Baaghi TV

Blog

  • ایران تنازع سے یوکرین متاثر ہونے کا خدشہ: زیلنسکی

    ایران تنازع سے یوکرین متاثر ہونے کا خدشہ: زیلنسکی

    
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹ رہی ہے، جس سے جنگی محاذ پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
    امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر واشنگٹن کی توجہ مسلسل مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہوتی رہی تو یوکرین کو ہتھیاروں اور دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران میں طویل جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، خاص طور پر اس کی تیل پر مبنی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔ زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس ایران کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسے سیٹلائٹ تصاویر اور جنگی تجربات بھی فراہم کر رہا ہے۔
    ‎ان کے مطابق روس ایران کے ساتھ وہی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جو اس نے یوکرین میں اپنائی تھی، جبکہ ممکنہ طور پر امریکی اور اتحادی اڈوں سے متعلق معلومات بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
    ‎زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کو اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ صورتحال کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ ایران کے تنازع کا حل جلد از جلد سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ اگر امریکا کی توجہ مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز رہی اور روس پر پابندیوں میں نرمی آئی تو یہ یوکرین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

  • 
ایف بی آر کو ٹیکس ہدف میں بڑی کمی کا خدشہ

    
ایف بی آر کو ٹیکس ہدف میں بڑی کمی کا خدشہ

    
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2026 کے ٹیکس ہدف کے حصول میں بڑی کمی کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو مارچ کے دوران 150 سے 200 ارب روپے تک کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 150 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہونے کی توقع ہے۔
    ‎اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معیشت کی رفتار کو متاثر کیا، جس کا براہ راست اثر محصولات پر پڑا۔
    ‎دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 8121 ارب روپے رہی، تاہم مارچ میں برآمد کنندگان کو 60 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جس سے ٹیکس آمدن مزید کم ہو گئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مارچ تک مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جو حکومتی مالیاتی اہداف کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
    ‎ایف بی آر نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں کمی کی درخواست بھی کی ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی منظوری نہیں ملی۔ ماہرین کے مطابق اگر ہدف پورا نہ ہوا تو حکومت کو اضافی ٹیکس اقدامات یا منی بجٹ لانا پڑ سکتا ہے۔

  • 
ایل این جی بحران، لوڈشیڈنگ میں اضافے کا خدشہ

    
ایل این جی بحران، لوڈشیڈنگ میں اضافے کا خدشہ

    
ملک میں ایل این جی کی سپلائی تقریباً صفر ہونے کے بعد بجلی کے شعبے میں شدید دباؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث اپریل سے لوڈشیڈنگ میں اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
    ذرائع کے مطابق پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی میں کمی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ 2 سے 3 گھنٹے تک بجلی کی بندش ہو سکتی ہے۔
    ‎حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں سی این جی سیکٹر کو مکمل طور پر بند کرنا اور کھاد کارخانوں کو فراہم کی جانے والی گیس میں کمی کر کے پاور سیکٹر کو منتقل کرنا شامل ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پاور سیکٹر مجموعی طور پر 10 سے 15 فیصد ایل این جی استعمال کرتا رہا ہے، اور موجودہ بحران کے پیش نظر توانائی کی ترجیحات میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔
    ‎ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ڈیزل کے ذریعے بجلی پیدا کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، جس کی لاگت 80 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر سکتی ہے، اسی وجہ سے ڈیزل سے بجلی پیدا نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق توانائی کی سپلائی میں یہ خلل نہ صرف بجلی کی قلت کو بڑھا سکتا ہے بلکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے مشکلات میں بھی اضافہ کرے گا۔

  • 
جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا، ایرانی صدر کا اعلان

    
جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا، ایرانی صدر کا اعلان

    
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جاری جنگ کا خاتمہ ایران کی اپنی شرائط پر ہی ہوگا اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام کی عزت اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی سطح پر ایک باوقار مقام رکھتا ہے۔
    ‎مسعود پزشکیان نے ایرانی مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی اور دفاع میں افواج نے تاریخی کردار ادا کیا ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ پیغامات صرف ثالثوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے امریکی مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ اور حد سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شرائط کے تحت کسی معاہدے کا امکان کم ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں، جبکہ مذاکرات کا عمل بھی مشکل مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

  • آبنائے ہرمز کی بندش،برطانیہ اپنا تیل خود حاصل کرے،ٹرمپ

    آبنائے ہرمز کی بندش،برطانیہ اپنا تیل خود حاصل کرے،ٹرمپ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانیہ پر ناراضی ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے، جہاں انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں تعاون نہ کرنے پر سخت بیانات دیے ہیں۔

    امریکی صدر نے ماضی میں بھی برطانیہ کے مؤقف پر ناپسندیدگی ظاہر کی تھی، خاص طور پر اس وقت جب جنگ کے آغاز پر برطانیہ نے امریکہ کو ڈیگو گارشیا بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہ اڈہ بحرِ ہند میں واقع ایک اہم مشترکہ فوجی تنصیب ہے۔گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بار پھر برطانوی پالیسی کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارمر نے “بڑی غلطی” کی اور برطانوی جنگی جہازوں کو “کھلونے” قرار دیا۔ٹرمپ نے اس سے قبل بھی برطانیہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ نہ لینے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹارمر “ونسٹن چرچل جیسے رہنما نہیں ہیں”۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم کے فیصلے سے “بہت مایوس” ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ابتدائی حملوں میں امریکہ کو برطانوی فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ بیان میں برطانیہ کو طنزیہ مشورہ دیا کہ وہ اپنا تیل خود حاصل کرے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا “جو ممالک آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پارہے، جیسے برطانیہ، انہیں چاہیے کہ یا تو امریکہ سے خریدیں یا خود جا کر حاصل کریں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “امریکہ ہمیشہ مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔”

    بعد ازاں برطانوی حکومت نے وضاحت کی کہ اس نے صرف “دفاعی نوعیت” کی امریکی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے معاملے پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات مغربی اتحاد میں دراڑ کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو مستقبل کی عالمی سفارتکاری پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

  • تلہ گنگ میں خواتین کی تضحیک پر سخت ایکشن، ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    تلہ گنگ میں خواتین کی تضحیک پر سخت ایکشن، ملزم کے خلاف مقدمہ درج

    تلہ گنگ میں خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد عاطف سگھر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری ایکشن لینے کی ہدایت جاری کی، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    پولیس کے مطابق خواتین کی تضحیک، ہراسانی اور غیر اخلاقی مواد کی تشہیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری سے استعمال کریں اور کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔

  • منی پور میں تازہ تشدد ، ناگا گروپوں کے درمیان تصادم میں چار افراد ہلاک

    منی پور میں تازہ تشدد ، ناگا گروپوں کے درمیان تصادم میں چار افراد ہلاک

    بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں حریف گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک ناگا گروپ کے چار ارکان ہلاک گئے۔

    یہ واقعہ بھارت میانمار سرحد پر واقع ضلع کامجونگ میں کسوم کھلن بلاک کے علاقے ہانگبی کے قریب پیش آیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (این ایس سی این) کے ایک دھڑے سے تعلق رکھنے والے کارکنوں پر ایک دوسرے حریف دھڑے کے مشتبہ ارکان نے سرحدی علاقے میں لکڑی اور دیگر سرگرمیوں کی نگرانی سے واپسی کے دوران گھات لگا کر حملہ کیا۔ حملے کے دوران چھ میں سے چار ارکان مارے گئے جبکہ دو دیگر زخمی ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مرنے والوں کی شناخت سوچیپم پھنگشوک، زائرے واسہ، بہنلے اہلہپیا اور تھانسومی واشی کے طور پر ہوئی ہے۔

    گروپ نے ایک بیان میں اپنے ارکان کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران گولی مار دی گئی۔ اس نے الزام لگایا کہ گروپوں کے درمیان پہلے سے بات چیت کے باوجود حملہ آوروں نے اعلیٰ حکام کے حکم پر فائرنگ کی۔

  • پاکستان میں سونا مزید مہنگا

    پاکستان میں سونا مزید مہنگا

    پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2800 روپے کا اضافہ ہوگیا،ملک میں فی تولہ سونا 2800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 78 ہزار 762 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 2401 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 10 ہزار 461 روپے کا ہو گیاہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 28 ڈالر اضافے کے بعد 44560 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اور نئی قیمت 73 ڈالر فی اونس ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی 260 روپے مہنگی ہوکر 7784 روپے اور فی 10 گرام چاندی 223 روپے بڑھ کر 6673 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • میشا شفیع ہار گئیں، علی ظفر کیس جیت گئے،میشا شفیع پر عدالت نے کیا جرمانہ

    میشا شفیع ہار گئیں، علی ظفر کیس جیت گئے،میشا شفیع پر عدالت نے کیا جرمانہ

    سیشن عدالت لاہور نے گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ سنا دیا

    میشا شفیع ہار گئیں، علی ظفر کیس جیت گئے،عدالت نے میشا شفیع کے خلاف ڈگری جاری کرتے 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ علی ظفر نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے پر میشا شفیع پر 100 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا تھا۔ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف 2018 میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا،میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا

    ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے کیس کا فیصلہ سنایا۔کیس میں مجموعی طور پر بیس گواہوں کے بیانات کو قلمبند کیا گیا۔علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔میشہ شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔مجموعی طور پر 284 پیشیاں ہوئی اور نو ججز کے تبادلے ہوئے۔عدالت نے میشا شفیع کے خلاف دعویٰ کو ڈگری کردیا۔عدالت نے میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے جرمانہ کیا۔

  • اٹلی: اجازت کے بغیر امریکی فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی کوشش

    اٹلی: اجازت کے بغیر امریکی فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی کوشش

    اٹلی نے امریکی فوجی طیاروں کو مشرق وسطیٰ سے منسلک کارروائیوں کے لیے سسلی کا فضائی اڈہ استعمال کرنے سے منع کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا تعلق نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا سے ہے جو ایک اسٹریٹجک مرکز ہے جو اکثر نیٹو اور امریکی مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے، امریکی طیاروں بشمول بمباروں کے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے سے پہلے اڈے پر اترنے کی توقع تھی تاہم اٹلی نے اترنے سے منع کردیا۔

    رپورٹس کے مطابق درخواست مسترد اس لیے کی گئی کیونکہ اجازت کے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، اٹلی میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کو کنٹرول کرنیوالےمعاہدوں کےتحت، روم سے باضابطہ طور پر مشورہ کیا جانا چاہیے اور اس طرح کی کارروائیوں کو آگےبڑھنے سے پہلےمنظوری دینا چاہیے، مبینہ طور پر اطالوی حکام سے پیشگی مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے انکار کیا گیا،وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔