وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ سے ممکن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جہاں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور ترقیاتی ترجیحات پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش اقتصادی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اکائیوں کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان موجود اتحاد اور باہمی اعتماد ہی پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ایک اہم کامیابی ہے اور اس سلسلے میں مزید اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔
اجلاس کے شرکاء نے خلیج کے خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھنے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ علاقائی امن اور اقتصادی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان نے اس حوالے سے متوازن کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر طبی سہولیات کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ بچوں کی صحت، غذائی کمی اور اسٹنٹنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ اور انسانی وسائل کی ترقی حکومت کے طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے صحت مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت ناگزیر ہے۔
Blog
-

وفاق اور صوبوں کا اتحاد ہی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم شہباز شریف
-

بیلفاسٹ میں چاقو حملے کے بعد تارکین وطن مخالف ہنگامے
شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک چاقو زنی کے واقعے کے بعد تارکین وطن کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے، جن کے دوران متعدد گاڑیوں، بسوں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث حکام نے شہر کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی جبکہ بس سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کشیدگی کا آغاز پیر کی شب پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ہوا، جس میں ایک سوڈانی پناہ گزین پر مقامی شہری کو چاقو مار کر شدید زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور پوسٹس تیزی سے وائرل ہوئیں، جس کے نتیجے میں عوامی غم و غصہ بڑھ گیا۔
مشتعل مظاہرین نے کئی علاقوں میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، جو بعد ازاں پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ ہنگاموں کے دوران ایک مسافر بس سمیت متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ بعض رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کچھ علاقوں میں گھروں پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی۔
شمالی آئرلینڈ کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے عوامی تحفظ کے پیش نظر تمام بس سروسز عارضی طور پر معطل کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ٹرانسپورٹ نظام بحال کیا جائے گا۔
سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک فرد پر لگنے والے الزام کی بنیاد پر پوری کمیونٹی کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں اور قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جانا چاہیے۔
پولیس نے واقعے اور بعد ازاں ہونے والے ہنگاموں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے مزید بدامنی روکنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ -

این ای سی نے 4 فیصد معاشی ترقی کا ہدف منظور کر لیا
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال کے لیے اہم معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملکی معیشت کی سمت، ترقیاتی ترجیحات اور بجٹ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد صنعتی پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 669 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس رقم میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ محدود مالی وسائل کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ داخلہ اور دفاع سے متعلق منصوبوں کے علاوہ کوئی نیا وفاقی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل اور اہم قومی منصوبوں کو دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران معیشت کی کارکردگی، مختلف شعبوں کی ترقی، محصولات، برآمدات، زرعی پیداوار اور دیگر معاشی اشاریوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق 4 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، تاہم ترقیاتی اخراجات، سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کے ذریعے اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ -

رانا ثنا اللہ کا کالعدم ایکشن کمیٹی پر تنقید، مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مسترد
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ جانتے ہوئے بھی 9 جون کے لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات 4 اگست سے پہلے کرانا آئینی تقاضا ہے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے اور مہاجرین کو وزارتی عہدے نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ مسئلہ صرف نشستوں کا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی بنیادی روح سے جڑا ہوا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی کرنے والی نشستیں ایک آئینی اور تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نشستوں کو ختم کرنا کشمیر کاز کے بنیادی مؤقف کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا، اسی لیے حکومت نے واضح طور پر ایسے مطالبات قبول کرنے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی معاملات کا حل جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم ایسے مطالبات جو آئینی ڈھانچے اور قومی مؤقف سے متصادم ہوں، ان پر حکومت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
مشیر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کشمیر کی نمائندگی پاکستان کے مؤقف کا اہم حصہ ہے اور ان کی سیاسی شمولیت کو محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر نشستوں کا معاملہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جبکہ حکومت اور مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ -

ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، خواتین پر فائرنگ
افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہو گئی۔ عینی شاہدین اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ طالبان پولیس نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جبکہ طبی ذرائع کے مطابق دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان حکام نے ہلاکتوں کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد خواتین کو مبینہ طور پر اسلامی لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور احتجاج کیا۔
طبی عملے کے ذرائع نے بتایا کہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے متعدد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بعض مظاہرین کے مطابق لاٹھیوں، کوڑوں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا جبکہ فضا میں فائرنگ بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور بعض خواتین کو چیختے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ہرات پولیس کے ترجمان سید مسعود حسینی نے ہلاکتوں کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی۔ ان کے مطابق بعض افراد حجاب کے معاملے کو بنیاد بنا کر کشیدگی پیدا کرنے اور عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران "تعلیم، کام، آزادی” کے نعرے بھی لگائے گئے، جو گزشتہ چند برسوں سے افغان خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکوں کا اہم شعار رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی آزادیوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا افغان خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ -

ایران تنازع اور تیل بحران، امریکا کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ
ایران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک توانائی کے بحران، مہنگائی اور معاشی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں امریکا اس صورتحال سے معاشی طور پر فائدہ اٹھانے والے بڑے ممالک میں شامل نظر آتا ہے۔
جنگ اور علاقائی تنازعات کے نتیجے میں عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار ہوئی، جس سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس صورتحال نے دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان کو غیر معمولی مالی فوائد پہنچائے، جن میں امریکا سرفہرست رہا۔
امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکی برآمدات 2.6 فیصد اضافے کے بعد 327.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ اسی عرصے میں امریکی تجارتی خسارہ کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر رہ گیا، جسے معاشی ماہرین ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس اضافے میں سب سے نمایاں کردار توانائی کے شعبے کا رہا۔ اپریل میں امریکی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مارچ میں یہ 27.6 ارب ڈالر تھیں۔ اس نمایاں اضافے کی وجہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ برآمدی حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ تھا۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے امریکی صنعتی مصنوعات کی فروخت کو بھی سہارا دیا۔ صنعتی سامان اور سپلائیز کی برآمدات 89 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں جبکہ پٹرولیم تجارتی سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 17.7 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام نے اگرچہ عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا کیے ہیں، تاہم امریکا نے بطور توانائی برآمد کنندہ اس صورتحال سے نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور برآمدات کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی اقتصادی نمو مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی تنازعات اور توانائی بحرانوں کے دوران کون سے ممالک معاشی نقصان اٹھاتے ہیں اور کون سے ممالک ان حالات سے مالی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ -

ٹرمپ کا ایران پر سخت بیان، مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے مذاکرات میں بہت زیادہ تاخیر کی اور اب اسے اس فیصلے کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کے بڑے حصے عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور انہیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی قیادت صرف بیانات دیتی ہے لیکن عملی اقدامات سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسے معاہدے پر بروقت مذاکرات کر سکتا تھا جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا، لیکن اس نے یہ موقع ضائع کر دیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے سفارتی حل کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے، تاہم ایران کی جانب سے تاخیر اور غیر یقینی رویے نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایران کو اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہیں، تاہم اس کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ دونوں بیانات نے امریکی پالیسی کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانا بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے قومی مفادات اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
خطے میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کے واقعات اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں ایسے بیانات مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔ -
اسلام آباد کے 42 نجی اسپتالوں میں مفت علاج ہوگا، وزیر صحت
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے-
بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد میں 42 نجی اسپتالوں کو بھی صحت پروگرام کا حصہ بنایا ہے تاکہ سرکاری اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے ان نجی اسپتالوں میں علاج کے تمام اخراجات حکومت بردا شت کرے گی یہ اقدام صحت سہولت پروگرام کا حصہ ہے، جسے کئی سال کی معطلی کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا ہے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے-
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مو جو دہ معاشی صورتحال میں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے اسلام آباد کی آبادی ساڑھے 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے آنے وا لے مریضوں کے باعث سرکاری اسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں رش اور سہولیات کے معیار سے متعلق شکایات بڑھ رہی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت کے شعبے پر 1156 ارب روپے خرچ کر رہی ہیں، لیکن مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے اس کے برعکس ایک حکومتی تحقیق کے مطابق نجی شعبے کے اشتراک سے 210 ارب روپے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں یونیور سل ہیلتھ کوریج مستقبل کی ضرورت ہے اور اگر نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو ملک کو طلب پوری کرنے کے لیے 5000 نئے اسپتال تعمیر کرنا ہوں گے۔
وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص علاج فراہم کرنے والے اسپتال کو فوری طور پر پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا انہوں نے پروگرام کی بحالی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی معیار کے صحت کے نظام کے قریب لے جانے میں مدد دے گا۔
-

ملک میں 11 سے 13 جون تک بارشوں ،گرد آلود طوفان اور ژالہ باری کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں 11 سے 13 جون کے دوران گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں، بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی موسم کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 11 جون کو ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا ایک سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے جو 13 جون تک برقرار رہے گا، جبکہ اسی دوران بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں بھی ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی اس موسمی نظام کے زیر اثر اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے گرد آلود طوفان، تیز ہوائیں اور بارش و گرج چمک کے ساتھ بعض مقامات پر شدید بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔شمال مشرقی بلوچستان میں بھی بارش اور گرج چمک کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بالائی سندھ میں اس دوران گرد آلود طوفان اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید ہوائیں، ژالہ باری اور بجلی گرنے کے واقعات کمزور ڈھانچوں، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں شدید بارش شہری علاقوں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
پی ایم ڈی نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں، جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
-

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید
پاک فوج کا ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب ٹیک آف کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام اہلکار شہید ہو گئے-
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثہ آج اس وقت پیش آیا جب آرمی ایوی ایشن کا Mi-17 ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران ٹیک آف کر رہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے باعث کنٹرول برقرار نہ رہ سکا اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا،حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم تمام اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے، واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
پاک فوج کے سربراہ (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CDF) سمیت تمام رینکس نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔