Baaghi TV

Blog

  • دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    ‎کیریبین ملک جمیکا سے نیویارک جانے والی ایک پرواز میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب دوران پرواز ایک خاتون مسافر کے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی، جس کے بعد نومولود کی شہریت کے حوالے سے دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کیریبین ایئرلائنز کی پرواز 4 اپریل کو کنگسٹن سے روانہ ہوئی تھی اور نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل ہی جہاز میں ایک نئے مسافر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ ایئرلائن کے مطابق دوران پرواز ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی مگر عملے کی بروقت مدد سے خاتون نے بحفاظت بچے کو جنم دیا۔
    ‎ایئرلائن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ نیویارک پہنچنے پر ماں اور بچے کا طبی معائنہ کیا گیا اور دونوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نومولود لڑکا ہے یا لڑکی، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ پیدائش پرواز کے کس مرحلے میں ہوئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ممکنہ طور پر بچہ لڑکا ہے اور ماں نے اس کا نام “کینیڈی” رکھا ہے۔
    ‎اس واقعے کے بعد سب سے بڑا سوال بچے کی شہریت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہے تو بچے کو امریکی شہریت مل سکتی ہے۔ تاہم اگر والدین امریکی نہیں ہیں تو اس بات کا تعین ضروری ہوگا کہ پیدائش کے وقت طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں تھا۔
    ‎امریکی قوانین کے مطابق اگر کسی بچے کی پیدائش امریکی فضائی حدود میں ہو تو اسے امریکی شہریت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے طیارے کی میڈیکل اور پائلٹ لاگ سمیت دیگر دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔
    ‎یہ واقعہ نہ صرف ایک خوشی کا موقع ہے بلکہ عالمی قوانین کے تناظر میں ایک منفرد اور دلچسپ کیس بھی بن گیا ہے جس پر قانونی ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

  • ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک ہرمس 900 ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایران نے فضائی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ڈرون ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا جس کے بعد اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی طیارے یا ڈرون کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے دعوے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ جنگ بندی کے بعد حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صوبائی اسمبلی میں "ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026” پیش کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت صوبے بھر میں کیش لیس نظام کو فروغ دیا جائے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
    ‎صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا، جس کا مقصد مالی لین دین کو شفاف بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق دکانوں، شاپنگ سینٹرز، تعلیمی اداروں، کلینکس اور ہسپتالوں سمیت تمام کاروباری مراکز کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم اپنانا ہوگا اور نمایاں جگہ پر QR کوڈ آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔
    ‎بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کاروباری ادارہ ڈیجیٹل ادائیگی وصول کرنے سے انکار کرے گا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگی کے بدلے کسی قسم کے اضافی چارجز لینا بھی قانوناً ممنوع ہوگا۔
    ‎حکومت نے اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔ مانیٹرنگ افسران کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کسی بھی وقت کسی کاروبار کا معائنہ کر سکیں تاکہ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎تاجر برادری کو اس نئے نظام کی جانب راغب کرنے کے لیے حکومت نے مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت نئے رجسٹر ہونے والے کاروباروں کو دو سال تک خصوصی ٹیکس رعایت دی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
    ‎وزیرِ قانون کے مطابق بینکوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ تاجروں کو اس نظام کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کریں تاکہ منتقلی کا عمل آسان ہو۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کے لیے لین دین کا عمل زیادہ محفوظ اور سہل ہو جائے گا۔

  • اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے پیش نظر دو روزہ تعطیل

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے پیش نظر دو روزہ تعطیل

    ‎وفاقی حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان متوقع اہم مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد میں جمعرات اور جمعہ کو مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے جبکہ مارگلہ ایونیو کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے پہاڑی چوٹیوں پر اینٹی ایئرکرافٹ سسٹمز اور اہم عمارتوں پر اسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق سرینا ہوٹل، نادرا چوک اور میریٹ کے اطراف کے علاقوں میں بھی آمدورفت محدود کر دی گئی ہے، جبکہ شہر میں داخل ہونے اور باہر جانے والے افراد کی سخت چیکنگ جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ممکنہ عالمی سطح کے مذاکرات کے دوران مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎بتایا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد مستقل امن کے قیام کے لیے اہم مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرے گا۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کے روز شروع ہونے کا امکان ہے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکی وزیر دفاع کی ٹرمپ کی تعریف، ایران پر بڑی کامیابی کا دعویٰ

    امریکی وزیر دفاع کی ٹرمپ کی تعریف، ایران پر بڑی کامیابی کا دعویٰ

    ‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کی کھل کر تعریف، ایران سے متعلق بڑے دعوے سامنے آگئے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو بڑی شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی اور وہ کامیابی حاصل کی جو پہلے کسی کو نہیں ملی۔ انہوں نے جنگ میں حصہ لینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
    ‎امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کو جنگ میں شدید نقصان پہنچا، اس کی فضائیہ اور نیوی کو تباہ کر دیا گیا جبکہ اس کی جوہری صلاحیت کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود جنگ بندی کے لیے درخواست کی جس پر صدر ٹرمپ نے نرمی کا مظاہرہ کیا۔
    ‎پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی کے آثار ہیں اور اب ایسے افراد سامنے آ رہے ہیں جو مذاکرات کے حامی ہیں۔ جوہری پروگرام سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
    ‎انہوں نے جنگ بندی کو ایک مثبت موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی راستہ حقیقی امن اور مستقل معاہدے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزارت دفاع اپنا کردار ادا کر چکی ہے تاہم امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل کرے۔

  • شالیمار ایکسپریس شہدادپور کے قریب حادثے کا شکار، کوئی جانی نقصان نہیں

    شالیمار ایکسپریس شہدادپور کے قریب حادثے کا شکار، کوئی جانی نقصان نہیں

    ‎کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس کو شہدادپور کے قریب حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اس واقعے نے مسافروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎ریلوے حکام کے مطابق حادثے میں وی وی آئی پی کچن لاؤنج، ایک اے سی بزنس کلاس اور ایک اے سی اسٹینڈرڈ بوگی شامل ہیں جو پٹری سے اتر گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین میں موجود مسافروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
    ‎حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ بوگیوں کو ہٹانے اور ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹرینوں کی آمدورفت جلد بحال کی جا سکے۔
    ‎ابتدائی رپورٹس کے مطابق حادثے کی وجوہات ابھی سامنے نہیں آ سکیں، تاہم ریلوے انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریک کی حالت، رفتار یا تکنیکی خرابی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔

  • شاید پاکستان کیلئے کھیلنا نصیب میں نہیں تھا: حسان خان

    شاید پاکستان کیلئے کھیلنا نصیب میں نہیں تھا: حسان خان

    ‎پاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے بیٹر حسان خان نے کہا ہے کہ شاید ان کے نصیب میں پاکستان کی نمائندگی کرنا نہیں لکھا تھا، تاہم وہ اپنے کیریئر اور فیصلوں سے مطمئن ہیں۔
    ‎کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسان خان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی سے کوئی شکایت نہیں اور وہ اپنی موجودہ کرکٹ سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی لیگز میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے اور وہاں انہیں عزت بھی دی جا رہی ہے، جو ان کے لیے باعث اطمینان ہے۔
    ‎حسان خان نے کہا کہ ان کی پہچان پی ایس ایل اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کی قیادت کی وجہ سے بنی، جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا کیریئر پاکستان سے ہی شروع ہوا اور وہی ان کے لیے بنیاد ثابت ہوا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ اچانک کیا گیا اور یہ تمام معاملات صرف 10 سے 15 دن کے اندر طے پا گئے۔ اس فیصلے نے ان کے کیریئر کو ایک نئی سمت دی، جہاں انہیں مزید مواقع ملے۔
    ‎واضح رہے کہ حسان خان نے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں ان کی بیٹنگ نے خاصی توجہ حاصل کی۔ سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے بھی ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین بیٹر قرار دیا تھا۔
    ‎حسان خان ماضی میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں اور پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، تاہم قومی ٹیم میں مواقع نہ ملنے کے باعث انہوں نے بیرون ملک کھیلنے کا راستہ اختیار کیا۔

  • پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اسرائیل کیلئے سیاسی ناکامی

    پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اسرائیل کیلئے سیاسی ناکامی

    ‎اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو اسرائیل کے لیے ایک بڑی سیاسی ناکامی قرار دے دیا ہے۔ ان کے بیان نے اسرائیلی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ‎یائر لاپیڈ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نہ صرف سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر ناکام رہے بلکہ وہ اپنے طے کردہ کسی ایک بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ لاپیڈ کے مطابق نیتن یاہو کے فیصلوں کی وجہ سے اسرائیل کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے درست کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اس نوعیت کا سخت ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی موجودہ پالیسیوں پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر جنگ بندی جیسے حساس معاملے پر اندرونی اختلافات مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل ہو رہی ہے، جہاں مختلف ممالک اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، خاص طور پر اگر اپوزیشن کی تنقید شدت اختیار کرتی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی

    ‎ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز اور پیٹرول پمپ ڈیلرز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ہڑتال اور بندش کی دھمکیاں دے دی ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
    ‎حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل ٹرک ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ کرایوں میں اسی تناسب سے اضافہ ممکن نہیں رہا، جس کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
    ‎انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کی پیشکش کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دعووں تک محدود ہے اور عملی طور پر ٹرانسپورٹرز کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی نہ کی گئی تو ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بند کر دی جائے گی، جس سے سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیلرز کے منافع میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ ایک بار پھر پیٹرول پمپس بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ چیئرمین ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ مارجن انتہائی کم ہے جس میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ ڈیلرز کو مناسب منافع مل سکے، بصورت دیگر ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎ادھر حکومت نے پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد شفافیت بڑھانا اور بے ضابطگیوں کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر بھی ڈیلرز کی جانب سے تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر ٹرانسپورٹرز اور پمپ ڈیلرز نے واقعی ہڑتال کی تو اس کے اثرات براہ راست عام عوام پر پڑیں گے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عارضی جنگ بندی پر ایرانی قوم کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، پوری پاکستانی قوم مبارک آباد کی مستحق ہے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلف میں جاری کشیدگی کو نارملائز کیااور بڑی کامیابی حاصل کی، امریکہ اسرائیل کے پپٹ کے طور پر کام کررہا ہے، صہیونی دنیا بھر میں امریکہ کو استعمال کررہے ہیں، دنیا بھر میں باضمیر انسان امریکی دہشت گردی کے خلاف ہیں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے،امریکہ کو اخلاقی، سفارتی اور فوجی شکست ہوئی ہے-

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو سب کے ساتھ مستحکم تعلقات رکھنے ہیں اور باہمی تجارتی تعاون کو بڑھانا ہے، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا عمل شروع کیا جائے،خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ آزاد تجارت اور ملکی گیس و پیٹرول کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ، ایران کو شامل کیا جائے اور خلیجی ممالک رضاکارانہ شریک ہوں۔