Baaghi TV

Blog

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    ڈیجیٹل یوتھ موومنٹ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کی بھارت آمد اور مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے شہر بھر میں خصوصاً جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف پُرامن احتجاج ہونے جا رہا ہے جس کی قیادت کرنے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے بھی بھارت پہنچ چکے ہیں

    رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقا م پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی، یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔

    ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج کے دوران دارا لحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔

    بھارتی پولیس حکام کے مطابق مرکزی دہلی اور جنتر منتر کے گرد ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اہم مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے والے تمام مرکزی راستوں پر کئی سطحوں پر بھاری بیریکیڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے داخلے کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینئر پولیس افسران مقام کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ممکنہ ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا رہی ہے،دہلی پولیس نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت ڈرون یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں جو نئی دہلی میں ہجوم کی تعداد، طلبہ کے اجتما عات اور نقل و حرکت کے انداز کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے تمام طلبہ حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں، کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، قومی پرچم (ترنگا) اپنے ساتھ رکھیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں۔

    حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

    یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

  • ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    امریکا کی جانب سےساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

    سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا، ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

    کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

    اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا، کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

    ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے،اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  • محسن نقوی  کی  پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    محسن نقوی کی پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    بشکیک: وزیر داخلہ محسن نقوی نے روس سمیت پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں کیں-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستا ن کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی وطن واپسی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں، دہشت گردوں کے کیمپوں اور منشیات کی پیداوار سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی سرگرمیاں پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

    ازبکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل عزیز تاشپولاتوف کے ساتھ ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر غور کیا گیا، جبکہ دونوں وزارتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    کرغزستان کے وزیر داخلہ نیاز بیکوف اولان اوموکانوچ کے ساتھ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا محسن نقوی نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ایس سی او اجلاس کے بہترین انتظامات پر اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    قازقستان کے وزیر داخلہ یرژان سادینوف کے ساتھ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وزارت داخلہ کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

    ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے طالبان رجیم کی ناکام اور سخت پالیسیوں کے باعث ملک سیاسی، اقتصادی اور انسانی مسائل کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے ملک کی تقریباً آدھی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے طالبان رجیم کے دوران 400 سے زائد صحت کے ادارے بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہو گئے ہیں افغا نستا ن عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کے آدھے حصے کو عملی طور پر نظام سے باہر کر دیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچہ، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے افغانستان ایک دہشت گرد گروہ کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

  • امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    تربیتی مشق کے دوران امریکا کی اربوں ڈالر مالیت کی دفاعی کمپنی شیلڈ اے آئی کے فوجی ڈرون سے پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں رومانیہ کی بحریہ کی خاتون اہلکار دو انگلیاں گنوا بیٹھی۔

    رائٹرز کے مطابق 12 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحل کے قریب ایک کشتی پر ہونے والی تربیتی مشق کے دوران رومانیہ کی بحریہ کی ایک خاتون اہلکار کا ہاتھ شیلڈ اے آئی کے وی-بیٹ ڈرون کے پروپیلر میں پھنس گیا۔

    رومانیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق حادثے میں اہلکار کی دو انگلیاں جسم سے الگ ہوگئیں جبکہ تیسری انگلی فریکچر ہوگئی زخمی اہلکار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انگلیاں دوبارہ جوڑنے کے لیے دو آپریشن کیے گئے، تاہم بعد میں ان کی حالت مزید خراب ہونے پر انہیں میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں رائٹرز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران وی-بیٹ ڈرون 50 سے زائد مرتبہ حادثات کا شکار ہو چکا ہے سابق ملازمین، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کئی برسوں سے تکنیکی خرابیوں اور حفاظتی مسائل سے دوچار ہے بعض سابق ملازمین کا الزام ہے کہ جن افراد نے حفاظتی خدشات اٹھائے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک موقع پر شیلڈ اے آئی کے ایک ملازم اور اس کے بچے کو لے جانے والا سیسنا طیارہ وی-بیٹ ڈرون سے ممکنہ فضائی تصادم سے بچنے کے لیے ہنگامی کارروائی پر مجبور ہوگیا تھاشیلڈ اے آئی نے اپنے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کے وی-بیٹ ڈرون کی بعض تکنیکی خامیوں کو چھپایا تاکہ فوجی معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی ہے۔

    کمپنی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حفاظتی ریکارڈ مضبوط ہے اور وی-بیٹ آج بھی اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ آزمودہ ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کے مطابق 2019 سے اب تک یہ ڈرون 18 ہزار گھنٹے سے زائد پروازیں کر چکا ہےرومانیہ کی اہلکار کے زخمی ہونے کا واقعہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث نہیں بلکہ مقررہ حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آیا۔

    واضح رہے کہ شیلڈ اے آئی نے 2021 میں مارٹن یو اے وی نامی کمپنی خریدنے کے بعد وی-بیٹ ڈرون پروگرام حاصل کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہونے والے سرمایہ کاری کے ایک دور کے بعد کمپنی کی مالیت 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد اسے سلیکون ویلی کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ایرانے کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادا ت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    انٹرویو میں ان کا کہنا تھا اگر امریکا ایران کےخلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کےمنجمد اثاثے بحال کرےتو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے،اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گےایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہےایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

    بعد ازاں ایک اور موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہےایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • ایران نے خامنہ ای اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان مسترد کر دیا

    ایران نے خامنہ ای اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان مسترد کر دیا

    ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے،تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی پر ہے۔

    سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اگر امریکہ سفارتی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایرانی اثاثے آزاد کرنے ہوں گے۔محسن رضائی کے مطابق ایران تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کی مرحلہ وار رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ایران کی اپنی ہے اور اسے واپس کرنا امریکہ کے لیے کسی جنگ کے مقابلے میں کہیں کم قیمت کا اقدام ہوگا۔انہوں نے کہا، "یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکہ کا نہیں۔ مذاکرات کی لاگت امریکہ کے لیے ہم سے جنگ کرنے کی لاگت سے کہیں کم ہے۔”

    رضائی نے زور دیا کہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول، "گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی دباؤ اور کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات اہم بین الاقوامی بحری راستوں تک پھیل سکتے ہیں، جن میں بحرِ ہند، بحیرہ احمر، باب المندب اور بحیرہ روم شامل ہیں۔محسن رضائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے درمیان ملاقات "ہرگز نہیں ہوگی”۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ٹرمپ کی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ مستقبل میں کسی وقت خامنہ ای سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ پر مشترکہ خودمختاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس راستے کی دیکھ بھال کا تمام بوجھ صرف ایران پر نہیں ڈالا جا سکتا اور دونوں ممالک کو مل کر اس کا انتظام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور امریکہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران کی زمینی افواج ایسی صلاحیتوں کی حامل ہیں جو اس کے میزائل پروگرام سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔محسن رضائی نے جاری کشیدگی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 47 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایران کسی جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے۔

  • مودی سرکار تو گئی،بھارت کے نوجوانوں کا غصہ عروج پر

    مودی سرکار تو گئی،بھارت کے نوجوانوں کا غصہ عروج پر

    بھارت میں امتحانی اسکینڈلز، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور محدود تعلیمی و روزگار مواقع کے خلاف نوجوانوں کا غصہ کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظام میں جوابدہی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ایک نئی سیاسی و سماجی تحریک نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

    اس تحریک کی قیادت 30 سالہ بھارتی نوجوان ابھیجیت دیپکے کر رہے ہیں، جو بوسٹن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کے بانی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ سے واپس نئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور اس ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت میں ایک بڑے احتجاج کی قیادت کریں گے۔دیپکے نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ ہے کہ انہیں ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا، "یہ ملک صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ہے۔ ہمارے مستقبل کا سوال ہے اور ہمارا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔”

    بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے ہونے والے مقابلہ جاتی امتحانات طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔حال ہی میں بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شریک 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب مبینہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد امتحان کے نتائج منسوخ کر دیے گئے۔ اس فیصلے نے نوجوانوں کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔
    24 سالہ طالبہ ویرونیکا مدن نے بتایا کہ انہوں نے دو سال تک میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کی تیاری کی، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ امتحان کا دباؤ صرف امتحان کے دن نہیں بلکہ کئی ماہ اور بعض اوقات کئی برس پہلے سے شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا، "ہمیں ہر قیمت پر کامیابی حاصل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے خاندان اور خود کو مایوس کرنے کا خوف ہر وقت موجود رہتا ہے۔”مدن کے مطابق اگرچہ وہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل نہ کر سکیں، لیکن اب فرانزک سائنس میں ماسٹرز کر رہی ہیں اور اس ناکامی کو نئی سمت قرار دیتی ہیں۔

    بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے جہاں تقریباً 1.4 ارب افراد رہتے ہیں۔ ملک میں نوجوانوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 15 سے 29 سال عمر کے درمیان 36 کروڑ سے زائد افراد موجود ہیں، مگر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بدستور تشویشناک ہے۔رپورٹ کے مطابق 25 سال یا اس سے کم عمر گریجویٹس میں تقریباً 40 فیصد بے روزگار ہیں، جبکہ 20 سے 29 سال کے عمر گروپ میں تقریباً 20 فیصد نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ماہرین کے مطابق تعلیم سے روزگار تک کا سفر نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    "کاکروچ جنتا پارٹی” کیسے وجود میں آئی؟
    "کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل ایک طنزیہ سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے محض ایک ہفتے میں سوشل میڈیا پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر لیے۔اس تحریک کا نام ایک ایسے تنازعے کے بعد سامنے آیا جب بھارتی سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت کے ایک بیان کو بے روزگار نوجوانوں کے لیے "کاکروچ” کہنے کے طور پر لیا گیا۔ بعد میں جج نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والے افراد کی جانب تھا، تاہم نوجوانوں میں اس بیان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔اسی دوران امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات نے بھی عوامی غصے کو ہوا دی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "کاکروچ جنتا پارٹی” نوجوانوں کی آواز بن کر ابھری۔پارٹی کی ایک حامی امریتا سنگھ کا کہنا ہے کہ نوجوان ہی ملک کی ترقی اور تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جماعت ایسے قومی مسائل اٹھا رہی ہے جن کی اصلاح ضروری ہے۔

    بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں مختلف احتجاجی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں بھی نوجوانوں نے سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔اس کے باوجود نوجوانوں کے ایک حصے میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ حکومت روزگار، تعلیم اور شفافیت جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان اور تحقیقاتی صحافی سوراو داس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی تحریک کا بنیادی مطالبہ نظام میں جوابدہی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا، "نظام میں بہت زیادہ خرابیاں جمع ہو چکی ہیں اور عوام اب کھل کر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔”ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ کی صبح نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں سے ان کے حامی ایک منظم احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اجازت دیتی ہے تو مظاہرین تاریخی جنتر منتر کی جانب مارچ کریں گے، جو بھارتی دارالحکومت میں سیاسی احتجاجوں کا معروف مرکز سمجھا جاتا ہے۔دیپکے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور جمہوری انداز میں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، "اب وقت آ گیا ہے کہ نظام میں جوابدہی کو بحال کیا جائے۔”

    سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی نئی نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ، ڈیجیٹل طور پر باخبر اور سیاسی شعور رکھنے والی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو اپنی آواز منظم انداز میں بلند کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک مستقل سیاسی قوت بن سکے گی یا نہیں، لیکن اس نے بے روزگاری، تعلیمی نظام کی خامیوں اور حکومتی جوابدہی کے سوالات کو قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اب محض آن لائن گفتگو تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی سیاسی سرگرمی کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

  • سائز آر چھاتی کے باعث فضائی سفر مہنگا پڑ گیا

    سائز آر چھاتی کے باعث فضائی سفر مہنگا پڑ گیا

    اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر معمولی طور پر بڑی چھاتی کے باعث انہیں فضائی سفر کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ چند برسوں میں 50 ہزار ڈالر سے زائد رقم صرف بزنس کلاس ٹکٹوں پر خرچ کر چکی ہیں۔

    28 سالہ سمر رابرٹ، جو آن لائن مواد تخلیق کرنے والی ماڈل کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی چھاتی کا سائز "آر” ہے اور وزن تقریباً 55 پاؤنڈ کے برابر ہے، جس کے باعث اکانومی کلاس میں سفر کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔سمر رابرٹ کے مطابق فضائی کمپنیوں کے موجودہ نشستوں کے ڈیزائن ایسے مسافروں کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھتے جن کے جسمانی خدوخال عام معیار سے مختلف ہوں۔ انہوں نے اس صورتحال کو "بوب ٹیکس” (Boob Tax) قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف آرام دہ سفر کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کی پروازوں میں انہیں سب سے زیادہ مسئلہ نشست کی محدود جگہ کی وجہ سے پیش آتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اکانومی کلاس میں بیٹھنے کے دوران اکثر ان کی چھاتی ساتھ بیٹھے مسافر کی جگہ میں آجاتی ہے، جس سے دونوں افراد کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق "لمبی پروازوں میں آرام سے بیٹھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر میرے ساتھ بیٹھا مسافر غیر ارادی طور پر میری چھاتی سے ٹکرا جاتا ہے، جس سے ہم دونوں کو تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔”سمر رابرٹ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہوں نے امریکی شہر لاس اینجلس سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک 16 گھنٹے طویل ایک طرفہ پرواز کے لیے 14 ہزار 686 ڈالر ادا کیے تاکہ وہ بزنس کلاس میں سفر کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اکانومی کلاس میں جگہ کی کمی کے باعث وہ نہ تو آرام سے بیٹھ سکتی ہیں اور نہ ہی کھانا کھا سکتی ہیں۔

    انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا "ٹری ٹیبل مکمل طور پر نیچے نہیں آتی، جس کی وجہ سے کھانا کھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر میں بزنس کلاس نہ لوں تو یا تو میں کھانا نہیں کھا سکتی یا پھر مسلسل دوسرے مسافروں کے ساتھ جسمانی ٹکراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

    رپورٹ کے مطابق سمر رابرٹ میکروماسٹیا نامی ایک نایاب طبی حالت کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں چھاتی غیر معمولی اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں بہت کم افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسمانی درد، کمر اور گردن کے مسائل، جلدی پیچیدگیاں اور نفسیاتی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ ان کے سینے پر اضافی وزن ہونے کی وجہ سے انہیں شدید گرمی محسوس ہوتی ہے، جبکہ ہجوم والی پروازوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہفتے قبل گرم چائے ان کی چھاتی پر گر گئی تھی جس کے باعث انہیں شدید جلنے کے زخم آئے۔”میں نے ابلتی ہوئی چائے اپنے اوپر گرا لی تھی، جس سے میری چھاتی بری طرح جل گئی۔ ابھی بھی اس کے نشانات موجود ہیں۔”

    سمر رابرٹ کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران انہیں نہ صرف مالی بوجھ بلکہ سماجی دباؤ اور غیر مناسب رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اوقات ہوائی اڈوں اور پروازوں کے عملے کی جانب سے بھی انہیں غیر ضروری توجہ اور تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا”لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑی چھاتی کے ساتھ زندگی صرف شہرت اور دلکشی کا نام ہے، لیکن اس کے ساتھ بہت سی مشکلات بھی جڑی ہوئی ہیں۔ میں اپنے جسم سے محبت کرتی ہوں، مگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے۔”

    سمر رابرٹ کے بیانات کے بعد ایک بار پھر فضائی صنعت میں بڑی جسامت یا خصوصی جسمانی ضروریات رکھنے والے مسافروں کے لیے نشستوں اور سہولیات کے معیار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی سفر میں نشستوں کی جگہ مسلسل کم ہونے کے باعث نہ صرف زائد الوزن افراد بلکہ مختلف جسمانی حالات کے حامل مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے لیے مستقبل میں زیادہ جامع اور قابلِ رسائی سفری سہولیات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔