Baaghi TV

Blog

  • بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    نام نہاد "وشو گرو” کے دعوے کرنے والے بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل سفارتی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنی بالادستی اور "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” بننے کا بھارتی خواب شدید دھچکوں سے دوچار ہو چکا ہے۔

    بھارت کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کو حالیہ برسوں میں متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث عالمی منظرنامے میں اس کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے ضامن کے طور پر خود کو پیش کرنے کی بھارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ اور جریدوں میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق انڈو پیسفک سے لے کر وسیع بحرالکاہل خطے تک بھارت کو تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ مختلف علاقائی اور عالمی معاملات میں اس کا کردار پہلے کی نسبت محدود ہوتا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی اور خطے میں نئی حکمت عملیوں کے باعث بھارت اور امریکا کے درمیان نام نہاد اسٹریٹجک شراکت داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے مفادات کے تحت مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو نئے انداز میں ترتیب دے رہا ہے، جس سے بھارت کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔دفاعی و تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں بھارت کے "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” ہونے کے دعوؤں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف سفارتی بلکہ سیکیورٹی محاذ پر بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو اسے مستقبل میں مزید سفارتی دباؤ، تزویراتی مشکلات اور عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • فلپائن :اسکول میں فائرنگ،3 افراد ہلاک 5 زخمی،نویں جماعت کا طالبعلم گرفتار

    فلپائن :اسکول میں فائرنگ،3 افراد ہلاک 5 زخمی،نویں جماعت کا طالبعلم گرفتار

    فلپائن میں پیر کے روز ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شہر تاکلوبان کے سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول میں پیش آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے فلپائن کی پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر دو افراد ملوث تھے جن میں سے ایک مبینہ طور پر اسکول ہی کا 15 سالہ نویں جماعت کا طالب علم ہے جسے واقعے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا مشتبہ شخص اب بھی فرار ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے کیونکہ تفتیش جاری ہے اور واقعے کی مکمل صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے حملے کی اصل وجہ بھی ابھی واضح نہیں ہو سکی،متاثرین اور ملزمان کے درمیان تعلق کے بارے میں بھی فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس پہلو کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے دوسرے مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اسے جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے اور واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

  • ایران جنگ سے متعلق رپورٹنگ،صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز پر برس پڑے

    ایران جنگ سے متعلق رپورٹنگ،صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز پر برس پڑے

    ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتائج سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدعنوان‘ اور ’ناکام‘ ادارہ قرار دیا ہے

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مختلف تجزیہ کاروں کی آراء شامل تھیں رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد خطے میں عملی طور پر کیا تبدیلی آئی اور آیا ایران سے متعلق امریکا اور اسرائیل کے بنیادی خدشات واقعی ختم ہوئے ہیں یا نہیں۔

    ٹرمپ نے اخبار کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا نے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری میدان میں شکست دی ہے،بعض میڈیا ادارے حقائق کو نظر انداز کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نیویارک ٹائمز مسلسل ایسی رپورٹس شائع کرتا ہے جو ان کی حکومت اور پالیسیوں کو منفی انداز میں پیش کرتی ہیں۔

    دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی مذکورہ رپورٹ میں شامل بعض تجزیہ کاروں کا مؤقف تھا کہ جنگ کے باوجود مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور خطے میں کشیدگی کے کئی اسباب اب بھی موجود ہیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ متعدد بار بڑے امریکی میڈیا اداروں پر جانبداری اور غلط رپورٹنگ کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

  • فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

    فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

    انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے فتنہ الہندوستان سے منسلک کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ساجد احمد کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ساجد احمد کو ضلع پنجگور میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ تحقیقات کے دوران ملزم کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط اور دہشت گرد سرگرمیوں میں معاونت کے شواہد سامنے آئے۔تحقیقات کے مطابق ساجد احمد طلبہ کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے، انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں پر اکسانے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے میں ملوث رہا۔ سیکیورٹی اداروں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم فتنہ الہندوستان کی پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی سرگرمیوں میں سرگرم تھا۔حکام کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کے بھارتی اسپانسرڈ نیٹ ورکس سے روابط بھی سامنے آئے۔ مزید برآں اسے ایک خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کا ٹاسک بھی سونپا گیا تھا، جس کے شواہد تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنے۔

    عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا سنائی، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،حافظ مسعود اظہر

    سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کا تقریباََ آدھا حصہ سود پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جانا ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور نہ ہی ملک کے معاشی حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ سود معیشت کے لیے تباہ کن زہر ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے ملک پاکستان میں سودی نظام کا تسلسل ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آج ملک کو جن سنگین معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور مالی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجوہات میں سود پر مبنی معاشی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سودی قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر رہی ہے بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی قرضوں کا بوجھ منتقل کر رہی ہے۔ اگر سودی نظام سے نجات حاصل نہ کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب قومی بجٹ کا سارا حصہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا اور عوامی خدمت کے شعبوں کے لیے خاطر خواہ وسائل دستیاب نہیں رہیں گے۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے حکومت، معاشی ماہرین اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ سود سے پاک اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ ملکی خودمختاری، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کا راستہ سودی قرضوں پر انحصار کم کرنے، پیداواری شعبوں کو مضبوط بنانے اور اسلامی مالیاتی اصولوں کو فروغ دینے میں مضمر ہے۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ قوم کو قرض اور سود کے اس تباہ کن چکر سے نکالنے کے لیے فوری اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ ملک کو پائیدار ترقی، معاشی آزادی اور حقیقی عوامی خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

  • اوکاڑہ، ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب، ثانیہ عاشق کی شرکت

    اوکاڑہ، ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب، ثانیہ عاشق کی شرکت

    اوکاڑہ(نامہ نگار ملک ظفر)مریم نواز سنٹر آف ایکسیلنس میں ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب میں معاون خصوصی وزیراعلیٰ ثانیہ عاشق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب میں 29 ہزار 768 خصوصی بچوں میں ہمت کارڈ کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا۔ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق محکمہ سپیشل ایجوکیشن کاخصوصی بچوں کے لیے شاندار اقدام ہے۔ معاون خصوصی ثانیہ عاشق سیکرٹری اور ڈی جی سپیشل ایجوکیشن نے ایم پی اے میاں محمد منیر، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، لیگی رہنما چوہدری فیاض ظفر اور ڈی پی او ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے ہمراہ ہمت کارڈز تقسیم کا افتتاح کیا۔

    معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ثانیہ عاشق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں 29ہزار 768 اہل خصوصی بچوں میں ہمت کارڈ تقسیم کیے جائیں گے۔ مریم نواز سنٹر آف ایکسلینسن اوکاڑہ کے 96بچوں میں آج ہمت کارڈ تقسیم کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمت کارڈ،ضروری آلات،ہیلدی فوڈ، تھیراپی سمیت مختلف صورتوں میں بچوں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ پنجاب کے ہر ڈویژن میں آٹزم سکول کا سیٹلائٹ کیمپس بنے گا۔ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ خصوصی بچے کیمپس میں اپنی اسسمنٹ اور تھیراپی کروا سکیں گے۔ 45 ہزار خصوصی بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر فوڑٹیفائڈ بسکٹ اور پروٹین سے بھرپور دودھ دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان بچوں کو بہتر سے بہترین سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور انکی ٹیم ان بچوں کے متعلق والدین والا درد رکھتی ہیں۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کی خودمختاری اور معاشی بہتری کے لیے وزیر اعلی پنجاب کا اہم فلاحی اقدام ہے۔ سنٹر آف ایکسیلنس میں میسر سہولیات پرائیویٹ سیکٹر میں بھی نہیں ہیں۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کی خوداعتمادی اور خودمختاری کا استعارہ ہے۔ خصوصی بچوں کو باعزت، خودمختار زندگی کی جانب گامزن کیا جارہا ہے۔ پاکستان آج روشن مستقبل کی طرف بڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی محنت اور قیادت میں پاکستان کا پوری دنیا نام روشن ہوا ہے۔ یہ سب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ذاتی توجہ اور نگرانی کی وجہ سے ہے۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کے لیے تحفظ، اعتماد اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے

  • دریائے ستلج سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    دریائے ستلج سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    احمد پور شرقیہ: دریائے ستلج میں بستی کبیر خان، موضع سرور آباد کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش پانی میں تیرتی ہوئی دیکھی گئی، جس پر مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی پولیس کو اطلاع دی۔

    اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے سے لاش کو نکال کر اپنی تحویل میں لے لیا۔بعد ازاں لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے عمل کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال احمد پور شرقیہ کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔
    پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاش کی شناخت اور موت کی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    رپورٹ،حبیب خان

  • ایران نے پاکستان کو خطے کا اہم اور قریبی دوست ملک قرار دے دیا

    ایران نے پاکستان کو خطے کا اہم اور قریبی دوست ملک قرار دے دیا

    اسلامی جمہوریہ ایران نے پاکستان کو خطے کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد دوست ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور ایران کے قائم مقام وزیر دفاع کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، غزہ کی صورتحال اور اسلامی دنیا میں امن و استحکام کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گفتگو کے دوران دونوں وزرائے دفاع نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔ اس موقع پر علاقائی سلامتی کے فروغ اور خطے میں ایک مؤثر مشترکہ سیکیورٹی نظام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور استقامت کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو برادرانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے مختلف مواقع پر پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کو خطے میں امن، استحکام اور تعمیری کردار ادا کرنے والا اہم ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران خطے میں پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دیں گے۔

  • حج رجسٹریشن آج سے شروع،باقاعدہ شیڈول جاری

    حج رجسٹریشن آج سے شروع،باقاعدہ شیڈول جاری

    وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان نے حج 2027 کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت عازمین حج 22 جون 2026 سے آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔

    وفاقی کابینہ کی جانب سے حج پالیسی کی منظوری کے بعد وزارتِ مذہبی امور نے حج کی رجسٹریشن کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا، وزارت کے مطابق آئندہ سال حج کے لئے رجسٹریشن مفت ہوگی کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی ، رجسٹریشن "پہلے آئیے ، پہلے پائیے ” کی بنیاد پر کی جائے گی اور مقررہ تعداد مکمل ہونے تک جاری رہے گا جبکہ سرکاری اور نجی حج سکیم دونوں کے لئے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے-

    وزارت کے مطابق حج 2027 کی رجسٹریشن سعودی ہدایات اور ضوابط کے مطابق مکمل کی جائے گی، جبکہ اس عمل کا مقصد عازمین حج کے لیے شفاف اور آسان سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، رجسٹریشن کے مرحلے پر پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم حج بلنگ کے مرحلے پر پاسپورٹ لازمی ہوگا، اور بغیر پاسپورٹ کے کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی پاسپورٹ کی میعاد کم از کم 16 نومبر 2027 تک ہونا ضروری قرار دی گئی ہے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ افراد کو ہی حج 2027 کی بلنگ میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی، اور یہی افراد سرکاری یا پرائیویٹ حج اسکیم میں شمولیت کا انتخاب بھی کر سکیں گے یہ طریقہ کار بیرون ملک مقیم پاکستانی (اوورسیز) عازمین پر بھی لاگو ہوگا، حج پالیسی 2027 کے تحت اخراجات اور دیگر شرائط و ضوابط بعد میں الگ سے جاری کیے جائیں گے-

    وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان کے مطابق عازمین حج کو سرکاری ویب سائٹ www.hajj.mora.gov.pk پر اپنا یوزر اکاؤنٹ بنا کر اپنی اور اپنے گروپ کی تفصیلات کے ساتھ رجسٹریشن کرانا ہوگی حکام نے ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن صرف فیملی پر مشتمل گروپس کی صورت میں کی جائے رجسٹریشن اور حج سے متعلق تمام معلومات وزارت مذہبی امور کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گی۔ اس کے علاوہ عازمین حج رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن نمبرز 051-9216980، 051-9216981، 051-9216982 اور 051-9205696 پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • برطانیہ میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں

    برطانیہ میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں

    لندن: برطانوی سیاست میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹارمر آج اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اب تک ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔

    سیاسی بحران اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب اینڈی برنہم پارلیمنٹ میں رکن اسمبلی کے طور پر حلف اٹھانے کے لیے ویسٹ منسٹر واپس پہنچ گئے۔ برنہم نے حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں نو ہزار سے زائد ووٹوں کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ پہلے ہی لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اسٹارمر کو چیلنج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی برطانوی سیاسی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسٹارمر جلد مستعفی ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم امیگریشن اور توانائی جیسے اہم معاملات پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کو شمالی سمندر میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اسٹارمر کے ممکنہ استعفے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات ہونے کے شواہد موجود نہیں ہیں اور ان کا بیان محض سیاسی قیاس آرائی معلوم ہوتا ہے۔

    برطانوی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے وزیراعظم سے نجی طور پر ملاقات میں کہا ہے کہ انہیں عہدہ چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہوئی، جب اسٹارمر اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری دیہی رہائش گاہ چیکرز میں موجود تھے۔اگرچہ حکومت کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اس خبر نے لیبر پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    کاروبار اور تجارت کے سیکریٹری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے جمعہ کے روز وزیراعظم سے کھل کر گفتگو کی تھی، تاہم ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے استعفے کی افواہوں کی تصدیق ہو سکے۔پیٹر کائل نے کہا کہ اسٹارمر اس وقت اپنی تمام تر توجہ حکومتی امور پر مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں قیادت کے کسی ممکنہ مقابلے پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا۔

    سیاسی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیبر پارٹی کے تقریباً ایک چوتھائی اراکین پارلیمنٹ اب کھل کر اسٹارمر کے خلاف سامنے آ چکے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق 100 لیبر بیک بینچ اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اپنی رخصتی کے لیے واضح ٹائم لائن دیں۔اسٹارمر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں میں متعدد نمایاں لیبر ارکان شامل ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ پارٹی کو اگلے عام انتخابات سے قبل نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب لیبر پارٹی کے کئی ارکان اب بھی اسٹارمر کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس تمام صورتحال پر روسی حکام نے بھی طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ کریملن کے سرمایہ کاری نمائندے نے سوشل میڈیا پر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق تبصرے کرتے ہوئے برطانوی سیاسی بحران کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اس معاملے پر مختلف ممالک کے درمیان غیر معمولی اتفاق رائے دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ میں حکمران لیبر پارٹی اس وقت اپنی حکومت کے سب سے بڑے اندرونی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ ڈاؤننگ اسٹریٹ مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہو رہے، تاہم پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت اور اینڈی برنہم کی واپسی نے اسٹارمر کی قیادت پر سوالات مزید گہرے کر دیے ہیں۔ اب تمام نظریں وزیراعظم کے آئندہ فیصلے اور لیبر پارٹی کے اندر ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر مرکوز ہیں