Baaghi TV

Blog

  • سوشل میڈیا کی دوستی،36 سالہ امریکی خاتون کی 21 سالہ پاکستانی سے پسرور میں شادی

    سوشل میڈیا کی دوستی،36 سالہ امریکی خاتون کی 21 سالہ پاکستانی سے پسرور میں شادی

    پسرور: سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستی ایک خوبصورت محبت کی کہانی میں تبدیل ہوگئی، جہاں 36 سالہ امریکی خاتون پاکستان آکر 21 سالہ پاکستانی نوجوان کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی خاتون مورس ایشلے کی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے پسرور کے نواحی گاؤں کمال پور چشتیاں کے رہائشی کیف الورا سے ہوئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان دوستی مضبوط ہوتی گئی اور یہ تعلق محبت میں تبدیل ہوگیا،اپنے محبوب سے ملاقات اور اس کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے مورس ایشلے پاکستان پہنچیں، جہاں دونوں خاندانوں کی رضامندی کے بعد شادی کا فیصلہ کیا گیا۔

    نکاح سے قبل امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا اسلامی نام "خدیجہ” رکھ لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی خوشی اور رضامندی سے اسلام قبول کیا ہے اور اس حوالے سے ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا،بعد ازاں دونوں کا نکاح مقامی رسم و رواج کے مطابق انجام پایا، جبکہ حقِ مہر 2 ہزار امریکی ڈالر مقرر کیا گیا۔

  • گرفتار دہشت گرد خوارجی کے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات

    گرفتار دہشت گرد خوارجی کے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات

    فتنہ الخوارج کے گرفتار دہشت گرد خوارجی عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات کر دیے

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے خوارجی عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے 12 جنوری 2025 کو ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے مطابق اس کے خوارجی مرکز میں 60 سے 70 افغان خوارجی موجود ہیں جبکہ مختلف خوارجی عناصر نے افغانستان اور وزیرستان میں اسلحہ اور راکٹ چلانے کی تربیت حاصل کی۔اعترافی بیان کے مطابق خوارجی نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر آئی ای ڈی دھماکے میں بھی ملوث تھا، جس کے نتیجے میں رمضان المبارک کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے

    خوارجی عمر دین نے مزید انکشاف کیا کہ خوارجی تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور مرکز کے اندر اخلاقی بے راہ روی، بدفعلی اور دیگر غیراخلاقی سرگرمیاں عام ہیں جبکہ متعدد خوارجی کمانڈروں نے نوجوان لڑکوں کو بھی اپنے بد فعلی کے لیے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔خوارجی عمر دین کے مطابق فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود خوارجی کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ یہ گروہ ٹیکس کے نام پر بھتہ خوری، گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور بچوں کے اغوا برائے تاوان جیسی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔گرفتار خوارجی کے اعترافی بیان کے مطابق خارجی کمانڈر نوجوانوں کو شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر ورغلاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں انہیں ہتھیاروں، پیسے اور عیاشی کا لالچ دے کر تنظیم میں شامل کیا جاتا ہے۔

    گرفتار خوارجی نے اعتراف کیا کہ انہیں پروپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کیا گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہ راستہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں،گرفتار خوارجی کے اعترافی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج مذہب کا نام استعمال کرکے نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے جبکہ اس کے اصل مقاصد بدامنی پھیلانا، بھتہ خوری، اغوا، منشیات اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانا ہیں۔

  • جرمنی،نیا بوئنگ 787 طیارہ حادثےکا شکار،متعدد زخمی

    جرمنی،نیا بوئنگ 787 طیارہ حادثےکا شکار،متعدد زخمی

    جرمنی کے فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر مسافروں کی بورڈنگ سے قبل ایک نیا بوئنگ 787-9 طیارہ اچانک نوز گیئر بیٹھ جانے کے باعث زمین سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں عملے اور زمینی اسٹاف کے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لفتھانسا ایئرلائن کا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر جمعرات کے روز فرینکفرٹ ائیرپورٹ کے برج A15 پر لاس اینجلس جانے والی پرواز LH-450 کے لیے تیار کھڑا تھا کہ اچانک اس کا اگلا لینڈنگ گیئر (نوز گیئر) گر گیا، جس سے طیارے کا اگلا حصہ دھڑام سے زمین پر آ گرا،حادثے کے وقت طیارے میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا اور بورڈنگ کا عمل شروع ہونے والا تھا۔ طیارے میں صرف کیبن کریو اور زمینی عملے کے ارکان موجود تھے۔

    لفتھانسا ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق حادثے میں متعدد افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ زخمیوں میں کیبن کریو کے دو ارکان اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی کے کئی ملازمین شامل ہیں، جنہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔متاثرہ بوئنگ 787-9 طیارہ صرف پانچ ماہ قبل لفتھانسا کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا اور اس نے رواں سال جنوری میں اپنی پہلی تجارتی پرواز انجام دی تھی،واقعے کے بعد ائیرپورٹ اور ایئرلائن حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ طیارے کو سروس سے عارضی طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

  • پاکستان بارے منفی سوال،بھارتی صحافی کو روسی صدر کے سامنے منہ کی کھانا پڑی

    پاکستان بارے منفی سوال،بھارتی صحافی کو روسی صدر کے سامنے منہ کی کھانا پڑی

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان سے متعلق منفی سوال کرنے پر بھارتی صحافی کو لاجواب کر دیا،بھارتی صحافی کو روسی صدر کے سامنے منہ کی کھانا پڑ گئی

    سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران بھارتی صحافی کے سوال پر روسی صدر پیوٹن نےکہا یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان چین کے زیر اثر ہے، پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ملکوں سے تعلقات ہیں، روس نے چین کے ساتھ ہمیشہ فوجی میدان میں تعاون کیا اور ایسا کرنا جاری رکھیں گے،

    ایران سے متعلق سوال پر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس کا ایران کے ساتھ اعتماد کا تعلق ہے، بحران حل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2ہزار 440 مربع کلومیٹر کا علاقہ قبضے میں لیا، ہم یوکرین کے ساتھ پرامن طریقے سے ڈیل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،

  • 
پاکپتن میں تیز رفتار کار حادثے کا شکار، 2 افراد جاں بحق

    
پاکپتن میں تیز رفتار کار حادثے کا شکار، 2 افراد جاں بحق

    ‎پنجاب کے شہر پاکپتن میں ایک تیز رفتار کار خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بے قابو کار پہلے ایک رکشے اور موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور بعد ازاں سڑک کنارے درخت سے جا ٹکرائی۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث دو افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے میں دو خواتین اور ایک راہگیر سمیت مجموعی طور پر چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑی۔
    ‎اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق کار تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں حادثے کی زد میں آ گئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔
    ‎پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر تیز رفتاری کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور حد رفتار سے تجاوز ملک بھر میں سڑک حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • 
امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں، منجمد فنڈز پر اختلاف برقرار

    
امریکا ایران معاہدہ آخری مرحلے میں، منجمد فنڈز پر اختلاف برقرار

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کا معاملہ اب بھی حتمی اتفاقِ رائے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ کس طریقہ کار کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ یہ معاملہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سب سے پیچیدہ اور حساس موضوعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ مجوزہ معاہدے کے متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، لیکن منجمد اثاثوں کے اجرا، ان کے استعمال اور تقسیم کے طریقہ کار پر دونوں فریق اب بھی مشاورت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ حتمی معاہدے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
    ‎مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ اختلافات کو دور کر کے باضابطہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
    ‎حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران جلد کسی جامع سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سیاسی اور اقتصادی تنازعات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے فریقوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل ایران کے کسی بھی منجمد فنڈ کی رہائی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام شرائط کو حتمی شکل دیے بغیر مالی معاملات پر عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے۔
    ‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ منجمد فنڈز کے معاملے پر اختلافات کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا ایک مثبت اشارہ ہے اور اگر باقی رکاوٹیں دور ہو گئیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

  • 
ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق قرارداد کو بے معنی قرار دے دیا

    
ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق قرارداد کو بے معنی قرار دے دیا

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان میں منظور ہونے والی اس قرارداد پر شدید تنقید کی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدارتی اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو "بے معنی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایوان نمائندگان میں ہونے والے ووٹ میں چار ریپبلکن ارکان اور تمام ڈیموکریٹس نے ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں ہیں۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ جب سفارتی کوششیں جاری ہوں اور اہم پیش رفت متوقع ہو تو اس قسم کی سیاسی کارروائیاں قومی مفادات کے خلاف تصور کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے سیاسی مخالفت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
    ‎ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس قسم کے اقدامات امریکا کے مذاکراتی مؤقف کو کمزور کر سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس کا مقصد صدر کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں تمام ڈیموکریٹس کے علاوہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا تھا۔
    ‎یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ امریکی قانون ساز ادارہ صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ قرارداد ابھی امریکی سینیٹ سے منظور ہونا باقی ہے، جہاں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قرارداد سینیٹ سے منظور بھی ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کانگریس کو صدارتی ویٹو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جو حاصل کرنا آسان نہیں سمجھا جا رہا۔

  • 
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    ‎سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں 3 اور 4 جون کی درمیانی شب انجام دی گئیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔
    ‎دوسری کارروائی ضلع مہمند میں کی گئی، جہاں فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ فورسز نے کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ فورسز کا مؤقف ہے کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔

  • 
ایلون مسک نے موٹروے کیس فیصلے کو سراہ دیا

    
ایلون مسک نے موٹروے کیس فیصلے کو سراہ دیا

    ‎دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک نے موٹروے زیادتی کیس میں پاکستانی عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب لاہور ہائی کورٹ نے کیس کے دونوں مجرموں کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔
    ‎لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے گینگ ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں سنایا گیا۔
    ‎یاد رہے کہ موٹروے زیادتی کا یہ واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا سبب بنا تھا اور اس نے خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں ملزمان کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
    ‎عدالتی فیصلے کے بعد دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ طویل قانونی کارروائی اور مختلف سماعتوں کے بعد عدالت نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے تناظر میں مثبت قرار دیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئیں اور متعدد صارفین نے فیصلے کو اہم قرار دیا۔
    ‎قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مقدمہ اپنے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ کیس پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم اور ان کے خلاف قانونی کارروائیوں کے حوالے سے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • پاکستان امریکا شراکت داری مضبوط اور دیرینہ ہے، نیٹلی بیکر

    پاکستان امریکا شراکت داری مضبوط اور دیرینہ ہے، نیٹلی بیکر

    ‎پاکستان میں امریکی ڈپٹی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مضبوط، دیرینہ اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مقاصد کے جذبے کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
    ‎امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
    ‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیٹلی بیکر نے وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
    ‎امریکی ڈپٹی ناظم الامور نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیکیورٹی اور عوامی سطح کے روابط بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حقیقی دوستی مشترکہ مفادات اور باہمی احترام پر قائم ہے۔
    ‎نیٹلی بیکر نے مزید کہا کہ امریکی سفارتخانے اور دونوں ممالک کی متعلقہ ٹیموں نے ویزا سہولتوں، تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے فروغ اور سیکیورٹی تعاون کے شعبوں میں انتھک محنت کی ہے۔ ان کوششوں کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔
    ‎انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے سفارتی کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی، جو خطے میں سفارتی کوششوں اور امن کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی۔
    ‎تقریب کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری تعاون، اقتصادی روابط اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔