Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ،امریکہ میں گرین کارڈ ہولڈرز پر کاروباری قرضوں کی پابندی

    ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ،امریکہ میں گرین کارڈ ہولڈرز پر کاروباری قرضوں کی پابندی

    واشنگٹن: امریکی سیاست میں ایک نئی بحث اس وقت جنم لے چکی ہےٹرمپ کی انتظامیہ نے گرین کارڈ ہولڈرز کو اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن کے قرضوں سے محروم کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں قاسم رشید کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت وہ تمام چھوٹے کاروبار بھی SBA قرضوں کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے ہیں جن میں جزوی ملکیت بھی کسی گرین کارڈ ہولڈر کے پاس ہو۔ ان کے مطابق یہ اقدام امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    امریکہ کی بڑی کمپنیوں میں سے تقریباً نصف، جن میں فارچیون500 کی کمپنیاں شامل ہیں، مہاجرین یا ان کی اولاد نے قائم کیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے فیصلے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

    تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پالیسی کا نفاذ وسیع پیمانے پر کیا گیا تو اس سے نہ صرف تارکین وطن کے کاروبار متاثر ہوں گے بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہو سکتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، 13 خوارج جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، 13 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 13 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق فورسز نے باڑہ اور بنوں کے علاقوں میں کارروائیاں کی، باڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 10 خوارج ہلاک ہوئے جبکہ ضلع بنوں میں آپریشن کے دوران 3خوارج جہنم واصل ہوئے ،علاقے میں خوارج کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے علاقوں بنوں اور باڑا میں کامیاب کارروائی کے دوران 13 خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا اور وہ ملک کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہیں، جبکہ حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

  • طوفانی  بارش سے کھمبے و درخت ٹوٹ کر سڑک پر جا گرے،مالی و جانی نقصان

    طوفانی بارش سے کھمبے و درخت ٹوٹ کر سڑک پر جا گرے،مالی و جانی نقصان

    قصور میں طوفانی بارش اور آندھی سے تباہی، جانی و مالی نقصان
    گزشتہ شام قصور اور اس کے گردونواح میں آنے والی شدید طوفانی بارش اور تیز آندھی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا
    شدید آندھی کے باعث شہر اور مضافاتی علاقوں میں متعدد درخت جڑوں سے اکھڑ کر سڑکوں پر گر گئے، جبکہ کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے بھی زمین بوس ہو گئے
    سڑکوں پر درختوں اور کھمبوں کے گرنے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر رہا اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
    ذرائع کے مطابق تھ شیخم کے علاقے میں ایک نجی میرج ہال کا چار دیواری پردہ گرنے سے تین افراد جاں بحق ہو گئے جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے
    قصور رائیونڈ روڈ پر بھی صورتحال انتہائی خراب رہی جہاں درجن کے قریب ہائی ٹرانسمیشن لائن کے کھمبے گر گئے جس کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی بلکہ بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی
    شہر کے قریبی مختلف علاقوں میں اب تک بجلی اور انٹرنیٹ سروس بحال نہ ہو سکی ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    متعلقہ ادارے بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں تاہم مکمل بحالی میں وقت لگنے کا امکان ہے
    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے

  • 
یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں اور کاروباری حلقوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
    جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد سے زائد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حالیہ عرصے میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق سپر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 2.59 درہم سے بڑھ کر 3.39 درہم ہو گئی ہے، جبکہ اسپیشل 95 پیٹرول 2.48 درہم سے بڑھ کر 3.28 درہم فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ای پلس 91 پیٹرول کی قیمت 2.40 درہم سے بڑھ کر 3.20 درہم فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی لیٹر قیمت 2.72 درہم سے بڑھ کر 4.69 درہم تک پہنچ گئی ہے، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر پڑنے کا امکان ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں جاری کشیدگی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں، جبکہ اس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • 
آسٹریلوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے ایران جنگ پر وضاحت کا مطالبہ

    
آسٹریلوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے ایران جنگ پر وضاحت کا مطالبہ

    
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ایران سے متعلق جاری جنگ کے مقاصد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وضاحت طلب کر لی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق انتھونی البانیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کی حکمت عملی اور جنگ کے مقاصد کے بارے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد کیا ہے اور کشیدگی میں کمی کیسے لائی جائے گی۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو صورتحال کی شفاف تصویر درکار ہے تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے اور خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی میں اسرائیل اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، تاہم مشن کی تکمیل میں ابھی وقت درکار ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور اسلحہ سازی کی صلاحیت کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایران کی فوجی اور میزائل طاقت کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی رہنماؤں کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران سے متعلق تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، اور اس کے حل کے لیے واضح حکمت عملی کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

  • 
فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل

    
فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل

    
کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ہاشو سینٹر میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 200 دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اور مختار کار نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہاشو سینٹر پر چھاپہ مارا اور مارکیٹ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
    ‎حکام کے مطابق مارکیٹ کے اندر آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا، جبکہ دکانوں اور فلور پر گیس سلنڈرز، تھنر اور دیگر آتش گیر مواد بھی رکھا گیا تھا جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔
    ‎یہ بھی بتایا گیا کہ اس مارکیٹ کو اس سے قبل 3 فروری کو بھی سیل کیا گیا تھا، تاہم انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کے بعد سات دن کی مہلت دی گئی تھی تاکہ فائر سیفٹی کے اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔
    ‎باوجود اس کے کہ دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے، دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ نے مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
    ‎ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک تمام فائر سیفٹی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، مارکیٹ کو ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔

  • 
اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار

    
اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار

    
اٹلی نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر بمباری کے بعد امریکی طیارے سسلی کے ایئربیس پر لینڈنگ کے خواہاں تھے، تاہم اٹلی نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق آپریشنز کے لیے بھی امریکی طیاروں کو اس بیس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
    ‎دوسری جانب اسپین نے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسپین کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
    ‎اسی تناظر میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی خود کو کسی جنگ کا میدان بننے دے گا۔ انہوں نے ایران کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یورپی اور علاقائی ممالک کے یہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ کئی ریاستیں براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • 
وفاقی وزراء کی تنخواہوں اور مراعات پر کروڑوں خرچ

    
وفاقی وزراء کی تنخواہوں اور مراعات پر کروڑوں خرچ

    
وفاقی وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال میں اب تک اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
    سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی کابینہ، مشیران اور معاونینِ خصوصی کے لیے مجموعی طور پر 69 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، جس میں سے تقریباً 40 کروڑ روپے تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں استعمال ہو چکے ہیں، جو کل بجٹ کا 59 فیصد بنتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق وفاقی وزراء کی تنخواہوں کے لیے مختص 50 کروڑ روپے میں سے اب تک 31 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاونینِ خصوصی کے لیے مختص 11 کروڑ روپے میں سے 6 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح مشیروں کے لیے مختص 6 کروڑ روپے میں سے 2.5 کروڑ روپے استعمال ہو چکے ہیں۔
    ‎دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابینہ ارکان، معاونین اور مشیران نے مجموعی طور پر 66 لاکھ روپے الاؤنسز کی مد میں حاصل کیے۔
    ‎ایک اور اہم انکشاف کے مطابق ان حکام کے زیرِ استعمال 100 سے زائد سرکاری گاڑیوں پر اب تک 26 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو تنخواہوں اور الاؤنسز کے علاوہ اخراجات ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں سرکاری اخراجات کا یہ حجم عوامی بحث کا موضوع بن سکتا ہے، جبکہ کفایت شعاری کے دعوؤں کے تناظر میں بھی اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • 
تہران میں دوا ساز کمپنی پر حملہ، نظام متاثر

    
تہران میں دوا ساز کمپنی پر حملہ، نظام متاثر

    ‎ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کے دوران تہران میں واقع ایران کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث ادویات کی تیاری کا نظام متاثر ہوا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کمپنی میں کینسر، امراض قلب، بے ہوشی اور دیگر اہم بیماریوں کے لیے خصوصی ادویات تیار کی جاتی تھیں، اور حملے کے بعد پیداوار میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎وزارت صحت کے مطابق اس واقعے کے اثرات طبی شعبے پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ان مریضوں پر جو ان ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔
    ‎ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک طبی مرکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جو انسانی زندگی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے دیگر ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ عالمی سطح پر اس پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق طبی تنصیبات پر حملے نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

  • 
ایرانی قیادت پر حملے کی تفصیلات منظرِ عام پر

    
ایرانی قیادت پر حملے کی تفصیلات منظرِ عام پر

    
ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت تہران میں ایک اہم کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔
    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے عسکری حکام نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیار کی تھی، جس پر عملدرآمد کی ذمہ داری اسرائیل کو سونپی گئی۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک طویل انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ تھی، جس میں ایرانی قیادت اور ان کے قریبی حلقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت اور مقام سے متعلق معلومات انتہائی حساس اور درست تھیں، جس کے باعث آخری لمحے میں بھی حکمت عملی تبدیل کی گئی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق تہران کے وسط میں واقع ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اہم شخصیات کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں اور آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران بعض اہم شخصیات محفوظ رہیں جبکہ کچھ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس خطے میں جاری کشیدگی کی حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں، اور ایسی معلومات کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں محتاط انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔