Baaghi TV

Blog

  • غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مٹی کے انسان کا تکبر اور قوم کا زوال عہدے فانی ہیں، کردار امر ہے

    غرور کے محل اور خدمت کے اجڑے راستے جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں

    تکبر کی سیڑھی زوال کی منزل قوم کو رہنما چاہیے حاکم نہیں اقتدار امتحان ہے انعام نہیں

    تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات آج بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر انسان، بالخصوص سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا انسان، غرور اور تکبر کس بنیاد پر کرتا ہے؟ وہ سیاستدان جو تحصیل کی سطح سے لے کر قومی سطح تک عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بیوروکریٹ جو ریاستی امور کے نگران ہیں، اور وہ لوگ جو خود کو ممتاز رہنما یا ممتاز شخصیت کہلوانا پسند کرتے ہیں، آخر وہ کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟ اگر غرور کرنا ہی ہے تو اپنے کردار پر کریں، اپنی دیانت داری پر کریں، اپنی خدمتِ خلق پر کریں، اپنے اخلاق پر کریں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی ماحول میں کردار سازی کے بجائے کردار کشی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازنا معمول بن چکا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں، لیکن قوم کے کانوں میں یہی الزامات گونجتے رہے ہیں۔

    میری عمر کا ایک بڑا حصہ ان سیاسی مناظر کو دیکھتے اور سنتے ہوئے گزرا ہے۔ چالیس برس سے زائد عرصے میں یہی سننے کو ملا کہ فلاں نے خزانہ لوٹ لیا، فلاں ملک کو نقصان پہنچا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب ہی چور ہیں تو پھر عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟ اگر تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہوں گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آج عوام بنیادی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گیس کا بحران، بجلی کی قلت، پانی کی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بے شمار مسائل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن تو جمہور کی خدمت میں ہے،لیکن افسوس کہ خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش نے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اقتدار کی کرسی کوئی دائمی شے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور امتحان بھی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، طاقت یا عہدہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، وہ تاریخ کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ لے۔ دنیا گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑے بڑے تاجداروں کو مٹی میں ملا دیا۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں لوٹ جانا ہے، پھر یہ تکبر کس بات کا؟

    بدقسمتی سے اقتدار کے اردگرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم بھی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی خوشامد کرنے والے لوگ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ وہ اسے اس کی کمزوریاں نہیں بتاتے بلکہ اس کے غرور کو مزید بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ سچا خیرخواہ وہ ہے جو آئینہ دکھائے، نہ کہ وہ جو تعریفوں کے پل باندھ کر انسان کو حقیقت سے بے خبر کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹ اور تمام بااثر طبقات اپنے اندر جھانکیں۔ وہ سوچیں کہ تاریخ ان کے عہدوں کو نہیں، ان کے کردار کو یاد رکھے گی۔ لوگ ان کی گاڑیوں، لباسوں اور پروٹوکول کو نہیں، بلکہ ان کی خدمت، انصاف اور دیانت کو یاد رکھیں گے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ غرور اور تکبر سے نہیں بلکہ عاجزی، خدمت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھنا، کمزور کی آواز بننا اور ریاستی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہی اصل قیادت ہے۔ کاش ہمارے صاحبانِ اقتدار یہ حقیقت سمجھ لیں کہ عزت کرسی سے نہیں، کردار سے ملتی ہے؛ اور جو عزت کردار سے ملتی ہے، اسے نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔

  • وفاقی حکومت کاچھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان

    وفاقی حکومت کاچھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم فروخت رکھنے والے کاروباری افراد آسان ٹیکس نظام سے مستفید ہو سکیں گے۔

    اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ اسکیم انجمن تنظیم تاجران کے مطالبے اور مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت اہل دکانداروں پر ایک فیصد فکس ٹیکس عائد ہوگا جبکہ پہلے سے کٹے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس کو اس میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اسکیم کے تحت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا لازمی ہوگا، جبکہ زیادہ ٹرن اوور رکھنے والے دکانداروں سے ایک فیصد شرح کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے لیے صرف ایک صفحے پر مشتمل فارم متعارف کرایا گیا ہے جس میں دکاندار اپنی سالانہ فروخت کی تفصیلات درج کریں گے۔

    وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس اسکیم میں شامل ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی پلیٹ جاری کی جائے گی جس پر دکاندار اور دکان کی تفصیلات درج ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائلر اور نان فائلر دونوں قسم کے دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔بلال اظہر کیانی کے مطابق اسکیم سے استفادہ کرنے کے لیے دکاندار کی ٹیکس ادائیگی کم از کم گزشتہ سال کے برابر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو دکاندار اس اسکیم میں شامل ہوں گے انہیں پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم سے استثنیٰ بھی حاصل ہوگا،اس اقدام کا مقصد چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

  • پنجاب حکومت کا 1220 ارب روپے کا ماسٹر اکنامک پلان تیار

    پنجاب حکومت کا 1220 ارب روپے کا ماسٹر اکنامک پلان تیار

    پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے 1220 ارب روپے پر مشتمل ماسٹر اکنامک پلان تیار کر لیا ہے، جس میں معاشی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

    ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق بجٹ تجاویز میں پنجاب ویلتھ فنڈ کے قیام کے لیے 700 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد صوبے کے مالی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی طرح پنجاب انفرا اسٹرکچر اینڈ گارنٹی فنڈ کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے انڈسٹریل کلسٹرز اور ایگرو پروسیسنگ زونز قائم کرنے کی تجویز بھی بجٹ پلان کا حصہ ہے، جس سے مقامی صنعت، زراعت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔

    بجٹ دستاویزات میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی 30 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقتصادی منصوبہ صوبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، صنعتی ترقی کو تیز کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے کے حکومتی وژن کا اہم حصہ ہے۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آزاد کشمیر حکومت نے وفاق کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کردی۔

    آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کو آزاد کشمیر بھجوانے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی پولیس کے 1500 سے زائد جوان آزاد کشمیر میں ڈیوٹی دیں گے۔رپورٹ کے مطابق ایک ڈی آئی جی، 2 ایس ایس پیز اور 4 ایس پیز بھی نفری کے ہمراہ ہوں گے، نفری میں 8 ڈی ایس پی، 16 انسپکٹر اور 22 سب انسپکٹر بھی شامل ہوں گے، اسپیشل ڈیوٹی دینے والوں میں 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ایک ہزار 382 کانسٹیبلز شامل ہیں۔اسپیشل ڈیوٹی کیلئے نفری میں سی ٹی ڈی، سی پی سی، سیف سٹی، سیکیورٹی ڈویژن، آپریشن ڈویژن کے اہلکار شامل ہوں گے، لاجسٹک ڈویژن، اسلام آباد ٹریفک پولیس، اے ٹی ایس اور اسپیشل برانچ سے بھی اہلکار لیے جائیں گے۔

    عوامی حقوق کے نام پر دھونس، دھمکیاں اور بھتہ خوری: عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب
    عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق اور فلاح و بہبود کے نعروں کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا تھا، مگر اب اس کے عملی رویے سے ایک مختلف اور تشویشناک حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ حالیہ ویڈیوز میں ایک دکاندار کو 9 جون کے احتجاج کے لیے چندہ نہ دینے پر آزاد کشمیر سے نکال دینے کی صریح دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ تحریک عوامی حمایت حاصل کرنے کی بجائے دباؤ، دھونس، خوف اور زبردستی کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ چندے کے نام پر رقم اکٹھی کرنے کا یہ طریقہ عوامی خدمت کی بجائے بھتہ خوری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر حمایت واقعی عوامی ہوتی تو دھمکیوں اور جبر کی کوئی ضرورت نہ پڑتی۔ عوام اب ایسے رویوں سے تنگ آ چکی ہے اور امن، استحکام، قانون کی بالادستی اور تحفظ چاہتی ہے۔ یہ طرزِ عمل عوامی نمائندگی نہیں بلکہ طاقت کے ناجائز استعمال اور قانون شکنی کی خطرناک مثال ہے، جو اگر نہ روکا گیا تو مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • وزیرستان میں گولیاں چل گئیں، قبائلی رہنما کے دو بیٹوں کی موت

    وزیرستان میں گولیاں چل گئیں، قبائلی رہنما کے دو بیٹوں کی موت

    وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک قبائلی رہنما کے دو بیٹے جاں بحق جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ وانا کے علاقے کڑیکوٹ بازار کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں قبائلی رہنما کے دو بیٹے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔واقعے میں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ڈی ایس پی اصغر علی شاہ نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی رہنما  کی مبینہ  فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    پی ٹی آئی رہنما کی مبینہ فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے آزاد رکن سلمان مہدی شاہ کی ایک مبینہ نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک شخص کو ایک خاتون کے ساتھ نجی لمحات کے دوران دیکھا گیا ہے، خاتون اور مرد دونوں نے کپڑے اتار رکھے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ ویڈیو سلمان مہدی شاہ کی ہے تاہم ویڈیو کی صداقت اور اس میں موجود شخص کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ویڈیو میں خاتون کون ہیں اس بارے بھی ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی تا ہم ویڈیو دیکھنے کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ویڈیو کسی تیسرے شخص نے بنائی ہے جو ان لمحات کے دوران وہاں موجود تھا

    ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا، جبکہ بعض افراد نے اس حوالے سے تنقیدی تبصرے بھی کیے۔تاحال سلمان مہدی شاہ، ان کے نمائندوں یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ویڈیو کے ماخذ اور اس کی ساکھ کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    سلمان مہدی شاہ 2024 سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی-230 (وہاڑی-II) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ اسمبلی کی پبلک پراسیکیوشن اور ہائر ایجوکیشن کمیٹیوں کے رکن ہیں، جبکہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار اور کاروباری شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

  • اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں نامزد رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چڈھر کو عدالت سے عبوری ریلیف مل گیا، عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 24 جون تک گرفتاری سے روک دیا۔

    مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ کی عدالت میں ہوئی، جہاں ثاقب چڈھر کی جانب سے دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے گئے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقررہ تاریخ تک انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،

    یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ثاقب چڈھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ اس دوران ثاقب چڈھر کو عبوری تحفظ حاصل رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

  • گلگت بلتستان میں غیر اخلاقی تنقید ،کیپٹن(ر)صفدرسندھ کی عوام سے معافی مانگیں،ارسلان شیخ

    گلگت بلتستان میں غیر اخلاقی تنقید ،کیپٹن(ر)صفدرسندھ کی عوام سے معافی مانگیں،ارسلان شیخ

    ترجمان سندھ حکومت ارسلان شیخ کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر نے سندھ کی ثقافت پر حملہ کیا، وہ سندھ کے عوام سے معافی مانگیں۔

    میئر سکھر اور ترجمان حکومت سندھ ارسلان شیخ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے دوران نامناسب الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں، گلگت بلتستان میں اسٹیٹ ایکٹرز اور جوکرز کو روکا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر نے سندھ کی ثقافت پر حملہ کیا ہے، کیپٹن صفدر سندھ کے عوام سے معافی مانگیں، اگر کوئی شک ہے تو کیپٹن صفدر سندھ سے الیکشن لڑکر دیکھ لیں، پیپلزپارٹی سندھ کے عوام کے دلوں میں بستی ہے، کیپٹن صفدر کو عوام سے دور رکھا جائے۔ ،صفدر عوان صاحب صرف ایک دن کے لیے سندھ تو ائیں اور سندھ کے لوگوں کے مسئلے سنیں ،جس مقام پر مریم نواز اور شہباز شریف ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کیپٹن صفدر جیسے جوکرز کو عوام سے دور رکھیں۔ انہوں نے سندھ کی ثقافت پر حملہ کیا ہے، کیپٹن صفدر ریاست اور پاکستان کے لیے خطرہ ہیں،گلگت بلتستان میں غیر اخلاقی تنقید کی جارہی ہے، کیپٹن صفدر پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کر رہے ہیں، سندھ کے لوگ باشعور ہیں آپ ہاتھ جوڑ کر یہاں کی عوام سے معافی مانگیں۔ مراد علی شاہ اور بلاول صاحب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اس صوبے میں حکومت جاری ہے، ہمارا ہاتھ جوڑ کر لوگوں کو خوش آمدید کہنا ثقافت کا حصہ ہے،

  • پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک

    پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گرد ہلاک کر دیے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 3 اور 4 جون کو پنجگور میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔آپریشن کے نتیجے میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے زیر استعمال ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔سکیورٹی فورسز عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بلا تعطل کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

  • جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    بیوی کی جانب سے جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے کے الزام میں شوہر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کرائے جانے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گاڑی اس کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور اسے شوہر کے پاس بطور امانت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، تاہم شوہر نے گاڑی فروخت کر دی جس پر مقدمہ درج کرایا گیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزار شوہر کا مؤقف تھا کہ بیوی نے خاندانی اختلافات کے باعث مقدمہ درج کرایا۔ درخواست گزار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاتون نے فیملی کورٹ میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے الگ دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ نے خود فیملی کورٹ میں گاڑی کو جہیز کے سامان کا حصہ قرار دیا تھا، جبکہ ایف آئی آر میں زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق گاڑی تاحال خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

    جسٹس طارق محمود باجوہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں مقدمہ میاں بیوی کے خراب تعلقات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر کسی قسم کی بدنیتی یا دھوکہ دہی کا واضح ثبوت موجود نہیں۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔