Baaghi TV

Blog

  • دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    پاک فضائیہ کے بہادر اور عظیم ہیرو ایم ایم عالم کی 13ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

    قوم اپنے اس جری سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دے کر تاریخ رقم کی،جنگ ستمبر 1965 کے دوران سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے دشمن کے 5 بھارتی ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں سے 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر تباہ کیے گئے۔

    یہ کارنامہ آج بھی جنگی ہوابازی کی تاریخ میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے،اس تاریخی مشن کے دوران وہ ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے، جنگ کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے 11 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے 9 مکمل تباہ جبکہ 2 کو جزوی نقصان پہنچاان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ان کے طیارے پر 11 بھارتی پرچم نمایاں کیے گئے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    ایم ایم عالم کی کامیابی کے پیچھے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ وطن سے بے پناہ محبت اور جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز “ستارۂ جرأت” سے نوازا،ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے انہیں پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) کے شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

    قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

  • مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    اسلام آباد: پی آئی اے نے خطے کی صورت حال کے پیش نظر فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر لائن نے اگلے 48 گھنٹے کے لیے فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔

    ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے لیے ایئر لائن کی پروازیں حسب معمول جاری رہیں گی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ فی الحال متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں صرف العین کے لیے ہی آپریٹ کی جائیں گی۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

  • قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

    قصور میں خسرے کی وباء کا خدشہ،کئی بچے ہسپتال داخل

    قصور میں خسرہ کی وباء کا خدشہ، 7 بچے متاثر ، بروقت کارروائی پر ریسکیو 1122 نے ہسپتال منتقل کر دیا

    قصور کے نواحی علاقے موضع ویر کے نول نزد تلونڈی میں خسرہ کے کیسز سامنے آنے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ریسکیو 1122 کے مطابق ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے وزٹ کے دوران ابتدائی طور پر 5 بچوں میں خسرہ کی علامات کی نشاندہی کی
    تاہم بعد ازاں مذید کیسز سامنے آنے پر متاثرہ بچوں کی تعداد 7 ہو گئی
    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی قریبی ٹیم کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا
    ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اطلاع دینے والے ڈاکٹر خود محکمہ صحت سے وابستہ ہیں اور اپنی بہن کے گھر آئے ہوئے تھے جہاں بچوں کو چیک کرنے پر خسرہ کی علامات ظاہر ہوئیں
    مذید انکشاف ہوا کہ گاؤں میں بچوں کو حفاظتی ویکسین نہیں لگائی گئی جس کے باعث بیماری پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا
    صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ صحت قصور کے انچارج ڈاکٹر فیصل کو آگاہ کیا گیا جن کی ہدایت پر ہیلتھ ٹیم نے فوری موقع پر پہنچ کر اسکریننگ کی
    مذید متاثرہ بچے سامنے آنے پر ریسکیو اہلکاروں نے تمام بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بہتر علاج کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چونیاں منتقل کر دیا
    متاثرہ بچوں میں 2 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں
    تمام بچوں کو مذید علاج اور نگرانی کے لیے THQ اسپتال چونیاں میں داخل کر دیا گیا ہے
    محکمہ صحت نے علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن اور سرویلنس شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ ممکنہ وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی حملہ کیا گیا، عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق سفارتخانے کو متعدد راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    عراقی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک بار پھر قانون شکن گروہوں نے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنا کر مجرمانہ جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔” بیان میں اس حملے کو عراق کی خودمختاری اور ریاستی اختیار پر کھلا دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔فوج نے عزم ظاہر کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ انہیں ان کے جرائم کی مکمل سزا دی جا سکے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سفارتخانے کے کمپاؤنڈ پر کم از کم چار مختلف پروجیکٹائل داغے گئے، جن میں دو ڈرون بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک سفارتخانے کے قریب آ کر گرا۔ اس سے قبل منگل کی صبح بھی ایک اور حملے کی کوشش کی گئی تھی جسے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دوسری جانب بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک امریکی سفارتی تنصیب کو بھی دو پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق اس موقع پر بھی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، تاہم نقصانات یا دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

    ادھر “اسلامک ریزسٹنس ان عراق” نامی گروپ، جس میں ایران نواز ملیشیائیں شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کے روز عراق کے اندر اور باہر امریکی مفادات کے خلاف درجنوں ڈرونز اور راکٹوں کے ذریعے 47 حملے کیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے نئے میزائل حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے، جبکہ آسمان پر روشنی کی چمک دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب کے اوپر کلسٹر میونیشن ( جیسا میزائل بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا۔اسرائیلی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ممکنہ میزائل گرنے کی جگہوں کی جانب روانہ ہو گئی ہیں، جہاں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحری جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب ، سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا

    امریکی بحریہ کا ایک جدید جنگی جہاز، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ میرینز اور بحری اہلکاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے، اس وقت سنگاپور کے قریب اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ملاکا کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔

    منگل کے روز سامنے آنے والے میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نیوی کا ایمفیبیئس اسالٹ شپ USS Tripoli جنوبی بحیرۂ چین کے جنوب مغربی کنارے پر واقع سنگاپور کے قریب دیکھی گئی۔ عام طور پر امریکی جنگی جہاز اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھتے ہیں، تاہم مصروف سمندری راستوں سے گزرتے وقت AIS ٹرانسپونڈر کو فعال رکھا جاتا ہے تاکہ دیگر جہازوں کے ساتھ تصادم سے بچا جا سکے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس جہاز کے ذریعے اضافی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ میرینز جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں تعینات 31st Marine Expeditionary Unit (MEU) سے تعلق رکھتے ہیں، جو تقریباً 2200 اہلکاروں پر مشتمل ایک تیز رفتار ردعمل دینے والی فورس ہے۔ ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے اس یونٹ کو فوری تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی موجود ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئے بھیجے جانے والے میرینز کو کہاں تعینات کیا جائے گا یا ان کا مخصوص مشن کیا ہوگا۔ماہرین کے مطابق ایک MEU چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، کمانڈ، زمینی جنگی یونٹ، فضائی جنگی یونٹ اور لاجسٹک سپورٹ۔ یہ یونٹس عموماً ہنگامی انخلاء، ساحلی حملوں اور خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    تقریباً 850 فٹ طویل اور 45 ہزار ٹن وزنی USS Tripoli کو ایک چھوٹے طیارہ بردار جہاز کے برابر سمجھا جاتا ہے، جو جدید F-35 اسٹیلتھ طیارے، MV-22 Osprey ٹرانسپورٹ طیارے اور لینڈنگ کرافٹ اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ جہاز 11 مارچ کو اوکیناوا سے روانہ ہوا تھا اور اب جنوبی بحیرۂ چین سے ہوتا ہوا سنگاپور کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ عام طور پر اس کے ساتھ دیگر معاون جہاز بھی ہوتے ہیں، تاہم موجودہ ڈیٹا میں ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • دشمن کی  سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ دشمن کی پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا، پاکستانی آپسی جھگڑوں،لسانیت، فرقہ واریت سے نکل کر ایک قوم بن جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتی،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی ترجمان تابش قیوم ،حافظ امیر حمزہ رافع نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آج دنیا اور پاکستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا تھا ہمیں اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا،قائداعظم نے قیام پاکستان کے لئے تحریک چلائی لوگوں کو جمع کیا اور صرف ایک پیغام دیا کہ ہم ایک قوم ہیں،ہمیں ایک ایسا خطہ چاہئے جہاں ہم اپنی اکثریت کے مطابق اپنے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں، حقوق و فرائض کا تعین کر سکیں، آج مشرق وسطیٰ میں جنگ ہے،ا س خطے میں بھی جنگ ہے، مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے اگر طاقتور ہوا تو سب کا دفاع کرے گا کیونکہ ایٹمی طاقت ہے اور مخالف یہ سمججھتے ہیں کہ پاکستان طاقتور ہوا،آگے بڑھا تو خطرہ ہے اس لئے پاکستا ن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کو کمزورصرف اور صرف فرقہ واریت،لسانیت،صوبائیت،دہشتگردی سے کیا جا سکتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے لسانیت، علاقائیت سے باہر نکل کر ہمیں ایک قوم بننا ہو گا،ہم ایک قوم بن جائیں تو کوئی طاقت پاکستان کامقابلہ نہیں کر سکتی،ہمیں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحدہونے کی ضرورت ہے، ہماری ایک شناخت پاکستانی ہے، بطور پاکستانی ملک کے ساتھ وفا کریں گے،

  • ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، خلیجی خطے میں امریکی اڈے نشانہ بن گئے

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آج رات اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی 60ویں لہر کے دوران خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی نئی ویڈیوز بھی جاری کر دی گئی ہیں، جن میں مختلف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی لانچنگ دکھائی گئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکی فوجی تنصیبات ،اردن میں مووفق السلطی ایئر بیس،قطر میں العدید ایئر بیس،متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس،کویت میں علی السالم ایئر بیس،سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر کئے گئے اس آپریشن میں طویل اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائل استعمال کیے گئے، جن میں عماد (Emad)، قیام (Qiam)، ذوالفقار (Zolfaghar) اور دزفول (Dezful) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کروز میزائل اور خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ایرانی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کے شہر اشدود میں واقع فضائی معاونت اور ری فیولنگ مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ دفاعی کمپنی رافیل کے عسکری و اسلحہ جاتی مراکز پر بھی عماد اور قدر میزائل سسٹمز کے ذریعے حملے کیے گئے۔تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان یا جانی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ امریکہ یا متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

  • آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی: ایران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی صورتحال اب کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات نے خطے کے اس اہم آبی گزرگاہ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب ایک نئی جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حساس علاقے میں سیکیورٹی کی بحالی میں کردار ادا کریں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس حوالے سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران ماضی میں بھی خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اس گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے بعد یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔خلیج فارس سے خلیج عمان تک پھیلا یہ تنگ سمندری راستہ تقریباً 100 میل طویل ہے جبکہ اس کی کم سے کم چوڑائی صرف 24 میل ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں

  • شہدا  کے خون کو ہرگز  نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کی شہادت پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ عظیم شہید اور دیگر شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز شخصیت، مفکر اور انقلابی رہنما قرار دیا اورکہا کہ شہید علی لاریجانی کا خون، دیگر شہدا کی طرح، عزت، طاقت اور قومی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ وہ علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

    یاد رہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے۔ایرانی حکام نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی، ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوگئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کومشرقی تہران میں نشانہ بنایاگیا، وہ تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔