پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمانی کارروائی میں بھرپور حصہ لے رہی ہے اور اجلاس کے بائیکاٹ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تمام پارٹی ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں لازمی شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں اور پارٹی اپنے پارلیمانی کردار کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام دوست پالیسیوں اور بجٹ کی حامی رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنا ہے جو عوام کی معاشی مشکلات میں کمی لا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مسلسل ان شعبوں اور طبقات کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے جو بھاری ٹیکسوں، لیویز اور دیگر مالی بوجھ کا سامنا کرتے ہیں۔ پارٹی چاہتی ہے کہ بجٹ میں ایسے اقدامات شامل ہوں جن سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے۔
تنخواہوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے امید ظاہر کی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مثبت پیش رفت کی توقع ہے اور عوامی مفاد کے فیصلوں کی حمایت کی جائے گی۔
نائب صدر پیپلز پارٹی نے مزید بتایا کہ پارٹی کل سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی فنانس کمیٹیوں میں بھی فعال کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور عوامی مفاد سے متعلق سفارشات پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود بھی بجٹ پر پارلیمان میں اہم خطاب کریں گے، جس میں پیپلز پارٹی کا مؤقف، تجاویز اور عوامی مسائل سے متعلق سفارشات پیش کی جائیں گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شیری رحمان کے بیان سے بجٹ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی بھرپور شرکت اور حکومتی اتحاد میں تعاون کا پیغام سامنے آیا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں بجٹ پر ہونے والی بحث میں پارٹی کا کردار اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
Blog
-

پیپلز پارٹی کا بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی خبروں کی تردید: سینیٹر شیری رحمان
-

بجٹ 2026-27 میں آئی ٹی، تنخواہ دار طبقے اور جائیداد شعبے کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آئی ٹی شعبے، برآمد کنندگان، تنخواہ دار طبقے اور جائیداد کے کاروبار کے لیے متعدد اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور عوامی ریلیف کو یقینی بنانا ہے۔
بجٹ تقریر کے مطابق آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی سہولت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ رعایت اب 30 جون 2029 تک برقرار رہے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا ٹیکنالوجی شعبہ عالمی منڈی میں مزید مضبوط ہوگا۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی کمی کی جا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور بین الاقوامی مالی لین دین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکومت نے سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا ہے۔ سالانہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر عائد 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے جبکہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے، جن میں 8 ہزار 54 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔
دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد اور 32 سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے لاکھوں ملازمت پیشہ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ -

بجٹ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت، بلاول بھٹو کا شکریہ ادا
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی، تاہم اس دوران وزیراعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مصافحہ بھی کیا، جسے حکومتی اتحاد میں ہم آہنگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دیا اور قومی مفاد میں مثبت کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثے کا ذکر کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کے لیے باعثِ صدمہ ہے اور اس واقعے نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
شہباز شریف نے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں قوم نے سخت حالات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم نے غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا ثبوت دیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم اس کے باوجود معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری آ رہی ہے اور حکومت اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے ترقی کے سفر کو مزید تیز کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کا مقصد عوامی ریلیف، اقتصادی ترقی اور مالی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔قومی اسمبلی میں بجٹ کا اجلاس جاری ہے -

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں کردار ادا کیا، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں بھی اپنا مثبت حصہ ڈالا۔
قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات اور سفارتی کامیابیاں سیاسی و عسکری قیادت کے مؤثر تعاون اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں عوام کو دی جانے والی معاشی سہولتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ حکومت نے براہ راست عوام تک منتقل کیا، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں مجموعی طور پر 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا فائدہ عوام کو پہنچایا جائے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملک کو کسی بڑے بحران سے محفوظ رکھا۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اور حتمی شکل دینے کے عمل میں دونوں رہنماؤں کے تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔ -

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی، جس کے باعث ایوان میں شور شرابے کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزراء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں عالمی سطح پر اس کی آواز کو سنا جا رہا ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری، بین الاقوامی اعتماد اور گزشتہ برس بھارت کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے دوران پاکستان کے مؤقف کا بھی ذکر کیا۔
حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح مجموعی قومی آمدنی یا گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محصولات میں اضافے، اقتصادی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے رہے۔ ایوان میں کئی مواقع پر شور شرابہ اتنا بڑھ گیا کہ وزیر خزانہ کو اپنی تقریر جاری رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ -

بجٹ اجلاس شروع، بلاول بھٹو نے شرکت کر لی
قومی اسمبلی کا اہم بجٹ اجلاس باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جبکہ حکومتی اتحاد کے لیے ایک اہم پیش رفت میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہو گئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قبل ازیں بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں۔ تاہم حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کے بعد معاملات طے پا گئے اور بلاول بھٹو اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ پہنچ گئے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ نے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات نے اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو کم کرنے اور بجٹ سے متعلق تحفظات دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی بجٹ پر بحث، مالی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اتحادی جماعتوں کی حمایت سے بجٹ کی منظوری کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی اجلاس میں شرکت حکومتی اتحاد کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اس سے پارلیمانی کارروائی میں استحکام آنے کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کی ایک اہم جماعت ہے اور بجٹ سمیت اہم قانون سازی میں اس کی حمایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کے رہنما بجٹ تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ -

ن لیگ کے وزراء بلاول بھٹو کو منانے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے
ن لیگ کے وزراء چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو منانے ان کے چیمبر میں پہنچ گئے۔
مسلم لیگ ن کے وزراء اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو منانے کیلئے ان کے چیمبر پہنچ گئےبلاول بھٹو زرداری نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ،کورم پورا کرنا پیپلزپارٹی کی ذمہ داری نہیں، پیپلزپارٹی کی ٹوکن حاضری ہوگی اراکین کی مرضی ہے اجلاس میں جائیں یا نہ جائیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان معاملے پر حکومت سے سخت نالاں ہے، گلگت بلتستان معاملے پر ن لیگ کا رویہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ٹھیک نہیں۔
پیپلزپارٹی اراکین کی ایوان میں ٹوکن انٹری ہوگی پیپلزپارٹی اراکین پانی کے مسئلے پر پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے شازیہ مری اور دیگر خواتین پلے کارڈز کے ساتھ اسپیکر ڈائس کے پاس جمع ہوئے پیپلزپارٹی کی خواتین اراکین نے سندھی میں نعرے لگائے-
-

ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیجی کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کے حوالے سے یورپی ملک میں ایک تقریب منعقد ہونے کا عندیہ دیا جا چکا ہے اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس یادداشت کو پاکستان کے کردار کی مناسبت سے "اسلام آباد ڈکلیریشن” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک "شان دار تصفیے” پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور توقع ہے کہ دستخط چند دنوں کے اندر ہو جائیں گے۔
ٹرمپ نے جمعرات کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک شان دار تصفیے تک پہنچ چکے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے نائب جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معاہدے کے حوالے سے خطے کے رہنماؤں بشمول اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو با ضابطہ طور پر کھول دیا جائے گایہ معاہدہ ممکنہ طور پر بہت جلد، شاید یورپ میں اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے د ی ہےجس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم ہو جائے گا، جب وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے پو چھا کہ کیا خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔
ٹرمپ نے معاہدے کو ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یاد داشت” قرار دیا اور کہا کہ یہ کچھ حد تک ابتدائی نوعیت کی ہے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مکمل کر لیا جائے گا۔
-

فٹبال ورلڈ کپ 2026:عراق کی قومی ٹیم کی 40 سال بعدپہلی بار شرکت کیلئے ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی
عراق کی قومی فٹبال ٹیم 40 سال بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کےلئےامریکی ریاست ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی۔
ٹیم کی قیادت کوچ گراہم آرنالڈ کر رہے ہیں ٹیم نے ویسٹ ورجینیا میں اپنے بیس کیمپ میں پہنچ کر ٹریننگ شروع کر دی ہے، کھلاڑیوں نے بھرپور پریکٹس سیشن کیا،گروپ آئی میں موجود عراقی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ 16 جون کو ناروے کے خلاف کھیلے گی گروپ میں عراق کے ساتھ عالمی چیمپئن فرنس اور سینیگال کی ٹیمیں بھی شامل ہیں، جس کے باعث گروپ مرحلہ انتہائی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق اس سے قبل صرف ایک بار 1986 میں میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ہوا تھا جہاں اسے اپنے گروپ کے تمام میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
-

پیپلزپارٹی کا بجٹ اجلاس سے علامتی بائیکاٹ کا اعلان
پیپلزپارٹی نے بجٹ اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر گلگت بلتستان کے الیکشن چوری کرنے کا الزام لگا دیا، چیئرمین پیپلز پارٹی کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا مسلم لیگ ہمارا مینڈیٹ چوری کرے میں اور ایوان میں بیٹھ کر تالیاں بجاؤں،پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ اجلاس سے علامتی بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا، پیپلز پارٹی کی جانب سے مرکزی قیادت شرکت نہیں کرے گی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نوید قمر شریک ہوں گے،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری سمیت دیگر مرکزی قیادت بجٹ سیشن میں شریک نہیں ہو گی
قبل ازیں ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی میں کورم کی صورتحال پر غور کیا گیا۔پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران کورم پورا کرنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی ارکان کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ پیش کر رہی ہے تو اسے اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنانی چاہیے۔پارٹی ارکان نے کہا کہ کورم پورا کرنا اپوزیشن کا نہیں بلکہ حکومتی جماعت کا کام ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) اکثر کورم پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے، اس لیے اسے اپنے اراکین کو پابند بنانے کی ضرورت ہے۔