Baaghi TV

Blog

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    تہران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے پٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران اب یہاں سے گزرنے والے تیل کے ہر بحری جہاز سے فی بیرل ایک ڈالر ٹول ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ادائیگیاں روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی یعنی کرپٹو میں کی جائیں۔

    ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی کا کہنا ہے کہ تہران اب اس گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ انہیں ریگولیٹ بھی کرے گا، ہر جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سامان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ ایران کو یہ دیکھنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کیا اندر آ رہا ہے اور کیا باہر جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے ان دو ہفتوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اگرچہ جہازوں کو گزرنے دیا جائے گا لیکن اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔

    مجوزہ نظام کے تحت ٹینکرز کو ای میل کے ذریعے اپنے سامان کی تفصیلات شیئر کرنی ہوں گی جس کے بعد حکام ٹیکس کا حساب لگائیں گے اور کمپنیوں کو بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا۔

    اس وقت تقریباً 400 بحری جہاز خلیج میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ماہرین اس منظر نامے کو ایک بڑی پارکنگ لاٹ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جہاز رانی کی بڑی کمپنی میرسک نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن فی الحال معمول کی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس معاملے پر عمان نے بھی اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاہدوں کے تحت اس بین الاقوامی گزرگاہ سے گزر نے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس یا فیس نہیں لگائی جا سکتی۔

  • ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    امریکی جریدے کے مطابق ایسےنیٹو ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالا جائے گا جو ایران جنگ میں غیرمعاون رہے امریکی فوجیوں کو ممالک میں تعینات کیا جائے گا جو اس جنگ میں حمایت کر رہے ہیں،ممکنہ طور پر اسپین یاجرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا پلان میں شامل ہوسکتاہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوجی سامان فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا،یہ اعلان واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد سامنے آیا۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی-

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس اور چین پر ماضی میں ایران کی فوجی صلاحیت بڑھانے میں مدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں میزائل، فضائی دفاعی نظام اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے تاہم روس اور چین نے حالیہ عرصے میں کسی بھی قسم کے اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

  • ڈسٹرکٹ جیل قصور میں قیدیوں کیلئے بہترین انتظامات

    ڈسٹرکٹ جیل قصور میں قیدیوں کیلئے بہترین انتظامات

    قصور ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مثالی اقدامات، انتظامات بہترین ہیں، سپرنٹنڈنٹ جیل

    قصور جیل مینوئل کے مطابق قیدیوں کو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کی اصلاح ہماری اولین ترجیح ہے ان خیالات کا اظہار سپرٹینڈنٹ جیل قصور چوہدری اختر بریار نے صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ جیل کے اندر نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور خوراک کے انتظامات کو مثالی بنایا گیا ہے جیل عملے کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور مروجہ قوانین کے تحت بہترین رویہ اختیار کریں قیدیوں کی نفسیاتی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں انہوں نے بتایا کہ قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے لواحقین کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے ملاقات کے شیڈول کو منظم بنایا گیا ہے تاکہ شہریوں کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے اور انہیں سایہ دار جگہ، پینے کا صاف پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جیل میں قیدیوں کے لیے طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے بیرکوں میں صفائی کے نظام کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور قیدیوں کو تعلیمی و فنی کورسز کروانے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے ہمارا مقصد جیل کو محض قید خانہ نہیں بلکہ ایک اصلاح گاہ بنانا ہے جہاں قیدیوں کو سزا کے ساتھ ساتھ بہتر زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھایا جائے.

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارت میں بحث، مودی حکومت تنقید کی زد میں

    پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارت میں بحث، مودی حکومت تنقید کی زد میں

    ‎پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں نے بھارت میں سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں اور ماہرین خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
    ‎بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار نے بھارت کی عالمی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کو بھارت کے لیے ایک چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎کچھ ماہرین کا مؤقف ہے کہ دہلی کو بھی موجودہ صورتحال میں ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی تاکہ وہ عالمی منظرنامے میں غیر مؤثر نہ دکھائی دے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سرگرم سفارتکاری نے اسے نمایاں مقام دلایا ہے جبکہ بھارت اس موقع پر نسبتاً پس منظر میں نظر آیا۔
    ‎بھارت میں تنقید کا بڑا رخ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف ہے۔ تجزیہ کاروں نے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے کبھی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بات کی تھی، مگر موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے جہاں پاکستان کو سفارتی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔
    ‎بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کردار بھارت کی طویل المدتی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت سے خارجہ پالیسی پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔
    ‎ادھر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امریکا نے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں توسیع کی جبکہ ایران کی قیادت نے بھی اس معاہدے کی منظوری دی۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • امریکی نائب صدر وینس ایران مذاکرات کیلئے کل پاکستان پہنچیں گے

    امریکی نائب صدر وینس ایران مذاکرات کیلئے کل پاکستان پہنچیں گے

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
    ‎وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق یہ مذاکراتی وفد اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد پہنچے گا، جہاں ایران کے نمائندوں کے ساتھ اہم بات چیت کی جائے گی۔ وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
    ‎ترجمان کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس اس عمل میں شروع سے ہی اہم کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہونے کے باعث مذاکرات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
    ‎کیرولین لیویٹ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ چین نے جنگ بندی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی۔
    ‎سیکیورٹی خدشات سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ امریکی سیکرٹ سروس مکمل طور پر مستعد ہے اور نائب صدر سمیت پوری ٹیم کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان میں ان مذاکرات کا انعقاد خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید تقویت ملے گی۔

  • شاہد آفریدی کی ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا

    شاہد آفریدی کی ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا

    ‎پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اہم پیغام جاری کیا ہے۔
    ‎دنیا بھر میں جہاں اس جنگ بندی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، وہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں۔
    ‎شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور اسی لیے پاکستان ایک پیس میکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی کامیاب ثالثی پر مبارکباد دیتے ہوئے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی بلند کیا۔
    ‎سابق کپتان کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خوش آئند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار ہوگی۔
    ‎واضح رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا نے 39 روز سے جاری کشیدگی کو کم کرتے ہوئے 15 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 10 اپریل سے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ امن مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے اور اسے ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

  • سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ‎بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے ایک اہم قانونی ریلیف حاصل ہوا ہے، جہاں عدالت نے گمراہ کن اشتہار سے متعلق کیس میں ان کے خلاف جاری قابلِ ضمانت وارنٹ معطل کر دیے ہیں۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کیس ‘راج شری پان مصالحہ’ کے اشتہار سے متعلق تھا، جس میں سلمان خان سمیت دیگر شخصیات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے نہ صرف وارنٹ معطل کیے بلکہ متعلقہ پروڈکٹ کے اشتہار پر عائد پابندی کو بھی وقتی طور پر روک دیا ہے۔
    ‎یہ فیصلہ جسٹس انوپ سنگھ پر مشتمل سنگل بینچ نے سلمان خان اور کمپنی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔ درخواست میں ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن اور اسٹیٹ کمیشن کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا جن کے تحت اشتہار پر پابندی اور اداکار کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔
    ‎سماعت کے دوران سلمان خان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت گزار یوگیندر سنگھ خود کو سماجی کارکن ظاہر کرتے ہیں لیکن وہ اس پروڈکٹ کے صارف نہیں ہیں، اس لیے ان کی درخواست قانونی بنیادوں پر کمزور ہے۔ مزید یہ کہ اشتہار میں دکھایا گیا آئٹم پان مصالحہ یا گٹکا نہیں بلکہ چاندی کے ورق سے مزین الائچی ہے، جس پر پابندی لگانا غیر قانونی قرار دیا گیا۔
    ‎وکلاء نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ اس نوعیت کے معاملات مرکزی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ مقامی کمیشن کے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد نچلی عدالتوں کے تینوں احکامات کو معطل کر دیا۔
    ‎واضح رہے کہ شکایت گزار نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ راج شری پان مصالحہ کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور سلمان خان کو اس کی تشہیر سے روکا جائے، تاہم فی الحال ہائیکورٹ کے فیصلے سے اداکار کو بڑا ریلیف مل گیا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

    ٹرمپ نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

    وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔
    ‎وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 10 نکاتی امن منصوبہ صدر ٹرمپ نے “ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا” کیونکہ وہ امریکی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر غیر سنجیدہ تھا اور قابل قبول نہیں تھا۔
    ‎ترجمان کے مطابق بعد میں ایران نے ایک مختصر اور ترمیم شدہ منصوبہ پیش کیا، جو امریکی 15 نکاتی تجویز کے قریب تر تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اصل مذاکرات بند کمروں میں ہو رہے ہیں اور عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات حقیقت سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
    ‎کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یہ تصور کرنا کہ صدر ٹرمپ ایران کی شرائط کو جوں کا توں قبول کر لیں گے، مکمل طور پر غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران عوامی سطح پر کچھ اور اور نجی مذاکرات میں کچھ اور مؤقف اختیار کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی واضح شرائط میں ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہ دینا شامل ہے، کیونکہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ ایران نے اپنے 10 نکاتی منصوبے میں امریکی فوجی اڈوں کے انخلا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے جیسے مطالبات شامل کیے تھے، تاہم امریکا نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور حتمی معاہدے کے لیے مزید پیچیدہ مذاکرات درکار ہوں گے۔

  • لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں, وائٹ ہاؤس کا مؤقف

    لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں, وائٹ ہاؤس کا مؤقف

    ‎وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎امریکی صدارتی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں اور یہ بات تمام فریقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ابھی مزید اہداف باقی ہیں۔
    ‎جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری رہے گی، تاہم فی الحال لبنان اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
    ‎ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کو جنگ بندی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، ترجمان نے دوبارہ نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور امن کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر محاذوں پر جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔

  • ایران میں خامنہ ای کے چہلم پر تعزیتی جلوس

    ایران میں خامنہ ای کے چہلم پر تعزیتی جلوس

    ‎ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر ملک بھر کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر تعزیتی جلوس نکالے گئے۔ ان جلوسوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق اردبیل، ایلام اور سمنان سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جلوسوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان سبھی شامل تھے، جس سے عوامی شرکت کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔
    ‎شرکاء نے ایرانی پرچم اٹھا کر شہید سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ مختلف مقامات پر دعائیہ تقاریب بھی منعقد کی گئیں جہاں ان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ان جلوسوں کے دوران سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے بڑے اجتماعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنے قائد سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی یاد کو بھرپور طریقے سے زندہ رکھتے ہیں۔