امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہو گئی ہے، تاہم فریقین کے درمیان پیش رفت جاری ہے اور معاہدہ اب بھی قریب دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دستخط کی تقریب، جو پہلے فوری طور پر منعقد ہونا تھی، اب چند گھنٹے بعد متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی صورتحال نے شیڈول کو متاثر کیا، لیکن مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔
امریکی صحافیوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگلے دو سے تین گھنٹوں کے اندر کسی معاہدے تک پہنچنے یا اس پر دستخط ہونے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ دونوں جانب سے سفارتی رابطے جاری ہیں اور معاملات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملوں اور اس کے بعد ممکنہ ردعمل کے خدشات نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور دونوں فریق کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی قابل قبول فارمولے پر کام کر رہے ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فی الحال عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا فریقین آئندہ چند گھنٹوں میں معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس پیش رفت کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Blog
-

اسرائیلی حملے سے امریکا ایران معاہدے میں چند گھنٹوں کی تاخیر، ٹرمپ
-

ڈی جی خان میں دہشت گرد حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر قائم عمر فاروق چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے دو اہلکار شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق دہشت گردوں نے رات کے وقت چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی۔ حملے کے دوران ایلیٹ فورس کے جوانوں نے بھرپور مزاحمت کی، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی بھی کی گئی تاکہ فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ڈیرہ غازی خان اور خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحدی علاقے ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران پنجاب پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے متعدد دہشت گرد حملوں اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی گئی ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے باعث فخر ہیں اور ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ -

ایران معاہدے پر ڈیموکریٹس کی ٹرمپ پر شدید تنقید
امریکا میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ایران کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے اور امریکی فوجیوں کی جانوں کے ضیاع کے باوجود حاصل ہونے والے نتائج کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے تھے جو بعد میں درست ثابت نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو بار بار ایسے وعدے سننے کو ملے جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ نئی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث مالی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے ممکنہ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘‘ قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر اس تنازع پر خرچ ہوئے، جبکہ 14 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سیتھ مولٹن کے مطابق اگر معاہدے کا سب سے بڑا نتیجہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے تو یہ کامیابی نہیں کہلا سکتی، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ جنگ سے قبل بھی بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے مالی اور جانی نقصان کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کو کس بنیاد پر سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ معاہدہ امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئندہ انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ڈیموکریٹک رہنما اس معاملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم امتحان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل خطے میں استحکام، کشیدگی میں کمی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس پر دستخط کے حوالے سے صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔ -

پی آئی اے کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کا عندیہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ، بینکاری اور انشورنس کے شعبوں میں بھی اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا وژن یہ ہے کہ نجی شعبہ معیشت میں مرکزی کردار ادا کرے جبکہ ریاست ایک مؤثر ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مستقبل کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے اور سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نجی شعبے کو مزید مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بعض معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مواقع کو مستقل فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق علاقائی صورتحال میں بہتری، اقتصادی انضمام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی خطے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حکومت مختلف ممکنہ معاشی مواقع اور چیلنجز کے حوالے سے پہلے ہی مشاورت اور منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ یا تنازع کو مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کی بندرگاہوں، خصوصاً پورٹ قاسم اور گوادر، کی جانب بین الاقوامی تجارتی توجہ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے بہاؤ کو طویل المدتی بنیادوں پر برقرار رکھا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مستقل فائدہ پہنچ سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے بعض شعبوں میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے، تاہم اس عمل کی شفافیت اور مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔ -

بیروت حملے کے بعد اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی کا خدشہ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حالیہ فضائی حملے کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران یا اس کے اتحادی عناصر کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا امکان موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے تمام متعلقہ عسکری کمانڈرز کے ساتھ ہنگامی مشاورت کی ہے اور موجودہ انٹیلی جنس جائزوں کی روشنی میں مختلف دفاعی اور جارحانہ حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق ایران کی جانب سے کسی نہ کسی نوعیت کی جوابی کارروائی متوقع ہو سکتی ہے۔
آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ فوجی حکام کے مطابق اسرائیل اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی گولہ باری یا حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔ بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد لبنان، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران یا اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو اس سے پورے خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث اسرائیل، لبنان اور دیگر پڑوسی ممالک میں سیکیورٹی اداروں کو بھی چوکس کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ -

ایران کو نظر انداز کرکے خطے میں امن ممکن نہیں، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے تمام علاقائی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگی تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران ایک اہم علاقائی طاقت ہے اور اسے نظر انداز کر کے کوئی بھی مؤثر سیکیورٹی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فوجی صلاحیت، قومی یکجہتی اور عوامی مزاحمت نے دنیا کو ایران کی حقیقی طاقت کا اندازہ کروایا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوامی حمایت ایران کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور یہی حمایت سفارتی میدان میں بھی ملک کی طاقت اور خودمختاری کا بنیادی ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام نے مشکل حالات میں جس اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی سطح پر ایران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اب بتدریج اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پائیدار سلامتی اور معاشی ترقی کا راستہ تصادم یا تنہائی سے نہیں بلکہ تعاون، مکالمے اور مشترکہ مفادات کے احترام سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی چیلنجز کا حل اجتماعی کوششوں اور باہمی اعتماد کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام متعلقہ ممالک کے جائز مفادات اور خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔ ایران خطے میں امن، ترقی اور تعاون کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایران، امریکا سمیت کئی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے علاقائی تعاون پر زور دینا مستقبل کی سفارتی پیش رفت کے لیے اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ -

کانگو میں ایبولا کیسز 710 تک پہنچ گئے، 149 اموات
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 710 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 149 تک پہنچ چکی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 21 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
سرکاری صورتحال رپورٹ کے مطابق جمعہ تک ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقی کانگو میں ایبولا کی وبا اب بھی قابو میں نہیں آ سکی۔ صحت حکام متاثرہ علاقوں میں نگرانی، مریضوں کی شناخت اور علاج کی سرگرمیوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وبا کا بروقت پتہ نہ چلنے کے باعث بیماری کئی ہفتوں تک خاموشی سے پھیلتی رہی، جس کے نتیجے میں متاثرین اور اموات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق وبا کے اعلان کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں شدید بخار، کمزوری، جسم درد، الٹی، اسہال اور بعض اوقات اندرونی و بیرونی خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کی شرح اموات بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
کانگو کی حکومت، عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیمیں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن، طبی سہولیات کی فراہمی اور عوامی آگاہی مہمات جاری ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
صحت کے ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں، مشتبہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں اور متاثرہ افراد سے غیر ضروری رابطے سے گریز کریں۔ -

احمد آباد ائیرپورٹ پر کروڑوں روپے کا سونا برآمد
بھارت کے شہر احمد آباد کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر کسٹم حکام نے سونے کی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کا سونا برآمد کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ سونا دبئی سے آنے والی ایک پرواز کے طیارے میں انتہائی مہارت سے چھپایا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیگو ائیرلائن کے ایک طیارے کے اسپیکر کے اندر تقریباً 2.8 کلو گرام سونا چھپایا گیا تھا۔ برآمد ہونے والے سونے کی مالیت 4 کروڑ بھارتی روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں بھی ایک خطیر رقم بنتی ہے۔
کسٹم حکام کے مطابق اسمگلرز نے سونے کو کالے رنگ کی ٹیپ میں لپیٹ کر اسپیکر کے اندر اس انداز میں نصب کیا تھا کہ معمول کی جانچ پڑتال کے دوران اس کا پتہ چلانا آسان نہ ہو۔ تاہم خفیہ اطلاعات اور جدید تلاشی کے عمل کے دوران مشکوک سامان کی نشاندہی ہوئی جس کے بعد تفصیلی معائنہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ سونے کو اسپیکر سے نکالنے کے لیے ائیرکرافٹ انجینئرز کی مدد حاصل کی گئی۔ تکنیکی جانچ کے بعد اسپیکر کو کھولا گیا تو اس کے اندر سے بڑی مقدار میں سونا برآمد ہوا، جسے فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔
کسٹم حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسمگلنگ کی اس کوشش کے پیچھے کون سے افراد یا گروہ ملوث ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا طیارے کے عملے یا دیگر متعلقہ افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مختلف ممالک میں اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسمگلرز نئے نئے طریقے اختیار کرکے قیمتی دھات کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم سخت نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے کئی منصوبے ناکام بنائے جا رہے ہیں۔ -

ہانیہ احمد قتل کیس: سی سی ڈی اہلکار کیخلاف قتل کا مقدمہ درج
چکوال میں 9 سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے بچی کی موت کے بعد ملزم اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد سی سی ڈی اہلکار سے فائرنگ میں استعمال ہونے والی سرکاری رائفل برآمد کر لی گئی ہے۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی حساسیت کے پیش نظر اسلحہ اور دیگر شواہد فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی تفتیش پہلے تھانہ سٹی پولیس کے پاس تھی، تاہم بعد ازاں تحقیقات واپس لے کر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر فائرنگ کے دوران طے شدہ آپریشنل طریقہ کار اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی اہلکار شجاعت پر الزام ہے کہ اس نے بغیر مناسب وارننگ کے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان بھی زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاندان ڈھڈیال سے چکوال آیا تھا اور نوگزی دربار کے قریب مبینہ ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار افراد زخمی ہوئے جبکہ 9 سالہ ہانیہ احمد شدید زخموں کے باعث دم توڑ گئی۔
دوسری جانب سی سی ڈی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے چکوال دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ متاثرہ خاندان سے ملاقات اور تعزیت کریں گے جبکہ واقعے کی تحقیقات اور پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ جلد متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ متاثرہ خاندان اور عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ تحقیقات کے بعد انصاف کے تقاضے کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔ -

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا
آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز مقابلے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شائقین کرکٹ کی نظریں روایتی حریفوں کے اس ہائی وولٹیج مقابلے پر مرکوز ہیں، جہاں دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کا فاتحانہ آغاز کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔
ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ورلڈ کپ کی کارکردگی نے ٹیم کا اعتماد بڑھایا ہے اور کھلاڑیاں اس اہم میچ کے لیے پُرجوش ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا کہ اگر پاکستان ٹاس جیتتا تو وہ بھی پہلے بیٹنگ کا انتخاب کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے اچھی نظر آ رہی ہے، تاہم پاکستانی ٹیم کے پاس باصلاحیت اسپنرز اور معیاری فاسٹ بولرز موجود ہیں جو بھارتی بیٹنگ لائن کو کم اسکور تک محدود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہمیشہ سے شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور خواتین کرکٹ میں بھی دونوں ٹیموں کی رقابت مسلسل دلچسپ مقابلوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ایونٹ میں مثبت آغاز کی خواہاں ہیں۔
میچ سے قبل ایک اور معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا جب روایتی مصافحے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق بھارتی کپتان اور پاکستانی کپتان کے درمیان روایتی مصافحہ نہیں ہوا، جس پر شائقین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔
ماہرین کرکٹ کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نہ صرف کھیل کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
شائقین کو توقع ہے کہ دونوں ٹیمیں جارحانہ اور مثبت کرکٹ پیش کریں گی اور یہ مقابلہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے یادگار میچوں میں شامل ہوگا۔