امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے حوالے سے ایک ہفتے بعد واضح معلومات دی جائیں گی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکا ہے اور امریکا اب ایک نئے گروپ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی ریفائنری پر ایران کے حملے کا جواب جلد سامنے آئے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ایرانی قیادت مذاکرات اور تعاون کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، جبکہ اس وقت مختلف دعوؤں اور بیانات کی تصدیق بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
Blog
-

ٹرمپ کا دعویٰ، ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی
-

ایران میں یتیم خانے پر حملہ، 2 افراد شہید
ایران کے دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع ایک یتیم خانے پر مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اور سنگین پہلو کو سامنے لا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فاردیس کے علاقے میں زیر تعمیر یتیم خانہ حملے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں بچوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک 230 بچے جاں بحق جبکہ 1800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات، خاص طور پر یتیم خانوں جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنانا انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث ہے اور اس سے عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کر رہی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ -

برطانیہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا، کیئر اسٹارمر کا واضح اعلان
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی وہاں فوج تعینات کی جائے گی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور ملک کو اس میں گھسیٹا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح اپنے شہریوں، قومی مفادات اور خطے میں موجود اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ اس وقت دفاعی نوعیت کے اقدامات کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے، تاہم اس کا مقصد جنگ میں شامل ہونا نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ مغربی ممالک اس تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر سفارتی و دفاعی حکمت عملی پر انحصار کر رہے ہیں۔ -

سکھر میں میٹرک امتحان، نقل پر طلبہ کے خلاف کارروائی
سکھر تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام جاری میٹرک امتحانات کے دوران نقل کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جس پر امتحانی حکام نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں ایک طالبہ کو نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا جسے فوری طور پر امتحانی ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔مزید بتایا گیا ہے کہ اسی امتحانی مرکز میں مجموعی طور پر 23 طلبہ نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے، جن کے خلاف کاپی کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ان طلبہ کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جانے اور دیگر تادیبی اقدامات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امتحانی حکام کے مطابق شفاف امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ نقل کے رجحان کے خاتمے کے لیے نہ صرف سخت اقدامات ضروری ہیں بلکہ طلبہ میں ایمانداری اور محنت کے فروغ کے لیے شعور اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ -

سیالکوٹ میں شادی پر ڈالرز کی برسات، انوکھی بارات وائرل
سیالکوٹ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت موضوعِ بحث بن گئی جب آسٹریلیا سے آئے بھائیوں نے اپنے بھائی کی شادی کو یادگار بنانے کے لیے ڈالرز اور پاکستانی کرنسی کی برسات کر دی۔ اس انوکھی بارات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے علاقے مراکیوال کے رہائشی دلہا قمر عباس کی بارات جب میرج ہال پہنچی تو وہاں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا۔ دلہا کے آسٹریلیا سے آئے بھائیوں نے بارات کے استقبال کے دوران آسٹریلین ڈالرز اور پاکستانی نوٹوں کے تھیلے کھول دیے اور حاضرین پر نچھاور کرنا شروع کر دیے۔
عینی شاہدین کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے تک نوٹوں کی بارش جاری رہی، جس کے باعث میرج ہال کے اندر اور باہر ہر طرف کرنسی ہی کرنسی نظر آنے لگی۔ جیسے ہی یہ سلسلہ شروع ہوا، قریبی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی اور نوٹ سمیٹنے کا منظر دیکھنے کو ملا، جس سے ہال کے باہر میلے جیسا ماحول بن گیا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اب ایک نیا رجحان بنتے جا رہے ہیں جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانی شادیوں میں غیر ملکی کرنسی نچھاور کر کے تقریبات کو منفرد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اس واقعے پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ اسے خوشی کا اظہار قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے فضول خرچی بھی کہہ رہے ہیں۔ -

بنوں میں جعلی شناختی کارڈ بنانے والا گروہ گرفتار
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کر کے جعلی شناختی کارڈ بنانے والے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کی ہدایت پر خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کی، جس کی قیادت ایس پی سٹی توحید خان اور ایس ایچ او ریاض خان نے کی۔ کارروائی کے دوران تین ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جن میں اجمل، بادشاہ خان اور افغان شہری نقیب شاہ شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق گروہ کے دو دیگر ارکان مامور اور زین اللہ فرار ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان افغان شہریوں کو پاکستانی شناختی کارڈز فراہم کرنے کے بدلے بھاری رقم وصول کرتے تھے اور ایک کیس میں 28 لاکھ روپے لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
یہ گروہ افغان مہاجرین کو مقامی پاکستانی خاندانوں کے شجرہ نسب میں غیر قانونی طور پر شامل کرتا تھا تاکہ انہیں پاکستانی شہری ظاہر کیا جا سکے۔
ڈی پی او بنوں کا کہنا ہے کہ جعل سازی اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کر کے سخت سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ -

ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے: مفتی منیب
تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کی تفرقہ بازی کی گنجائش نہیں اور ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی کوششیں نقصان دہ ہیں، اس لیے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کو مسترد کرنا ہوگا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے قائم کیا گیا ادارہ اپنے مقاصد میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات اس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔
مفتی منیب الرحمان نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور امید ہے کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی یہ کاوشیں مثبت نتائج دیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی سیز فائر کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہو اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہو۔ -

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی دھمکی، ایران کو سخت کارروائی کا انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھولی گئی تو امریکا ایران کے اہم توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں ایک نئی اور زیادہ معقول قیادت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ جاری فوجی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ جلد نہ ہو سکا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایسی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، خارگ جزیرے اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان امریکی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت کا ردعمل ہوگا جنہیں وہ ایران سے جوڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ -

ایوانِ صدر میں اہم اجلاس، کفایت شعاری اور ایندھن بچت پر غور
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان میں کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات پر غور کے لیے ایوانِ صدر اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت ایک چھت تلے موجود ہے۔
اجلاس میں صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ بھی شریک ہیں۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری حکام بھی اجلاس میں موجود ہیں، جہاں ملک کی معاشی صورتحال اور توانائی کے چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں میں کفایت شعاری اور ایندھن بچانے کے حوالے سے تیار کردہ منصوبے پیش کریں گے، جن کی روشنی میں قومی سطح پر اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس سے قبل صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں نائب وزیراعظم اور مشیر قومی سلامتی نے شرکت کی، جہاں مجموعی صورتحال اور پالیسی معاملات پر مشاورت کی گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی کے خدشات کے باعث ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، تاکہ معیشت پر بوجھ کم کیا جا سکے اور وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ -

کلفٹن سپر اسٹور میں آگ بے قابو، 9 گھنٹے بعد بھی جاری
کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب واقع ایک سپر اسٹور میں لگنے والی آگ پر کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا جا سکا، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ عمارت کے بیسمنٹ میں لگی جہاں اسٹور کا گودام موجود ہے، جس میں موجود سامان کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کو عمارت کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے روک لیا گیا ہے، تاہم بیسمنٹ میں آگ بدستور جل رہی ہے۔
ریسکیو آپریشن میں فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں اور عملہ مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دھوئیں کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم حکام نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اطراف کے علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیسمنٹ میں لگنے والی آگ اکثر زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ وہاں ہوا کی کمی اور آتش گیر مواد کی موجودگی آگ کو مزید شدت دے سکتی ہے، جس کے باعث آگ بجھانے کا عمل طویل ہو جاتا ہے۔