Baaghi TV

Blog

  • 22 سالہ لڑکی  54 سالہ باس  پر فدا، والدہ پریشان

    22 سالہ لڑکی 54 سالہ باس پر فدا، والدہ پریشان

    نیویارک: ایک 22 سالہ نوجوان خاتون کے اپنے 54 سالہ باس کے ساتھ مبینہ خفیہ تعلقات نے اس کی والدہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    امریکی مشاورتی کالم "ڈیئر ایبی” میں شائع ہونے والے ایک خط میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کی بیٹی "کیٹ” حال ہی میں کالج سے فارغ التحصیل ہوئی ہے اور گزشتہ پانچ برس سے ایک نوجوان کے ساتھ تعلق میں ہے۔ والدہ کے مطابق وہ اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کو اپنے بیٹے کی طرح عزیز سمجھتی ہیں۔خاتون نے انکشاف کیا کہ اسے حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ اس کی بیٹی اپنے دیرینہ بوائے فرینڈ کے علاوہ ایک اور شخص سے بھی تعلق رکھتی ہے، جو اس کا 54 سالہ باس ہے۔ یہ معلومات اسے اپنی بڑی بیٹی سے حاصل ہوئیں، جس نے اسے اس راز کو کسی سے نہ بتانے کا پابند بنایا ہے۔والدہ نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ اس صورتحال سے شدید نفرت اور مایوسی محسوس کر رہی ہیں، لیکن اگر وہ اس معاملے پر بات کرتی ہیں تو دو بہنوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں "ڈیئر ایبی” نے مشورہ دیا کہ والدہ کو فی الحال معاملے سے دور رہنا چاہیے اور وقت کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ مشاورتی کالم کے مطابق حقیقت بالآخر سامنے آ جائے گی، چاہے باس کی اہلیہ کو اس تعلق کا علم ہو جائے یا پھر لڑکی کا بوائے فرینڈ اس حقیقت سے آگاہ ہو کر تعلق ختم کر دے۔کالم میں کہا گیا کہ بعض اوقات افراد کو زندگی کے اہم اسباق سخت تجربات کے ذریعے سیکھنے پڑتے ہیں اور اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آیا، جہاں کئی صارفین نے عمر کے بڑے فرق، دفتری تعلقات اور وفاداری کے مسائل پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ تاہم اس معاملے میں شامل افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئی اور دعووں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

  • گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں،نیویارک میں ڈیٹنگ کا نیارجحان

    گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں،نیویارک میں ڈیٹنگ کا نیارجحان

    نیویارک میں ڈیٹنگ کے نئے رجحان نے مردوں اور خواتین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں سوشل میڈیا پر "نو رائیڈ، نو ڈیٹ” (گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں) کا مطالبہ شدید تنازع کا سبب بن گیا ہے۔

    امریکی شہر نیویارک کی معروف لائف اسٹائل انفلوئنسر سوانا پگنوزی نے ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ اگر کوئی مرد پہلی ملاقات سے قبل خاتون کو لینے کے لیے گاڑی یا کار سروس کی پیشکش نہ کرے تو وہ اس کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں جاتیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔سوانا پگنوزی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ یہ ان کا بنیادی اصول ہے کہ مرد کم از کم گاڑی بھیجنے کی پیشکش ضرور کرے، چاہے خاتون اسے قبول کرے یا نہ کرے۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہ کیا جائے تو ملاقات منسوخ کر دی جاتی ہے۔

    انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص سے ملاقات کے بعد دونوں نے ڈیٹ کا پروگرام بنایا تھا، تاہم بارش والی شام میں اس شخص نے انہیں لینے کے لیے گاڑی بھیجنے یا انتظام کرنے کی پیشکش نہیں کی، جس پر انہوں نے ملاقات منسوخ کر دی۔ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین نے اس پر ردعمل دیا۔ متعدد مرد صارفین نے اس مطالبے کو غیر ضروری، غیر حقیقی اور "حق سمجھنے والی سوچ” قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر مرد پہلے ہی کھانے اور دیگر اخراجات برداشت کر رہا ہے تو گاڑی کا اضافی مطالبہ مناسب نہیں۔

    ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ "اچھے مرد ایسے رویے کو برداشت نہیں کریں گے”، جبکہ دوسرے نے لکھا کہ "آخر مرد آپ کو گاڑی کیوں فراہم کرے؟ کیا مرد صرف اے ٹی ایم ہیں جو ہر چیز کی ادائیگی کریں؟”

    کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ "کیا آپ شہزادی ڈیانا ہیں کہ آپ کے لیے خصوصی گاڑی بھیجی جائے؟” جبکہ بعض خواتین نے بھی اس سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرد سے ہر چیز کی توقع رکھنا درست نہیں۔تاہم دوسری جانب کئی خواتین نے سوانا کی حمایت بھی کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ نیویارک جیسے بڑے شہر میں خاص طور پر رات یا خراب موسم کے دوران خواتین کی سہولت اور تحفظ کے لیے مرد کو گاڑی کا انتظام کرنا چاہیے۔سوشل میڈیا پر کئی خواتین نے لکھا کہ جب وہ نیویارک میں رہتی تھیں تو ان کا بھی یہی اصول تھا کہ اگر مرد گاڑی کا بندوبست نہ کرے تو وہ ملاقات قبول نہیں کرتیں۔ بعض خواتین نے یہ بھی کہا کہ کچھ مرد ڈیٹ کے بعد واپسی کے لیے بھی ٹیکسی یا رائیڈ کا انتظام نہیں کرتے، جبکہ سنجیدہ اور خیال رکھنے والے مرد خواتین کو اپنی رائیڈ شیئرنگ ایپ کے اکاؤنٹ میں شامل تک کر لیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل جدید ڈیٹنگ کلچر میں مرد اور خواتین کی مختلف توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریستوران کے بل 50-50 تقسیم کرنے، پہلی ملاقات کے اخراجات اور ڈیٹ سے قبل تصدیقی پیغامات جیسے موضوعات بھی شدید بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری اس نئی بحث نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جدید تعلقات میں شائستگی، احترام اور مالی ذمہ داریوں کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں، اور کیا ڈیٹنگ کے دوران خصوصی سہولیات کی توقع مناسب ہے یا نہیں۔

  • جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں واقع جھیل نیل فیری، جسے نیل فری بھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنی دلکشی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل سرسبز گھاس زاروں، ٹھنڈی ہواؤں اور دل موہ لینے والے مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں سے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں اور وادی کیرن کے سحر انگیز نظارے دیکھنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

    تاہم اس بے مثال خوبصورتی تک پہنچنے کا سفر ابھی بھی خاصا دشوار اور بعض مقامات پر خطرناک ہے۔ سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بیریئرز کی کمی اور دشوار گزار راستے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان سڑکوں کی بہتری، کناروں پر مضبوط حفاظتی بیریئرز کی تنصیب اور راستوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائے تو یہ سفر زیادہ محفوظ اور پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    اسی طرح سیاحوں کے لیے ریسٹ ہاؤسز، واش رومز، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اس علاقے کی کشش میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ چونکہ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کا ایک حصہ جیپوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر حکومت یا متعلقہ ادارے منظم جیپ سروس، پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں تو نہ صرف سیاحوں کو آسانی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سیاحت کسی بھی علاقے کی معیشت میں جان ڈال سکتی ہے۔ نیل فیری جیسے قدرتی خزانوں پر توجہ دے کر نہ صرف آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ قدرت کے حسن سے مالا مال ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے بہتر منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ خوابیدہ جنت حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مرکز بن سکے۔

  • آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے متبادل ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔حکومتی اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ تنظیم امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے، ریاست میں انتشار پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنظیم پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے الزامات بھی ہیں۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم اور اس کے تمام متبادل ناموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم سڑکیں بند کرنے اور معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • 
لاہور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    
لاہور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    ‎لاہور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہو کر گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکوں نے چند لمحوں کے لیے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
    ‎نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (این ایس ایم سی) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کشمیر کا علاقہ قرار دیا گیا۔
    ‎زلزلے کے جھٹکے لاہور کے مختلف علاقوں کے علاوہ گردونواح کے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ عمارتوں میں لرزش محسوس ہوئی، جس کے بعد احتیاطاً لوگ کھلی جگہوں پر منتقل ہو گئے۔
    ‎حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ متعلقہ ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان زلزلوں کے حوالے سے حساس خطے میں واقع ہے کیونکہ یہ بھارتی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے۔ بھارتی پلیٹ مسلسل شمال کی جانب یوریشین پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں زلزلوں کی سرگرمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
    ‎پاکستان ماضی میں کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔ 2005 میں آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں 2021 کے زلزلے نے بھی جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
    ‎ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں اکثر مشکل ہو جاتی ہیں، اس لیے پیشگی تیاری اور عوامی آگاہی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ زلزلے کی صورت میں حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور غیر مصدقہ افواہوں سے گریز کریں۔

  • حکومت نے پیٹرول سستا کردیا: جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار

    حکومت نے پیٹرول سستا کردیا: جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار

    ‎حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی، تاہم ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی مالیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
    ‎دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق بعض دور دراز علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ کئی شہروں اور قصبوں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی محدود ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جبکہ متعدد مقامات پر پمپس عارضی طور پر بند بھی ہو چکے ہیں۔
    ‎مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت صرف سفری مشکلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
    ‎شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے غیر قانونی منافع کمانے والوں کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے، تاہم بلوچستان میں جاری قلت اور مہنگے داموں فروخت ہونے والا ایندھن اس ریلیف کے اثرات کو محدود کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بہتری اور موثر نگرانی کے ذریعے ہی صورتحال کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔

  • 
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    ‎پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
    ‎اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے فروغ کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎دفتر خارجہ کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق یعنی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎بیان میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کو رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

  • 
مشرقِ وسطیٰ جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار

    
مشرقِ وسطیٰ جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار

    ‎اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں مزید افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق جنگ کے اثرات صرف تنازع والے علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور سپلائی چین کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
    ‎ڈبلیو ایف پی کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے نے خوراک کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار مالی وسائل کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امدادی تنظیمیں محدود وسائل کے باعث اپنی امدادی کارروائیوں میں کمی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر کمزور اور غریب آبادیوں پر پڑ رہا ہے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج فارس میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں کئی بحری جہازوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے، جس سے سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں تاخیر پیدا ہوئی۔
    ‎ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان، صومالیہ اور سری لنکا ان ممالک میں شامل ہیں جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایندھن کے مہنگے ہونے، آمدنی میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
    ‎ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں تقریباً 6.5 ملین افراد، جو ملک کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہیں، 2026 تک شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں 17.4 ملین افراد خوراک کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں ختم نہ ہوئیں تو صومالیہ میں مزید 2.5 ملین جبکہ افغانستان میں مزید 2.3 ملین افراد شدید بھوک اور غذائی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک خوراک اور توانائی کی درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ان کے لیے سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری سے فوری امدادی اقدامات اور مالی تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ لاکھوں جانوں کو بھوک اور غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔

  • 
ٹرمپ کا اعتراف، ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں

    
ٹرمپ کا اعتراف، ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں ہے اور اسے ایک آسان یا فوری تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے صورتحال پیچیدہ ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی نوعیت واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ واشنگٹن کی بنیادی پالیسی رہے گی۔
    ‎ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران سے جوہری مواد نکال سکتا ہے، تاہم ان کے بقول اس وقت ایسا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے بھی معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
    ‎امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور اسے جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے امکان کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ذاتی خواہش ایسی ملاقات کی نہیں، تاہم اگر کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات ضروری ہوئی تو وہ اسے اعزاز سمجھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کا مقصد تنازعات کا حل اور استحکام کا فروغ ہونا چاہیے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو اہمیت دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک اہم اختلافی نکات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں کمی اور استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
    ‎عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
غازی آباد میں مدرسہ مسمار، دو افراد گرفتار

    
غازی آباد میں مدرسہ مسمار، دو افراد گرفتار

    ‎بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے، جہاں اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایک مدرسے کو مسمار کیے جانے اور دو افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر مختلف ردعمل کو جنم دیا ہے اور مذہبی آزادی و اقلیتی حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مدرسہ سرکاری زمین پر قائم کیا گیا تھا، جس کے باعث کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ زمین سے متعلق قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔
    ‎دوسری جانب مدرسے کی انتظامیہ نے انتظامیہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ سن 2000 سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کے پاس تمام ضروری قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ مدرسہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارے کے خلاف کارروائی غیر ضروری اور قابل اعتراض ہے۔
    ‎اس واقعے کے بعد مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک ہندو تنظیم کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد تعلیمی اور مذہبی حلقوں میں مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں مذہبی اور اقلیتی امور سے متعلق واقعات اکثر قومی سطح پر توجہ حاصل کرتے ہیں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف قانونی عمل اور تمام فریقوں کے حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
    ‎فی الحال واقعے سے متعلق مختلف دعوے اور مؤقف سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔