Baaghi TV

Blog

  • لیونل میسی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے

    لیونل میسی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے

    فٹبال کے عالمی منظرنامے کی سب سے بڑی شخصیات میں شمار ہونے والے لیونل میسی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔

    عالمی کپ کے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی ٹیم ٹریننگ دیکھنے کے لیے میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں تمام نگاہیں میسی پر مرکوز رہیں امریکا کے شہر کنساس سٹی میں ارجنٹینا کی ٹیم نے پریکٹس سیشن میں حصہ لیا، اس موقع پر تقریباً ایک سو کیمرہ مین، فوٹوگرافرز اور رپورٹرز ٹریننگ گراؤنڈ پہنچے تاکہ 38 سالہ لیونل میسی کی ایک جھلک اپنے کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔

    فٹبال شائقین اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ میسی کا آخری عالمی کپ بھی ہو سکتا ہے، جس کے باعث ان کی ہر سرگرمی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اپنی مہم کا آغاز 16 جون کو کنساس سٹی میں الجزائر کے خلاف میچ سے کرے گا اس کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم آسٹریا اور اُردن کے خلاف مقابلوں کے لیے ڈلاس روانہ ہوگی۔

  • سونے کی قیمتوں میں  نمایاں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 7 ہزار 250 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 39 ہزار 966 روپے تک پہنچ گیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 39 ہزار 966 روپے ہو گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 525 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کا نرخ 3 لاکھ 75 ہزار 947 روپے تک پہنچ گیا، دوسری جانب عالمی مار کیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی، جہاں سونا 72 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 175 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

  • بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا

    بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا

    نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے اثرات بھارت تک پہنچ گئے ہیں، جہاں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث ڈیزل کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت جاری کی ہے کہ کسی ایک گاڑی یا صارف کو روزانہ 200 لیٹر سے زائد ڈیزل فروخت نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ تجارتی صارفین کو عام ریٹیل پیٹرول پمپس سے ایندھن خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث یہ اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہو۔

    توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور حالات معمول پر آنے کے بعد ان پر نظرثانی کی جائے گی۔

  • ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری

    ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری

    قصور(طارق نویدسندھوسے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے وژن کے مطابق ڈائریکٹر جنرل فشریز پنجاب کی خصوصی ہدایات پر محکمہ فشریز پنجاب نے قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کی افزائش، آبی ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کرتے ہوئے دریائے راوی کے مقام ہیڈ بلوکی میں ایک لاکھ 1لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری مکمل کر دی۔مچھلی کے بچوں کی یہ ذخیرہ کاری فش ہیچری بلوکی، ضلع قصور سے کی گئی۔

    اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز لاہور ڈویژن عظیم بیگم نے خصوصی طور پر نگرانی کی جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز فش ہیچری بلوکی مہر معوذ اسلم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز ننکانہ صاحب فخرا سمیت محکمہ فشریز کے دیگر افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔محکمہ فشریز کے حکام کے مطابق دریاؤں، جھیلوں اور دیگر قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کے بچوں کی باقاعدہ ذخیرہ کاری کا بنیادی مقصد مچھلی کی قدرتی آبادی میں اضافہ، آبی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا، ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا اور مقامی ماہی گیر برادری کے لیے روزگار اور آمدنی کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کی آبادی مختلف عوامل کے باعث متاثر ہوتی رہتی ہے، جس کے پیش نظر محکمہ فشریز پنجاب وقتاً فوقتاً فش سیڈ اسٹاکنگ پروگرام کے تحت مچھلی کے بچوں کو دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں چھوڑتا ہے تاکہ مچھلی کی قدرتی افزائش کو فروغ دیا جا سکے اور مستقبل میں مچھلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔محکمہ کے ماہرین کے مطابق دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری سے نہ صرف مچھلی کی قدرتی افزائش میں اضافہ ہوگا بلکہ آبی ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اقدام کے مثبت اثرات مقامی ماہی گیروں، آبی حیات اور قدرتی ماحول پر مرتب ہوں گے۔محکمہ فشریز پنجاب قدرتی آبی وسائل کے تحفظ، مچھلی کی افزائش اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ بھر میں فش سیڈ اسٹاکنگ پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آبی ذخائر میں مچھلی کی پیداوار بڑھائی جا سکے اور غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ ماہی گیر برادری کی معاشی ترقی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

  • موٹروے ایم ون پر  حادثہ، سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق

    موٹروے ایم ون پر حادثہ، سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق

    پشاور: موٹروے ایم ون پر کرنل شیر خان انٹرچینج کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔

    موٹروے پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سابق سینیٹر تاج آفریدی اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے۔ حادثے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ گاڑی میں پیش آنے والے مکینیکل فالٹ کے باعث رونما ہوا، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا  بڑا  حکم جاری

    سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات:چیف جسٹس کا بڑا حکم جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر 10 مارچ 2026 کے کفایت شعاری اقدامات سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ میں کفایت شعاری پالیسی 15 جون 2026 سے موثر طور پر ختم ہو جائے گی، جس کے بعد عدالت کے تمام انتظامی اور عدالتی امور معمول کے مطابق چلائے جائیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 15 جون سے سپریم کورٹ کے تمام شعبے اور معمولات سابقہ طریقہ کار کے تحت بحال کر دیئے جائیں گے، جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت عائد پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔

  • چین میں امریکی شہری جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    چین میں امریکی شہری جاسوسی کے الزام میں گرفتار

    چین نے جاسوسی کے الزام میں میانمار امور کے ماہر امریکی شہری کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے-

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ امریکی شہری من زن، جو میانمار پر تحقیق کرنے والے ایک تھنک ٹینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کو گرفتار کر لیا گیا ہے من زن کو متعلقہ حکام نے قانون کے مطابق “جاسوسی اور چین کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے” کے شبہے میں فوجداری حراست میں لیا ہے، چین نے اس گرفتاری سے متعلق امریکی قونصل جنرل کو گوانگژو میں آگاہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق من زن کو جنوب مغربی چین کے شہر کنمنگ کے ایئرپورٹ پر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ وہاں پہنچے تھے اس معاملے سے واقف تین افراد نے بتایا کہ گرفتاری تقریباً دو ہفتے قبل عمل میں آئی تھی، تاہم حساسیت کے باعث انہوں نے شناخت ظاہر نہیں کی۔

    من زن، جو میانمار کی 1988 کی جمہوری تحریک میں طلبہ کارکن کے طور پر بھی سرگرم رہے ہیں، نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی وہ اس تھنک ٹینک کے بانیوں میں شامل ہیں جو 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد میانمار سے باہر منتقل ہو گیا تھا یہ ادارہ میانمار کی سیاسی صورت حال، فوجی حکومت اور خانہ جنگی سمیت مختلف امور پر تحقیق کرتا ہے، جہاں فوجی حکومت اور جمہوری قوتوں کے درمیان تنازع جاری ہے، چین نے حالیہ عرصے میں میانمار کی نئی انتظامیہ کی کھل کر حمایت کی ہے، جو متنازع انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی اور جس میں اپوزیشن جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

  • وفاقی کابینہ نے بجٹ 27-2026ء کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے بجٹ 27-2026ء کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کی جانے والی بجٹ تجاویز کی بھی توثیق کر دی، جبکہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران سیکیورٹی اور رازداری کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تمام وفاقی وزراء سے اجلاس شروع ہونے سے قبل موبائل فون جمع کرا لیے گئے تاکہ بجٹ سے متعلق معلومات کے قبل از وقت افشا ہونے سے بچا جا سکے۔

    وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد وزیرِ خزانہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کریں گے، جس میں آئندہ مالی سال کے مالی اہداف، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اقدامات اور مختلف شعبوں کے لیے مختص فنڈز کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

  • گھناؤنے بکواس کام کیلئےمیری موسیقی کا استعمال بند کیا جائے،آریانا گرانڈے کی وائٹ ہاؤس کو سخت الفاظ میں تنبیہ

    گھناؤنے بکواس کام کیلئےمیری موسیقی کا استعمال بند کیا جائے،آریانا گرانڈے کی وائٹ ہاؤس کو سخت الفاظ میں تنبیہ

    امریکی پاپ اسٹار اور اداکارہ آریانا گرانڈے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے ان کی موسیقی کا استعمال بند کرے۔

    وائٹ ہاؤس نے اسی ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں حکومت کی امیگریشن یعنی تارکین وطن سے متعلق پالیسی کو دکھایا گیا تھا اس ویڈیو میں سرکاری اہلکاروں کو لوگوں کو گرفتار کرتے اور ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور پس منظر میں آریانا گرانڈے کا 2024 کا مشہور گانا ”بائے“ چل رہا تھا۔

    آریانا گرانڈے نے وائٹ ہاؤس کی اس ویڈیو پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ براہ کرم میری موسیقی کو کبھی بھی اس وحشیانہ، غیر انسانی اور گھناؤنے بکواس کام کے لیے استعمال نہ کریں گلوکارہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اب اس قانونی طریقے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے اس ویڈیو سے ان کا گانا جلد از جلد ہٹایا جا سکے۔

    hollywood

    دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے بھی آریانا گرانڈے کی تنقید کا سخت جواب دیا ہے وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبی گیل جیکسن نے گلوکارہ کو جواب دیتے ہوئے امریکی میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ہم یہ بات آخری بار کہہ رہے ہیں کہ اصل میں وحشیانہ، غیر انسانی اور گھناؤنے وہ مجرم غیر قانونی تارکین وطن ہیں جنہوں نے بے قصور امریکی شہریوں کو زخمی کیا اور ان کا قتل کیا،حکومت کی ترجیح ملکی سلامتی اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے-

    دو سری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض امیگریشن اقدامات انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو جنم دیتے ہیں۔

    آریانا گرانڈے، جو ایک مشہور گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی اداکارہ بھی ہیں، طویل عرصے سے ٹرمپ انتظامیہ اور امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے آئس کی پالیسیوں کی سخت مخالف رہی ہیں،ا نہوں نے رواں سال گولڈن گلوبز ایوارڈز کی تقریب میں بھی اس ادارے کے خلاف ایک پن پہن رکھی تھی اور وہ اکثر تارکین وطن کے حقوق کے حق میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں پچھلے سال بھی انہوں نے انسٹاگرام پر ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں سے پوچھا تھا کہ کیا ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری آئی ہے؟

    واضح رہے کہ آریانا گرانڈےواحد فنکار نہیں ہیں جنہوں نے اس طرح اپنی موسیقی کے استعمال پر اعتراض اٹھایا ہو بلکہ ان کے علاوہ اولیویا روڈریگو، بلے ایلش اور سبرینا کارپینٹر جیسے کئی دوسرے بڑے گلوکاروں نے بھی موجودہ امریکی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی اس ویڈیو پر آریانا گرانڈے کا تبصرہ اب وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ویڈیو کی آواز بھی بند کر دی گئی ہے، جس کے بعد گلوکارہ نے اس کمنٹ کے اسکرین شاٹس خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔

  • مودی کی ہدایت پر  پاکستان کیجانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں،بھارتی وزیر کا اعتراف

    مودی کی ہدایت پر پاکستان کیجانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں،بھارتی وزیر کا اعتراف

    بھارت کے ایک سینئر وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال دو ایشیائی حریف ممالک کے درمیان اہم آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جو کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے بھارتی وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کے روز کہا کہ نئی دہلی اس بات کو یقینی بنا نے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ ایک قطرہ پانی بھی وہاں نہ جائے یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور اس عمل کی نگرانی وزیر داخلہ امت شاہ خود کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اس مقصد کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔

    سی آر پاٹل نے کہا کہ معاہدہ اب بھی موجود ہے، تاہم اسے معطل حالت میں رکھا گیا ہے بھارت اور پاکستان دریاؤں کے اس نظام کے معاہدے کے فریق ہیں جس میں چھ دریا شامل ہیں جن کے سرچشمے بھارت میں ہیں مگر وہ دریائے سندھ کے طاس کے ذریعے پاکستان کی طرف بہتے ہیں۔

    ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت سندھ طاس کے چھ دریاؤں کا انتظام کیا گیا تھا تین مغربی دریاسندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے حقوق پاکستان کو دیے گئے تھے جبکہ تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے تھے اس دریاوی نظام سے آنے والا پانی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں لاکھوں افراد اس پر بجلی، پینے کے پانی اور زرعی آبپاشی کے لیے انحصار کرتے ہیں، کیونکہ ملک کی معیشت بڑی حد تک زراعت پر مبنی ہے۔

    معاہدے کے مطابق بھارت پر لازم ہے کہ وہ سالانہ 43 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان کی طرف جانے دے، جو پاکستان کے کل سطحی پانی کا تقریباً 80 فیصد بنتا ہے اور اس کی زراعت، شہروں اور پن بجلی کے نظام کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی صرف ایسے کاموں کے لیے محدود طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے جن میں پانی ختم نہ ہو، جیسے پن بجلی بنانا لیکن بھارت یہ نہیں کر سکتا کہ وہ پانی کے بہاؤ میں ایسی تبدیلی کرے جس سے پاکستان کی پانی کی ضرورت متاثر ہو –