Baaghi TV

Blog

  • حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    اقتدارپرقابض طالبان رجیم نےقانون اورانصاف کو پس پشت ڈال کراپنےہی شہریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے افغان میڈیا اورسوشل میڈیاپروائرل ویڈیوز نےطالبان رجیم کی دہشتگردی اورانتہا پسندی کوبےنقاب کردیا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق صوبہ ہرات میں طالبان فورسزنےرجیم کےمظالم کیخلاف احتجاج کرنےوالےمظاہرین پرسیدھی گولیاں چلا دیں، جہاں طالبان فورسزکی اندھادھند فائرنگ سےایک شخص ہلاک اور22 افراد شدید زخمی ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق ہرات میں احتجاج حالیہ دنوں میں طالبان رجیم کی جانب سےخواتین کی گرفتاریوں کیخلاف کیاجارہا تھا ۔ کشیدگی بڑھنے پر قابض طالبان رجیم نےاحتجاج کو دبانے کے لیے علاقے میں اضافی نفری بھیج دی ہے سوشل میڈیا پروائرل ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہےکہ طالبان اہلکارافغان شہریوں کو تلاشی کے نام پرہراساں کررہےہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شریعت کا لبادہ اوڑھےطالبان رجیم اپنےحق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کوبندوق کےزورپردبانےکی ناکام کوشش کررہی ہے ہرات کی سڑکوں پربہتا معصوم شہریوں کاخون افغان طالبان رجیم کےظلم وجبرکے خاتمےکاپیش خیمہ ثابت ہوگا۔

  • اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔

  • امریکا کی ایران پر بمباری، جواباً امریکی بحری بیڑے پر ایرانی ڈرون حملہ

    امریکا کی ایران پر بمباری، جواباً امریکی بحری بیڑے پر ایرانی ڈرون حملہ

    امریکی افواج نے اپنے جدید ترین اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران پر رات گئے شدید فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں جس کے جواب میں ایران نے بھی بحرین میں امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کی جانے والی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف یہ دفاعی حملے امریکی صدر کی ہدایت پر اپنے دفاع میں کیے۔

    سینٹرل کمانڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ مشن ایران کے خلاف بلااشتعال متناسب ردعمل ہے اور اب یہ فضائی حملے مکمل کر لیے گئے ہیں، ان حملوں میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ایرانی اور روسی میڈیا کے مطابق ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، ساحلی شہر سیریک، بندر عباس اور ایرانی جزیرے قشم سمیت آبنائے ہرمز کے ارد گرد چھ دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے سیریک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا ہے اور دو واٹر ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں، تاہم اب جنوبی ایران میں صورتحال اطمینان بخش ہے۔

    دوسری جانب ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا فوری اور سخت جواب دیا ہے ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جنوبی ایران میں امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے اور ہم نے خطے میں بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس جوابی کارروائی کے تحت ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ یعنی پانچویں بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ عرب اور روسی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ایم کیو نائن ڈرون بھی تباہ کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے واشنگٹن کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو اس کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اس سنگین فوجی ٹکراؤ کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حیران کن طور پر سفارتی دروازے اب بھی کھلے دکھائی دے رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمارا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا اور ہم نے اس کا جواب دیا جو بہت مضبوط اور طاقتور ہے، ایران کو جواب دینا بہت ضروری تھا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان تازہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری امن ڈیل پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کے معاملے پر ابھی کچھ نہیں بدلا اور ایران سے ڈیل اب بھی قریب ہے۔

    اسی سلسلے میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران سے ڈیل اگلے ہفتے ممکن ہے، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے اس میں کئی ماہ بھی لگ جائیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران سے معاہدے پر دو سے تین دن میں دستخط ہو سکتے ہیں اس کے برعکس، ایرانی قیادت نے امریکی حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

  • چیف سیکرٹری پنجاب کے لان پر اخراجات کی خبر، این سی سی آئی اے کے نوٹس،چینل کی معافی

    چیف سیکرٹری پنجاب کے لان پر اخراجات کی خبر، این سی سی آئی اے کے نوٹس،چینل کی معافی

    چیف سیکرٹری پنجاب کی رہائش گاہ کے لان پر مبینہ طور پر 22 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کی خبر کے معاملے پر این سی سی آئی اے نے نجی ٹی وی کے رپورٹر، اینکر اور تجزیہ کار کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    این سی سی آئی اے نے ہیڈ آف انویسٹی گیشن سیل، پبلک نیوز،انور حسین سمرا،سینئر اینکر پرسن، پبلک نیوز،سلمان حیدر،تجزیہ کارارشاد بھٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 جون کو طلب کیا ہے،

    پبلک نیوز پر نشر ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر بیوروکریٹس کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ اس خبر کے بعد پبلک نیوز نے چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر متعلقہ افسران سے غیر مشروط معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خبرنشر کرنے میں غلطی ہوئی۔

    یاد رہے کہ پبلک نیوز پر خبر چلنے کے بعد ارشاد بھٹی نے اس پر وی لاگ کیا تھا ،

    قبل ازیں حکومت پنجاب کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ویلاگر ارشاد بھٹی کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب سے متعلق اپنے وی لاگ (Vlog) میں لگائے گئے الزامات یکسر بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔عوام کو گمراہ کرنے اور بغیر تصدیق کے من گھڑت افواہیں پھیلانا قانوناً جرم ہے۔ پاکستان کے پیکا ایکٹ (**PECA**) اور قانونِ ہتکِ عزت (Defamation Law)** کے تحت کسی بھی شہری یا سرکاری عہدیدار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی خبریں پھیلانا اور بغیر ثبوت الزامات لگانا قانوناً جرم ہے۔ مرتکب شخص سخت سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرتا ہے۔حکومتِ پنجاب اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ارشاد بھٹی کو اب اپنے وی لاگ میں کیے گئے دعووں اور الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا، جس کے لیے حکومتِ پنجاب قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

  • گوگل نے NotebookLM کو جدید اے آئی صلاحیتوں سے اپ گریڈ کر دیا

    گوگل نے NotebookLM کو جدید اے آئی صلاحیتوں سے اپ گریڈ کر دیا

    ‎گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی نوٹ بک ٹول NotebookLM میں بڑی اپ گریڈ متعارف کروا دی ہے، جس کے بعد یہ صرف ایک ریسرچ اسسٹنٹ نہیں رہا بلکہ کوڈنگ، ڈیٹا تجزیے اور دستاویزات کی تیاری جیسے پیچیدہ کام بھی انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
    ‎کمپنی کے مطابق NotebookLM کو اب Gemini 3.5 ماڈل سے تقویت دی گئی ہے، جبکہ اس میں گوگل کا جدید Antigravity کوڈنگ ماڈل بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین نہ صرف کوڈ لکھ سکیں گے بلکہ اسے براہ راست چلانے اور نتائج حاصل کرنے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔
    ‎گوگل کا کہنا ہے کہ ہر نوٹ بک ایک مخصوص کلاؤڈ بیسڈ ماحول میں کام کرے گی جہاں کوڈ ایگزیکیوشن سمیت مختلف جدید فیچرز دستیاب ہوں گے۔ اس نظام میں 100 سے زائد بلٹ اِن سافٹ ویئر مہارتیں شامل کی گئی ہیں، جو مختلف پیشہ ورانہ اور تحقیقی کاموں کو زیادہ آسان اور مؤثر بنائیں گی۔
    ‎جدید اپ گریڈ کے بعد NotebookLM صارفین کو تحقیقی مواد کا تجزیہ کرنے، پروگرامنگ سے متعلق مسائل حل کرنے، ڈیٹا پروسیسنگ، رپورٹس تیار کرنے اور مختلف فارمیٹس میں دستاویزات تخلیق کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی گوگل کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو روزمرہ کے پیشہ ورانہ ورک فلو کا مرکزی حصہ بنایا جا رہا ہے۔
    ‎ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ NotebookLM کی نئی صلاحیتیں اسے محض معلومات جمع کرنے والے ٹول سے ایک مکمل پیداواری پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر طلبہ، محققین، پروگرامرز اور کاروباری صارفین کے لیے یہ اپ ڈیٹ نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔
    ‎مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے درمیان گوگل کی یہ پیش رفت OpenAI، Microsoft اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ نئی اپ گریڈ سے NotebookLM کو اے آئی پر مبنی تحقیق، تجزیے اور خودکار ورک فلو کے میدان میں ایک مضبوط مقام حاصل ہونے کی توقع ہے۔

  • 
فوجداری قوانین میں بڑی اصلاحات، 55 دفعات میں ترامیم کا فیصلہ

    
فوجداری قوانین میں بڑی اصلاحات، 55 دفعات میں ترامیم کا فیصلہ

    ‎وفاقی حکومت نے پاکستان کے فوجداری قوانین کو جدید دور کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق فوجداری ضابطہ کار (سی آر پی سی) کی 55 دفعات میں ترامیم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جن کا مقصد عدالتی اور تفتیشی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید بنانا ہے۔
    ‎وزیر قانون نے کہا کہ پرانے قوانین اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ معاشرتی، قانونی اور تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر قوانین میں بہتری اور اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدالتی نظام اور تفتیشی طریقہ کار کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
    ‎اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ 1971 اور 1991 کے بعد پہلی مرتبہ فوجداری قوانین میں اس نوعیت کی وسیع اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ تین برسوں سے ماہرین قانون، متعلقہ اداروں اور حکومتی حلقوں کی مشاورت سے ان ترامیم پر مسلسل کام جاری تھا۔
    ‎وزیر قانون کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز، مؤثر اور جدید بنانا ہے۔ نئے قانونی فریم ورک میں ڈیجیٹل شواہد، جدید تفتیشی ٹیکنالوجی اور بدلتے جرائم کے رجحانات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ نظام انصاف موجودہ دور کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
    ‎انہوں نے پارلیمانی مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم پر تفصیلی بحث ضروری ہے۔ ان کے مطابق کم از کم چار روز تک مسلسل غور و خوض اور مشاورت درکار ہوگی تاکہ تمام قانونی، آئینی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک جامع اور مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہوئیں تو عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم کرنے، تفتیشی نظام کو بہتر بنانے اور جدید جرائم سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل مزید مضبوط ہوگا۔

  • 
ایران نے اسرائیل کے خلاف جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے

    
ایران نے اسرائیل کے خلاف جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے

    ‎ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران نے اسرائیل کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں میں تین مختلف اقسام کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جن میں خیبر شکن اور حاج قاسم میزائلوں کے جدید ورژن بھی شامل تھے۔ ان میزائلوں کے استعمال نے خطے میں فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہرین کی جانب سے کیے گئے تکنیکی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ خیبر شکن اور حاج قاسم میزائل بنیادی ساخت، ظاہری ڈیزائن اور بعض تکنیکی خصوصیات میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم ان کے آپریشنل طریقہ کار اور ہدف تک پہنچنے کی حکمت عملی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق خیبر شکن میزائل کو انتہائی بلندی پر پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میزائل بلند فضائی راستہ اختیار کرتے ہوئے تیز رفتار سے اپنے ہدف کی جانب بڑھتا ہے اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے یا انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎دوسری جانب حاج قاسم میزائل نسبتاً کم بلندی پر سفر کرتا ہے، جس کے باعث اسے ریڈار پر شناخت کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم بلندی پر پرواز کی وجہ سے یہ میزائل دشمن کے نگرانی کے نظام سے بچنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ درستگی کے اعتبار سے حاج قاسم میزائل کو زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے اس کا ایک جدید ورژن ’’قاسم بصیر‘‘ بھی تیار کیا ہے، جس میں ہدف شناسی کی جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔
    ‎قاسم بصیر میزائل میں وارہیڈ کے ساتھ جدید آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو دورانِ پرواز ہدف کی مسلسل نگرانی اور انتہائی درست نشاندہی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میزائل کی ہدف پر لگنے کی شرح اور آپریشنل مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی کی یہ پیش رفت خطے میں اسٹریٹجک توازن اور دفاعی حکمت عملیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے ہتھیاروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

  • ‎خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک

    ‎خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک

    ‎بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 14 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد کی گئی۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد مبینہ طور پر بھارت کی حمایت یافتہ تنظیم ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے وابستہ تھے اور علاقے میں پولیس اسٹیشنوں اور بینکوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
    ‎بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں روکا گیا اور شدید کارروائی کے نتیجے میں 14 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر استعمال چار گاڑیاں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈیز) بھی تباہ کر دیا۔
    ‎آپریشن کے دوران وطن کے بہادر سپوت لانس حوالدار محمد عباس نے فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شہید جوان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
    ‎فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کو فرار ہونے یا دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش میں بھی مصروف ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔ بیان کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز شدت پسند عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

  • 
گوجر خان میں شوہر پر تیزاب حملہ، بیوی گرفتار

    
گوجر خان میں شوہر پر تیزاب حملہ، بیوی گرفتار

    ‎راولپنڈی کے علاقے گوجر خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو موقع سے گرفتار کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کی شناخت کامران حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو طلاق کے معاملے میں یونین کونسل آفس پہنچا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاتون بھی وہاں موجود تھی اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد جب کامران حسین دفتر سے باہر نکلا تو اس پر تیزاب پھینک دیا گیا۔
    ‎واقعے کے بعد متاثرہ شخص کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹرز اس کے علاج میں مصروف ہیں۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے گھریلو تنازعات اور اختلافات چل رہے تھے۔ پولیس کے مطابق بظاہر یہی تنازعات اس افسوسناک واقعے کا سبب بنے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین جاری ہے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد، بیانات اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق تیزاب گردی ایک سنگین جرم ہے جس کے متاثرین کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گھریلو تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مشاورتی نظام کو فروغ دیا جائے۔

  • 
پاکستان کی آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس وصولیوں کی یقین دہانی

    
پاکستان کی آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس وصولیوں کی یقین دہانی

    ‎پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران محصولات میں مزید اضافہ اور ٹیکس اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانا اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف کو پورا کرنا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق حکومت نئے ٹیکس اقدامات اور اصلاحات کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.3 فیصد کے برابر اضافی آمدن حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات میں کمی کر کے جی ڈی پی کے 0.15 فیصد کے مساوی اضافی محصولات جمع کیے جائیں گے۔
    ‎دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری ٹرانسفارمیشن پلان سے بھی جی ڈی پی کے 0.15 فیصد کے برابر اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات اور وصولیوں کے مؤثر نظام کے ذریعے محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے۔
    ‎آئی ایم ایف نے دسمبر 2026 تک ایف بی آر کے لیے 7 ہزار 22 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت باقاعدہ کارکردگی کے معیار کا درجہ دیا جائے گا، جس کی بنیاد پر پاکستان کی مالیاتی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎دستاویزات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر آئندہ بجٹ میں کسی شعبے کو ٹیکس ریلیف دیا جاتا ہے تو اس سے ہونے والے ریونیو نقصان کا ازالہ نئے ٹیکس اقدامات یا دیگر ذرائع سے کیا جائے گا تاکہ مجموعی محصولات کے اہداف متاثر نہ ہوں۔
    ‎حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں اضافے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے ایک جانب حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسری جانب کاروباری برادری اور عوام پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث رہیں گے۔