اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اینٹی ٹینک میزائل حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ ایک افسر شدید زخمی ہو گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت 19 سالہ سارجنٹ لیران بین زیون کے طور پر ہوئی ہے، جو 401 آرمڈ بریگیڈ کی 9ویں بٹالین سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک اینٹی ٹینک میزائل فوجی ٹینک پر لگا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک افسر شدید زخمی ہوا۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس حملے کے کچھ دیر بعد مزید دو اینٹی ٹینک میزائل بھی داغے گئے، تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ دنوں میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اس سلسلے میں ہلاک ہونے والا چھٹا اسرائیلی فوجی ہے، جس سے صورتحال کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔
Blog
-

لبنان میں حزب اللہ حملہ، اسرائیلی فوجی ہلاک
-

حملوں کی منصوبہ بندی پر ایران میں 2 افراد کو سزائے موت
ایران میں عدلیہ نے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں افراد ایک اپوزیشن گروپ سے وابستہ تھے اور ملک میں مسلح کارروائیوں کی تیاری میں ملوث تھے۔
ایرانی عدلیہ کے بیان کے مطابق سزا پانے والے افراد پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران سے منسلک تھے، جن پر الزام تھا کہ وہ تہران میں دیسی ساختہ لانچر ڈیوائسز کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف مقدمہ مکمل ہونے کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک میں سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے ایران میں سیکیورٹی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن گروپس اور حکومت کے درمیان تناؤ بھی نمایاں ہے۔ -

بھارت میں ایل پی جی بحران، شہری شدید مشکلات کا شکار
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے اثرات اب بھارت تک بھی پہنچ گئے ہیں جہاں توانائی کے بحران اور ایل پی جی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ مختلف شہروں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص گیس سلنڈر کی پوجا کرتا نظر آ رہا ہے۔ صارفین اس عمل کو مہنگائی اور ایندھن کی کمی کے خلاف احتجاج اور عوامی مایوسی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں میں مسائل کے باعث بھارت میں گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اس صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، جبکہ بلیک مارکیٹ میں گیس سلنڈروں کی فروخت بھی بڑھ گئی ہے۔ عوام خوف کے باعث ذخیرہ اندوزی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس سے بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کروڑوں گھرانے کھانا پکانے کے بنیادی ایندھن کے لیے پریشان ہیں، جس نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی میں بہتری نہ آئی تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

خدا کے نام پر جنگ ناقابل قبول، پوپ لیو کا دوٹوک مؤقف
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے دنیا بھر میں جاری تنازعات کے تناظر میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے اعمال مذہب کی اصل روح کے خلاف ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دیتے ہیں، وہ دراصل انسانیت اور اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دے کر کہا کہ جنگ کرنے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ مذہب کا مقصد امن، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، نہ کہ تشدد یا تباہی کو جواز فراہم کرنا۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ فوری جنگ بندی کی جائے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مختلف عالمی تنازعات میں شامل فریقین اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق پوپ کا یہ بیان ایک اہم اخلاقی پیغام ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مذہب کو جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ -

بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف
ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت ایک اور مبینہ فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے،
اطلاعات کے مطابق کہا گیا ہے کہ بھارتی تحویل میں موجود بعض پاکستانی، بالخصوص کشمیری شہریوں کو اس مبینہ منصوبے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایسے افراد جو غلطی سے سرحد پار کر گئے تھے اور اس وقت قید میں ہیں، انہیں اس مقصد کے لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
مزید دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے ساتھ کچھ بھارتی قیدیوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ مبینہ کارروائی کو مختلف انداز میں پیش کیا جا سکے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مبینہ منصوبے کا مقصد سفارتی دباؤ کو کم کرنا اور عالمی توجہ کو کسی اور سمت موڑنا ہو سکتا ہے۔ -

آسٹریا میں بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری
آسٹریا نے کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
آسٹرین حکومت کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا جائے گا، جسے جون 2026 کے آخر تک پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس مجوزہ قانون کا بنیادی مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد اور ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کم عمر بچوں کو نہ صرف ہراسانی اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات ان کی ذہنی صحت پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
اس مجوزہ بل میں اسکولوں میں میڈیا لٹریسی یعنی میڈیا سے متعلق آگاہی کا مضمون شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ بچوں کو آن لائن معلومات کی درستگی اور گمراہ کن مواد کی پہچان سکھائی جا سکے۔
تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ عمر کی تصدیق کے لیے کون سا نظام اپنایا جائے گا اور اس قانون پر عملدرآمد کس طریقے سے یقینی بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا اور انڈونیشیا بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا سخت پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات کر چکے ہیں، جس کے بعد دنیا بھر میں اس حوالے سے بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ -

کراچی میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ
کراچی میں رواں سال منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت نے صورتحال پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق مریض کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ایم پاکس کی تصدیق ہوئی، جس پر اسے فوری طور پر سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ بہتر طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریض بیرون ملک سے سفر کرکے پاکستان پہنچا تھا، جس کے باعث کیس کو سفری ہسٹری سے جوڑا جا رہا ہے۔ بعد ازاں مریض کی حالت بہتر ہونے پر اسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور مزید دیکھ بھال کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق رواں سال مختلف اسپتالوں میں ایم پاکس کے کئی مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم تصدیق شدہ کیسز کی تعداد محدود ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک متعدی بیماری ہے، تاہم بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ -

آپریشن وعدہ صادق 4 کی نئی لہر، ایرانی حملوں کا دعویٰ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 87ویں لہر کے دوران مختلف علاقوں میں دشمن کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے جاری بیان کے مطابق ان حملوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور امریکی و اسرائیلی فوجیوں اور پائلٹس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شہدا، خصوصاً شہید ریئر ایڈمرل تنگسیری کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق اس لہر میں خطے میں موجود پانچ امریکی اڈوں سمیت جنوبی، وسطی اور شمالی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ حملوں میں جدید بیلسٹک میزائل جیسے عماد، قیام اور خرمشہر 4 کے ساتھ ساتھ خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، جو مائع اور ٹھوس ایندھن دونوں ٹیکنالوجیز پر مبنی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات اور دعوے خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اس سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ -

تلہ گنگ ضلع کا خواب دفن؟ اربوں کے فنڈز کہاں گئے — چوہدری راسخ الہی تلہ گنگ کا حال دیکھ کر پھٹ پڑے
تلہ گنگ (فیضان شیخ باغی ٹی وی): چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے چوہدری راسخ الہی نے تلہ گنگ کی موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک فعال ضلع کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت غیر فعال کیا گیا، جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے آج سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر فیضان شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلہ گنگ کو ضلع بنانے کے لیے چار ارب 75 کروڑ روپے کے فنڈز ریلیز کروائے گئے، 200 کنال اراضی ضلعی کمپلیکس کے لیے مختص کی گئی، مگر آج ان منصوبوں کا کہیں وجود نظر نہیں آتا۔
انہوں نے سخت سوال اٹھایا کہ تلہ گنگ کے 36 دیہات کو سوئی گیس کی فراہمی کی منظوری دی گئی، عمار یاسر نے اس منصوبے کو یقینی بنایا، مگر آج تک کسی ایک محلے کو بھی گیس نہیں مل سکی—آخر یہ منصوبہ کہاں دفن ہو گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ ضلع بننے کے بعد 23 سرکاری محکمے فوری طور پر فعال کیے گئے تھے اور افسران نے باقاعدہ چارج لے کر کام شروع کر دیا تھا، مگر آج وہی محکمے یا تو ختم کر دیے گئے یا چکوال کے افسران کے اضافی چارج پر چل رہے ہیں، جو کھلی انتقامی کارروائی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او جیسے کلیدی عہدوں پر افسران تعینات کیے گئے، لیکن انہیں اچانک یہاں سے ٹرانسفر کر دیا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عناصر کو ضلع تلہ گنگ کا قیام ہضم نہیں ہو رہا۔
چوہدری راسخ الہی نے کہا کہ تلہ گنگ کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل جھونک دیے، مگر بدقسمتی سے سیاسی انتقام اور ذاتی انا کی سیاست نے اس پورے علاقے کو پیچھے دھکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا ٹراما سینٹر آج بھی ویران کھڑا ہے، جبکہ سڑکوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے متعدد منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے—عوام کو صرف اعلانات اور وعدوں کے سہارے پر رکھا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نمائندے نااہلی کی بدترین مثال بن چکے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات سے باہر نکلنے کو تیار نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تلہ گنگ کا ضلع عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے سیاست نہیں بلکہ خدمت اولین ترجیح ہے -

خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق
ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے جہاں موسم خوشگوار بنا دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں تباہی بھی مچادی ہے، جہاں مختلف حادثات میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس کے مطابق سوات، بنوں، ہنگو، نوشہرہ، ٹانک، باجوڑ، کرک، پاراچنار، ملاکنڈ سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچا اور حادثات پیش آئے۔
ایبٹ آباد میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں بھی شامل ہیں، جس نے واقعے کو مزید دلخراش بنا دیا۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 25 مارچ سے جاری بارشوں کے دوران مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 14 بچے، ایک مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث کم از کم 11 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ زیادہ تر حادثات بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منگل تک مزید بارش کا امکان ہے، جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع جن میں سرگودھا، بھکر، لودھراں، وہاڑی، چنیوٹ، حافظ آباد اور بہاولپور شامل ہیں، وہاں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔