Baaghi TV

Blog

  • اٹلی کے سابق وزیر اعظم نے شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا

    اٹلی کے سابق وزیر اعظم نے شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا

    اٹلی کے سابق وزیر اعظم پاؤلو جینٹی لونی نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا۔

    امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جینٹی لونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس جنگ بندی کیلئے کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نوبیل انعام کے مستحق ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے جنگ بندی کیلئے کی گئی کوششوں کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت پیشرفت قرار دے دیا۔

  • پاکستان میں سونے کی قیمت پھر 5 لاکھ سے زائد ہو گئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت پھر 5 لاکھ سے زائد ہو گئی

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے –

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 15 ہزار 700 روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اب ایک تولہ سونا 5 لاکھ 4 ہزار 162 روپے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہو رہا ہے،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13 ہزار 460 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 32 هزار 237 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    سونے کی قیمتوں میں اس اچانک اور بڑے اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلی ہے،بین الاقوامی بازار میں سونے کا بھاؤ 157 ڈالرز کے نمایاں اضافے کے ساتھ 4814 ڈالرز فی اونس ہو گیا ہے اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف ایک دن پہلے ہی سونے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، جہاں فی تولہ سونا 3 ہزار روپے اور 10 گرام سونا 2572 روپے سستا ہوا تھا۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی مارکیٹ کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے اور سرمایہ کار اب سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جب تک عالمی سطح پر قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، مقامی مارکیٹ میں بھی اسی طرح کا غیر یقینی اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

  • تحریک انصاف کی راولپنڈی میں  جلسے کی درخواست مسترد

    تحریک انصاف کی راولپنڈی میں جلسے کی درخواست مسترد

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے این او سی کی درخواست مسترد کر دی-

    انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی (DIC) کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا گیا، جس میں موجودہ خطرے کے اسپیکٹرم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی اجتماعات میں شرکا کے جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں راولپنڈی میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے جب کہ لیاقت باغ کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے حفاظتی وسائل کی بڑے پیمانے پر تعیناتی حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ممکن نہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق موجودہ حالات میں عوامی اجتماع کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری انتظامی، لاجسٹک اور مالی ضروریات کو پورا کرنا ایک چیلنج ہے، اسی لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں جلسے کے این او سی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 9 اپریل کے جلسے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق پرامن جلسہ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے۔

    پی ٹی آئی راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ صدر عاقل خان نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں جلسے کے اجازت نامے سے انکار کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور اراین کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں حالیہ جنگ بندی اور مستقبل کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائز کے لیے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعر یف کی اور امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنا پیغام بھجوایا۔

    اعلامیے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔

  • پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں –

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں،یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان کی آمد پر کابینہ اراکین نے تالیاں بجا کر پُرجوش خیرمقدم کیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بھی ڈیسک بجا کر مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔اجلاس میں تمام اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی گئی کامیاب سفارتی کوششوں اور مثبت اقدامات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر اپنے مؤثر سفارتی کردار کے باعث نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ قومی قیادت نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں اور ملک امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کابینہ کو جنگ بندی کے لیے ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔جنگ بندی کی خوشی میں کابینہ اراکین میں مٹھائی تقسیم کی گئی، جبکہ جمعہ کے روز یومِ تشکر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین قومی مفاد میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور عالمی سطح پر ملک کے امن پسند کردار کو اجاگر کیا۔

  • ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

    ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

    سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کی قیادت کی انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تباہی کے راستے کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کیا اور کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا، پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے لیے پختہ وابستگی کے ساتھ قیادت کا کردار ادا کیا، تینوں ممالک کی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جبکہ یہ جنگ بندی پورے خطے کے لیے سکون کا سانس لینے کا ایک اہم موقع ہے، یہ پیش رفت محض عارضی وقفہ ثابت نہیں ہوگی بلکہ پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز بنے گی جو خطے اور دنیا بھر میں مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔

  • امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی  پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

    فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

    دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

    مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

    بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

    جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

    خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔