Baaghi TV

Blog

  • ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

    ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

    سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی،بلاول کا خراج تحسین

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کی قیادت کی انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تباہی کے راستے کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کیا اور کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا، پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے لیے پختہ وابستگی کے ساتھ قیادت کا کردار ادا کیا، تینوں ممالک کی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جبکہ یہ جنگ بندی پورے خطے کے لیے سکون کا سانس لینے کا ایک اہم موقع ہے، یہ پیش رفت محض عارضی وقفہ ثابت نہیں ہوگی بلکہ پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز بنے گی جو خطے اور دنیا بھر میں مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔

  • امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی  پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

    فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

    دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

    مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

    بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

    جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

    خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

  • شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا نے دو روز کے دوران دوسرا پروجیکٹائل لانچ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے تجربے کا سراغ لگایا گیا تھا، جس کا تجزیہ جنوبی کوریا اور امریکا کے انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے رہنما کم جونگ ان نے ایک جدید سالڈ فیول انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا، جسے ملک کے اسٹریٹجک فوجی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے ایسے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائلز کو حرکت دینا اور چھپانا آسان ہوتا ہے، جبکہ مائع ایندھن والے میزائلز کے برعکس انہیں لانچ سے پہلے بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ انجن ٹیسٹ ممکنہ طور پر ایسے طاقتور میزائل کی تیاری سے متعلق ہے جو متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    شمالی کوریا 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام سفارتی مذاکرات کے بعد سے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا، تاہم امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط نہ بنائے۔

  • فیلڈ مارشل  کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

    محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیا ب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے، یہ تاریخی کا میابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے ، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی، سوشل میڈیا ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ بندی

    : پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جسے ماہرین “سوشل میڈیا ڈپلومیسی” کی ایک منفرد مثال قرار دے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان سے قبل وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپیل کی کہ “سفارتکاری کو موقع دیا جائے” اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی اس اپیل کے محض ڈیڑھ گھنٹے بعد امریکی صدر نے حملے مؤخر کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، جسے پاکستان کی بروقت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

    بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ “انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف جنگ بندی میں ثالث بنا بلکہ اب وہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کرے گا۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کی پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔مزید برآں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر ہنگری کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔

    نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔

    تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔

  • امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    امریکا،ایران جنگ بندی، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پر عالمی برادری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آسکے۔ سعودی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔

    دوسری جانب ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدہ تشکیل دیا جائے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا کے لیے باعثِ راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔ادھر فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی کی شرائط کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لہٰذا اسے بھی کسی جامع امن معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس اہم پیش رفت کی راہ ہموار کی، جسے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے جاری ہیں، جہاں ماہرین اور عالمی رہنما پاکستان کی ثالثی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا گیا، جس سے پورا خطہ تباہی کے دہانے سے واپس آ گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی اور عالمی رابطوں نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔جنگ بندی کو ممکن بنانے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں بھی نمایاں رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے اثرات عالمی منظرنامے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جہاں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ اقتصادی استحکام کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں "ویلڈن پاکستان” کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی بروقت، مخلصانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کے اُس کردار کی توثیق کرتی ہے جو ایک منتشر عالمی منظرنامے میں پل بنانے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ جنگ بندی محض وقتی توقف نہیں بلکہ کشیدگی پر امن کی ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ مکالمہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک دوراندیش رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ہر سفارتی کوشش پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عین مطابق تھی۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر دیا ہے۔داخلی سکیورٹی نظام کی قیادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتکاری میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے عسکری اور سفارتی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

    کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے نے اصولی مؤقف کے ساتھ واضح طور پر فریق بننے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ایسے مؤقف کا بروقت اظہار پاکستان کے مثبت اور مخلص کردار کے نتائج کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ حقیقی ثالثی میں کوئی ہار یا جیت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ فریقین اجتماعی بھلائی کے لیے کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ پاکستان نے توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں جانب مساوی مفادات کو یقینی بنایا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔ یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے ذریعے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر میں کمزور طبقات کے روزگار اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چین پر دباؤ کم کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے غریب طبقات کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ مخالف عناصر اپنے مفادات کے لیے اس کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیلا جا سکے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور پھر علاقائی استحکام و خوشحالی کی طرف بڑھنا ہماری اگلی منزل ہے۔پاکستان نے منفی پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کو مؤثر انداز میں رد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی ہے، تاہم معلوماتی میدان میں دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی، آپریشن "غضب للحق” اور اندرونی انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے دوران ریاست مضبوط اور ثابت قدم رہی۔ ان تمام سکیورٹی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان نے اپنی معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد معاشی فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

    ان بے شمار کامیابیوں کے ذریعے پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو صرف بحرانوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے، الحمدللہ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد