Baaghi TV

Blog

  • 
جھنگ واقعہ: ابتدائی پوسٹ مارٹم میں تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے

    
جھنگ واقعہ: ابتدائی پوسٹ مارٹم میں تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے

    ‎جھنگ میں دورانِ علاج انتقال کر جانے والی 18 سالہ لڑکی کے کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں تشدد یا جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ کا تعین فرانزک اور لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی اسپتال چھوڑ کر چند افراد موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اس کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے طبی امداد فراہم کی گئی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
    ‎اسپتال انتظامیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔ حتمی نتائج کے لیے مختلف نمونے فرانزک تجزیے کی خاطر لاہور کی لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
    ‎پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق متوفیہ شوگر کی مریضہ تھی اور گزشتہ پانچ برس سے انسولین استعمال کر رہی تھی۔ طبی ریکارڈ کے مطابق جب اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ بے ہوش حالت میں تھی۔
    ‎دوسری جانب پولیس نے اس معاملے میں پیش رفت کرتے ہوئے لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال چھوڑ کر جانے والے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ تفتیشی حکام ان افراد سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ متوفیہ کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابتدائی طبی رپورٹ میں اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔
    ‎پولیس اور متعلقہ اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
این ایف سی ایوارڈ پر پیشرفت، وزیراعظم کی 180 دن میں حل کی یقین دہانی

    ‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں انہوں نے صوبے کے عوام کے حقوق اور مفادات کا بھرپور انداز میں دفاع کیا، جبکہ این ایف سی ایوارڈ اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مالی معاملات پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
    ‎اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر 180 دن کے اندر پیشرفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق تمام صوبوں کی جانب سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی منظوری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر صوبوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا تو وزیراعظم آئینی طریقہ کار کے تحت معاملے کی سمری ایوان صدر کو ارسال کریں گے تاکہ اس اہم قومی معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
    ‎وزیراعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مالی حقوق کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا اور کہا کہ ان علاقوں کی ترقی اور بحالی کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے بقول این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے حصے سے متعلق معاملات پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔
    ‎گفتگو کے دوران انہوں نے گندم کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے نے وفاقی حکومت کے سامنے کسانوں کے تحفظات بھی پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض معاہدوں کے باعث گندم کی قیمت 4150 روپے سے اوپر جانے کا خدشہ پیدا ہو رہا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعلیٰ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت ملک بھر میں اشیا کی آزادانہ نقل و حرکت کا اصول موجود ہے، اسی تناظر میں گندم اور دیگر زرعی اجناس کے معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم سے جڑا ایک اہم قومی مسئلہ ہے، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے فنڈز کی فراہمی بھی خیبرپختونخوا کے اہم مطالبات میں شامل رہی ہے۔

  • 
نماز جنازہ کے اعلان کے بعد ویزے جاری ہوں گے، عباس عراقچی

    
نماز جنازہ کے اعلان کے بعد ویزے جاری ہوں گے، عباس عراقچی

    ‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے حتمی اعلان کے بعد غیر ملکی مہمانوں کے لیے ویزوں کے اجرا کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دنیا بھر سے آنے والے شرکا کے استقبال کے لیے مکمل انتظامات کو یقینی بنانے کے بعد ویزا درخواستوں پر کارروائی کرے گا۔
    ‎عباس عراقچی کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کی تاریخوں کے باضابطہ اعلان کے ساتھ ہی یہ جائزہ لیا جائے گا کہ میزبان شہر کتنی تعداد میں سوگواروں اور غیر ملکی مہمانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ویزوں کے اجرا اور دیگر انتظامی امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔
    ‎وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تقریبات کے شیڈول اور انتظامات مکمل ہو جائیں گے تو دنیا بھر میں قائم ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے بیرون ملک سے آنے والے شرکا کے لیے انٹری ویزے جاری کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویزا درخواستوں کا عمل باقاعدہ اور منظم طریقے سے انجام دیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں۔
    ‎واضح رہے کہ مشہد میں ہونے والی سرکاری نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق محرم الحرام کے احترام، سیکیورٹی انتظامات اور بڑی تعداد میں متوقع زائرین کے لیے سہولیات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے عوام اور غیر ملکی مہمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ تقریبات کے شیڈول، ویزا پالیسی اور سفری ہدایات سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ یا اپنے ملک میں موجود ایرانی سفارتی مشنز سے رابطے میں رہیں۔
    ‎سیاسی اور مذہبی حلقوں کے مطابق متوقع جنازے کی تقریبات میں مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں شخصیات، وفود اور زائرین کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر ایرانی حکام انتظامات کو مرحلہ وار مکمل کر رہے ہیں تاکہ تمام مہمانوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • 
جہیز میں موٹر سائیکل نہ لانے پر مبینہ تشدد، نوبیاہتا دلہن جاں بحق

    
جہیز میں موٹر سائیکل نہ لانے پر مبینہ تشدد، نوبیاہتا دلہن جاں بحق

    ‎کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں جہیز کے تنازع پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 18 سالہ نوبیاہتا خاتون مصباح مبینہ تشدد کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔ واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
    ‎پولیس اور اہل خانہ کے مطابق مصباح نے رواں سال 19 مارچ کو شہریار بٹ نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ شادی کے ابتدائی دنوں سے ہی داماد ان کی بیٹی پر مختلف وجوہات کی بنا پر تشدد کرتا تھا۔
    ‎اہل خانہ کے مطابق حالیہ واقعے میں شوہر نے مبینہ طور پر موٹر سائیکل جہیز میں نہ لانے پر مصباح کو پیچ کس اور دیگر آہنی اوزاروں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ شدید زخمی حالت میں خاتون کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد اہل خانہ نے اسے طبی امداد فراہم کرائی۔
    ‎مقتولہ کی والدہ کے مطابق بیٹی کو علاج کے بعد گھر لے جایا گیا، تاہم اس کی حالت مسلسل بگڑتی رہی اور وہ جانبر نہ ہو سکی۔ انہوں نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیٹی طویل عرصے سے گھریلو تشدد کا شکار تھی اور اس کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک کیا جا رہا تھا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرکزی ملزم واقعے کے بعد فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہیز کے نام پر تشدد اور خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
ایران کے 3 ارب ڈالر اثاثوں کی منتقلی کا دعویٰ، تہران کی تردید

    
ایران کے 3 ارب ڈالر اثاثوں کی منتقلی کا دعویٰ، تہران کی تردید

    ‎اسرائیلی اور بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل کیے گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نیوز نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے ایران کے 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔
    ‎میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس مبینہ منتقلی کے ساتھ ایران کو ایک پیغام بھی پہنچایا گیا جس میں اسرائیل کے خلاف حملے روکنے پر زور دیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس عمل میں ایک قطری وفد نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی غیر رسمی سفارتی رابطوں کا ذکر کیا گیا۔
    ‎بعض مغربی ذرائع نے یہ تاثر بھی دیا کہ خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اس مبینہ مالی منتقلی کو علاقائی سفارت کاری سے جوڑا جا رہا ہے۔
    ‎تاہم ان تمام دعوؤں کی نہ تو ایران، نہ متحدہ عرب امارات، نہ امریکا اور نہ ہی قطر کی کسی سرکاری اتھارٹی نے تصدیق کی ہے۔ اس وجہ سے یہ اطلاعات فی الحال غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی حیثیت رکھتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو خطے کے ممالک میں منتقل کیے جانے یا ان کی خفیہ منتقلی سے متعلق دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک متعلقہ ممالک یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آتی، اس معاملے کو محض میڈیا دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم یہ خبر خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران سے متعلق بین الاقوامی معاملات پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

  • 
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز  کی کارروائی، 26 دہشت گرد ہلاک

    
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26 دہشت گرد ہلاک

    ‎پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ ان کے متعدد اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
    ‎عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا مقصد حالیہ دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق آپریشن میں موسیٰ درہ، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈز کو ہدف بنایا گیا۔
    ‎وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈرز علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور آپریشنل نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں موجود چار بڑے دہشت گرد مراکز اور اسلحہ کے ذخائر بھی نشانہ بنائے گئے۔
    ‎حکام کے مطابق اس آپریشن سے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت اور حملوں کی منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کارروائی میں جدید فضائی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس وسائل کا استعمال کیا گیا جس کے باعث دہشت گردوں کے اہم مراکز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
    ‎عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی حاصل تھی اور وہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے وژن "عزمِ استحکام” کے تحت پاک فوج، پاک فضائیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام تک یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
    ‎دفاعی ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ایسی کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • 
پاکستان میں ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ، مئی میں 4.3 ارب ڈالر موصول

    
پاکستان میں ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ، مئی میں 4.3 ارب ڈالر موصول

    ‎پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک کو 4 ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو کسی بھی ایک ماہ میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
    ‎اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں نہ صرف تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ مئی کے دوران موصول ہونے والی رقوم میں ماہانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور وطن سے مضبوط تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔
    ‎رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعداد و شمار بھی نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک مجموعی ترسیلات زر 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موصول ہونے والے 34 ارب 90 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہیں۔
    ‎ملک وار اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب بدستور ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ مئی کے دوران سعودی عرب سے 1 ارب 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا جہاں سے 1 ارب 66 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
    ‎اسی طرح برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 64 کروڑ 55 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 34 کروڑ 98 لاکھ ڈالر وطن بھیجے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں کا یہ کردار ملکی معیشت کے استحکام میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، روپے کے استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت معاشی بحالی، مالیاتی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎ترسیلات زر کا یہ ریکارڈ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی ترسیلات مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔

  • 
سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان بری کر دیے

    
سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان بری کر دیے

    ‎سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ ملک کے سب سے المناک صنعتی سانحات میں سے ایک کے مقدمے میں ایک اہم قانونی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
    ‎سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں پر تفصیلی دلائل سنے گئے۔ عدالتی کارروائی میں ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھا۔
    ‎وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسا مضبوط اور براہِ راست ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ دونوں ملزمان نے فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی چشم دید گواہ موجود تھا اور نہ ہی ایسا ناقابل تردید ثبوت پیش کیا گیا جو ملزمان کو جرم سے جوڑ سکے۔
    ‎عدالت نے تمام شواہد، قانونی نکات اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائے موت ختم کر دی اور انہیں بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
    ‎یاد رہے کہ ماتحت عدالت نے دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ اعلیٰ عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اس مقدمے کی قانونی حیثیت اور تفتیشی عمل پر ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔
    ‎واضح رہے کہ ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 256 مزدور اور ملازمین جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نے فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کے حقوق اور انصاف کے نظام سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کیے تھے۔
    ‎سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متاثرہ خاندانوں، قانونی ماہرین اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ یہ مقدمہ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران معاہدے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ٹرمپ

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران معاہدے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
    ‎امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو بامعنی ہو اور امریکا کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق امریکا کسی عارضی یا محدود نوعیت کے سمجھوتے کے بجائے ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو طویل المدتی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
    ‎ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایران کے خلاف مزید اور زیادہ سخت کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا ایران کے بنیادی ڈھانچے، بجلی گھروں یا پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو انہوں نے اس بارے میں کسی بھی قسم کی تصدیق یا تفصیل دینے سے گریز کیا۔
    ‎امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے تعلقات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خطے میں حالیہ کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور سفارتی رابطوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کے کردار کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور سفارتی تعاون کی حمایت کرتا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
    ‎عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جاری مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے کی شکل اختیار کرتے ہیں یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

  • 
قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کر دیا

    
قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کر دیا

    ‎وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اہم اجلاس میں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کو کم کرتے ہوئے 1126 ارب روپے سے گھٹا کر ایک ہزار ارب روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 126 ارب روپے کی کمی کی منظوری دی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود مالی وسائل اور مالیاتی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی اخراجات کو حقیقت پسندانہ سطح پر رکھا جا رہا ہے۔
    ‎اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چاروں صوبے اپنے مقامی وسائل سے مجموعی طور پر 1635 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو ملا کر ملک بھر میں متعدد اہم منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 605 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی، جبکہ سندھ حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 450 ارب روپے مختص کرے گی۔ خیبرپختونخوا نے 305 ارب روپے اور بلوچستان نے 275 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی وسائل کے علاوہ صوبوں کو بیرونی مالی معاونت اور ترقیاتی فنڈنگ کے ذریعے بھی اضافی وسائل حاصل ہوں گے، جنہیں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
    ‎اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دے گی تاکہ معاشی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی حکومت کی مالیاتی پالیسی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ دوسری جانب صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم برقرار رہنے سے مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
    ‎قومی اقتصادی کونسل کی منظوری کے بعد یہ اہداف اور ترقیاتی منصوبے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا اہم حصہ بنیں گے۔