دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک نے موٹروے زیادتی کیس میں پاکستانی عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب لاہور ہائی کورٹ نے کیس کے دونوں مجرموں کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے گینگ ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں سنایا گیا۔
یاد رہے کہ موٹروے زیادتی کا یہ واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا سبب بنا تھا اور اس نے خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں ملزمان کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ طویل قانونی کارروائی اور مختلف سماعتوں کے بعد عدالت نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے تناظر میں مثبت قرار دیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئیں اور متعدد صارفین نے فیصلے کو اہم قرار دیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مقدمہ اپنے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ کیس پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم اور ان کے خلاف قانونی کارروائیوں کے حوالے سے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایلون مسک نے موٹروے کیس فیصلے کو سراہ دیا
