Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

دنیا بھر میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد لوگوں کو ان خطرناک اثرات سے آگاہ کرنا ہے جو تمباکو کے استعمال کی وجہ سے انسانی صحت، معیشت اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش وبا بن چکی ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں نگل رہی ہے۔ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں تمباکو نوشی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی مہم کا آغاز 1987 میں کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں تمباکو کے نقصانات کے بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص موضوع منتخب کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ان طریقوں سے آگاہ کرنا ہے جن کے ذریعے تمباکو کمپنیاں اپنی مصنوعات کو جدید فیشن اور پرکشش طرز زندگی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

اگر دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی صورتحال دیکھی جائے تو اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 7 ملین سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً 13 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو استعمال نہیں کرتے مگر دوسروں کے دھوئیں، یعنی سیکنڈ ہینڈ سموک، کا شکار ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1.3 ارب تک پہنچ چکی ہے اور ان میں بڑی تعداد ایسے ممالک کی ہے جہاں صحت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور کئی دیگر خطرناک پیچیدگیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے سخت قوانین، بھاری ٹیکس اور آگاہی مہمات کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی کی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں اس کا رجحان اب بھی خطرناک حد تک موجود ہے۔
پاکستان میں لاکھوں افراد تمباکو کی مختلف قسمیں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے علاوہ نسوار، گٹکا، پان، شیشہ اور بیڑی جیسی مصنوعات بھی عام ہیں۔ مختلف قومی سرویز کے مطابق ملک میں مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم خواتین اور نوجوان لڑکیوں میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مزیدتشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمباکو نوشی ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

تمباکو نوشی کے اثرات صرف تمباکو استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر پھیلنے والا دھواں بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تمباکو کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جن میں درجنوں ایسے ہیں جوکینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی بچوں کی کمزور پیدائش، قبل از وقت ولادت اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے ۔ اسی طرح بچوں میں سانس کی بیماریاں، الرجی اور پھیپھڑوں کی کمزوری بھی تمباکوکے دھوئیں سے جڑی ہوئی ہیں۔
تمباکو کی صنعت کا سب سے بڑا ہدف نوجوان نسل ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً بارہ سو بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔ نوجوانی میں شروع ہونے والی یہ عادت اکثر پوری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مزید یہ کہ جدید دور میں ای سگریٹ اور ویپنگ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہیں ”محفوظ متبادل“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق ان میں موجود نیکوٹین نوجوان دماغ کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے اور انسان کو مستقل نشے کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان کی معیشت پر تمباکو نوشی کے اثرات بھی بہت خطرناک ہیں۔ اگرچہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے ٹیکس حاصل ہوتا ہے، مگر تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج، ادویات، ہسپتالوں کے اخراجات اور افرادی قوت کے نقصان کی صورت میں قومی معیشت کو کہیں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 1800 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس سے قومی پیداوار اور معاشی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں۔مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر تصویری انتباہات، اشتہارات پر پابندیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ان قوانین پر موثر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی سگریٹ کی فروخت، کم قیمت مصنوعات کی دستیابی اور تمباکو کمپنیوں کا اثر و رسوخ اکثر ان پالیسیوں کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں سخت پالیسیوں کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔تمباکو پر بھاری ٹیکس، مارکیٹنگ پر مکمل پابندی اور مسلسل آگاہی مہمات نے مثبت نتائج دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرپاکستان میں تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، نوجوانوں تک ان کی رسائی محدود کی جائے اور آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تو تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی ادارے نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو اس لت کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اسی طرح میڈیا بھی تمباکو نوشی کو فیشن یا تفریح کے بجائے ایک سنگین خطرے کے طور پر پیش کرے۔
اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کے تحفظ اور صحت کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ اسلام ہر اس عمل سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کاسبب بنے۔ تمباکو نوشی نہ صرف انسان کی اپنی صحت تباہ کرتی ہے بلکہ اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں،یہ غریب خاندانوں کے محدود وسائل کو ایک نقصان دہ عادت پر خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ یہی وسائل تعلیم، خوراک اور بہتر زندگی پر خرچ ہو سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ 31 مئی صرف ایک عالمی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اموات اور اربوں روپے کے معاشی نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اب خاموش رہنے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنماوں اور سول سوسائٹی سب کو مل کر موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ اگر آج اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزاریں گی جہاں بیماری، کمزور صحت اور معاشی مسائل مزید بڑھ چکے ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے بچائیں، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں صاف ہوا میں سانس لینا ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

More posts