندی برقرار رکھے اور اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے طویل المد تی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں طویل فوجی تنازعات سے گریز کی پالیسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  • آج 10 بجے سے  آبنائے ہرمز میں  ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    آج 10 بجے سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

    سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-

  • جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران


    جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران


    ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران شدید دباؤ اور حملوں کے بعد امریکا نے بالآخر جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ محمود نبویان کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں مخالف فریق کسی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا اور چند دنوں کے اندر ہی صورتحال بدلنا شروع ہو گئی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 سے 15 دن کی شدید لڑائی کے بعد مخالفین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے، جس کے بعد جنگ بندی کے مطالبات سامنے آنا شروع ہوئے۔ نبویان کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کی۔
    ‎ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایران سے رابطہ کیا اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے پیغامات پہنچائے۔ ان کے مطابق یہ پیغامات بالواسطہ طور پر مختلف ذرائع سے منتقل کیے گئے جن میں پاکستان کا کردار بھی شامل تھا۔
    ‎نبویان کے مطابق ایران نے فوری طور پر ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دباؤ اور مسلسل حملوں نے مخالفین کے منصوبے ناکام بنا دیے، جس کے باعث انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
    ‎انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے پیغامات تقریباً دو ہفتے قبل پہنچائے گئے تھے، تاہم ایران نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے فوری ردعمل سے گریز کیا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

  • اسپین نے گولڈن ویزا اسکیم ختم کر دی، نئی پالیسی کا اعلان

    اسپین نے گولڈن ویزا اسکیم ختم کر دی، نئی پالیسی کا اعلان

    ‎یورپی ملک اسپین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے متعارف کرائی گئی مشہور گولڈن ویزا اسکیم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت جائیداد خرید کر رہائش حاصل کی جا سکتی تھی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی جانب سے اس قسم کی اسکیموں پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔
    ‎اس اسکیم کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم پانچ لاکھ یورو کی پراپرٹی خرید کر اسپین میں رہائش کی اجازت حاصل کر سکتے تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد نے اسپین میں سرمایہ کاری کر کے وہاں قیام حاصل کیا، تاہم اب حکومت نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎اسپین کی حکومت کے مطابق اس فیصلے کی بڑی وجہ بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ بحران ہے۔ بارسلونا اور میڈرڈ جیسے شہروں میں جائیداد کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مقامی شہریوں کے لیے گھر خریدنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی رہائش کی کمی تھی۔
    ‎نئی قانون سازی کے تحت اب غیر ملکی افراد جائیداد خرید کر اسپین میں رہائش حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ دیگر ویزا آپشنز بدستور موجود ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل نومیڈ ویزا، ماہر پیشہ ور افراد کے لیے خصوصی پروگرامز، کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیور ویزا اور نان لوکریٹو ویزا شامل ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اسپین کی معیشت اور ہاؤسنگ مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کم ہوگا اور مقامی آبادی کے لیے رہائشی سہولیات بہتر ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسپین اب ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے جو طویل المدتی اور حقیقی معاشی ترقی کا باعث بنے۔
    ‎یہ پیش رفت ان افراد کے لیے اہم ہے جو یورپ میں رہائش کے خواہاں ہیں، کیونکہ اب انہیں نئے قوانین اور متبادل راستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

  • بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی

    بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی

    ‎کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک مندی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق 11 اپریل کو بٹ کوائن تقریباً 72 ہزار 974 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ مذاکرات کے دوران اس کی قیمت عارضی طور پر 73 ہزار ڈالر تک بھی پہنچی۔ اس سے قبل بٹ کوائن 74 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا چکا تھا، تاہم جیسے ہی مذاکرات کے بغیر معاہدے کے ختم ہونے کی خبر سامنے آئی، مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور قیمت نیچے آنا شروع ہو گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور خدشات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی مالیاتی ماحول کو متاثر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے فروخت شروع کر دی۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کے پیچھے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے سرمایہ نکالنا بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بٹ کوائن کی قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 63 ہزار ڈالر تک بھی گر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ عالمی سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی بڑی خبر کا فوری اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
    ‎ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لے کر سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ حالات میں احتیاط ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    ‎پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات کی پیشرفت سے سعودی عرب سمیت اہم دوست ممالک کو آگاہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہیں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
    ‎اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎اس کے علاوہ نائب وزیر اعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اسی طرح مصر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے مختلف اہم ممالک کو بریفنگ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ اس کے نتائج کو عالمی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔