Baaghi TV

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

یورپی یونین کی حمایت اور عالمی کوششیں کیا سیز فائر مستقل امن بن سکے گا؟

جنگ سے وقفہ یا امن کی شروعات؟ مشرقِ وسطیٰ ایک فیصلہ کن موڑ پر

تجزیہ شہزاد قریشی

مشرقِ وسطیٰ: جنگ سے وقفہ یا امن کی ابتدا؟ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی سیز فائر نے جہاں وقتی سکون فراہم کیا ہے، وہیں ایک اہم سوال بھی جنم لیا ہے: کیا یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے یا واقعی خطے کو مستقل امن کی طرف لے جانے کی سنجیدہ کوشش؟ یہ سیز فائر، جس میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، بظاہر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا، پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف جنگ کو وقتی طور پر روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم، اس سیز فائر کی نوعیت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ جنگ بندی بنیادی مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک مہلت ہے—ایک ایسا وقفہ جس میں فریقین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی اور بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ جب تک ان بنیادی تنازعات کا حل نہیں نکلتا، کسی بھی سیز فائر کو مستقل امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے اگرچہ امن کے لیے سرگرم ہیں، لیکن خطے کے ممالک کے درمیان بداعتمادی اور مفادات کا ٹکراؤ کسی بھی پیش رفت کو نازک بنا دیتا ہے۔ خلیجی ممالک بھی اس سیز فائر کو مکمل اطمینان سے نہیں دیکھ رہے، جو اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کا کردار یہاں محض ایک ثالث تک محدود نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات واقعی اسلام آباد میں ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ سیز فائر فی الحال ایک عارضی وقفہ ہے، نہ کہ حتمی حل۔ تاہم اسے کم اہم بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں کئی بڑے امن معاہدے ایسے ہی چھوٹے وقفوں سے شروع ہوئے ہیں۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے—کیا فریقین اس موقع کو ضائع کریں گے یا اسے مستقل امن کی بنیاد بنائیں گے؟

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ: یہ سیز فائر امن نہیں، بلکہ امن کا ایک نادر موقع ہے۔ اگر سنجیدگی، تدبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہی وقفہ تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک اور عارضی خاموشی ثابت ہوگا، جس کے بعد شور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آئے گا۔

More posts