کویت نے ایران کے حالیہ ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد سخت سفارتی اقدام اٹھاتے ہوئے دو ایرانی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔ کویتی حکومت نے دونوں سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
کویت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سفارتخانے کے قائم مقام ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ اس مراسلے میں ایران کے حالیہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور سفارتخانے کے سفارتی عملے میں کمی کرنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق جن دو ایرانی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے، انہیں فوری طور پر کویت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
بیان میں ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ کویتی حکومت نے واضح کیا کہ ملک کو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
کویت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کویت کا یہ اقدام خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی معاملات پر بڑھتی ہوئی حساسیت کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ علاقائی صورتحال کے باعث متعدد ممالک اپنی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
Blog
-

کویت نے دو ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
-

امریکا میں منشیات اسمگلنگ کی خفیہ سرنگ بے نقاب
امریکی حکام نے میکسیکو اور امریکا کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی ایک جدید اور خفیہ سرنگ کا سراغ لگا لیا ہے۔ یہ سرنگ میکسیکو کے سرحدی شہر تیجوانا کو امریکی شہر سان ڈیاگو سے ملاتی تھی اور اسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی جانب سے بڑے پیمانے پر منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران تقریباً 1935 فٹ طویل سرنگ دریافت کی گئی۔ حکام کے مطابق سرنگ جدید سہولیات سے آراستہ تھی، جن میں بجلی، ہوا کی نکاسی کا نظام، مضبوط دیواریں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے ریل ٹریک شامل تھے۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سان ڈیاگو میں سرنگ کا داخلی راستہ ایک بظاہر عام رعایتی اسٹور کے نیچے موجود تھا، جہاں لفٹ کے ذریعے زیر زمین راستے تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔ حکام نے کئی ماہ تک نگرانی کے بعد اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ٹن سے زائد کوکین برآمد کی گئی جس کی مالیت تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ چار افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور تقسیم کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات دسمبر 2025 میں شروع ہوئی تھیں جب مشتبہ اسٹور کی غیر معمولی سرگرمیوں نے سیکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کی۔ نگرانی کے دوران دیکھا گیا کہ وہاں گاہکوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی، جبکہ بعض افراد بار بار خالی سوٹ کیس اور دیگر سامان لے کر سرحدی علاقوں کے درمیان سفر کرتے دکھائی دیے۔
بعد ازاں ایجنٹس نے مشتبہ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور ایک کارروائی کے دوران متعدد گاڑیوں سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد کیں۔ اس کے بعد عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کر کے اسٹور کی تلاشی لی گئی، جہاں سے سرنگ کا خفیہ راستہ دریافت ہوا۔
امریکی حکام کے مطابق سرنگ تقریباً 55 فٹ گہرائی میں تعمیر کی گئی تھی اور سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں فٹ تک پھیلی ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سرنگ کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری، جدید انجینئرنگ اور طویل منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔
گرفتار ملزمان میں دو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے رہائشی اور دو میکسیکو کے شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ -

کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی، سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر
پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں مجموعی بزنس کانفیڈنس انڈیکس 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد رہ گیا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تازہ رپورٹ کے مطابق معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث بڑی تعداد میں کاروباری اداروں نے نئی سرمایہ کاری کے منصوبے روک دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کمپنیوں نے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے یا تو مؤخر کر دیے ہیں یا ان میں تبدیلی کر دی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں نئی سرمایہ کاری کا اشاریہ 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد صرف 2 فیصد پر آ گیا ہے، جو کاروباری ماحول کے حوالے سے تشویشناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات، سپلائی چین میں رکاوٹیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کاروباری برادری کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں لاگت میں مزید اضافہ اور منافع میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 84 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو ملک کی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ 79 فیصد کے نزدیک زیادہ ٹیکسز کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ 61 فیصد کاروباری افراد ملکی کرنسی کی صورتحال، پالیسیوں کے تسلسل اور حکومتی فیصلوں کے حوالے سے بھی تشویش کا شکار ہیں۔
شعبہ جاتی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ منفی اثر سروسز سیکٹر پر پڑا ہے، جہاں کاروباری اعتماد میں 20 پوائنٹس کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا اعتماد بھی 7 پوائنٹس نیچے آیا، جو صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ ہے جہاں کاروباری اعتماد میں 20 فیصد تک بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح غیر ملکی یا ممبر کمپنیوں کے اعتماد میں بھی 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں جدید ٹیکنالوجی خصوصاً جنریٹو اے آئی کے استعمال کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ملک کے بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گیا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر کا کہنا ہے کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں تسلسل، استحکام اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی پر قابو پانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور پالیسیوں میں استحکام لانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

حزب اللہ کا شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کا دعویٰ
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک اجتماع کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل میں موجود اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی ایک پوزیشن کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا اور اس کا مقصد فوجی اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے حزب اللہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شمالی اسرائیل میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیلی فوج بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں کارروائی کرے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق شہری علاقوں پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان اسرائیل سرحد پر جاری کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ خطے میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال موجود ہے اور حالیہ بیانات سے یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے ماضی میں متعدد بار دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی معاہدوں کی پاسداری کی اپیل کی جا چکی ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے حملے اور جوابی اقدامات امن کوششوں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ -

ایران نے ٹرمپ سمیت دیگر امریکی رہنماؤں کے قتل کی منصوبہ بندی کے امریکی الزامات کو مستردکرد یا
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر امریکی رہنماؤں کے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سینیٹ میں دیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام بار بار ایسے دعوے کرتے ہیں جن کا مقصد عالمی توجہ کو دیگر اہم معاملات سے ہٹانا ہوتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے ایران پر لگائے گئے ہر الزام میں دراصل ان کی اپنی پالیسیوں اور اقدامات کا اعتراف پوشیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلومیت کا تاثر دینے کی کوششیں ایران کے خلاف اختیار کی گئی پالیسیوں اور خطے میں ہونے والی کارروائیوں کے اثرات کو نہیں چھپا سکتیں۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے اور سفارتی محاذ پر تناؤ پیدا کرنے کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق تہران اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مختلف الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں امریکی شخصیات اور عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازشوں کا ذکر بھی شامل ہے۔ تاہم ایران مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے اور انہیں سیاسی دباؤ کی ایک شکل قرار دیتا ہے۔ -

تانگیر مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے حلقہ جی بی اے 18 تانگیر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق انتخابی ریلی کے دوران ہوائی فائرنگ کی جا رہی تھی کہ اچانک گولیاں شرکاء کو لگ گئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کے ہاتھ سے بندوق پھسل گئی، جس کے باعث گولیاں بے قابو ہو کر مجمع میں موجود افراد کو لگیں۔ پولیس نے واقعے کی مکمل چھان بین شروع کر دی ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری فیصل احسن پیرزادہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی اور ایس پی کو فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ہوم سیکرٹری نے مزید بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران قانون کی پابندی کریں اور اسلحے کی نمائش یا ہوائی فائرنگ سے گریز کریں۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی اجتماعات میں اسلحے کے استعمال پر مؤثر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری سرگرمیوں کو پرامن ماحول میں منعقد ہونا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ -

خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحد مؤقف اپنائیں، انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر برائے سفارتی امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کویت اور بحرین پر مبینہ ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط، متحد اور مربوط مؤقف اختیار کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ کسی بھی خلیجی ریاست کو تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک کی سلامتی، مفادات اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی ایک ملک پر حملہ درحقیقت پورے خطے کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں خلیجی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ ان کے بقول خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ صرف مشترکہ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کویت اور بحرین نے بدھ کی صبح ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بننے کی اطلاعات دی تھیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے حملوں کی خبروں کے بعد ایران نے کہا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی جوابی اقدام کے طور پر کی گئی۔
کویتی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعض حصوں اور دیگر مقامات کو نقصان پہنچا۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں حکام نے ایک ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف ممالک صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ -

سکردو نے پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ سنا دیا، بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے واضح پیغام دے دیا ہے کہ 7 جون کے انتخابات میں صرف "تیر” کا نشان کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام کے جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حمایت پیپلز پارٹی پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کے دوران وعدہ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے شروع کیے گئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز پروگرام کی طرز پر گلگت بلتستان میں بھی جدید رہائشی منصوبہ متعارف کرایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد صرف انتخابات جیتنا یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے عوام کے مسائل، مطالبات اور شکایات براہِ راست قیادت تک پہنچائیں گے تاکہ دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے بہتر مواقع کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ہمیشہ محروم طبقات اور دور دراز علاقوں کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی فلاح، سماجی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی طاقت سے ہی خطے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کے عروج کے دوران مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں، جبکہ آنے والے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ -

انمول پنکی کیس، سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع
کراچی میں منشیات سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ملزمہ کے مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی ہیں، جنہیں تفتیش میں اہم دستاویزی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق منشیات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور مالی لین دین مبینہ طور پر دو اہم سہولت کاروں، ذیشان اور سہیل، کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ مالی سرگرمیوں کا سراغ مل سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ذیشان کے تین مختلف بینکوں میں مجموعی طور پر پانچ اکاؤنٹس موجود تھے، جبکہ دوسرے مبینہ سہولت کار سہیل کے دو مختلف بینکوں میں دو اکاؤنٹس فعال تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق یہ تمام اکاؤنٹس براہ راست انہی افراد کے زیر استعمال تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بینک ریکارڈ میں موجود مالی لین دین کی تفصیلات سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رقوم کہاں سے موصول ہوئیں، کن اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں اور ان مالی سرگرمیوں سے کون کون سے افراد یا ادارے منسلک تھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق اکاؤنٹس کے ڈیٹا کا فرانزک اور مالیاتی تجزیہ جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس معلومات کی مدد سے مبینہ منشیات نیٹ ورک، خریداروں، سپلائرز اور دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مالی ریکارڈ کسی بھی منظم جرائم کے مقدمے میں اہم شواہد تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے رقوم کے بہاؤ اور نیٹ ورک کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مقدمے کے تمام ملزمان عدالت کے حتمی فیصلے تک قانوناً بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ -

امریکا کی نئی ٹیرف تجویز، پاکستان سمیت 60 ممالک متاثر
امریکی انتظامیہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ اقدام ان ممالک پر اس الزام کے تحت سامنے آیا ہے کہ وہ جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی تجارت روکنے میں مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ تجویز کے مطابق پاکستان، یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، بنگلہ دیش، ملائیشیا، تائیوان اور دیگر ممالک کی درآمدات پر اضافی 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جبکہ دیگر 45 ممالک پر 12.5 فیصد تک اضافی محصولات لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام سیکشن 301 کے تحت کی جانے والی تحقیقات کا حصہ ہے، جس کا مقصد مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا جائزہ لینا اور امریکی صنعتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات عالمی منڈی میں امریکی کارکنوں کے لیے غیر مساوی مسابقت پیدا کرتی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے بننے والی مصنوعات کی درآمدات روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے امریکی کارکنوں اور صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
دوسری جانب یورپی اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض یورپی قانون سازوں نے امریکی نتائج کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک پہلے ہی جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کر چکے ہیں۔
مجوزہ ٹیرف کے نفاذ سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ محصولات نافذ ہو جاتے ہیں تو امریکی منڈی میں برآمدی مصنوعات کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور برآمدی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
امریکی تجارتی ادارے نے عوام، کاروباری اداروں اور متعلقہ فریقین سے 6 جولائی تک تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔ اس دوران مجوزہ ٹیرف اور متبادل اقدامات پر عوامی سماعتوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت پہلے ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل سے متاثر ہے، ایسے میں نئے تجارتی محصولات عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔