پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس/ایم ہنگور چین سے سفر مکمل کرنے کے بعد کراچی پہنچ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی سمندری دفاعی حکمت عملی اور بحری قوت میں اضافے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
چین میں تیار کی جانے والی یہ جدید آبدوز پاک بحریہ کے فلیٹ میں شامل ہونے والی ہنگور کلاس کی پہلی آبدوز ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کی شمولیت سے پاکستان کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملکی سمندری حدود کے دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
پی این ایس/ایم ہنگور جدید ترین جنگی نظام، جدید سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی اور اسٹیلتھ خصوصیات سے لیس ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آبدوز کو طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے، دشمن کی نظروں سے اوجھل رہنے اور مؤثر انداز میں آپریشنل ذمہ داریاں انجام دینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
پاک بحریہ کے لیے ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت بحری بیڑے کی جدید خطوط پر ترقی کے منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
دفاعی حلقوں کے مطابق پی این ایس/ایم ہنگور کی آمد پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دفاعی اور تزویراتی تعاون کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل فروغ پا رہا ہے اور یہ آبدوز اسی شراکت داری کا ایک نمایاں مظہر سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید آبدوزوں کی شمولیت سے نہ صرف سمندری حدود کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ بحر ہند کے خطے میں پاکستان کی دفاعی موجودگی بھی مزید مضبوط ہوگی۔
پی این ایس/ایم ہنگور صرف ایک آبدوز نہیں بلکہ پاکستان کی بحری طاقت، دفاعی خود انحصاری اور قومی عزم کی علامت بن کر ابھری ہے۔ اس کی آمد سے پاک بحریہ کے جدید جنگی فلیٹ میں ایک نئے دور کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔
Blog
-

پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کراچی پہنچ گئی
-

سپر ایل نینو کا آغاز، دنیا مزید شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے کا امکان
امریکی محکمہ موسمیات اور سمندری امور کی جانب سے جاری نئی رپورٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایل نینو کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کرکے "سپر ایل نینو” بننے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال دنیا بھر میں موسم کے معمولات کو متاثر کر سکتی ہے اور عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی خطے میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی نظام ہے جس کے دوران سمندر کے وسطی اور مشرقی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت اور ہواؤں میں آنے والی یہ تبدیلیاں دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی شدت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بار ایل نینو کے انتہائی طاقتور ہونے کا امکان 63 فیصد ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے مضبوط ترین ایل نینو واقعات میں شامل ہو سکتا ہے۔ ادارے نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ یہ موسمی نظام موسم خزاں تک یقینی طور پر برقرار رہے گا اور سردیوں میں بھی اس کے جاری رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق سپر ایل نینو قرار پانے کے لیے بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے دو ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ جدید کمپیوٹر ماڈلز اشارہ دے رہے ہیں کہ اس مرتبہ درجہ حرارت اس حد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران بحرالکاہل کے مغربی حصے سے غیر معمولی گرم پانی مشرقی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ گرم پانی سمندر کی گہرائیوں سے سطح کی طرف ابھر رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی امریکہ کے قریب سمندری درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سپر ایل نینو کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس سے قبل 2015-16، 1997-98 اور 1982-83 میں انتہائی طاقتور ایل نینو ریکارڈ کیا گیا تھا جس نے دنیا بھر میں شدید موسمی تبدیلیاں پیدا کی تھیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایل نینو سمندروں کی بڑی مقدار میں حرارت فضا میں منتقل کرتا ہے، جس سے پہلے سے موجود عالمی حدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ 2027 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال بن سکتا ہے اور 2024 کے درجہ حرارت کا ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ -

عرب اور مسلم کھلاڑیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات، فیفا سے مداخلت کا مطالبہ
امریکہ میں عرب اور مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور فیفا ورلڈ کپ حکام پر عرب اور مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان رہنماؤں نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور مساوی سلوک کو یقینی بنائے۔
کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے، لیکن بعض حالیہ واقعات نے اس جذبے کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی عرب اور مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ویزوں، داخلے کی اجازت اور اضافی سکیورٹی جانچ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حال ہی میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری عمر آرتان کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے واقعے نے اس بحث کو مزید شدت دی۔ عمر آرتان کو افریقی فٹبال کے بہترین ریفریوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ورلڈ کپ میں خدمات انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بننے والے تھے۔ تاہم امریکہ میں داخلے سے انکار کے بعد وہ ٹورنامنٹ کے آفیشلز کی فہرست سے باہر ہو گئے۔
عرب اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مختلف امریکی ہوائی اڈوں پر عرب اور افریقی ممالک کے کھلاڑیوں اور شائقین کو طویل پوچھ گچھ، اضافی جانچ پڑتال اور بعض اوقات داخلے سے انکار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے متعلقہ کمیونٹیز میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
امریکی عرب اینٹی ڈسکریمینیشن کمیٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر درست سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہو تو اس سے نہ صرف بنیادی شہری آزادیوں پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے تشخص کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عرب امریکن چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے بھی اس طرز عمل کو کھیلوں کے جذبے کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک کے شرکاء کے ساتھ مساوی سلوک کیا گیا تھا اور سیاست کو کھیل سے الگ رکھا گیا تھا۔
کمیونٹی رہنماؤں نے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کھل کر مؤقف اختیار کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو بلا امتیاز شرکت کا موقع ملے۔ -

آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی تاریخوں کا اعلان
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول اور میزبانی کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ایونٹس میں سے ایک یہ ٹورنامنٹ 4 اکتوبر 2027 سے شروع ہوگا اور 21 نومبر 2027 تک جاری رہے گا۔
آئی سی سی کے مطابق میگا ایونٹ کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے۔ ٹورنامنٹ میں دنیا کی 14 بہترین ٹیمیں شرکت کریں گی جبکہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اپنی عالمی ٹائٹل کا دفاع کرے گا۔
ورلڈ کپ کے دوران مجموعی طور پر 54 میچز کھیلے جائیں گے۔ ان میں سے 41 میچز جنوبی افریقا، 10 زمبابوے اور 3 نمیبیا میں منعقد ہوں گے۔ اس طرح جنوبی افریقا ایونٹ کا مرکزی میزبان ملک ہوگا جبکہ دیگر دو ممالک بھی اہم میچز کی میزبانی کریں گے۔
جنوبی افریقا کے آٹھ بڑے شہروں کو میچز کی میزبانی سونپی گئی ہے جن میں جوہانسبرگ، پریٹوریا، کیپ ٹاؤن، ڈربن، بلوئم فونٹین، ایسٹ لندن، پارل اور گیبرہا شامل ہیں۔ ان میدانوں میں عالمی کرکٹ کے بڑے مقابلے منعقد ہوں گے اور شائقین کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق 14 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں اگلے مرحلے "سپر 6” کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اس مرحلے کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں سیمی فائنل اور پھر فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق 14 ٹیموں پر مشتمل فارمیٹ سے زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا، جبکہ مقابلوں میں دلچسپی اور مسابقت بھی بڑھے گی۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا اس سے قبل بھی کئی بڑے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کر چکا ہے۔ ملک نے 2007 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، 2009 میں چیمپئنز ٹرافی اور 2023 میں ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کامیاب میزبانی کی تھی۔ دوسری جانب زمبابوے اور نمیبیا نے حالیہ برسوں میں انڈر 19 ورلڈ کپ سمیت مختلف بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
کرکٹ شائقین اب اس عالمی ایونٹ کے منتظر ہیں جہاں دنیا کی بہترین ٹیمیں ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتریں گی۔ -

ایران کے ساتھ اسی وقت معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں، ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے حوالے سے مایوس نہیں ہیں اور اب بھی یہ امکان موجود ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔
امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جلد کسی بڑے سمجھوتے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اسی وقت ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقام پر قبضے کے آپشن کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران معاہدے کے لیے امریکہ سے رابطے میں ہے، تاہم ایرانی قیادت اب بھی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے تمام ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی نظام اور بڑی تعداد میں میزائل صلاحیت کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس اب اپنے مجموعی ہتھیاروں کا تقریباً 20 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی سرگرمیوں اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب سخت فوجی مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے دروازے بھی کھلے رکھے جا رہے ہیں۔ -

سعودی عرب کی ایران کے حملوں کی مذمت، مذاکرات بحال کرنے پر زور
سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برادر ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنانے والے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ بیان کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریق حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں۔ سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو دوبارہ فعال کرنا ضروری ہے۔ سعودی عرب نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی میزبانی اور قطر کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہونے والے تعمیری مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں تاکہ موجودہ بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی ایسے تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق علاقائی سلامتی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری بھی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ -

وزیر دفاع کے استعفے پر اسٹارمر حکومت دفاعی پوزیشن میں
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی کے استعفے کے تقریباً دو گھنٹے بعد حکومت کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فیصلوں کی بدولت ملک زیادہ محفوظ ہوا ہے اور حکومت قومی مفاد میں اقدامات جاری رکھے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق لیبر حکومت نے سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے بڑا اور مسلسل اضافہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی امداد کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور اب دیگر سرکاری محکموں کے اخراجات میں کمی کرکے دفاعی شعبے کے لیے مزید اربوں پاؤنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دفاعی سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ مسلح افواج کو وہ تمام صلاحیتیں فراہم کرے گا جن کی انہیں موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہر اقدام کیا جاتا رہے گا۔
دوسری جانب جان ہیلی کے استعفے کے بعد سیاسی ردعمل میں شدت آ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسکاٹش نیشنل پارٹی (SNP) کے ویسٹ منسٹر نمائندے ڈیو ڈوگن نے کہا کہ لیبر پارٹی ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے معاملات پر کنٹرول کھوتی جا رہی ہے۔
ادھر ویلز کی جماعت پلائیڈ کمری کے ویسٹ منسٹر گروپ کی سربراہ لز سیویل رابرٹس نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا استعفیٰ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ساکھ اور اختیار کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اسٹارمر حکومت کے زوال کے دنوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جان ہیلی کا استعفیٰ برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف حکومت کی داخلی پوزیشن بلکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت اس بحران سے کیسے نمٹتی ہے اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔ -

امریکی حملوں نے جنگ بندی کو بے معنی بنا دیا، ایران
ایران نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی کو بے معنی اور غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کی تازہ فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے غیر قانونی اور خطرناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور ان تمام فریقوں پر عائد ہوگی جو ان کارروائیوں میں شریک، معاون یا سہولت کار بنیں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کی موجودہ حیثیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں نے جنگ بندی کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی فوجی مشیر محسن رضائی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، بصورت دیگر وہ دنیا میں اپنی باقی ماندہ ساکھ بھی کھو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔ -

امریکہ نے ایرانی تیل لے جانے والے جہاز کو میزائل حملے سے ناکارہ بنا دیا
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عمان میں ایرانی تیل لے جانے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز کو میزائل حملے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران سے منسلک تیل کی ترسیل روکنے کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق گنی بساؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر "ایم ٹی جلویئر” خلیج عمان کے راستے ایرانی تیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو متعدد بار ہدایات دی گئیں لیکن انہوں نے امریکی فوجی احکامات پر عمل نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بناتے ہوئے دو ہیل فائر میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں جہاز کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور اسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد جہاز کو روکنا تھا اور اس دوران جہاز کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے یہ تیسرا موقع ہے جب کسی بحری جہاز کو اسی نوعیت کی کارروائی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر نو جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے جبکہ 135 دیگر جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا ہے۔
خلیج عمان اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہیں سمجھی جاتی ہیں۔ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں پر اس نوعیت کی کارروائیاں عالمی تجارت، تیل کی فراہمی اور علاقائی استحکام پر اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع اب بحری راستوں تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ -

ٹرمپ کی ایران پر سخت حملے اور تیل تنصیبات پر کنٹرول کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو "آج رات بہت سخت جواب” دے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مستقبل قریب میں امریکہ ایران کے اہم تیل و گیس مراکز اور توانائی کی منڈیوں پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے اہم توانائی مراکز، خصوصاً خارگ جزیرے، پر قبضہ کرے گا۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز تصور کیا جاتا ہے اور ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل اسی مقام سے کی جاتی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ ملک کے دفاعی نظام کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے تیل اور گیس کے شعبے پر اسی طرح اثر و رسوخ قائم کرے گا جیسا اس کے بقول وینزویلا کے معاملے میں کیا گیا تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ خطے میں جاری صورتحال کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے یا برآمدی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کے تازہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک دونوں فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ کسی بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔