Baaghi TV

Blog

  • سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی شاندار تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں

    سپریم کورٹ کی شاندار تزئین و آرائش، جس پر 20 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے، اسلام آباد میں موسم کی پہلی موسلا دھار بارش کے بعد سپریم کورٹ کی چھتوں سےپانی ٹپکنے لگا۔

    صحافی عبدالقیوم صدیقی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صحافیوں کے لیے بنائے گئے کمرے میں بارش کا پانی داخل ہو گیا جس نے ایک مہنگے منصو بے کی ناکامی کو عیاں کر دیا اور عوامی رقم کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    انہوں نے لکھا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوا ایک ذریعہ کے مطابق 20کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے لیکن موسم کی پہلی تیز بارش نے ساری قلعی کھول دی کیا چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کسی ذمہ دار کو بلا کر اس عوامی رقم کا حساب لیں گے ؟ یہ منظر صحافیو ں کے لیے بنائی گئی جگہ کا ہے جتنی بارش باہر اتنی اس کمرے میں جاری ہے-

    اس کے علاوہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا تھا جس پر انتظامیہ نے ٹپکتی چھتوں کے نیچے بالٹیاں رکھ دی تھیں۔

  • خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    باڑہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک وہ مرکزی ملزم بھی شامل ہے جس نے گزشتہ روز ایک جوان کا سر کاٹ دیا تھا۔

    علاوہ ازیں باڑہ اکاخیل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک 10 دہشتگردوں میں سے 4 کمانڈروں سمیت 7 دہشتگردوں، اور زخمی کی بھی شناخت ہو گئی؛ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر طارق، مقامی کمانڈر راجد، کمانڈر جاوید عرف غزنی، مقامی کمانڈر عبدالبصیر خیبری، عثمان، حمزہ اور زخمی دہشت گرد ثاقب شامل ہیں

    دوسری جانب مردان، تھانہ شیخ ملتون کی پولیس چوکی بہرام خان کلے پر دہشت گردوں نے دستی بم حملہ کیا، ڈی پی او مردان مسعود بنگش کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

  • یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات

    بھارت کے زوال پذیر معاشی اشاریے،روئٹرز نے یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات کا پول کھول دیا۔

    روئٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث بھارتی شیئرز مارچ 2020 کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباؤاور ایرا ن جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی بینکوں کے حصص 2.5 فیصد تک گر گئے، مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث بھارت کا نجی شعبہ 3 سال کی کمزور ترین شرح نمو پر پہنچ گیا، بھارت کی جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

    بھارتی حکام نے 1.3 فیصد تک بڑھ جانے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کر دی عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی نے بھارتی معیشت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے،مودی کی بدترین حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔

  • کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    آبنائے ہرمز، پیٹرو ڈالر اور عالمی طاقت کا مستقبل

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ سلطنتیں ابھرتی ہیں، اپنے مفادات کے مطابق عالمی نظام کو تشکیل دیتی ہیں اور بالآخر اپنی طاقت کی حدود سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
    مثال کے طور پر برطانوی سلطنت نے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں اپنی عروج کی انتہا کو پہنچا، مگر 1956 میں جب اس کا سویز نہر پر کنٹرول ختم ہوا تو اس کے زوال کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے۔ یہ اسٹریٹجک گزرگاہ برطانیہ کی عالمی تجارت اور اثر و رسوخ کی شہ رگ تھی؛ جیسے ہی اس پر خطرہ پیدا ہوا، سلطنت کی معاشی اور سیاسی قوت کمزور ہونے لگی اور عالمی برتری سے اس کی واپسی تیز ہو گئی۔

    آج کئی تجزیہ کار اس صورتحال کا موازنہ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ جس طرح سویز نہر برطانیہ کے لیے آزمائش ثابت ہوئی، اسی طرح آبنائے ہرمز امریکی عالمی طاقت کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی گزرگاہ ہے۔ یہاں استحکام عالمی توانائی کی منڈیوں، امریکی معیشت کی طاقت اور پیٹرو ڈالر نظام کی بالادستی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت تیل کی تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے.

    سرد جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی بلا مقابلہ سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ واشنگٹن کی بحری برتری نے عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، کو محفوظ رکھا۔ اسی کنٹرول نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر برقرار رکھے، عالمی سطح پر اپنی معاشی پالیسیاں نافذ کرے اور بے مثال اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم رکھے۔

    تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چین کی معاشی ترقی، روس کی واپسی اور ترکیہ، ایران اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر نے امریکی یک قطبی نظام کو چیلنج کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل صلاحیتیں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں نے آبنائے ہرمز کو پہلے سے زیادہ حساس اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس راستے میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو پیٹرو ڈالر نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دوسری کرنسیوں میں تجارت کی طرف تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں امریکی معیشت اور ڈالر کی عالمی بالادستی کمزور پڑ سکتی ہے۔

    داؤ بہت بڑا ہے
    اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے اور کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، پیٹرو ڈالر نظام برقرار رہے گا، امریکی معیشت اپنی مضبوطی برقرار رکھے گی اور امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ جاری رہے گا۔ ایسی کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی بھی امریکی قیادت کو عالمی سطح پر اپنی طاقت دکھانے میں مزید تقویت دے گی۔

    لیکن اگر امریکہ خطے میں اثر و رسوخ کھو بیٹھتا ہے تو نتائج انتہائی ڈرامائی ہو سکتے ہیں۔ پیٹرو ڈالر نظام تیزی سے کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ ممالک متبادل کرنسیوں میں تیل کی تجارت شروع کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کمزور پڑے گا، امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ایسا منظرنامہ امریکہ کے عالمی سپر پاور کے طور پر زوال کو تیز کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سویز بحران کے بعد برطانیہ کی عالمی حیثیت کمزور ہو گئی تھی۔

    یہ صورتحال جغرافیائی سیاست میں محلِ وقوع کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جس طرح سویز نہر نے برطانیہ کے عالمی اثر کو متعین کیا تھا، اسی طرح آبنائے ہرمز اور اس کے ذریعے توانائی کی ترسیل یہ طے کر سکتی ہے کہ آیا امریکی دور جاری رہے گا یا تیز رفتار زوال کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    پاکستان اور دیگر درمیانی طاقتوں کے لیے بھی یہ پیش رفت براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ اس گزرگاہ میں استحکام یا خلل توانائی کی سلامتی، تجارتی راستوں اور پورے خطے کی معاشی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اسٹریٹجک بصیرت، متوازن سفارت کاری اور علاقائی تعاون انتہائی ضروری ہوں گے۔

    نتیجہ
    امریکی دور اچانک ختم نہیں ہو رہا، لیکن اس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور پیٹرو ڈالر نظام کی پائیداری ممکنہ طور پر وہ اہم عوامل ہوں گے جو امریکہ کی عالمی طاقت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔اگر امریکہ کامیاب حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، معیشت محفوظ رہے گی اور امریکی اثر و رسوخ مزید عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں ڈالر کمزور پڑ سکتا ہے، امریکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے، ٹرمپ یا اس وقت کی امریکی قیادت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے زوال کا عمل تیز ہو سکتا ہے—بالکل ویسے ہی جیسے سویز نہر کے بعد برطانیہ کی واپسی تیز ہو گئی تھی۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتوں کا عروج و زوال اکثر اہم اسٹریٹجک گزرگاہوں کے کنٹرول سے جڑا ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا آبنائے ہرمز امریکی طاقت کا فیصلہ کن امتحان بنے گی یا وہ مقام جہاں سے عالمی نظام میں اگلی بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

  • عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    حلقہ این اے 127 سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جنرل الیکشن میں کامیابی کے خلاف دائر درخواست الیکشن ٹربیونل نے مسترد کر دی۔

    ملک ظہیر عباس کھوکھر کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات کی انتخابی کامیابی کو چیلنج کیا گیا تھا، لیکن ٹربیونل نے اس درخواست کو غلط، ناقابل سماعت اور بے بنیاد قرار دیا ملک ظہیر عباس کھوکھر نے متعدد بار سماعت کی تاریخیں لیں اور کیس ملتوی کرنے کی درخواستیں بھی جمع کرائیں، تاہم وہ اپنے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی نمائندگی کے لیے الیکشن ٹربیونل میں بیرسٹر حارث عظمت ایڈووکیٹ پیش ہوئے،ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے اور درخوا ست کے قابل سماعت نہ ہونے کے باعث الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذر داری خارج کر دی اس موقع پر وزیراعظم کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر سید توصیف شاہ بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔

  • بیرسٹر گوہر  کا واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں

    بیرسٹر گوہر کا واٹس ایپ نمبر ہیک ہوگیا، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا واٹس ایپ نمبر ہیک کرلیا گیا، جبکہ ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایکس پر بیان میں بتایا کہ ان کا واٹس ایپ نمبر آج صبح تقریباً 11 بجے ہیک کر لیا گیا ہے اور ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی ہو چکا ہے، ہیکرز کی جانب سے رقم کی درخواستیں کی جا رہی ہیں، تمام مالی درخواستوں کو نظر انداز کیا جائے،معاملے سے متعلقہ حکام سے رجوع کر لیا گیا ہے تاکہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جا سکے اور ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے-

  • آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا

    آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا

    آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا ہے، ایشیاء میں ایندھن کی شدید قلت سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہیں۔

    امریکی میڈیا نے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کردیا، طلب کم کرنے کیلئے قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے،امریکی اشاعتی و نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ایران سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ طویل ہونے کی صورت میں عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگنے کا انتباہ کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل سپلائی میں یومیہ تقریباً 11 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ ایل این جی سپلائی متاثر ہونے سے گیس بحران بھی سر اٹھا چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں ڈیزل کی قلت کے خطرات بڑھ گئے ہیں، عالمی مہنگائی میں اضافہ اور معیشتوں پر دباؤ تیز ہورہا ہے، کئی ممالک نے ایندھن بچانے کے اقدامات اور راشننگ شروع کردی ہے۔بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای متبادل راستوں سے سپلائی بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں، بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی ذخائر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں لیکن یہ حل مستقل اور پائیدار حل نہیں۔

    دوسری جانب ایران کا جوابی وار، صیہونی ریاست پر میزائل داغ دیے، شارجہ میں بھی ڈرون حملہ، ٹیلی کام کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔دبئی میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے، دبئی ساحل کے قریب کویتی آئل ٹینکر پر پروجیکٹائل حملے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، یو کے میری ٹائم ایجنسی کے مطابق جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ ہے۔سعودی عرب نے بھی 8 بیلسٹک میزائل گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  • بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف تک رسائی سے روکنا اور مسیحی رہنماؤں کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں پام سنڈے کی عبادات سے منع کرنا قابل مذمت ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے،وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین، کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی کے بنیادی حق کی نفی کرتے ہیں۔

    انہوں نے بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف اسرائیلی پابندیوں کو غیر قانونی اور مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بطور قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں،وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف کے دروازے مسلسل 30 روز تک بند رکھنے، حتیٰ کہ ماہ رمضان کے دوران بھی، اور عبادت کی آزادی کو محدود کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    مشترکہ اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، جبکہ اس کے انتظام و انصرام کا مکمل اختیار اردن کی وزارت اوقاف کے تحت بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے ادارے کے پاس ہے،وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد پابندیاں ختم کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقدس اسلامی و مسیحی مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے۔

  • اسرائیل میں میزائل حملوں کے بعد ورکشاپ میں آگ، درجنوں افراد زخمی

    اسرائیل میں میزائل حملوں کے بعد ورکشاپ میں آگ، درجنوں افراد زخمی

    اسرائیل کے وسطی علاقے میں میزائل حملوں کے بعد ایک ورکشاپ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابو پانے کی کوشش کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ تل ابیب سے تقریباً 6 میل مشرق میں واقع شہر پیتاح تکوا میں پیش آیا، جہاں دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے دور دور تک دیکھے گئے۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ مرکزی اسرائیل میں مختلف مقامات پر میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔دوسری جانب اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں میزائل حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 123 افراد زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی زخمیوں کی تعداد 6,131 تک پہنچ گئی ہے۔ اس وقت 118 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 18 کی حالت تشویشناک یا نازک بتائی جا رہی ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران اس کے مزید 4 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد جنگ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

  • کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال

    کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال

    کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے لیے جیٹ فیول کی دستیابی یقینی ہو گئی ہے جس کے بعد ہوائی جہازوں کے کرا ئے بھی کم ہو جائیں گے-

    ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی آئل کارگو کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا ہے اور اب تک محدود تعداد میں کارگو گزر چکی ہیں، جبکہ مرحلہ وار تقریباً 20 ٹینکر آنے کا امکان ہے، کویت سے روزانہ کی بنیاد پر 1 سے 2 ٹینکر آئیں گے، کویت کے ساتھ موجودہ 50 سالہ سپلائی معاہدہ اب بھی فعال ہے، تاہم نیا معاہدہ نہیں ہوا پاکستان سعودی عرب سے ماہانہ 3 تا 5 اور یو اے ای سے 2 تا 4 کارگو تیل حاصل کرتا رہا ہے سپلائی کی بحالی سے بجلی، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کمی کے خدشات کم ہو جائیں گے اور عوامی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی، توانائی اور ایوی ایشن شعبے میں ضروری اصلاحات کے ساتھ قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔