Baaghi TV

Blog

  • لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند

    لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا ایک اہم نکتہ ہے۔
    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال ہوئی، تاہم ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایک بار پھر تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر یونان اور لائبیریا کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، مگر بعد ازاں ایران نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر سخت اقدامات نافذ کر دیے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
    ‎برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے بتایا کہ یہ ٹول ٹیکس کرپٹو کرنسی میں وصول کیا جائے گا اور ہر جہاز کو اپنے کارگو کی مکمل تفصیلات ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی۔ جانچ کے بعد جہازوں کو چند سیکنڈز میں بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران ہر جہاز کی نگرانی کرنا چاہتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی قسم کی ہتھیاروں کی ترسیل نہ ہو۔ خالی جہازوں کو بغیر فیس کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ تیل بردار جہازوں پر ٹیکس لاگو ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان دونوں اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کریں گے، جبکہ ایران اس آمدن کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا۔
    ‎ادھر غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ خلیج میں اس وقت تقریباً 187 جہاز موجود ہیں جن پر 175 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں، جو صورتحال بہتر ہونے کے منتظر ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

  • جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، 112 افراد شہید

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، 112 افراد شہید

    اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود لبنان پر اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
    لبنانی وزارت صحت کے مطابق تازہ حملوں میں 112 افراد شہید جبکہ 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق دارالحکومت بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا، جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے لگے۔
    ‎اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط کارروائی تھی، جس میں بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد کمانڈ سینٹرز اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ان حملوں میں حزب اللہ کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں امن کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔

  • ترسیلات زر میں بڑا اضافہ، مارچ میں 3.8 ارب ڈالر موصول

    ترسیلات زر میں بڑا اضافہ، مارچ میں 3.8 ارب ڈالر موصول

    ‎اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ترسیلات زر کا سلسلہ بدستور مضبوط ہے اور مارچ 2026 میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.8 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو فروری 2026 کے مقابلے میں تقریباً 16.5 سے 17 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
    ‎مالی سال 2026 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات زر 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 28 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ مسلسل بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرون ملک پاکستانی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
    ‎ملک میں ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں سعودی عرب سرفہرست رہا جہاں سے مارچ میں 918 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 824 ملین ڈالر اور برطانیہ سے 587 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
    ‎اگرچہ بعض رپورٹس کے مطابق مارچ 2025 کے مقابلے میں معمولی سالانہ کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ ایک مثبت رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎حکومت اور معاشی تجزیہ کار اس بہتری کی وجہ رسمی بینکنگ چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی، شرح مبادلہ میں استحکام اور بیرون ملک افرادی قوت کی بڑھتی تعداد کو قرار دے رہے ہیں۔

  • ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    اسلام آباد میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام لے کر ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جے یو آئی سے درخواست کی کہ ایران، امریکا اور دیگر ممالک کے وفود کی اسلام آباد آمد کے پیش نظر جمعہ کو اعلان کردہ مظاہرے مؤخر کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر مثبت پیغام دیا جا سکے اور جاری امن مذاکرات کو حتمی شکل دینے میں آسانی ہو۔
    ‎ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے حکومتی وفد کو عوام میں بڑھتی بے چینی سے آگاہ کیا، خاص طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
    ‎اس موقع پر حکومتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ چند روز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جماعتی قیادت سے مشاورت کی اور جذبہ خیرسگالی کے تحت ملک بھر میں جمعہ کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
    ‎جے یو آئی کی جانب سے عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ 12 اپریل 2026 کو مردان میں ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کریں، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
    ‎بیان کے اختتام پر ملک اور عالم اسلام کے لیے امن و سلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

  • پی ٹی آئی نے حکومت کی درخواست پر جلسہ ملتوی کر دیا

    ‎تحریک انصاف نے حکومت کی درخواست پر کل ہونے والا اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے جلسہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ملاقات قومی اسمبلی کی اپوزیشن لابی میں ہوئی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
    ‎ملاقات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور راجا پرویز اشرف نے کی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے سیکیورٹی اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے پی ٹی آئی نے قبول کرتے ہوئے تعاون کا مظاہرہ کیا۔
    ‎دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے باعث 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان دنوں شہر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ حساس صورتحال میں سیاسی جماعتیں اور حکومت باہمی تعاون کے ذریعے معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • محمود اچکزئی کا حکومت کی حمایت کا اعلان، قومی اتحاد پر زور

    محمود اچکزئی کا حکومت کی حمایت کا اعلان، قومی اتحاد پر زور

    ‎قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے موجودہ صورتحال پر حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کامیابی پر خوش نہ ہونا کسی پاگل پن سے کم نہیں اور اس وقت تمام سیاسی قیادت کو ایک ساتھ بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔
    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ایسے نازک وقت میں سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خیر اور تقویٰ کے جذبے کے تحت حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، اس کے باوجود ہمیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ایک اہم موقع فراہم کر رہے ہیں جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎محمود اچکزئی نے امریکا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسئلہ ٹرمپ کی انا ہے، جو یہ سمجھتے تھے کہ ایران جلد سرنڈر کر دے گا، تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں۔
    ‎انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان سے بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ جیل جا کر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے اور معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
    ‎اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے اور تمام قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

  • ‎اسرائیلی خلاف ورزی پر ایران جوابی کارروائی کی تیاری میں

    ‎اسرائیلی خلاف ورزی پر ایران جوابی کارروائی کی تیاری میں

    ‎ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد اپنے ردعمل کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔
    ‎فارس کے مطابق ایک سکیورٹی اور عسکری ذریعے نے بتایا ہے کہ لبنان اور وہاں کی مزاحمتی تنظیموں کے خلاف اسرائیلی حملوں کے بعد ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ کارروائیاں حالیہ حملوں کے جواب میں کی جا سکتی ہیں۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مختلف محاذوں پر معاہدوں کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام ہے یا اسے کارروائی کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
    ‎فارس کے مطابق چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت پر حملہ کیا گیا، جسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔

  • ٹرمپ کا ایران سے متعلق نیا مؤقف، اہم شرائط کا اعلان

    ٹرمپ کا ایران سے متعلق نیا مؤقف، اہم شرائط کا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 15 روزہ جنگ بندی کے بعد اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق طے کیے گئے 15 نکات میں سے متعدد پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ایک مؤثر نظامِ حکومت میں تبدیلی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جسے مستقبل کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران میں یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور امریکا ایران کے ساتھ مل کر زیر زمین موجود تمام نیوکلیئر مواد کو ختم کرے گا۔ ان کے مطابق اس عمل کی نگرانی پہلے بھی سیٹلائٹ کے ذریعے کی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی سخت نگرانی جاری رہے گی۔
    ‎ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں کے حوالے سے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کریں گے، ان پر فوری طور پر سخت ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
    ‎ان کے مطابق ایسے ممالک پر 50 فیصد تک ٹیرف نافذ کیا جائے گا اور یہ پابندیاں ان تمام اشیا پر لاگو ہوں گی جو امریکا کو برآمد کی جاتی ہیں، جس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور آئندہ مذاکرات میں سخت شرائط سامنے آ سکتی ہیں۔

  • دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    دوران پرواز بچے کی پیدائش، شہریت پر دلچسپ سوالات

    ‎کیریبین ملک جمیکا سے نیویارک جانے والی ایک پرواز میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب دوران پرواز ایک خاتون مسافر کے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی، جس کے بعد نومولود کی شہریت کے حوالے سے دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کیریبین ایئرلائنز کی پرواز 4 اپریل کو کنگسٹن سے روانہ ہوئی تھی اور نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل ہی جہاز میں ایک نئے مسافر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ ایئرلائن کے مطابق دوران پرواز ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی مگر عملے کی بروقت مدد سے خاتون نے بحفاظت بچے کو جنم دیا۔
    ‎ایئرلائن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ نیویارک پہنچنے پر ماں اور بچے کا طبی معائنہ کیا گیا اور دونوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نومولود لڑکا ہے یا لڑکی، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ پیدائش پرواز کے کس مرحلے میں ہوئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ممکنہ طور پر بچہ لڑکا ہے اور ماں نے اس کا نام “کینیڈی” رکھا ہے۔
    ‎اس واقعے کے بعد سب سے بڑا سوال بچے کی شہریت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہے تو بچے کو امریکی شہریت مل سکتی ہے۔ تاہم اگر والدین امریکی نہیں ہیں تو اس بات کا تعین ضروری ہوگا کہ پیدائش کے وقت طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں تھا۔
    ‎امریکی قوانین کے مطابق اگر کسی بچے کی پیدائش امریکی فضائی حدود میں ہو تو اسے امریکی شہریت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے طیارے کی میڈیکل اور پائلٹ لاگ سمیت دیگر دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔
    ‎یہ واقعہ نہ صرف ایک خوشی کا موقع ہے بلکہ عالمی قوانین کے تناظر میں ایک منفرد اور دلچسپ کیس بھی بن گیا ہے جس پر قانونی ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

  • ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ایران کا ہرمس 900 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، سخت ردعمل کی وارننگ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک ہرمس 900 ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایران نے فضائی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ڈرون ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا جس کے بعد اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی طیارے یا ڈرون کی ایران کی فضائی حدود میں داخلے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے دعوے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ جنگ بندی کے بعد حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔