Baaghi TV

Blog

  • وزیراعظم شہباز شریف  سے VEON گروپ کے  سی ای او کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے VEON گروپ کے سی ای او کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے VEON گروپ کے سی ای او کی ملاقات، پاکستان میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا

    اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی ڈیجیٹل آپریٹر VEON گروپ کے چیف ایگزیکٹو افیسر کان ترزی اوعلو کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی، جس میں دونوں جانب سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے 5 جی سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں شفافیت اور نوجوانوں کی شمولیت کے ذریعے معیشت میں ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کی تفصیل بتائی۔ کان ترزی اوعلو نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور حکومت کی کیش لیس معیشت کے لیے کی گئی کوششوں کی تعریف کی اور مزید سرمایہ کاری کے ارادے کا اظہار کیا۔ ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر سرکاری عہدیداران بھی موجود تھے۔

  • وفاقی آئینی عدالت،رہائی فورس کی تشکیل،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے جواب طلب

    وفاقی آئینی عدالت،رہائی فورس کی تشکیل،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے جواب طلب

    وفاقی آئینی عدالت میں رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا اور دس دن میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

    سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ درخواست گزار کے وکیل نے شواہد سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی نے خود کہا کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے، جبکہ تھریٹ سے متعلق مختلف آرٹیکلز کا حوالہ بھی دیا گیا اور امن و امان سے متعلق کراچی ہائیکورٹ کے فیصلے کی نشاندہی کی گئی۔ سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ نے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کوئی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت یقینی بنائے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو

  • افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے

    طالبان رجیم کی دہشت گردگروہوں کی پشت پناہی ناصرف افغانستان بلکہ خطے بھر کیلئے سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے ،بین الاقوامی جریدہ نے بھی افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج(ٹی ٹی پی) کے بھیانک گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا،آسٹریلوی جریدے دی کنورسیشن کے مطابق؛ طالبان رجیم نے افغانستان پرقبضہ کے بعدشر پسند مسلح جتھوں کو حکومتی فورس کا حصہ بنالیا،بھارت اپنے مذموم جغرافیائی اور علاقائی مفادات کیلئے طالبان کی پشت پناہی کررہا ہے، افغان طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کررکھی ہے،

    آسٹریلوی جریدے کے مطابق فتنہ الخوارج افغان طالبان کے نام نہاد سیاسی نظام کو پاکستان پر بھی مسلط کرنا چاہتا ہے،طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنیکی چھوٹ بھی دے رکھی ہے ،
    ماہرین کے مطابق؛افغان طالبان اپنے بھارتی آقاؤں کی سرپرستی میں اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنے کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کررہے ہیں،پاکستان دنیا کو بارہاافغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے ثبوت پیش کرچکاہے جسکی عالمی سطح پرتائید کی جاچکی ہے

  • آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی جہاز پھنس گئے

    آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی جہاز پھنس گئے

    آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی پرچم بردار جہازوں کے پھنس جانے کے باعث بھارت میں توانائی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ان جہازوں میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار موجود ہے، جس کی ترسیل رکنے سے توانائی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں محصور ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف “برادر ممالک” کے جہاز ہی پیشگی ہم آہنگی کے بعد اس اہم گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔دوسری جانب، گزشتہ ماہ کے آخر میں بھارتی وزارتِ جہاز رانی نے دعویٰ کیا تھا کہ دو بھارتی ایل پی جی ٹینکرز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جن میں سے ایک ممبئی جبکہ دوسرا نیو منگلورو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا تھا۔

    مودی کی بدترین سفارتکاری اور دوغلی پالیسیوں کی بدولت بھارت میں توانائی بحران سنگین ہو گیا ،بھارتی نشریاتی ادارہ این ڈی ٹی وی کے مطابق؛بھارتی حکام نے بھارت کو ایندھن ترسیل کرنے والے 10غیر ملکی پرچم والے جہازوں کے خلیج فارس میں پھنسنے کی تصدیق کر دی،بھارتی میڈیا کے مطابق جنگ سے متاثرہ علاقہ محض آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ اس سے باہر کے علاقے بھی ہائی رسک ایریامیں شامل ہیں،ایرانی حکام نے واضح کر دیا کہ صرف برادر ممالک کے جہاز ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں ،عالمی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز جیسا اہم تجارتی راستہ مفلوج ہونے سے بھارت میں ایندھن کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے،مودی کی اسرائیل نواز اور غیر مؤثر منصوبہ بندی نے بھارت کو شدید ترین توانائی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے

  • 2 سے 3 ہفتوں میں ایران سے نکل جائیں گے، ٹرمپ

    2 سے 3 ہفتوں میں ایران سے نکل جائیں گے، ٹرمپ

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں مزید رکنے کی کوئی وجہ نہیں رہی، جنگ ختم کرنے کیلئے ڈیل ضروری نہیں، 2 سے 3 ہفتوں میں ایران سے نکل جائیں گے، ممکن ہے اس سے بھی پہلے جنگ ختم ہو۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج پہلے ہی ہوچکی ہے لیکن رجیم چینج امریکا کا مقصد نہیں تھا بلکہ فوجی کارروائی کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور یہ ہدف حاصل کرلیا گیا، نئی قیادت کم شدت پسند ہے۔ ایران کو دوبارہ تعمیر کرنے میں 15 سے 20 سال لگیں گے، ایران کے پاس نہ نیوی ہے نہ فوج اور نہ ایئر فورس، واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوگا اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، فرانس، چین اور دیگر ممالک کو تیل چاہیے تو جائیں اور ہرمز سے تیل لے لیں، ان ممالک کو اپنا دفاع کرنا چاہئے۔صدر ٹرمپ کل امریکی قوم سے خطاب کریں گے جس میں ایران جنگ سے متعلق اہم اعلان متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،ڈی جی نرسنگ سسٹم آرگنائزیشن کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10 نرسیں شہید ہوئی ہیں،اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان نرسوں کو ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا گیا،غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے کئی ارکان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  • صحافی ظفر جوئیہ قتل کیس،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    صحافی ظفر جوئیہ قتل کیس،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    لودھراں کی سیشن کورٹ نے صحافی ظفر جوئیہ قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر 3 مرکزی ملزمان کو عمر قید اور فی کس 2، 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    عدالت نے کیس میں ملوث مزید 15 ملزمان کو بھی مجرم قرار دیتے ہوئے 3، 3 سال قید اور جرمانے کی سزا کا حکم جاری کیا۔استغاثہ کے مطابق مقتول ظفر جوئیہ اور ملزمان کے درمیان اراضی پر قبضے کا تنازع چل رہا تھا، جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔ ملزمان نے 20 جون 2024ء کو دھنوٹ کے علاقے میں فائرنگ کر کے ظفر جوئیہ کو قتل کر دیا تھا،عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو سزائیں سنائیں۔

  • ایران میں حکومت کے حق میں مظاہرے،پاکستان کا بھی شکریہ

    ایران میں حکومت کے حق میں مظاہرے،پاکستان کا بھی شکریہ

    ایران میں حالیہ فضائی حملوں کے باوجود حکومت کے حق میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بمباری کے باوجود عوام نے حکومتی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور انقلاب ایران کے حق میں نعرے بلند کیے۔ مظاہروں میں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔گزشتہ شب ایران کے صدر اور وزیر خارجہ بھی عام شہریوں کے ساتھ مظاہرے میں شریک ہوئے۔ صدر مسعود پزشکیان کی آمد پر شرکاء نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔

    مظاہرین کی جانب سے صدر کو گلدستہ بھی پیش کیا گیا، احتجاج میں ایک منفرد منظر بھی دیکھنے میں آیا، جہاں ایرانی عوام نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے اردو میں تحریر پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر یکجہتی کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

  • ایران کا سعودیہ میں امریکی پائلٹوں،لڑاکا طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کا سعودیہ میں امریکی پائلٹوں،لڑاکا طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب ایران نے سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعوی کیا ہے۔

    بریگیڈئیر جنرل سید ماجد موسوی کا کہنا ہےکہ الخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں، اسی علاقے میں امریکا کا ایواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

    دوسری جانب پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعوی کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی میٹنگ کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیاجوکہ فوجی اڈے سے باہر کی جارہی تھی۔بحرین کے مناما ائرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعوی کیا گیاہے۔کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے۔فوجی اڈے میں 2 ارلی وارننگ ریڈار نظام ڈرونز سے تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہےکہ اب امریکا کی اعلی ترین اٹھارہ ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے کیونکہ ان ٹیک کمپنیز کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سےایران میں قتل مہم کے اہداف کا تعین ہوا تھا۔

  • روس کا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ گرکرتباہ ،29 افراد کی موت

    روس کا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ گرکرتباہ ،29 افراد کی موت

    روس کا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ گرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک ہوگئے۔

    روسی وزارت دفاع نے بتایاکہ فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ اے این 26 کریمیا میں گر کر تباہ ہوا، حادثے میں 23 مسافر اور عملے کے 6 ارکان کی موت ہوئی ہے،حکام نے بتایاکہ اڑان بھرنے کے بعد پائلٹ کا ائیرٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہوا جس کے بعد طیارے کو حادثہ پیش آیا، ریسکیو ٹیم طیارےکے ملبے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی لگتی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

  • قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    انسان فطری طور پر خود غرض اور مطلبی ہے، سائنس کے مطابق انسان اور کتے کا تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے، جو اس رشتے کی گہرائی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان غار میں رہا کرتا تھا تب اُسے شکار کے لیے ایسے ساتھی کی ضرورت پڑتی تھی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ تب کتا انسان کی زندگی میں آیا اور دونوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔

    اسی طرح بلی کو بھی پالتو کا درجہ 6000 سال قبل تب ملا جب انسان نے کاشکاری شروع کی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے، اگر گھر بدل جائے تو وہ پرانے گھر کو چھوڑ کر مالک کے ساتھ نئے گھر چلا جاتا ہے۔کتا انتہائی وفادار ساتھی ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔ کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وفادار جانور صدیوں سے انسانوں کے ساتھ مل کر شکار، گھر کی حفاظت اور جذباتی دوست کے طور پر رہ رہے ہیں اور انسان پر انحصار کرتے ہیں۔ تمام جانوروں میں کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہن سہن سب سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو، ظالمو تم نے چند سال بعد مر جانا ہے لیکن یہ انسانیت دشمنی کی لعنت بعد ازمرگ بھی تاریخ کی صورت لعنت بن کر تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس لیے کتوں مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرو۔ شیلٹر ہوم کے نام پر جو "مال” تمہیں نظر آرہا ہے اس لالچ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔

    ہم سب کو یاد کرنا چاہئے کہ بچپن میں ان بے گھر و بے زبان کتوں کیلئے ہمارے گھروں میں لازم روٹی پکتی ہوتی تھی، مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ عین مغرب کے وقت کتے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے تھے اور جیسے ہی انکو روٹی دینی وہ دم ہلا کر شکریہ ادا کرکے چلے جاتے تھے۔دنیا میں سب سے زیادہ پالتو کتے امریکہ، چین اور روس میں پائے جاتے ہیں۔ کتے امریکی ثقافت اور گھرانوں کا اہم حصہ ہیں، جن کی دیکھ بھال اور ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے خصوصی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ قدیم یونانی ادب سمیت دنیا بھر کے ادب میں کتوں کا مثبت ذکر موجود ہے۔ مشہور ہیلتھ ویب سائیٹ ”بولڈ اسکائی‘‘ کے مطابق ایسے افراد جو گھروں میں پالتو کتوں کو رکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر رہتی ہے۔
    انسان کے علاوہ ہر حیوان یا جاندار صرف خطرے کی صورت میں یا بھوک سے مغلوب ہوکر ہی کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔
    جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
    حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔

    اہم سوال ہے کہ برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟
    اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com