Baaghi TV

Blog

  • طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کے جنسی اورانسانیت سوزمظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اورجنگجوؤں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا افغان انٹرنیشنل کے طالبان حکام اورجنگجوؤں نے افغان خواتین کوانفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،طالبان حکام خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں ۔

    یوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کرتشدد،بدسلوکی اورجنسی استحصال کا نشانہ بنایا افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ معاملے کی آزاد، شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں ۔

  • امیرزادوں کا حساس ادارے کے افسر سمیت 3 افراد پر تشدد،مقدمہ درج

    امیرزادوں کا حساس ادارے کے افسر سمیت 3 افراد پر تشدد،مقدمہ درج

    لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس بی میں مبینہ طور پر لگژری گاڑی میں سوار بااثر نوجوانوں نے راستہ مانگنے پر حساس ادارے کے ایک افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا-

    پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے علاقے ڈیفنس بی میں پیش آیا جہاں شہری قوسین حیدر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک لگژری گاڑی سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی، جس پر گاڑی کو سائیڈ پر کرنے کیلئے ہارن اور ڈپر کا استعمال کیا گیا اس بات پر لگژری گاڑی میں سوار افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مبینہ طور پر بیچ سڑک ڈنڈوں، الیکٹرک راڈ اور اسلحے کے زور پر حساس ادارے کے افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا، متاثرہ افراد کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی بھی کوشش کی گئی –

    واقعے کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے جس میں مبینہ تشدد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں پولیس نے تشدد، حبسِ بے جا اور دھمکیوں سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں نامزد ملزمان میں لاہور کی ایک معروف کاروباری شخصیت کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • اسلام آباد میں مارکیٹس اور مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ،نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد میں مارکیٹس اور مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ،نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں توانائی بچت اقدامات کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے اوقات محدود کر دیے گئے ہیں-

    اسلام آباد میں مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہوں گے ضلعی انتظامیہ نے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو آج سے نافذ العمل ہوگاضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس اور تندور رات 10 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، کریانہ اسٹورز، سبزی و پھل کی دکانیں اور بیکری شاپس بھی رات 10 بجے بند ہوں گی، جبکہ شاد ی ہالز اور مارکیز کو بھی رات 10 بجے تک تقریبات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے-

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فارمیسیز، اسپتال، میڈیکل لیبارٹریز اور میڈیکل اسٹورز کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اسی طرح پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور دودھ و ڈیری شاپس پر بھی نئے اوقات کار لاگو نہیں ہوں گے ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی، جبکہ جم، پیڈل کورٹس اور دیگر اسپورٹس سہولیات بھی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو بھی معمول کے مطابق کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات توانائی کے مؤثر استعمال اور بجلی کی بچت کیلئے کیے گئے ہیں، جبکہ یہ نوٹیفکیشن اگلے احکامات تک مؤثر رہے گا۔

  • ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے،پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے،افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

  • لیسکو قصور سب ڈویژن بابا بلھے شاہ قہر بن کر ٹوٹ پڑی،نوٹس کی اپیل

    قصور
    بلھے شاہ سب ڈویژن واپڈا کی طویل لوڈشیڈنگ، شہری شدید پریشان

    قصور بلھے شاہ سب ڈویژن کوٹ غلام محمد خان اور گردونواح کے علاقوں میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ عوام کے لیے عذاب بن گئی۔ متعدد علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی بار بار اور طویل بندش نے معمولات زندگی مفلوج کر دیے ہیں
    شہریوں نے شکایت کی کہ عید الاضحیٰ کے ایام میں بھی بجلی کی فراہمی مسلسل متاثر رہی جس کے باعث لوگوں کو شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ واپڈا حکام کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے اوقات کار کے بارے میں کوئی واضح شیڈول جاری نہیں کیا جاتا، جس کے باعث گھریلو صارفین، کاروباری حضرات اور طلبہ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    اہل علاقہ نے اعلیٰ واپڈا حکام اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بلھے شاہ سب ڈویژن کوٹ غلام محمد خان اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کا قیمتی سرمایہ، ترقی کا محور اور مستقبل کی امید ہیں۔ یہی نوجوان اگر علم، ہنر اور صحت کے زیور سے آراستہ ہوں تو ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہے، لیکن اگر وہ مضر عادات کا شکار ہو جائیں تو نہ صرف ان کی اپنی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات بھگتتا ہے۔ ان مضر عادات میں تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی صحت، کردار، معاشی حالت اور مستقبل کو نگل جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی بظاہر ایک معمولی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک زہر ہے۔ سگریٹ، شیشہ، ویپنگ اور دیگر تمباکو مصنوعات انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی سطح پر لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور متعدد دیگر جان لیوا مسائل تمباکو نوشی کے براہِ راست نتائج ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے نوجوان محض شوق، دوستوں کے دباؤ، وقتی تفریح یا خود کو جدید ثابت کرنے کی خواہش میں اس عادت کا آغاز کرتے ہیں۔ ابتدا میں ایک یا دو سگریٹ سے شروع ہونے والا سفر جلد ہی ایسی لت میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں رہتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ یوں نوجوان اپنی صلاحیتوں، توانائی اور خوابوں کو ایک دھوئیں کے بادل میں گم کر دیتے ہیں۔

    نوجوانوں کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمباکو نوشی غلامی ہے،کمزوری کی نشانی ہے۔ حقیقی آزادی اس میں ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور غلط رجحانات پر قابو پائے۔ جو نوجوان سگریٹ کے دھوئیں سے دور رہتا ہے، وہ اپنی صحت، عزتِ نفس اور مستقبل کی حفاظت کرتا ہے۔تمباکو نوشی کا نقصان صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتا۔ گھر کے افراد، دوست احباب اور اردگرد موجود لوگ بھی اس کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بچے، بزرگ اور خواتین غیر ارادی طور پر اس زہریلے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں جس سے ان کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرد کی بری عادت پورے خاندان کی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک تباہ کن عمل ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر مہینوں اور سالوں میں یہی رقم ایک بڑی رقم بن جاتی ہے۔ یہ سرمایہ تعلیم، کاروبار، کتابوں، صحت اور خاندان کی ضروریات پر خرچ ہو سکتا ہے، لیکن تمباکو نوشی اسے دھوئیں میں اڑا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے علاج پر آنے والے اخراجات الگ بوجھ بن جاتے ہیں۔پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل تمباکو سے مکمل دوری اختیار کرے۔ تعلیمی اداروں، والدین، اساتذہ، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں، کھیلوں، مطالعے اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری کاموں میں صرف کریں گے تو وہ خود بخود ایسی مضر عادات سے دور رہیں گے۔

    آج ہر نوجوان کو اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا چند لمحوں کی جھوٹی تسکین میرے خوابوں، صحت اور مستقبل سے زیادہ قیمتی ہے؟ یقیناً جواب نفی میں ہوگا۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی نہ صرف صحت کے خلاف جرم ہے بلکہ اپنے مستقبل کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔آج عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی سے دور رہیں گے اور اپنے دوستوں، بھائیوں، بہنوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اس زہر سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ تمباکو سے پاک پاکستان قومی ضرورت ہے۔ جب ہمارے نوجوان صحت مند ہوں گے، ان کے خواب زندہ ہوں گے، ان کی صلاحیتیں محفوظ ہوں گی اور ان کی توانائیاں مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی تو پاکستان ترقی، خوشحالی اور کامیابی کی نئی داستان رقم کرے گا۔

    تمباکو کا دھواں وقتی طور پر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات زندگی بھر انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔ اس لیے آج ہی فیصلہ کیجیے، ابھی فیصلہ کیجیے، اور اپنے آپ کو اس زہر سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیجیے۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے، اور تمباکو سے پاک پاکستان ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    دنیا بھر میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد لوگوں کو ان خطرناک اثرات سے آگاہ کرنا ہے جو تمباکو کے استعمال کی وجہ سے انسانی صحت، معیشت اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش وبا بن چکی ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں نگل رہی ہے۔ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں تمباکو نوشی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی مہم کا آغاز 1987 میں کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں تمباکو کے نقصانات کے بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص موضوع منتخب کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ان طریقوں سے آگاہ کرنا ہے جن کے ذریعے تمباکو کمپنیاں اپنی مصنوعات کو جدید فیشن اور پرکشش طرز زندگی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

    اگر دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی صورتحال دیکھی جائے تو اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 7 ملین سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً 13 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو استعمال نہیں کرتے مگر دوسروں کے دھوئیں، یعنی سیکنڈ ہینڈ سموک، کا شکار ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1.3 ارب تک پہنچ چکی ہے اور ان میں بڑی تعداد ایسے ممالک کی ہے جہاں صحت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور کئی دیگر خطرناک پیچیدگیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے سخت قوانین، بھاری ٹیکس اور آگاہی مہمات کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی کی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں اس کا رجحان اب بھی خطرناک حد تک موجود ہے۔
    پاکستان میں لاکھوں افراد تمباکو کی مختلف قسمیں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے علاوہ نسوار، گٹکا، پان، شیشہ اور بیڑی جیسی مصنوعات بھی عام ہیں۔ مختلف قومی سرویز کے مطابق ملک میں مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم خواتین اور نوجوان لڑکیوں میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مزیدتشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمباکو نوشی ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    تمباکو نوشی کے اثرات صرف تمباکو استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر پھیلنے والا دھواں بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق تمباکو کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جن میں درجنوں ایسے ہیں جوکینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی بچوں کی کمزور پیدائش، قبل از وقت ولادت اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے ۔ اسی طرح بچوں میں سانس کی بیماریاں، الرجی اور پھیپھڑوں کی کمزوری بھی تمباکوکے دھوئیں سے جڑی ہوئی ہیں۔
    تمباکو کی صنعت کا سب سے بڑا ہدف نوجوان نسل ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً بارہ سو بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔ نوجوانی میں شروع ہونے والی یہ عادت اکثر پوری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مزید یہ کہ جدید دور میں ای سگریٹ اور ویپنگ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہیں ”محفوظ متبادل“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق ان میں موجود نیکوٹین نوجوان دماغ کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے اور انسان کو مستقل نشے کی طرف لے جاتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت پر تمباکو نوشی کے اثرات بھی بہت خطرناک ہیں۔ اگرچہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے ٹیکس حاصل ہوتا ہے، مگر تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج، ادویات، ہسپتالوں کے اخراجات اور افرادی قوت کے نقصان کی صورت میں قومی معیشت کو کہیں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 1800 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس سے قومی پیداوار اور معاشی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
    حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں۔مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر تصویری انتباہات، اشتہارات پر پابندیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ان قوانین پر موثر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی سگریٹ کی فروخت، کم قیمت مصنوعات کی دستیابی اور تمباکو کمپنیوں کا اثر و رسوخ اکثر ان پالیسیوں کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
    دنیا کے کئی ممالک میں سخت پالیسیوں کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔تمباکو پر بھاری ٹیکس، مارکیٹنگ پر مکمل پابندی اور مسلسل آگاہی مہمات نے مثبت نتائج دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرپاکستان میں تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، نوجوانوں تک ان کی رسائی محدود کی جائے اور آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تو تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی ادارے نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو اس لت کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اسی طرح میڈیا بھی تمباکو نوشی کو فیشن یا تفریح کے بجائے ایک سنگین خطرے کے طور پر پیش کرے۔
    اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کے تحفظ اور صحت کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ اسلام ہر اس عمل سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کاسبب بنے۔ تمباکو نوشی نہ صرف انسان کی اپنی صحت تباہ کرتی ہے بلکہ اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں،یہ غریب خاندانوں کے محدود وسائل کو ایک نقصان دہ عادت پر خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ یہی وسائل تعلیم، خوراک اور بہتر زندگی پر خرچ ہو سکتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ 31 مئی صرف ایک عالمی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اموات اور اربوں روپے کے معاشی نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اب خاموش رہنے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنماوں اور سول سوسائٹی سب کو مل کر موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ اگر آج اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزاریں گی جہاں بیماری، کمزور صحت اور معاشی مسائل مزید بڑھ چکے ہوں گے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے بچائیں، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں صاف ہوا میں سانس لینا ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔