Baaghi TV

Blog

  • 
فیس بک اور انسٹاگرام کی سروس متاثر، صارفین پریشان

    
فیس بک اور انسٹاگرام کی سروس متاثر، صارفین پریشان

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کی سروس متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث لاکھوں صارفین کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎صارفین کے مطابق فیس بک پر پیغامات بھیجنے، نئی پوسٹس شیئر کرنے اور بعض فیچرز تک رسائی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ کئی صارفین نے شکایت کی ہے کہ ان کی سرگرمیاں معمول کے مطابق انجام نہیں پا رہیں اور پلیٹ فارم بار بار مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔
    ‎فیس بک کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام کی سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ متعدد صارفین نے لاگ اِن کے دوران مشکلات، فیڈ لوڈ نہ ہونے اور دیگر تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ بعض علاقوں میں صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔
    ‎سروس میں خرابی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے متبادل پلیٹ فارم ایکس پر اپنی شکایات اور تجربات شیئر کرنا شروع کر دیے۔ مختصر وقت میں فیس بک اور انسٹاگرام سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے اور بڑی تعداد میں صارفین نے سروس متاثر ہونے کی تصدیق کی۔
    ‎تکنیکی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خرابی عموماً سرورز، نیٹ ورک انفراسٹرکچر یا سسٹم اپ ڈیٹس کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے سامنے آ سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین متعلقہ کمپنی کی جانب سے باضابطہ وضاحت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
    ‎تاحال میٹا کی جانب سے سروس متاثر ہونے کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ صارفین کمپنی کی جانب سے وضاحت اور مسئلے کے فوری حل کے منتظر ہیں۔
    ‎عالمی سطح پر فیس بک اور انسٹاگرام کروڑوں افراد روزانہ استعمال کرتے ہیں، اس لیے معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑی تعداد میں صارفین کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسئلہ سرورز سے متعلق ہے تو اسے جلد حل کیے جانے کا امکان ہے۔

  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کردیا

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کردیا

    ‎وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ بجٹ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔
    ‎بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور پاکستان نے گزشتہ برسوں میں معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
    ‎وزیر خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اسی طرح ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور رواں مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
    ‎بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اور سرچارج ٹیکس ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    ‎سماجی تحفظ کے شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
    ‎حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    ‎ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
    ‎دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے، سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے جبکہ سبسڈیز کے لیے 1091 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا جبکہ بعض مواقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر مکمل کی اور حکومت نے بجٹ کو معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

  • 
15 سے 50 کروڑ آمدن پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

    
15 سے 50 کروڑ آمدن پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

    ‎وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کاروباری برادری کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
    ‎قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور کاروباری شعبے کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباری اداروں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اس آمدنی کے درجوں پر 1 فیصد سے لے کر 7.5 فیصد تک سپر ٹیکس عائد تھا، جو مختلف سلیبز کے تحت وصول کیا جاتا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ٹیکس کے خاتمے سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
    ‎وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے اداروں اور کمپنیوں کے لیے بھی ریلیف تجویز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس طبقے پر عائد سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد معیشت کو وسعت دینا، نجی شعبے کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا اور کاروباری برادری کو مزید سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
    ‎تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بعض مخصوص شعبوں پر سپر ٹیکس برقرار رکھا جائے گا۔ ان میں بینکاری شعبہ، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار سے وابستہ کمپنیاں اور فرٹیلائزر سیکٹر شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ شعبے نسبتاً زیادہ منافع کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ان پر موجودہ ٹیکس نظام برقرار رکھا جائے گا۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی اور بعض سلیبز کے خاتمے سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور صنعتی شعبے کی کارکردگی بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ حکومتی محصولات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔

  • 
39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر، عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد

    
39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر، عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد

    ‎وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کے تحت 39 ہزار نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی ہے۔
    ‎بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق مختلف بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
    ‎محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا کی کئی بڑی اور معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں یا اپنے کاروباری منصوبوں کو وسعت دے رہی ہیں۔ ان میں گوگل، آرامکو، علی بابا گروپ، اے ڈی پورٹس اور ترکش پیٹرولیم جیسی عالمی کمپنیاں شامل ہیں۔
    ‎وزیر خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کاروباری ماحول بہتر بنانے، سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے نفاذ اور معاشی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ نہ صرف کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
    ‎ماہرین اقتصادیات کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ پاکستان کی برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی، توانائی، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں عالمی کمپنیوں کی موجودگی مستقبل میں مثبت معاشی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں مزید اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے گا تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔

  • 
بجٹ 2026-27: مزدوروں کیلئے کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

    
بجٹ 2026-27: مزدوروں کیلئے کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

    ‎وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مزدوروں اور سرکاری ملازمین کے لیے اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔
    ‎وزیر خزانہ کے مطابق کم از کم ماہانہ اجرت میں تقریباً 3 ہزار سے 4 ہزار روپے تک اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر میں لاکھوں محنت کشوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب نے یہ بھی اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوامی فلاح اور معاشی دباؤ میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
    ‎بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کی مالیت 8 ہزار 54 ارب روپے رکھی گئی ہے۔
    ‎دستاویزات کے مطابق پنشن کی مد میں مجموعی طور پر 1169 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس میں فوجی پنشن کے لیے 822 ارب روپے جبکہ سول پنشن کے لیے 272 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
    ‎دفاعی شعبے کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو فراہم کی جانے والی سبسڈی کے لیے 1091 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
    ‎بجٹ کے مطابق سول حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 1071 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر جاری اخراجات 17 ہزار 495 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
    ‎وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا جا سکے۔
    ‎وزیر خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس وصولی ہدف کا تعین کیا گیا ہے، جو حکومتی آمدنی بڑھانے اور مالی خسارے پر قابو پانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

  • 
غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

    
غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

    ‎وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم ٹیکس ریلیف کی تجویز پیش کرتے ہوئے کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور بیرون ملک اثاثوں کی قانونی طور پر درست تفصیلات ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
    ‎قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ موجودہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس غیر ملکی اثاثوں کے مالکان کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ بن چکا تھا، جس کی وجہ سے بعض افراد اپنے بیرون ملک اثاثوں کو مکمل طور پر ظاہر کرنے سے گریز کرتے تھے۔
    ‎محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ اس ٹیکس کے خاتمے سے ٹیکس دہندگان کو اپنے غیر ملکی اثاثے رضاکارانہ طور پر ظاہر کرنے کی ترغیب ملے گی، جس سے ٹیکس نظام مزید مؤثر اور دستاویزی شکل اختیار کرے گا۔
    ‎وزیر خزانہ نے اس موقع پر ایک اور اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک کی جانے والی ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی مالی لین دین کو آسان بنانا اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
    ‎حکومت کے مطابق یہ اصلاحات سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، مالیاتی نظام میں اعتماد بڑھانے اور بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے شفافیت کو فروغ دینے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا جاتا ہے تو اس سے بیرون ملک اثاثوں کی درست دستاویز بندی میں بہتری آ سکتی ہے اور ٹیکس دہندگان کے لیے قانونی تقاضوں کی تکمیل نسبتاً آسان ہو جائے گی۔
    ‎بجٹ میں تجویز کردہ یہ اقدامات اب پارلیمانی بحث اور منظوری کے مراحل سے گزریں گے، جس کے بعد ان کے حتمی نفاذ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  • 
بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مراعات برقرار

    
بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مراعات برقرار

    ‎وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، خام مال پر ڈیوٹی میں رعایت اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ حکومت ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے مختلف مراعات برقرار رکھے گی۔
    ‎بجٹ کے مطابق بزنس کلاس میں غیر ملکی فضائی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بین الاقوامی سفر اور کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملے گی۔
    ‎وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ نئی آٹو سیکٹر پالیسی کو جلد وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی آٹو صنعت کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
    ‎بجٹ میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ ہو سکے۔
    ‎محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ یہ مراعات انتہائی مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کو حاصل نہیں ہوں گی، بلکہ ان کا مقصد عام صارفین اور کاروباری شعبے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
    ‎صنعتی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور مقامی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔

  • 
چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان

    
چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان

    ‎وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں چھوٹے تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔
    ‎بجٹ تجاویز کے مطابق وہ دکاندار اور کاروباری ادارے جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے تک ہے، انہیں اس نئے فکسڈ ٹیکس نظام کے تحت لایا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔
    ‎حکام کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں کے باعث بہت سے چھوٹے تاجر رسمی معیشت کا حصہ نہیں بن پاتے۔ نئی اسکیم کے تحت ان کے لیے ٹیکس کی ادائیگی اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو سہل بنایا جائے گا تاکہ کاروباری طبقہ بغیر اضافی مشکلات کے قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
    ‎حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور معیشت کے مختلف شعبوں کی بہتر دستاویز بندی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے تاجروں پر ٹیکس قوانین کی پیچیدگیوں اور انتظامی بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق فکسڈ ٹیکس نظام چھوٹے کاروباروں کے لیے سہولت کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار شفاف نفاذ، مؤثر نگرانی اور تاجروں کے اعتماد کے حصول پر ہوگا۔ اگر اسکیم مؤثر انداز میں نافذ کی گئی تو اس سے محصولات میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

  • قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص

    قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص

    وزیر خزانہ نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بھی بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، جبکہ تعلیمی وظائف کے پروگرام کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
    ‎بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جس کا مقصد کمزور اور مستحق طبقات کو مزید سہارا فراہم کرنا ہے۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اخراجات کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں میں ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو جاری رکھا جا سکے۔
    ‎انہوں نے قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 224 ارب روپے شامل ہیں۔
    ‎بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے یہ سرمایہ کاری اہم کردار ادا کرے گی۔
    ‎وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  • 
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

    
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

    ‎وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
    ‎قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مہنگائی اور معاشی دباؤ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو بہتر مالی سہارا مل سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس سے کم آمدنی والے کارکنوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
    ‎وزیر خزانہ نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بھی بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، جبکہ تعلیمی وظائف کے پروگرام کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
    ‎بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جس کا مقصد کمزور اور مستحق طبقات کو مزید سہارا فراہم کرنا ہے۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اخراجات کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں میں ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو جاری رکھا جا سکے۔