Baaghi TV

Blog

  • کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ

    کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ

    کشمور (بیورو چیف) – کندھ کوٹ کے سول ہسپتال میں سرکاری ادویات کی بدترین چوری اور کرپشن مافیا کے بے لگام اقدامات سے غریب مریض خطرے میں ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ہسپتال اب علاج گاہ نہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں نہ ڈاکٹرز کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی مریضوں کی جان کی کوئی قیمت۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر نجی اسٹورز پر فروخت میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی ایچ او اور آفس سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی کے بغیر یہ کرپشن ممکن نہیں۔
    گمشدہ اور مبینہ طور پر بازار میں فروخت ہونے والی ادویات میں شامل ہیں:
    سیفٹریاکسون،میروپینم،وینکومائسن،انسولین،اینوکساپیرن،اومیپرازول،پیراسیٹامول انفیوژن،ہماکسل،انسولین 70/30،اسپیرٹ،پائیوڈین،وٹامن ڈی انجیکشن،پیناڈول سیرپ،سیفٹو انجیکشن.شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر کشمور اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈی ایچ او، آفس سپرنٹنڈنٹ، تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سمیت تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جا سکے اور ہسپتال کو لٹیروں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔

  • چاندی کی قیمت میں اضافہ،سونا سستا

    چاندی کی قیمت میں اضافہ،سونا سستا

    عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں آج سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 2 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 614 ڈالر کی سطح پر آگئی مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت بھی 200 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 83 ہزار 762 روپے ہوگئی، جبکہ فی 10 گرام سونا 172 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 14 ہزار 747 روپے پر پہنچ گیا۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 193 روپے بڑھ کر 8 ہزار 14 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 165 روپے اضافے کے بعد 7 ہزار 870 روپے ہوگئی۔

  • ایران  کا  امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی،کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گادشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں، انہو ں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • عوام ملک کی  تعمیرِ نو ، ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،ایرانی سپریم لیڈر

    عوام ملک کی تعمیرِ نو ، ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے عوام سے ملک کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ نقصانات کے ازالے اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

    پریس ٹی وی کے مطابق اسلامی جمہوریہ یوم اور قومی یومِ فطرت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ عوام ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے زور دیا کہ حالیہ حالات میں تعمیرِ نو اور نقصانات کے ازالے کے لیے اجتماعی کاوشیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

    سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ’’ناپاک اور بے رحم امریکی اور صیہونی دشمن‘‘ کی کارروائیاں جاری ہیں، ان حملوں نے نہ صرف ملک کے بنیادی ڈھانچے بلکہ قدرتی اور ماحولیاتی مقامات کو بھی نقصان پہنچایا ہے ایران کے روشن مستقبل کی تعمیر اور ملکی ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہر ممکن کوشش ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول میں عوام کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوان متاثرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "بچوں کو شہید کرنے والے، شیطانی امریکی اور صیہونی جنونوں نے سکول کے جوان پودے کو بے دردی سے شہید کر دیا قائد نے ملک بھر کے شہروں اور دیہاتوں کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ یوم فطرت سے لے کر موسم بہار کے اختتام تک شجر کاری کی مربوط کوششوں میں حصہ لیں۔

    "اس کے باوجود ایرانی قوم، تمام شہداء، خاص طور پر جاری جنگ کے شہداء کی تعظیم میں، اپنی سرزمین پر امید کا پودا لگا رہی ہے، تاکہ ان میں سے ہر ایک پودا، آنے والے سالوں میں، ایک بابرکت اور پھل دار درخت بن جائے۔”

    واضح رہے کہ ایران میں یکم اپریل کو یومِ اسلامی جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے، جو کہ 1979 کے ریفرنڈم کے طور پر منایا جاتا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ قائم کیا اور امریکہ کی حمایت یافتہ پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ سالانہ طور پر، یہ موقع قومی یوم فطرت سے بھی مطابقت رکھتا ہے جو نوروز کی تعطیلات کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے، یہ 13 دن کا دورانیہ ہے جو فارسی نئے سال کے آغاز کے بعد ہوتا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا, امریکا پہلے ہی ساڑ ھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے, وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان ابراہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو کو   جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    امریکی سیاسیات کے ماہر اور بین القوامی تعلقات کے اسکالر جان میئر شائمر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔

    میئر شا ئمر نے ایک سوشل میڈیا پوڈ کاسٹ میں کہا کہ اگر نیورمبرگ ٹرائلز ہوتے اور اسرائیلی و امریکی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیا جاتا، تو صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے کئی مشیران کو پھانسی دی جاتی، نیورمبرگ ٹرائلز میں سابقہ نازی جرمن رہنماؤں کو نسل کشی اور جارحانہ جنگ کے الزامات پر سزائیں دی گئی تھیں،امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بلاوجہ دو حملے کیے، جن میں جون 2025 کا حملہ اور موجودہ جارحانہ کارروائی شامل ہے، اور اس میں ایران کے کسی فو جی اقدام کو جواز نہیں بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل نے غیر قانونی طریقے سے رہنماؤں کو قتل کیا اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ بھی لڑی۔

    28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت میں اعلیٰ ایرانی افسران اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ان دشمنانہ کارروائیوں میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، شہری بنیادی ڈھانچے، اسکولز، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے ایران کی مسلح افواج نے اس کے جواب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے تقریبا روزانہ میزائل اور ڈرون آپریشنز کیے۔

  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں  کمی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی گراوٹ کے باعث پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ہوئی ہے-

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 71 ڈالر کی نمایاں کمی کے بعد 4642 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ہے، اس عالمی مندی کی وجہ سے پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 7100 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد ایک تولہ سونا 4 لاکھ 86 ہزار 962 روپے کا ہو گیا ہے 10 گرام سونے کی قیمت 6087 روپے کی واضح کمی کے بعد اب 10 گرام سونا 4 لاکھ 17 ہزار 491 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

    اس اچانک تبدیلی کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ حالیہ خطاب ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور اگلے دو سے تین ہفتوں میں مزید شدید حملوں کا اعلان کیا ہے معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ میں موجود اس امید کو ختم کر دیا ہے کہ شاید جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

  • چوہنگ میں نویں جماعت کی طالبہ پر سفاکانہ تیزاب گردی کا واقعہ،مرکزی ملزم ہلاک

    چوہنگ میں نویں جماعت کی طالبہ پر سفاکانہ تیزاب گردی کا واقعہ،مرکزی ملزم ہلاک

    چوہنگ میں نویں جماعت کی طالبہ پر سفاکانہ تیزاب گردی کا واقعہ،مرکزی ملزم ہلاک ہو گیا

    اکیڈمی سے گھر لوٹتی طالبہ پر اچانک حملہ، ملزمان تیزاب پھینک کر فرار ہوئے،چہرہ، سر اور کندھے جھلس متاثر ہوئے، متاثرہ بچی کا ہسپتال میں علاج جاری ہے،رشتہ نہ دینے کی رنجش پر، ملزمان نے معصوم طالبہ کو نشانہ بنایا،تھانہ چوہنگ پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ 1630/26 درج کیا مڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی صدر کو ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا. ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق شہر بھر میں ناکہ بندی، ملزمان کی تلاش کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں. گرین ٹاؤن میں پولیس نے مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا. ملزمان کی پولیس پر اندھا دھند فائرنگ، پولیس گاڑی بھی گولیوں کی زد میں آئی،پولیس کی بروقت کارروائی، تعاقب کے بعد ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا. اپنے ساتھی کی فائرنگ سے زخمی کی شناخت ساجد کے نام سے ہوئی. دوسرا ملزم فائرنگ کرتے ہوئے فرار، گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، زخمی ملزم ساجد کو علاج کیلئے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جان برنہ ہو سکا ،واقعہ کا تھانہ گرین ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 1217/26 درج کر لیا گیا ،تھانہ گرین ٹاؤن نے اقدام قتل و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا.

  • شراب کیوں نہیں دی، مہمانوں  کا دلہا دلہن پر حملہ

    شراب کیوں نہیں دی، مہمانوں کا دلہا دلہن پر حملہ

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار میں شادی کی ایک خوشیوں بھری تقریب اس وقت ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہوگئی جب مہمانوں کو شراب پیش نہ کرنے پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا اور دلہا، دلہن سمیت اہلِ خانہ پر حملہ کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی رات پٹائی گاؤں میں پیش آیا، جو ارون تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ حملہ آوروں نے نہ صرف تشدد کیا بلکہ گھر سے نقدی اور سامان بھی لوٹنے کا الزام ہے۔سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منیش یادو نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی رہائشی مہیش جاٹو کی شادی جاری تھی جب مہمانوں نے تقریب میں شراب فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دلہا کی جانب سے انکار پر معاملہ تلخ کلامی سے بڑھ کر ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گیا۔دلہا کی والدہ شیلا نے بتایا کہ دلہن کے گھر پہنچنے کے بعد شادی کی رسومات جاری تھیں کہ اسی دوران کچھ افراد آئے اور ان کے بیٹے سے شراب کے لیے پیسے مانگنے لگے۔ انکار پر انہوں نے خاندان کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔شیلا کے مطابق جب انہوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے انہیں، ان کے شوہر، دلہا اور دلہن کو بھی مارا پیٹا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

  • تہران میں صدی پرانا طبی مرکز حملے کا نشانہ

    تہران میں صدی پرانا طبی مرکز حملے کا نشانہ

    تہران: ایران کے دارالحکومت میں واقع ایک صدی پرانے اور اہم طبی و تحقیقی ادارے پر امریکی و اسرائیلی حملے کی خبر سامنے آئی ہے،

    ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے قدیم ترین اور نمایاں صحت و تحقیقی مراکز میں شمار ہونے والے پاسچر انسٹی ٹیوٹ آف ایران کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ادارے کو عالمی صحت کے شعبے میں ایک مضبوط ستون سمجھا جاتا ہے۔ترجمان کے مطابق، “پاسچر انسٹی ٹیوٹ آف ایران پر حملہ عالمی صحت کی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف ایران بلکہ بین الاقوامی سطح پر بیماریوں کی تحقیق اور روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ انٹرنیشنل پاسچر نیٹ ورک کا رکن ہے اور ایک صدی سے زائد عرصے سے طبی تحقیق، ویکسین سازی اور عوامی صحت کے فروغ میں سرگرم ہے۔

    حسین کرمانپور نے عالمی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اس حملے کی مذمت کریں، نقصانات کا جائزہ لیں اور بحالی کے عمل میں تعاون فراہم کریں۔واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور سرکاری ذرائع پر جاری تصاویر میں عمارت کے مختلف حصوں کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائے گئے ہیں، تاہم جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ماہرین کے مطابق ایسے حساس طبی مراکز پر حملے نہ صرف ایک ملک بلکہ عالمی صحت کے نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا مختلف بیماریوں اور صحت کے چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔