Baaghi TV

Blog

  • آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیحی منصوبوں کی تفصیلات جاری

    آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیحی منصوبوں کی تفصیلات جاری

    آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیحی منصوبوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

    دستاویز کے مطابق مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 26 ارب روپے مختص ہوں گے داسو ہائیڈرو پاور کیلئے 21 ارب،کراچی بلک واٹر سپلائی کیلئے 10 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے دانش اسکولز کیلئے 22 ارب مختص وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کیلئے 3 ارب، این 25 کوئٹہ کیلئے 100 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال میں این 25 کوئٹہ کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے مختص ہوں گےایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے 25 ارب اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب مختص رکھنے کی سفارش کی گئی ہے مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    جبکہ آئندہ مالی سال کےلیے جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینیہ ہے آئندہ مالی سال کے سالانہ پلان کے مطابق زرعی شعبے کا ہدف 3.8 فیصد ، صنعت کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کردیا گیا۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔

    دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد، آئندہ مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کا ہدف 11 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کردیا گیا۔ در آمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر ،ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

  • عالمی دولت کی تاریخ میں نیا ریکارڈ،ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے

    عالمی دولت کی تاریخ میں نیا ریکارڈ،ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے

    ایلون مسک تاریخ کی پہلی ایسی شخصیت بن گئے ہیں جن کی مجموعی دولت ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے،ان کی اس تاریخی دولت کا بڑا حصہ ان کی کمپنیوں (خاص طور پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس) کی مارکیٹ ویلیو پر مبنی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سنگِ میل بنیادی طور پر ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے ریکارڈ ساز آئی پی او یعنی کمپنی کے شیئرز ببلک کی سطح پر بیچنے کے بعد حاصل ہوا، مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ دولت زیادہ تر نقد رقم کی شکل میں نہیں بلکہ ان کی کمپنیوں کے حصص اور شیئرز پر مشتمل ہے،۔ اگر حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ جائے تو مسک کی مجموعی دولت کم بھی ہو سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے تقریباً 75 ارب ڈالر کا تاریخی آئی پی او کیا جس کے بعد کمپنی کی مالیت 1.7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ جا پہنچی اس پیش رفت سے ایلون مسک کے اسپیس ایکس حصص کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور ان کی مجموعی دولت 1.1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک کی یہ دولت صرف اسپیس ایکس تک محدود نہیں۔ ان کے بڑے اثاثوں میں نیورالنک ، ایکس اے آئی، ٹیسلا اور دی بورنگ کمپنی کے حصص بھی شامل ہیں۔ تاہم حالیہ اضافے میں سب سے بڑا کردار اسپیس ایکس کی بڑھتی ہوئی قدر نے ادا کیا ہے-

  • وفاقی بجٹ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،پنشن میں کتنا ہو گا اضافہ

    وفاقی بجٹ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،پنشن میں کتنا ہو گا اضافہ

    آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ اجلاس سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا جبکہ بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی گئی ہیں۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔دستاویزات میں آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 682 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 224 ارب 51 کروڑ روپے دینے کی تجویز ہے، جبکہ آبی وسائل ڈویژن کے لیے 103 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پاور ڈویژن، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں کے لیے 88 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ترقیاتی فنڈز بنیادی ڈھانچے، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں میں جاری اور نئے منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ بجٹ تقریر کے دوران مزید مالی اور اقتصادی اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔

  • ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں  3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی حجم 22.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.48 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 17.21 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 1.09 کروڑ ڈالر بڑھ کر 5.45 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا ریسرچ ایجنڈا 2026-29 بھی جاری کر دیا ہے، جس میں ادارے کی آئندہ تحقیقی ترجیحات کو 3 بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے،ریسرچ ایجنڈے کے مطابق توجہ جن اہم شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں افراطِ زر کی حرکیات اور مالیاتی پالیسی، مالیاتی شعبے کی بہتری اور استحکام، اور ساختی معاشی تبدیلی و ترقی شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ اور ریسرچ ایجنڈے کا اجرا معاشی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    عرب میڈیا العربیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مجوزہ معاہدے کے حتمی مسودے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

    العریبیہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع اور اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے مسودے کے مطابق امریکا ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک جنگ بندی کی 60 روزہ توسیع کے دوران ایران کے افزودہ یورینیئم سے متعلق مذاکرات کریں گے۔

    مسودے میں تمام فریقوں کو فوری طور پر جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی قسم کے فوجی حملے سے گریز کیا جائے گا،جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تنازع کو ثالثی اور رابطہ کاری کے ایک متفقہ نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

    رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں-

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک خصوصی مونتاج ویڈیو نشر کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بار بار کیے گئے دعوؤں کو یکجا کیا گیا۔

    سی این این کے معروف میزبان اینڈرسن کوپر نے پروگرام کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے ایسی بات کی ہو،ٹرمپ اب تک کم از کم 39 مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ یا مفاہمت ہونے والی ہے یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    سی این این کی جانب سے نشر کیے گئے ویڈیو مونتاج میں مختلف اوقات میں ٹرمپ کے وہ بیانات شامل کیے گئے جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات، امن معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے بارے میں امید ظاہر کی تھی، حالیہ دنوں میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور موثر معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور جلد پیشرفت متوقع ہے۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے متعدد دعوے کیے گئے تھے لیکن ان میں سے کئی عملی نتائج تک نہیں پہنچ سکے دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں اور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کی رپورٹ اور اینڈرسن کوپر کے تبصرے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تازہ دعوے اس بار حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔

  • نواز شریف نے عمرہ ادا کر لیا

    نواز شریف نے عمرہ ادا کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف جنیوا سے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ہیں

    جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان کے سفیر احمد فاروق، قونصل جنرل اور مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہے ،نواز شریف نے پروٹوکول میں عمرہ ادا کیا، نواز شریف کے ذاتی معالج بھی انکے ہمراہ تھے.اس کے بعد وہ مدینہ منورہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں گے اور مسجد نبویﷺ میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔

  • ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی

    ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی

    پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تعلیمی شعبے پر اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صرف 0.8 فیصد تک محدود رہ گئے ہیں-

    اقتصادی سروے کے مطابق 2024-25 کے دوران قومی غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی۔ اس اضافے کو ملک کی حالیہ تاریخ میں فلاحی صورتحال کی ایک بڑی تنزلی قرار دیا جا رہا ہے، شہری علاقوں میں غربت 11.0 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گئی ہے بلوچستان 47 فیصد آبادی کے ساتھ بدستور سب سے غریب صوبہ قرار پایا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب میں بھی غربت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، ملک میں آمدنی کی غیر مساوات میں اضافہ ہوا ہے اور گینی کوفیشینٹ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 تک پہنچ گیا ہے، جو معاشی فرق میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم پر سرکاری اخراجات 23 فیصد کمی کے بعد 962 ارب روپے رہ گئے ہیں، جو گزشتہ سال 1,251 ارب روپے تھے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تعلیمی بجٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں نسبتاً اضافہ ریکارڈ کیا گیا ملک میں صرف 59 فیصد پرائمری اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے، جبکہ بلوچستان میں صفائی اور بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی خراب ہے،اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو تعلیمی نظام کی کمزوریاں اور معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا تعلیمی شعبہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر پیچھے ہے۔

  • بھارت کا پاکستانی و کشمیری شہریوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوششوں کا انکشاف

    بھارت کا پاکستانی و کشمیری شہریوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوششوں کا انکشاف

    بھارتی انٹیلی جنس حکام کی طرف سے آزاد کشمیر میں پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو مبینہ طور پر مالی مراعات اور مختلف وعدوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے معاشی مشکلات کا شکار افراد کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بعض بھارتی شہری یا سہولت کار لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے افراد سے رابطے قائم کرتے ہیں اور انہیں روزگار، مالی مدد یا دیگر فوائد کا لالچ دے کر لائن آف کنٹرول عبور کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہولت کار خود بھی لائن آف کنٹرول عبور کر کے آزاد کشمیر پہنچ جاتے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت سادہ لوح اور ضرورت مند افراد کو لائن آف کنٹرول عبور کرا دیتے ہیں۔ بھارتی حکام ایسے افراد کو مقبوضہ کشمیر پہنچنے کے بعد بھارتی اداروں کی جانب سے حراست میں لیا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حراست کے دوران بعض افراد کو مختلف نوعیت کی تربیت دی جاتی ہے اور بعد ازاں انہیں واپس آزاد کشمیر یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھیجنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں دسمبر 2025 میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 تک 556 گرفتاریاں بھارت پاکستان سرحد سے کی گئیں۔ان افراد کو مقامی سطح پر بدامنی، اشتعال انگیزی اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کے منصوبہ پر کام کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں آزاد کشمیر میں بعض پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث اکثر افراد کے روابط بھی ایسے نیٹ ورکس سے جوڑے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حالیہ عرصے کے دوران مختلف احتجاجی اور سیاسی ریلیوں کو پرتشدد رخ دینے کی کوششوں میں بھی ایسے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے رابطے میں رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت لائن آف کنٹرول غلطی سے پار کر کے بھارتی کشمیر میں جا چکی ہے جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بعض افراد نے عوامی اجتماعات میں اشتعال انگیزی، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے اور احتجاجی سرگرمیوں کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ منصوبے کا مقصد آزاد کشمیر میں سیاسی اور سماجی عدم استحکام پیدا کرنا، امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے نیٹ ورکس صرف معاشی مشکلات کا شکار سادہ لوح نوجوانوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں مالی معاونت یا دیگر مراعات کا لالچ دیتے ہیں اور بعد ازاں مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

  • ٹرمپ خاندان سے منسلک سیاحتی منصوبہ: البانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج

    ٹرمپ خاندان سے منسلک سیاحتی منصوبہ: البانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج

    البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ خاندان سے منسلک اربوں ڈالر کے مجوزہ سیاحتی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقے میں لگژری ہوٹل اور سیاحتی مرکز کی تعمیر ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے،احتجاج میں شر یک افراد نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا، ان کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے لیے قدرتی ذخیرے کی زمین استعما ل کی جا رہی ہے، جس سے علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور سیاحت متاثر ہوگی۔

    دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے کی ابھی حتمی منظوری نہیں دی گئی اور عوام کے خدشات بے بنیاد ہیں، تاہم ماحولیاتی اثرات کے باعث یورپی حکام بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ احتجاج کا سلسلہ ایک ہفتے سے جاری ہے اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر تعمیراتی سرگرمیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عوامی ردعمل میں شدت آ گئی ہے۔

  • بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج،تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج،تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم سرچارج کی مد میں 1727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بھی بجٹ کا اہم حصہ ہوگا۔

    سیاسی محاذ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادیوں نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں پاک سیکریٹریٹ کے سرکاری ملازمین بجٹ پیش ہونے سے قبل ہی شاہراہ دستور پر سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے سمیت 13 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی کے موقع پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مختلف صوبوں سے ملازمین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کے لیے پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ملازمین کی نمائندہ تنظیم "اگیگا” کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ کے مطابق صوبوں سے آنے والے ملازمین کی شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان کے مسائل اور مطالبات کو شامل کیا جائے۔

    مظاہرین نے 10 مارچ 2025 کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں سو فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کیا جائے جبکہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔سرکاری ملازمین نے کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے، پینشن اصلاحات واپس لینے اور موجودہ پینشن نظام برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہوں میں تفاوت کم کرنے کے لیے مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب ختم کی جائے اور پہلے سے کٹی ہوئی رقم واپس کی جائے۔ انہوں نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کی بحالی اور نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ تجاویز پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری مرحلہ جاری ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے مراعات کی منظوری دیں گے۔ تنخواہ دار طبقے کو کم از کم 10 فیصد یا اس سے زائد ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔مجوزہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اقتصادی ترقی کا مقررہ ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔

    بجٹ تجاویز کے تحت تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروبار کے لیے خصوصی اقدامات متوقع ہیں، جبکہ زراعت اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مراعات دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے 10 سال تک سنگل ڈیجٹ شرح سود کی سہولت متعارف کرائی جا سکتی ہے تاکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔علاوہ ازیں بیوٹی انڈسٹری کو بھی ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ اقدامات کے تحت میک اپ مصنوعات، سرخی پاؤڈر، مسکارا اور شیمپو سمیت متعدد اشیا سستی ہو سکتی ہیں۔ ریٹیلرز کے لیے نئے ٹیکس ماڈل کے تحت فیس لیس ڈیجیٹل ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔