Baaghi TV

Blog

  • ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی عبوری ضمانت میں مزید توسیع

    ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی عبوری ضمانت میں مزید توسیع

    سیشن کورٹ نے آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کے مقدمے میں نامزد ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم مبارک عرف نانی والا کی عبوری ضمانت میں 26 مارچ تک توسیع کر دی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منصور احمد قریشی نے درخواستوں پر سماعت کی، دونوں ملزمان ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئےعدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو آئندہ سماعت پر مقدمے کا مکمل تفتیشی ریکارڈ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

    واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے ستمبر 2025 میں مذکورہ ٹک ٹاکرز کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں ان پر آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

  • امریکی صدر  کا  چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ چین میں ممکنہ تاخیر پر امریکی وضاحت کو نوٹ کرلیا ہے-

    ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے انہوں نے چینی صدر کے ساتھ ملاقات کو قریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے،چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس دورے کا آبنائے ہرمز کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

    دوسری جانب امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں ہونے والے حالیہ تجارتی مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جو دونوں بڑی معیشتوں کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا کرتے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

  • مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فیض رحمان

    حالیہ دنوں میں ایران کے سینئر اور نسبتاً اعتدال پسند رہنما علی لاریجانی کا قتل مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک موڑ ہے۔ علی لاریجانی کا شمار ان عالمی اور علاقائی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو تنازعات کو سفارتکاری اور پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے حق میں تھے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایرانی قوم بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کی رسائی اور عزائم
    اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو اسرائیل کی ایرانی سیکیورٹی نظام میں گہری رسائی ہے۔ یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت تک اتنی درست اور بروقت رسائی کیسے حاصل ہے؟ یہ دراصل اسرائیل کی جدید ‘ٹیکنالوجیکل انٹیلی جنس’ اور زمینی سطح پر موجود ‘ہیومن انٹیلی جنس’ (جاسوسی نیٹ ورک) کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اس دراندازی نے ایرانی سیکیورٹی کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ قیادت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، اس حملے سے اسرائیل کے جنگی عزائم بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے اور ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو طویل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اسے جلد از جلد سمیٹنے کی خواہش مند ہیں۔

    ایران کا غیر مرکزی (Decentralized) دفاعی نظام
    ان تمام تر نقصانات اور ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کے باوجود، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس متبادل قیادت کا ایک انتہائی مؤثر اور خودکار نظام موجود ہے۔ ان کے سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے میں قیادت کی کئی تہیں (Layers) بنائی گئی ہیں، جو کسی بھی اہم رہنما کی شہادت کی صورت میں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔

    مزید برآں، ایرانی جنگی مشینری کسی ایک مرکز کی محتاج نہیں ہے۔
    ملک بھر میں تقریباً 33 آزاد یونٹس (Independent Units) موجود ہیں جو ایک طے شدہ حکمت عملی (Playbook) کے تحت ‘آٹو پائلٹ’ موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے خلا کے باوجود ان کی جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔ یہ جنگ روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایک ‘غیر متناسب جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں ایک علاقائی طاقت بڑی عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر کو نیٹو، یورپ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔
    اندرونی محاذ: ایران کا اتحاد بمقابلہ امریکی تقسیم

    جنگ کے اندرونی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو ایک حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل، ایران میں مذہبی حکومت کے خلاف شدید عوامی مظاہرے جاری تھے۔ تاہم، اس بیرونی حملے نے پوری ایرانی قوم کو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر متحد کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک اب حکومت کی مخالفت نہ ہونے کے برابر ہے، اور محض بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن (Diaspora) کی جانب سے ہی تنقید کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اس کے بالکل برعکس، اس جنگ کے سب سے بڑے حامی، یعنی امریکہ میں شدید اندرونی تقسیم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے، اور یہ تقسیم اب وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) بھی اس جنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، وائٹ ہاؤس کے کاؤنٹر ٹیررزم انٹیلی جنس یونٹ کے ڈائریکٹر کا احتجاجاً استعفیٰ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک بااثر طبقہ اس جنگ کو "امریکہ کی جنگ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جنگ” سمجھتا ہے۔

    مختصراً یہ کہ علی لاریجانی جیسے اہم رہنماؤں کے نقصان کے باوجود، ایران کا بنیادی دفاعی اور عسکری ڈھانچہ بظاہر تباہ نہیں ہوا۔ بیرونی خطرے نے ایران کو اندرونی طور پر مستحکم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو شدید اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

  • علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش

    علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش

    ایران نے آپریشن وعدہ صادق4 کے تحت اسرائیل پر حملوں کی 61ویں لہر شروع کر دی حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

    ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، یہ کارروائی مسلسل جاری عسکری مہم کا حصہ ہے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر چار، قدر، عماد اور خیبر شکن سمیت سو سے زائد میزائل داغے گئے، جن کے ذریعے دو سو سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے جواب میں کیے گئے، جس میں کلسٹر وار ہیڈز والے میزائل استعمال کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    ایرانی صدر نے بیان میں کہا کہ امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور حملوں کے خلاف دفاع ایران کا فطری حق ہے، جس میں وہ ماہر ہیں علی لاریجانی کی شہادت کا انتقام لیں گے، ایران نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں جنگ ختم کرنے کی بات معنی نہیں رکھتی، ایران کے خلاف امریکی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے۔

    بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تل ابیب میں ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جب کہ عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ایران نے رات گئے مزید میزائل داغے جس کے بعد تل ابیب میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں دو اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا حملوں کے بعد تل ابیب کے ایک ٹرین اسٹیشن میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کلسٹر وار ہیڈز ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جو فضا میں پھٹ کر کئی چھو ٹے دھماکوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور وسیع علاقے کو نشانہ بناتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا مشکل ہوتا ہے تل ابیب پر ہونے والے حملے کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر چودہ ہو گئی ہے۔

  • علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    جعفریہ الائنس کے ترجمان نے ایران کی اہم سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ سے تعزیت کی ہے۔

    ترجمان جعفریہ الائنس کے مطابق علی لاریجانی صہیونی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے، علی لاریجانی کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے تاہم یہ قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی اور مزاحمت کے جذبے کو نئی قوت دے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ علی لاریجانی نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر امام حسین کے شہادت سے متعلق قول کو دہرایا جو ان کے عزم اور نظریاتی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    جعفریہ الائنس کے سیکریٹری اطلاعات احسن مہدی کے مطابق، علی لاریجانی کی شہادت ایک عظیم مثال ہے جو آنے والی نسلوں کو ظلم کے خلاف کھڑ ے ہونے کا حوصلہ دے گی، ایسی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور حق و باطل کی جنگ میں سچائی کی فتح کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    واضح رہے کہ ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ملک کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندہ خدا سے جا ملا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا،علی لاریجانی تہران کے مشرقی علاقے میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے تھے جہاں ان پر حملہ ہوا، حملے میں ان کا بیٹا مرتضٰی بھی شہید ہو گیا۔

    ایرانی صدر مسعو دپزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، انہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں انہیں وسیع تجربہ تھا،شہید علی لاریجانی نے خطے میں امن اور سلامتی کو فروغ دینے کی کوششیں کیں۔

  • دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    پاک فضائیہ کے بہادر اور عظیم ہیرو ایم ایم عالم کی 13ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

    قوم اپنے اس جری سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دے کر تاریخ رقم کی،جنگ ستمبر 1965 کے دوران سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے دشمن کے 5 بھارتی ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں سے 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر تباہ کیے گئے۔

    یہ کارنامہ آج بھی جنگی ہوابازی کی تاریخ میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے،اس تاریخی مشن کے دوران وہ ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے، جنگ کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے 11 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے 9 مکمل تباہ جبکہ 2 کو جزوی نقصان پہنچاان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ان کے طیارے پر 11 بھارتی پرچم نمایاں کیے گئے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    ایم ایم عالم کی کامیابی کے پیچھے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ وطن سے بے پناہ محبت اور جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز “ستارۂ جرأت” سے نوازا،ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے انہیں پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) کے شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

    قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

  • مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    اسلام آباد: پی آئی اے نے خطے کی صورت حال کے پیش نظر فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر لائن نے اگلے 48 گھنٹے کے لیے فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔

    ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے لیے ایئر لائن کی پروازیں حسب معمول جاری رہیں گی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ فی الحال متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں صرف العین کے لیے ہی آپریٹ کی جائیں گی۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

  • قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

    قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

    قصور میں خسرہ کی وباء کا خدشہ، 7 بچے متاثر ، بروقت کارروائی پر ریسکیو 1122 نے ہسپتال منتقل کر دیا

    قصور کے نواحی علاقے موضع ویر کے نول نزد تلونڈی میں خسرہ کے کیسز سامنے آنے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ریسکیو 1122 کے مطابق ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے وزٹ کے دوران ابتدائی طور پر 5 بچوں میں خسرہ کی علامات کی نشاندہی کی
    تاہم بعد ازاں مذید کیسز سامنے آنے پر متاثرہ بچوں کی تعداد 7 ہو گئی
    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی قریبی ٹیم کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا
    ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اطلاع دینے والے ڈاکٹر خود محکمہ صحت سے وابستہ ہیں اور اپنی بہن کے گھر آئے ہوئے تھے جہاں بچوں کو چیک کرنے پر خسرہ کی علامات ظاہر ہوئیں
    مذید انکشاف ہوا کہ گاؤں میں بچوں کو حفاظتی ویکسین نہیں لگائی گئی جس کے باعث بیماری پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا
    صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ صحت قصور کے انچارج ڈاکٹر فیصل کو آگاہ کیا گیا جن کی ہدایت پر ہیلتھ ٹیم نے فوری موقع پر پہنچ کر اسکریننگ کی
    مذید متاثرہ بچے سامنے آنے پر ریسکیو اہلکاروں نے تمام بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بہتر علاج کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چونیاں منتقل کر دیا
    متاثرہ بچوں میں 2 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں
    تمام بچوں کو مذید علاج اور نگرانی کے لیے THQ اسپتال چونیاں میں داخل کر دیا گیا ہے
    محکمہ صحت نے علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن اور سرویلنس شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ ممکنہ وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی حملہ کیا گیا، عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق سفارتخانے کو متعدد راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک بار پھر قانون شکن گروہوں نے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنا کر مجرمانہ جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔” بیان میں اس حملے کو عراق کی خودمختاری اور ریاستی اختیار پر کھلا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔فوج نے عزم ظاہر کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انہیں ان کے جرائم کی مکمل سزا دی جا سکے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سفارتخانے کے کمپاؤنڈ پر کم از کم چار مختلف پروجیکٹائل داغے گئے، جن میں دو ڈرون بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک سفارتخانے کے قریب آ کر گرا۔ اس سے قبل منگل کی صبح بھی ایک اور حملے کی کوشش کی گئی تھی جسے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دوسری جانب بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک امریکی سفارتی تنصیب کو بھی دو پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق اس موقع پر بھی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، تاہم نقصانات یا دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

    ادھر “اسلامک ریزسٹنس ان عراق” نامی گروپ، جس میں ایران نواز ملیشیائیں شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کے روز عراق کے اندر اور باہر امریکی مفادات کے خلاف درجنوں ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے 47 حملے کیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے نئے میزائل حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے، جبکہ آسمان پر روشنی کی چمک دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب کے اوپر کلسٹر میونیشن ( جیسا میزائل بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا۔اسرائیلی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ممکنہ میزائل گرنے کی جگہوں کی جانب روانہ ہو گئی ہیں، جہاں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔