Baaghi TV

Blog

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے، اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے ۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں مہنگائی 38 فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گا مزن ہے،ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے،

  • ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    بھارت میں سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اب باقاعدہ ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔

    امرتسر میں تعلیمی نظام کے خلاف ایک بڑے عوامی اجتماع کے بعد’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی اس بڑی نئی تنظیم نے اب بنگلورو اور جے پور میں بڑے پیما نے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ باقاعدہ بیانات کے مطابق حامیوں اور عام شہریوں کو 14 جون کو بنگلورو اور 15 جون کو جے پور میں ہونے والے پُرامن احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے،ان مظاہروں کا مقصد عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امرتسر گیٹ پر ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا،اس تحریک کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب نامور بھارتی اداکار، فلم ڈائریکٹر اور سماجی کارکن پرکا ش راج نے بنگلورو میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خود شرکت کرنے کی تصدیق کی۔

    ابتدا میں یہ مہم صرف حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے ایک طنزیہ آن لائن ٹرینڈ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی جوابدہی جیسے سنجیدہ مطالبات پر مبنی ایک وسیع قومی تحریک بن چکی ہے۔

    گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک جج سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر بعض احتجاج کرنے والے بے روزگار نوجوا نو ں کے لیے ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا بھارتی نوجو انوں نے اس توہین آمیز لفظ کو ایک گالی کے طور پر لینے کے بجائے اسے اپنی ‘مزاحمت اور استقامت’ کی علامت بنا لیا۔

    ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ سخت ترین حالات اور ہر قسم کے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح معاشی بدحالی اور بے روز گاری کے باوجود بھارت کا غریب اور مڈل کلاس نوجوان بھی حکومتی بے حسی کے خلاف ڈٹا رہے گا، تعلیمی نظام میں خرابیوں اور حالیہ امتحانی سکینڈلز کی وجہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اس تحریک کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔

  • بجلی کے کام کے باعث موٹروے ایم-5 کو  عارضی طور پر بند کر نے کا فیصلہ

    بجلی کے کام کے باعث موٹروے ایم-5 کو عارضی طور پر بند کر نے کا فیصلہ

    میپکو کے بحالی بجلی کے کام کے باعث موٹروے ایم-5 پر ٹریفک کی روانی عارضی طور پر متاثر رہے گی،متبادل راستے کا کل فاصلہ تقریباً 148 کلومیٹر ہوگاجبکہ مقررہ اوقات کے دوران روہڑی ٹول پلازہ سے ہیوی ٹریفک کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان سنٹرل ریجن کے مطابق 15 اور 16 جون کو موٹروے ایم-5 کا اقبال آباد تا گڈو سیکشن عارضی طور پر بند رہے گا گڈو اور اقبال آباد انٹرچینجز پر ٹریفک کی آمدورفت صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک معطل رہے گی، میپکو ہائی ٹرانسمیشن ٹاورز اور بجلی کی لائنوں کی بحالی کا کام انجام دے گا ملتا ن سے سکھر جانے والی ٹریفک کو اقبال آباد انٹرچینج سے این-5 قومی شاہراہ پر ڈائیورٹ کیا جائے گا سکھر سے ملتان جانے والی ٹریفک کو گڈو انٹرچینج سے ا ین-5 قومی شاہراہ پر منتقل کیا جائے گا مقررہ اوقات کے دوران روہڑی ٹول پلازہ سے ہیوی ٹریفک کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    ترجمان سنٹرل ریجن نے بتایا کہ متبادل راستے کا کل فاصلہ تقریباً 148 کلومیٹر ہوگا متبادل راستے کے استعمال سے ایل ٹی وی کو تقریباً 2 گھنٹے جبکہ ایچ ٹی وی کو تقریباً 3 گھنٹے اضافی سفر کرنا پڑے گا شہری بروقت اور محفوظ سفر کے لیے روانگی سے قبل کم از کم 30 منٹ اضافی وقت مختص کریں موٹروے پولیس مسافروں کی سہولت اور حفاظت کے لیے خصوصی ٹریفک مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد کرے گی 15 اور 16 جون کو سفر سے قبل متبادل راستوں اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق آگاہی ضرور حاصل کریں، محفوظ سفر کے لیے موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 سے رہنمائی حاصل کریں۔

  • ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔

    سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے جوہری مواد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدا مات کیے ہیں ان اقدامات میں بعض زیرِ زمین سرنگوں کو بند یا منہدم کرنا اور داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے بعد تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے،جتنا کہ صرف ایک ماہ پہلے تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ امریکی فوج کو اسے ضبط کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اندازوں کے تحت اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مقدار دیگر خفیہ مقامات پر بھی منتقل کی جا چکی ہے،ایرانیوں کی جانب سے نئی قلعہ بندیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے تہران کے ساتھ اس کے یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے کے مجوزہ معاہدے میں پیچیدگی کی ایک اضافی تہہ ڈال دی ہے، اور اس اقدام سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اسے کھودنے کا خطرناک کام کون کرے گا-

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی آپریشن پر غور کیا تھا، تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا،امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے، جس سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،خود ایرانیوں کے لیے بھی، کئی ذرائع نے کہا کہ افزودہ مواد کو ہٹانا اب مشکل اور خطرناک ہوگا، اس کے لیے کھدائی کے بھاری آلات اور کان کنی کی کوششوں کی ضرورت ہوگی ، جو مشکل اور خطرناک ہیں۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی وفد نے فوری طور پر اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا،جبکہ ہاؤس نے فوری طور پر سی این این کے سوالات کا جواب نہیں دیاماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس آپریشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں مواد کی حفاظت امریکہ کی ترجیح ہے جسے ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

    اور انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جس نے جمعہ کو صحافیوں کو بریفنگ دی، دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی اس اہلکار کے مطابق، اسے سائٹ پر تباہ کر دیا جائے گا اور پھر ملک سے باہر لے جایا جائے گا۔

    لیکن امریکی اور ایرانی حکام نے عارضی معاہدے کے متضاد اکاؤنٹس پیش کیے ہیں، اور اس کی صحیح شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں معاہدے کے مسود ے کا متنبہ جمعہ کو نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو لیک کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جانب سے غصے کی لہر دوڑ گئی-

  • عشرہ محرم الحرام کا سکیورٹی پلان فائنل،پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے

    عشرہ محرم الحرام کا سکیورٹی پلان فائنل،پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے

    پنجاب پولیس کی جانب سے عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی-

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں 37 ہزار 868 مجالس منعقد، 09 ہزار 412 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے، عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے مجالس سکیورٹی پر 41 ہزار 200 سے زائد، عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی پر 73 ہزار 400 سےزائد افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گےصوبہ بھر میں عزاداری جلوسوں کے روٹس ، مجالس سمیت اہم و حساس مقامات کے اطراف 9 ہزار 500 سے زائد اہلکار موثر پٹرولنگ کریں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ، پیرو سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز محرم سکیورٹی انتظامات میں ڈیوٹی انجام دیں گے سیف سٹیز کیمروں کی مدد سے جلوس اور مجالس کی مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام،کمیونٹی لیڈرز محرم الحرام میں امن اور افہام و تفہیم یقینی بنائیں، ملک دشمن عناصر کی نفاق پھیلانے، امن متاثر کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو بین المسالک ہم آ ہنگی سے ناکام بنائیں۔

    آئی جی پنجاب عبدالکریم کا کہنا تھا کہ امن کمیٹیوں، مجالس و عزاداری جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ مسلسل کوآرڈینیشن سے تمام مسائل قبل از وقت حل کر یں، لاہور سمیت تمام اضلاع میں طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ عزاداری جلوس، مجالس کی اجازت نہیں ہوگی دفعہ 144، لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، اشتعال انگیزی، مذہبی منافرت کے خطرے کے پیشِ نظر فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق 9 اور 10 محرم الحرام کو ہوگا، بزرگ شہریوں،خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی، سی سی پی او لاہور، آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز محرم سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کریں گے تمام اضلاع میں محرم کنٹر و ل رومز فعال، سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے 24 گھنٹے رابطہ میں ہوں گے۔

  • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک، راولا کوٹ میں شرپسندی کا منصوبہ بے نقاب

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک، راولا کوٹ میں شرپسندی کا منصوبہ بے نقاب

    آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاجی صورتحال کے دوران مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کی آڈیو لیک وائرل ہو رہی ہے، آڈیو کال لیک میں سینکڑوں مسلح جنگجوؤں کے ساتھ راولا کوٹ میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کے منصوبہ پر گفتگو سنی جا سکتی ہے-

    آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک افراد کی ایک آڈیو لیک منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں حمید کشمیری اور ساجد اعظم کے درمیان گفتگو سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہا گیا کہ جلوس کے بارے میں عمر نظیر نے منع کیا ہے آج نہیں جلو س کل دخل ہوگا-

    مبینہ آڈیو میں ساجد اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کو میں کل ماروں گا کور کمیٹی والوں کو ،کل بھی روک لیاتھا آج بھی روک لیا ہے ان لوگوں نے میں ایک جگہ پر سب کو ساتھ لے کر رکا ہو ہوں ، ساجد اعظم نے کہا کہ میرے ساتھ ”500 رائفل بردار افراد“ موجود ہیں جو فل جنگجو ہیں اور ہر وقت تیار ہیں۔

    آڈیو میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی اور گرفتار ساتھیوں کی رہائی سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے کہا گیا کہ ایک بار راولا کوٹ میں داخل ہوں پھر میں اعلا ن کروں گا کہ قال ہمارے حوالے کرو اور دو گھنٹے کے اندر اندر راولا کوٹ خالی کر دو،جو کچھ میں نے کرنا ہوا ان کے ساتھ کر لوں گا،آڈیو میں بعض مقاما ت پر سخت اور اشتعال انگیز جملے بھی سنائی دیتے ہیں، تاہم آڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حالیہ پرتشدد احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے، سپریم کورٹ بار کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کا امن خراب کرنے میں ملوث عناصر فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوا لے کریں، ایسے افراد کو عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ریاستی امن و امان کو نقصا ن پہنچانے والا کوئی بھی اقدام سنگین جرم ہے۔

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار کا بیان واضح طور پر پرتشدد احتجاج کی مخالفت کرتا ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلاف رائے کے اظہار کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

  • آزاد کشمیر میں استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا ،خواجہ آصف

    آزاد کشمیر میں استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا ،خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور ریاستی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں،جبکہ بات چیت کی ابتدا ریاست سے وفاداری اور مکمل اطاعت سے ہوتی ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام پاکستان کے ساتھ وفادار ہے اور کچھ عناصر غیر ملکی ایجنڈے کے تحت علاقے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے جو ناکام ہو گئی آزاد کشمیر کے کچھ بہکے ہوئے بھائی جو آج کل کسی ایجنڈے پر چل رہے ہیں، وہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 5 کو ضرور پڑھیں، جو ریاست سے غیر متزلزل وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر ایسے ہیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے کشمیری عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے، آزاد کشمیر کی عوام امن پسند ہے اور پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔

    خواجہ آصف کے مطابق کشمیری عوام پاکستان سے گہری محبت رکھتے ہیں اور کسی بھی ایسے بیانیے کو قبول نہیں کرتے جو دشمن کے مفاد میں ہو یا علاقے میں انتشار پیدا کرے، آزاد کشمیر میں استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور ریاستی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے قرآن پاک کی سورۃ مائدہ کی آیت بھی شئیر کی لکھا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، یا سولی چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے، یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے-

  • اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ رات ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے ٹیلیفونک گفتگو کی دونوں رہنماؤں نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،گفتگو کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مفاہمت کی جانب پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ مثبت پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی صورتحال پر قریبی رابطہ جاری رکھا جائے گا اور آئندہ پیش رفت پر مسلسل مشاورت کی جائے گی۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ رابطہ خطے میں سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری روابط کا حصہ ہے۔