Baaghi TV

Blog

  • 
جے یو آئی نے چائلڈ میرج قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا

    
جے یو آئی نے چائلڈ میرج قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا

    ‎جمعیت علمائے اسلام (ف) نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون کی بعض شقوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ جماعت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو بچہ قرار دینا اسلامی فقہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
    ‎درخواست میں کہا گیا ہے کہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی اصولوں اور روایتی فقہی تشریحات کے مطابق نہیں ہے۔ جے یو آئی (ف) کے مطابق قانون میں شامل بعض لازمی سزائیں عدالتوں کے صوابدیدی اختیارات کو بھی محدود کرتی ہیں، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
    ‎جماعت نے واضح کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کی حامی ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔ درخواست میں عدالت سے متنازع شقوں کا جائزہ لینے اور غیر معمولی حالات میں عدالتی استثنا کا طریقہ کار متعارف کرانے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اپریل 2026 میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت صوبے بھر میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون کے مطابق نکاح کے وقت دلہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری قرار دی گئی ہے۔
    ‎اس سے قبل مئی 2025 میں صدر آصف علی زرداری نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا درجہ دیا تھا۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد نافذ العمل ہوا۔ قومی اسمبلی میں یہ بل شرمیلا فاروقی جبکہ سینیٹ میں شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
    ‎قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کرانے والے نکاح خواں کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کا مرد اگر کم عمر لڑکی سے شادی کرے تو اسے تین سال تک سخت قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎مزید برآں، کسی نابالغ کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی صورت میں سات سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اب اس قانون کے مختلف پہلوؤں پر وفاقی شرعی عدالت میں قانونی بحث ہونے کا امکان ہے۔

  • خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    روزنامہ نوائے وقت پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک معتبر اور درخشاں باب ہے، جو دو قومی نظریے کے فروغ اور قومی تشخص کے تحفظ کا علمبردار ہے،نوائے وقت اخبار مظلوم کشمیریوں کی آواز بن کر ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ وطنِ عزیز کے خلاف سازشوں اور ملک دشمن عناصر کے مقابلے میں نوائے وقت ہمیشہ جرأت و استقامت کے ساتھ صف آرا رہا ہے، اس کے صفحات پر شائع ہونے والی تحریریں حب الوطنی، قومی غیرت اور پاکستان سے والہانہ محبت کی روشن ترجمانی کرتی ہیں،نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر،ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین،سینئر صحافی دلاور چودھری ایک ایسا معتبر اور روشن نام ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو شعور، فکر اور آگہی کی شمع بنا رکھا ہے، ان کی تازہ تصنیف "خواب لیے پھرتا ہوں” کا پہلا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے، جو دراصل ان کی فکری ریاضت، علمی جستجو اور صحافتی تجربات کا نچوڑ ہے،کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے والدین کے نام کیا ہے، جو ان کی شخصیت کے جذباتی اور روحانی پہلو کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دلاور چودھری لکھتے ہیں کہ وہ بیس برس کی عمر میں کان پر قلم رکھ کر صحافت کے خارزار میں اترے تھے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی "صحافتی آوارہ گردی” کا سفر جاری ہے؛ وہ آج بھی نگری نگری پھرتے ہیں، علم و آگہی کی تلاش میں ہر اجنبی سے گویا گھر کا پتہ پوچھتے ہیں۔ان کے بقول صحافت ان کا پیشہ ہے مگر کتاب ان کا عشق، یہی عشق ان کے کالموں میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔

    "خواب لیے پھرتا ہوں” میں شامل 83 کالم ایک حساس اور بیدار ذہن کے وہ خواب ہیں جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے۔ ان صفحات میں بے شمار کتابوں کا تعارف سمویا گیا ہے، حتیٰ کہ اگر ان تمام کتابوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایک معیاری لائبریری وجود میں آ سکتی ہے، ان میں متعدد ایسی نایاب تصانیف بھی شامل ہیں جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب نہیں،دلاور چودھری کی کتاب خواب لیے پھرتا ہوں‌ پر ملک کی نامور علمی و صحافتی شخصیات نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کے مطابق دلاور چودھری کے کالم معنویت، گہرائی اور تحقیقی بصیرت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔ وہ سطحی گفتگو کے بجائے تاریخ، جغرافیہ اور عالمی سیاست کے پس منظر میں مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے نزدیک ان کی تحریروں میں بین الاقوامی دانش کی جھلک نمایاں ہے اور وہ دنیا کے تجربات سے سیکھ کر معاشرتی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔

    سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے اس کتاب کو فقر، درویشی اور انکساری کا پیغام قرار دیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری (تمغۂ امتیاز) کے مطابق دلاور چودھری کے کالم نوجوان نسل میں مطالعے اور کتب بینی کا شوق بیدار کرتے ہیں۔ سینئر صحافی وکالم نگار،نوائے وقت کے ایڈیٹوریل ہیڈ ادیب سعید آسی نے انہیں تاریخ و ادب کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کالم مستند حوالوں اور وسیع المطالعگی کا شاہکار ہیں، قیوم نظامی، راؤ منظر حیات، حاجی محمد نواز رضا اور علامہ عبدالستار عاصم نے بھی کتاب کی فکری و ادبی اہمیت کو سراہا ہے۔

    دلاور چودھری سے جب بھی ملاقات ہو، علم و محبت کی محفل چائے کی خوشبو کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ان کی گفتگو میں کتابوں کی مہک، تاریخ کی گہرائی اور انسان دوستی کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ علم، تحقیق اور مطالعے کی ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہیں،اپنے گھر میں بنائی گئی لائبریری کے دورےکی دعوت بارہا مل چکی اب اسے بھی قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے،کتاب قلم فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے، قیمت 2500 روپے درج ہے تاہم رعایتی قیمت 1500 روپے ہے،

  • 
کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے

    
کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے

    ‎کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار نے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں روزانہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 150 سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث خواتین، بزرگوں اور خصوصاً بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں کتوں کے غول دن اور رات کے اوقات میں آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
    ‎حال ہی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ گلی میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے والی ایک کمسن بچی پر آوارہ کتوں کے ایک غول نے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں بچی کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم آئے۔ اہل خانہ نے فوری طور پر بچی کو اسپتال منتقل کیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
    ‎اسپتال ذرائع کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات کورنگی، لانڈھی اور حب چوکی کے علاقوں سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں کے بعد فوری علاج اور ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین انتہائی ضروری ہوتی ہے، کیونکہ تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
    ‎دستاویزات اور طبی ریکارڈ کے مطابق رواں سال اب تک آوارہ کتوں کے حملوں کے نتیجے میں 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 40 ہزار سے زائد شہری زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں علاج کروا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

  • 
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    ‎پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے اور ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام گیا ہے اور اب ایسے واقعات پر متاثرہ خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
    ‎پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موٹروے پر خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس کیس نے ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان پیدا کر دیا تھا، تاہم تمام متعلقہ اداروں نے مل کر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک شہری کی ون فائیو کال موصول ہوئی جس پر پولیس اور دیگر ادارے متحرک ہوئے۔ متاثرہ خاتون کی فراہم کردہ معلومات اور مشتبہ افراد کے حلیوں کی بنیاد پر فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے اور جدید سائنسی طریقوں سے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
    ‎فرہاد علی شاہ کے مطابق مرکزی ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے مطابقت رکھتا تھا، جس نے کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔
    ‎پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پراسکیوشن ٹیم نے دن رات محنت کر کے مضبوط شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں سائنسی شواہد، فرانزک تجزیے اور مؤثر قانونی پیروی انصاف کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
    ‎انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جرم کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی جائے۔ ان کے مطابق اس کیس میں بھی ایک عام شہری کی بروقت اطلاع نے تحقیقات کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا اور یہی ذمہ داری معاشرے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

  • 
ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

    
ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

    ‎برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ انسانی جسم میں ہزاروں جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
    ‎تحقیق کاروں کے مطابق ای سیگریٹ کا مستقل استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتا ہے جو جینز کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق متعدد سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں کینسر، دل کے امراض اور نظامِ تنفس کے مسائل شامل ہیں۔
    ‎محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف ویپنگ کی مقدار ہی اہم نہیں بلکہ استعمال کیے جانے والے ای سیگریٹ کی قسم اور اس میں شامل ذائقے بھی جینز پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برانڈز اور فلیورز جسم میں الگ الگ نوعیت کی تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے ہیں۔
    ‎تحقیق میں ویپنگ استعمال کرنے والوں کے ساتھ ساتھ روایتی سگریٹ نوش افراد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق پھلوں کے ذائقوں والے ای سیگریٹس تقریباً 31 فیصد متاثرہ جینز میں تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے۔ اسی طرح متعدد ذائقوں کے امتزاج والے ویپنگ مصنوعات 64.3 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے تعلق رکھتی تھیں۔
    ‎تحقیق کے مطابق میٹھے ذائقوں کا تعلق 2.9 فیصد جبکہ پودینہ یا مینتھول فلیورز کا تعلق 0.9 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف فلیورز کے صحت پر اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
    ‎سائنسدانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویپنگ ایک نسبتاً نئی ایجاد ہے، اس لیے اس کے طویل المدتی اثرات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ تاہم موجودہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ای سیگریٹس میں موجود بعض کیمیکل ایسے حیاتیاتی عوامل کو متحرک کر سکتے ہیں جو جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا اور اس کے ممکنہ صحت کے خطرات پر مزید تحقیق اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔

  • 
نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا

    
نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ‎نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے صدرِ مملکت سے اپیل کی ہے کہ نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی ممکنہ رحم کی اپیل مسترد کی جائے اور عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
    ‎سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ وہ صدرِ مملکت سے درخواست کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل قبول نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت خود بھی بیٹیوں کے والد ہیں اور انہیں اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔
    ‎شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک انصاف کے حصول کی جدوجہد میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل توجہ اور رپورٹنگ کی وجہ سے یہ مقدمہ عوام کی نظروں میں رہا۔
    ‎انہوں نے ملک بھر کی خواتین اور بچیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔
    ‎واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔
    ‎سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے سزا میں نرمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا تھا اور انہی وجوہات کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی دی گئی تھی۔
    ‎تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلے اخباری خبروں یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں بلکہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ نہ بنائے جانے کے فیصلے کو ماضی میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ معاملہ قانونی طور پر طے ہو چکا ہے۔
    ‎نور مقدم قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔

  • میرپورخاص: بلدیاتی نظام کا جنازہ نکل گیا، یو سی 8 گندے پانی کی نکاسی بند

    میرپورخاص: بلدیاتی نظام کا جنازہ نکل گیا، یو سی 8 گندے پانی کی نکاسی بند

    میرپورخاص (بیورو رپورٹ )​بلدیاتی نمائندوں کی مبینہ غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کے باعث میرپورخاص کی یونین کونسل (یو سی) 8 کا نظام دھرم بھرم ہو چکا ہے۔ منتخب چیئرمین اور کونسلر عوامی مسائل حل کرنے اور ووٹرز کو ریلیف دینے کے بجائے منظرِ عام سے بالکل غائب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے پورا علاقہ شدید ترین بلدیاتی و ماحولیاتی مسائل کی دلدل میں دھنس گیا ہے اور عوام لاوارث ہو چکے ہیں۔​گلی کوچے جوہڑ بن گئے، شہری محصور​موصول ہونے والی تصاویر اور میں علاقے کی ابتر اور دلخراش صورتحال کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ گلیوں میں سیوریج کا بدبودار پانی جگہ جگہ پر جمع ہے، اور جگہ جگہ کچروں کے ڈہر ​پیدل چلنے کے لیے شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گندے پانی کے درمیان اینٹیں رکھی ہوئی ہیں، جہاں سے بچے اور بزرگ گر کر زخمی ہو سکتے ہیں شہریوں کو اس تعفن زدہ ماحولیاتی عذاب کے بیچ سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے مقامی معیشت اور دکانداری کو چوپٹ کر دیا ہے۔​

    سیوریج کا پانی گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے، جس سے عمارتوں کی بنیادوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔​بیماریاں پھیلنے کا خدشہ اورماحولیاتی بحران ​گلیوں اور راستوں پر جمع پانی کی وجہ سے نہ صرف مچھروں اور مکھیوں کی بھرپو ر افزائش ہو رہی ہے، بلکہ علاقے میں ملیریا، ڈینگی، ٹائیفائیڈ اور پیٹ کی وبائی بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بوڑھے اور بچے اس تعفن زدہ ماحول کے باعث سانس اور جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ گہری نیند سو رہی ہے۔​عوام کا منتخب چیئرمین سے سوال ​”ہم نے جن نمائندوں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر اس امید پر کامیاب کروایا تھا کہ وہ ہمارے گلی محلوں کو سدھاریں گے، وہ آج ہمارے اس کربناک دکھ میں شریک ہونے کو تیار نہیں۔ چیئرمین اور کونسلر الیکشن جیتنے کے بعد خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور اپنی شکل دکھانے سے بھی قاصر ہیں۔ کیا ہم نے انہیں اسی دن کے لیے منتخب کیا تھا​

    اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل،​علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر اور صوبائی وزیرِ بلدیات سے فوری اور ہنگامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یو سی 8 میں فوری طور پر ہیوی مشینری کے ذریعے سیوریج لائنوں کی صفائی اور گندے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے، اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ لاپرواہ بلدیاتی نمائندوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

  • میرپور ماتھیلو ،پولیس کی کاروائی،5 جواری گرفتار

    میرپور ماتھیلو ،پولیس کی کاروائی،5 جواری گرفتار

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر گھوٹکی پولیس نے جواریوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ جروار اعجاز علی جسکانی نے پولیس اسٹاف کے ہمراہ دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر حیات پتافی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے تاش کے پتوں پر جوا کھیلنے والے افراد کے خلاف چھاپہ مارا۔ پولیس نے موقع سے 5 مبینہ جواریوں کو گرفتار کر لیا جبکہ ایک عدد تاش کا پیکٹ اور 2 ہزار روپے نقد رقم بھی برآمد کر لی۔گرفتار ملزمان میں محبوب علی ولد راھزن مہر، بابر علی ولد قالو بھٹی، علی نواز ولد عنایت نوہانی، ندیم ولد حبیب بھٹی اور حق نواز ولد عنایت نوہانی شامل ہیں۔

    پولیس نے تمام ملزمان کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، جہاں ان کے خلاف کرائم نمبر 55/2026 کے تحت دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    لاہور سے شیخوپورپ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً جناح ٹرمینل سے چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں مرد، خواتین، بزرگ، طلبہ اور مزدور ان ویگنوں میں ایسے سفر کرنے پر مجبور ہیں جیسے انسان نہیں بلکہ جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہو۔ اوور لوڈنگ، من مانا کرایہ، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی نے اس مسئلے کو ایک سنگین عوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جناح ٹرمینل لاہور بائی پاس سے شیخوپورہ جانے والی بیشتر ویگنوں میں “پھٹہ” کلچر عام ہو چکا ہے، یعنی گاڑی کی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ سیٹوں پر گنجائش ختم ہونے کے بعد مسافروں کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے، شدید گرمی، حبس اور دھکم پیل کے ماحول میں یہ سفر کسی اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ موٹر وے اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے عام جاری ہے۔

    خواتین مسافروں کے مسائل اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ متعدد ویگن مالکان اور کنڈیکٹر خواتین کو فرنٹ سیٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سہولت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو غیر مناسب انداز میں تنگ سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ بعض ڈرائیور حضرات فرنٹ سیٹ کو ذاتی پسند یا اضافی کمائی کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔

    کرایوں کا معاملہ بھی کسی کھلی لوٹ مار سے کم نہیں۔ سرکاری کرایہ نامہ ایک طرف پڑا رہتا ہے جبکہ ویگن مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ بارش ہو، رش زیادہ ہو یا عید کا موقع، کرایہ فوری بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی جو روزانہ مزدوری یا ملازمت کے لیے سفر کرتا ہے، اس استحصالی نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

    سب سے اہم سوال National Highways and Motorway Police کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ موٹر وے پولیس کا بنیادی مقصد محفوظ سفر کو یقینی بنانا، اوور لوڈنگ روکنا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، مگر لاہور شیخوپورہ روٹ پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے بے بس ہیں یا پھر بعض عناصر مبینہ “چمک” کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر روزانہ درجنوں اوور لوڈ ویگنیں موٹر وے پر سفر کر رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے یا طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے لیے بھی؟

    یہ صورتحال National Highways and Motorway Police کے سربراہ، آئی جی موٹر وے پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر موٹر وے جیسے حساس اور جدید نظام پر بھی اوور لوڈنگ مافیا قابو پا لے تو پھر عام شہری کے اعتماد کا کیا بنے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ غیر قانونی کاروبار جاری رہے گا۔

    ماضی میں اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے ٹریفک حادثات نے کئی خاندان اجاڑے، مگر اس کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ جب تک سخت کارروائی، مستقل نگرانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک یہ مافیا مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موٹر وے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان ویگنوں کے خلاف فوری ایکشن لے، سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد کروائے، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو یقینی بنائے اور اوور لوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔

    یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، شہری حقوق اور قانون کی عملداری کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئے تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد صرف افسوس اور مذمتی بیانات باقی رہ جائیں گے۔ عوام اب عملی اقدامات چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔راقم نے موٹر وے پولیس کا موقف لیا تو ان کا کہنا تھا ہم چلان کرتے لوگ باز نہیں آتے اور دوسری بات مہنگائی ہے مطلب یہ ہوا کہ ،،چمک کا کام کرگئی
    عوامی سہولیات کے پیش نظر آئی جی موٹر وے پولیس پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

  • دیہاتوں کی ترقی کو بھی شہر سے منسلک کیا جائے ۔ترجمان آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی

    دیہاتوں کی ترقی کو بھی شہر سے منسلک کیا جائے ۔ترجمان آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے ترجمان ملک ظفر اقبال بھوہڑ نے کہا کہ اوکاڑہ شہر کے ساتھ دیہاتوں کو بھی ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

    انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حلقہ پی پی 190 اوکاڑہ کا دل فور۔ایل کے چکوک ہیں مگر ترقیاتی کاموں کی لسٹ شہر تک محدود ہے ۔فور۔ایل کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے اور زمین پانی کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں ۔انہوں نے عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ٹیوب ویلوں کی مدد میں سپیشل گرانٹ دی جائے اور اور تمام نالہ جات پکے کئے جائیں تاکہ کمی کو مزید بہتر بنانے کیلئے اس اقدام کی اشد ضرورت ہے انہوں نے 22 فور ایل اور 23 فور ایل کی کسانوں کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے جو پانی کی کمی کی وجہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں