پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے دلفریب پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ لیکن آئے دن ان جگہوں پر حادثات دل گرفتہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونا، ڈرائیور کا پرخطر راستوں سے ناواقف ہونا، سڑکوں کے کنارے حفاظتی بیرئیر نہ ہونا، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔
ان بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ پہاڑی راستے عام شاہراہوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں مسلسل چڑھائی اور اترائی کی وجہ سے انجن، بریک، گیئر اور ریڈی ایٹر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاحتی مقامات پر چلنے والی اکثر بسیں، کوسٹرز اور جیپیں تکنیکی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پرانے ٹائر پھٹ جاتے ہیں بریک فیل ہو جاتے ہیں اور گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرتی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ ایک الگ مہارت ہے۔ میدانی علاقے کا کامیاب ڈرائیور پہاڑوں پر ناکام ہو سکتا ہے۔ بہت سے ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ تنگ، بل کھاتے اور اندھے موڑ کاٹنے کا طریقہ، رات کے وقت ڈرائیونگ اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ردعمل دینے کی تربیت نہ ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری نہ ہونا، تھکاوٹ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی قاتل ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں کی سڑکیں تنگ، کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے بعد ان پر لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ آ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ مضبوط حفاظتی دیواریں یا کرش بیرئیر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر تو صرف خانہ پری کے لیے اینٹیں جوڑ دی گئی ہیں۔ ذرا سا ٹائر سلپ ہوا، اور گاڑی سیدھی کھائی میں۔ خطرناک موڑوں پر آئینے، رفتار کم کرنے کے سائن بورڈ اور رات کے لیے ریفلیکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ حال ہی میں اوور لوڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں حادثے میں سات نوجوانوں کے جنازے اٹھے جس نے ماحول کو بہت سوگوار بنا دیا۔زیادہ منافع کی ہوس میں ٹرانسپورٹرز گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ مسافر بٹھاتے ہیں۔ چھتوں پر سامان کے انبار لگا دیے جاتے ہیں۔ اس اضافی وزن سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا یے اور اترائی پر بریک گاڑی کو روک نہیں پاتے۔ دوسری طرف کچھ نوجوان سیاح تیز رفتاری، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہاڑی سڑکیں معافی نہیں دیتیں۔ پہاڑوں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے۔ صاف آسمان پر اچانک کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے دس فٹ دور کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ موسلادھار بارش سے سڑک پر پھسلن اور کیچڑ ہو جاتا ہے۔ برفباری میں بغیر سنو چین کے گاڑی چلانا ناممکن ہے۔ اچانک پہاڑ سے گرنے والے پتھر بھی چلتی گاڑیوں کو کچل دیتے ہیں۔ فوگ لائٹس، اور ہیٹر کے بغیر ان حالات میں سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کا نظام نہایت کمزور ہے۔ بغیر لائسنس، جعلی لائسنس اور کم عمر ڈرائیور دھڑلے سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ سیاحتی سیزن میں فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیے بغیر گاڑیوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ اوور لوڈنگ پر جرمانے برائے نام ہیں۔ عوام بھی خود شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ وہ سستی کے چکر میں کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور سیٹ بیلٹ باندھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ پہاڑی علاقوں کے حادثات کے پیچھے انسانی غلطی، مشینی خرابی اور انتظامی کوتاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب تک گاڑی، ڈرائیور، سڑک اور قانون، ان چاروں ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خوبصورت وادیاں ہمارے لیے نوحہ بنی رہیں گی۔
