Baaghi TV

Blog

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اور اس زندگی کو صحت و تندرستی کے ساتھ گزارنا ہر انسان کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے کارخانے، عمارتیں یا سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے تندرست اور باشعور عوام ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک ایسی خاموش وبا کی لپیٹ میں ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ وبا کوئی اور نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہمارے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

    اگر ہم اپنے ارد گرد مشاہدہ کریں، تو آج سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں ایک فیشن بن چکی ہے۔ کبھی دور تھا جب بڑوں کے سامنے سگریٹ پینا عیب سمجھا جاتا تھا، لیکن آج گلی محلوں، چائے کے ہوٹلوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے باہر نو عمر لڑکے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی دھواں اڑاتی نظر آتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ شیشہ اور ویپ (Vape) جیسے نئے نشوں نے جنم لے لیا ہے، جنہیں نوجوان یہ سوچ کر اپناتے ہیں کہ شاید یہ نقصان دہ نہیں ہیں یا یہ جدید دور کا فیشن ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، جس کے پیچھے تمباکو بنانے والی کمپنیوں کی کروڑوں روپے کی مارکیٹنگ چھپی ہوئی ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک انسان کی صحت کو برباد نہیں کرتی، بلکہ یہ پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ سگریٹ کا دھواں جب پھیپھڑوں میں جاتا ہے، تو وہ صرف کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریاں ہی پیدا نہیں کرتا، بلکہ گھر کے بجٹ کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ ایک غریب یا مڈل کلاس گھرانے کا فرد جب اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دیتا ہے، تو اس کے بچوں کی تعلیم اور اچھی غذا کا حق چھن جاتا ہے۔

    اس سے بھی بڑا المیہ "پیسو اسموکنگ” (Passive Smoking) ہے، یعنی سگریٹ پینے والے کے پاس بیٹھنے والے معصوم بچے اور گھر کے دیگر افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کا شکار ہو کر انھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن کا انہوں نے کبھی گناہ بھی نہیں کیا ہوتا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، کتنے ہی گھروں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں،

    کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں سے محروم ہو جاتی ہیں اور کتنے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جس کا اندازہ پیسوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہماری نوجوان نسل، جو اس ملک کا مستقبل ہے، اگر وہ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو جائے گی، تو ملک کی ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟

    ایک بیمار نسل کبھی ایک مضبوط ملک کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پاکستان کو تمباکو سے پاک کیسے بنا سکتے ہیں؟

    یہ کام صرف حکومت کے اکیلے کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ بچے کسی ذہنی دباؤ یا دیکھا دیکھی میں آ کر غلط راستے پر نہ چل پڑیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صرف کتابی علم دینے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں باقاعدگی سے سیمینارز اور لیکچرز منعقد کرنے چاہئیں۔

    دوسری اہم ضرورت میڈیا کی طاقت کا درست استعمال ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ پینے کے مناظر کو "بہادری” یا "اسٹائل” کے طور پر دکھانا بالکل بند ہونا چاہیے، کیونکہ نوجوان نسل اپنے پسندیدہ اداکاروں کی نقل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باغی ٹی وی جیسے پلیٹ فارمز کی طرح، ڈیجیٹل میڈیا پر ایسی مہم چلانی چاہیے جو تمباکو نوشی کے بھیانک انجام کو سامنے لائے، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس زہر سے نفرت پیدا ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہوگا۔ پبلک مقامات، پارکوں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر عائد پابندی کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔

    تعلیمی اداروں کے ارد گرد تمباکو اور سگریٹ کی دکانوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور سگریٹ پر ٹیکسز اس حد تک بڑھا دیے جائیں کہ یہ عام نوجوان کی پہنچ سے دور ہو جائے۔

    آج ہمیں ایک قوم بن کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس خاموش قاتل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں، اپنے محلوں اور اپنے شہروں سے اس دھویں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

    زندگی اللّٰہ کی امانت ہے، اسے سگریٹ کے چند کشوں کی نذر کر کے ضائع مت کیجیے۔ آئیں، آج ہی سے عہد کریں کہ ہم خود بھی اس لت سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے، کیونکہ ایک صحت مند نوجوان ہی "تمباکو سے پاک پاکستان” کا ضامن ہے۔ اللّٰہ پاک ہمارے وطن کو اس زہر سے نجات دلائے اور ہمیں ایک تندرست اور مضبوط قوم بنائے، آمین۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    رات کے سناٹے میں شہر کی ایک گلی کے نکڑ پر چند نوجوان کھڑے تھے۔ ہنسی مذاق جاری تھا، موبائل فونز کی روشنی چہروں پر پڑ رہی تھی اور درمیان میں سگریٹ کا دھواں فضا میں ایسے بکھر رہا تھا جیسے کسی نے اندھیروں کو اور گہرا کر دیا ہو۔ ان میں سے ایک لڑکا خاموش کھڑا تھا۔ اس کی عمر بمشکل سترہ برس ہوگی۔ دوستوں نے ہنستے ہوئے اُس کی طرف سگریٹ بڑھایا اور کہا،
    “لو! مرد بنو!”

    وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اُس کے ذہن میں اپنی ماں کا چہرہ آیا، باپ کی محنت یاد آئی، چھوٹے بہن بھائیوں کی معصوم ہنسی گونجی۔ اُس نے سگریٹ لینے کے بجائے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دوست قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، مگر اُس لڑکے نے اسی لمحے ایک جنگ جیت لی تھی؛ اپنے نفس کی جنگ، اپنے مستقبل کی جنگ۔

    تمباکو نوشی صرف ایک عادت نہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان سے اُس کی زندگی چھیننے والا خاموش قاتل ہے۔ یہ ابتدا میں دوست لگتی ہے مگر انجام میں انسان کو تنہائی، بیماری اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سگریٹ کو بعض اوقات “فیشن”، “اسٹیٹس” یا “جدید سوچ” کی علامت بنا دیا گیا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک جلتی ہوئی سگریٹ دراصل انسان کی صحت، خوشیوں اور خوابوں کو جلاتی ہے۔

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر تعلیم، تحقیق، ہنر اور مثبت سوچ کی طرف آئیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ مگر جب یہی نوجوان تمباکو جیسے زہر کا شکار ہو جائیں تو ان کی صلاحیتیں وقت سے پہلے مرجھانے لگتی ہیں۔ سگریٹ صرف پھیپھڑوں میں دھواں نہیں بھرتی بلکہ انسان کے ارادوں، توانائی اور زندگی کے رنگ بھی مدھم کر دیتی ہے۔

    اکثر نوجوان دباؤ، تنہائی یا وقتی پریشانی سے بچنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سکون ملتا ہے، مگر یہ سکون ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا شخص سمندر کا پانی پی لے۔ چند لمحوں کی جھوٹی راحت کے بعد نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تمباکو انسان کو جسمانی طور پر کم زور کرنے کے ساتھ ذہنی اور معاشی نقصان بھی دیتا ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم اگر تعلیم، کتابوں، گھر والوں یا کسی مثبت مقصد پر لگائی جائے تو نہ جانے کتنی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

    سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا دھواں اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں اڑاتا بلکہ انجانے میں ایک غلط مثال بھی قائم کرتا ہے۔ ایک ماں جب کھانسی سے تڑپتی ہے یا ایک بچہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے یہی زہریلا دھواں موجود ہوتا ہے۔

    ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟ ایسا پاکستان جہاں اسپتال بھرے ہوں، نوجوان بیمار ہوں اور خواب ادھورے رہ جائیں؟ یا ایسا پاکستان جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں، کتابیں ہاتھوں میں ہوں، چہرے صحت مند ہوں اور فضائیں تازہ سانسوں سے مہک رہی ہوں؟ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔

    آج ضرورت صرف قوانین بنانے کی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ بری صحبت یا نقصان دہ عادتوں کا شکار نہ ہوں۔ اساتذہ صرف نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ میڈیا اگر چاہے تو نوجوانوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور اشتہارات میں سگریٹ کو کشش کے بجائے تباہی کی علامت بنا کر پیش کیا جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

    لیکن اصل انقلاب اُس دن آئے گا جب نوجوان خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑائیں گے۔ اصل بہادری یہی ہے کہ انسان برائی کو “نہ” کہنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ دوستوں کے دباؤ میں آکر اپنی صحت تباہ کرنا بہادری نہیں، کم زوری ہے۔ طاقت ور وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔

    تصور کریں ایک ایسے پاکستان کا جہاں کالجوں کے باہر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو ہو۔ جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دھواں نہیں بلکہ ہنر ہو۔ جہاں سانس لینا بیماری نہیں، زندگی کی خوشی محسوس ہو۔ ایسا پاکستان صرف خواب نہیں، حقیقت بن سکتا ہے، اگر ہم آج سے آغاز کریں۔

    آئیے! ہم سب اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ اپنے دوستوں کو تمباکو سے دور رکھیں، اپنے گھروں کو دھوئیں سے محفوظ بنائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند فضا تحفے میں دیں۔ کیونکہ جب نوجوان محفوظ ہوں گے تو قوم مضبوط ہوگی، اور جب سانسیں پاک ہوں گی تو پاکستان بھی پاکیزہ اور روشن ہوگا۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو نوشی نہ صرف پینے والے کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرے اور اس کے خاندان پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔

    تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو انسان کی صحت معیشت اور معاشرتی زندگی کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل، طلبہ اور یہاں تک کہ کم عمر بچے بھی اس زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمباکو سے پاک پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ سگریٹ نسوار حقہ اور دیگر تمباکو مصنوعات پھیپھڑوں، دل، گردوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص متاثر ہوتا ہے ۔ گھروں میں بچےخواتین اور بزرگ اس دھوئیں کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کی صحبت، فیشن یا ذہنی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف شوق ہوتا ہے مگر بعد ازاں یہ ایک خطرناک نشہ بن جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سگریٹ کی آسان دستیابی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتی ہے۔ اگر حکومت سخت قوانین نافذ کرے اور کم عمر بچوں کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک بڑا بوجھ ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے کا فرد روزانہ اپنی کمائی کا ایک حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اگر یہی رقم تعلیم، خوراک یا صحت پر خرچ کی جائے تو خاندان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کو تمباکو سے حاصل ہونے والا ٹیکس وقتی فائدہ ضرور دیتا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر کہیں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اس زہر کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اساتذہ تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کریں جبکہ علماء کرام خطبات میں انسانی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ تمباکو کمپنیوں کے اشتہارات کی حوصلہ شکنی کرے اور عوامی آگاہی مہمات چلائے۔

    دنیا کے کئی ممالک نے تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ اور تعلیمی مہمات کے ذریعے لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں انسداد تمباکو مہم شروع ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل بیماریوں کا شکار ہو جائے گی تو ملک کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صاف ماحول، بہتر صحت اور روشن مستقبل دینا ہوگا۔ “تمباکو سے پاک پاکستان” دراصل ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ نہ صرف خود تمباکو نوشی سے دور رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ ہر فرد اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان واقعی تمباکو سے پاک ملک بن جائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ ہم سب مل کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں، ایسا پاکستان جہاں نوجوان صحت مند ہوں، فضاء صاف ہو اور ہر چہرے پر زندگی کی روشنی نظر آئے۔ یہی ایک کامیاب، ترقی یافتہ اور خوشحال قوم کی پہچان ہے۔

  • ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سگریٹ، گٹکا، نسوار اور شیشہ استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے شوق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں کی صحبت یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو نوشی انسان کی صحت، گھر اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جو تمباکو سے پاک ہو۔

    ‎تمباکو نوشی سب سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں ایسے زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلسل تمباکو استعمال کرنے والے افراد کو سانس کی تکلیف، کھانسی، دل کی بیماری اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سگریٹ پینے والا ہی متاثر ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی دھوئیں سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔

    ‎پاکستان میں نوجوان نسل تیزی سے اس بری عادت کا شکار ہو رہی ہے۔ اکثر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ بعد میں اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل بن سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانا بہت ضروری ہے۔

    ‎تمباکو نوشی صرف صحت ہی نہیں بلکہ پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ بہت سے لوگ روزانہ سگریٹ پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ تعلیم، خوراک یا کسی اچھے کام پر لگایا جائے تو انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ غریب لوگ جب تمباکو پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے گھر کے دوسرے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ‎تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی لگائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کی طرف راغب نہ ہوں۔

    ‎والدین اور اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کریں۔ اساتذہ کو اسکول میں طلبہ کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو اس کے برے اثرات بتائے جائیں تو وہ اس عادت سے دور رہ سکتے ہیں۔

    ‎میڈیا بھی لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرام دکھائے جانے چاہییں جو لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ جب لوگ اس کے نقصان کو سمجھیں گے تو وہ خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎اسلام بھی ہمیں ان چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تمباکو نوشی چونکہ انسان کی جان اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

    ‎آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس بری عادت سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا پاکستان تمباکو سے پاک ہوگا تو ہمارے نوجوان زیادہ صحت مند، خوشحال اور کامیاب ہوں گے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو نوشی اس دور کا ایک ایسا خطرناک ناسور ہے جو خاموشی کے ساتھ انسان کی صحت، خاندان کی خوشیوں اور پورے معاشرے کو تباہ کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اذیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی سگریٹ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان نسل اس لت کا سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے “تمباکو سے پاک پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔

    تمباکو نوشی ابتدا میں ایک عام عادت محسوس ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ یہ انسان کی زندگی پر مکمل قبضہ کر لیتی ہے۔ ایک شخص وقتی سکون یا دوستوں کی دیکھا دیکھی سگریٹ پینا شروع کرتا ہے، لیکن پھر یہی عادت اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اکثر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ صرف ایک یا دو سگریٹ سے کچھ نہیں ہوگا، مگر یہی ایک قدم بعد میں خطرناک نشے میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، پریشانی، ناکامی یا تنہائی کے باعث تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ عادت مسائل کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیتی ہے۔

    سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں زہریلے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکلیف، دمہ، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریاں تمباکو نوشی کے عام نتائج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق تمباکو نوشی انسان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جسم بیماریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسے “پیسو اسموکنگ” کہا جاتا ہے۔ ایک باپ اگر گھر میں سگریٹ پیتا ہے تو اس کے بچے اور اہلِ خانہ بھی انہی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

    پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کے دباؤ میں آ کر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر سگریٹ نوشی کو ایک فیشن یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو جدید یا بہادر ثابت کرنے کے لیے بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک سوچ ہے کیونکہ حقیقت میں سگریٹ انسان کو کمزور، بیمار اور دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک غریب مزدور جو دن بھر محنت کرکے چند روپے کماتا ہے، اگر انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ پر خرچ کرے تو اس کے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رقم جو بچوں کی تعلیم، دوائی یا کھانے پر خرچ ہونی چاہیے، دھوئیں میں اڑا دی جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بری عادت فرد کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    اسلام نے بھی ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت ایک نعمت کے طور پر عطا کی ہے اور اس نعمت کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی چونکہ جسم کو تباہ کرتی ہے، اس لیے یہ ایک نقصان دہ عمل ہے۔ علما کرام بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اس بری عادت سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان کبھی ایسا عمل نہیں کرے گا جو اس کی جان اور دوسروں کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بنے۔

    تمباکو سے پاک پاکستان بنانے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی تربیت دیں۔ اگر بچپن سے بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو وہ مستقبل میں اس عادت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ میں شعور بیدار ہو۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

    میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو فیشن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے نقصانات دکھائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان حقیقت کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح حکومت کو عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی عائد کرنی چاہیے۔ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ اس زہر سے دور رہیں۔

    جو افراد تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں بھی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان اور دوست اگر ان کا ساتھ دیں تو وہ اس عادت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کھیل، ورزش، مطالعہ اور مثبت سرگرمیاں انسان کو بری عادتوں سے دور رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت، خوابوں اور مستقبل کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک صحت مند جسم ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔

    آئیے ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے وطن کو ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان بنائیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرے تو وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارا پیارا وطن حقیقت میں “تمباکو سے پاک پاکستان” کہلائے گا۔

  • تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    "جو ووٹ کی خاطر گلیوں میں دستک دینے آتے ہیں
    وہ پیاسی عوام کو سسکتا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں
    سرکاری پائپوں سے اب پانی نہیں، بیماری بہتی ہے
    یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کو صاف پانی تک نہیں دے پاتے..!۔”

    ایک لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل کا درجہ رکھنے والا شہرِ چونیاں جو ایک پرانی تاریخ کا حامل قدیمی شہر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا شہر آج پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ترین انسانی ضرورت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں صاف پانی کی فراہمی ریاست کی پہلی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، وہی پاکستان میں شہری آج بھی کئی شہروں اور دیہات میں اس نعمت سے محروم ہیں۔ چونیاں، الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے عوام کے لیے یہ بنیادی انسانی ضرورت ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ چونیاں شہر کا زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر کھارا یعنی نمکین ہے، جس کا واحد حل واٹر فلٹریشن پلانٹس یا منظم واٹر سپلائی سسٹم تھا۔ مگر افسوس! یہاں فلٹریشن پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو گنتی کے چند فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے ناقص نظام نے پوری کر دی ہے، چونیاں شہر میں بچھائی گیی واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہو چکی ہیں۔ نالیوں کا گندا اور بدبودار پانی ان لیکجز کے ذریعے واٹر سپلائی لائنوں میں شامل ہو کر شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شہری اس گندے اور زہر آلود پانی کو پینے پر مجبور ہیں اور جو لوگ یہ پانی پی رہے ہیں، وہ ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور معدے جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سائنس کے مطابق آدھی سے زیادہ انسانی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی کا استعمال ہے، اور چونیاں کی عوام کو دانستہ طور پر اس دلدل میں سرعام بے فکر ہو کر دھکیلا جا رہا ہے۔

    اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے، اسمبلی ممبرز اور سول سوسائٹی کے نام نہاد لیڈران ہیں جو الیکشن کے دنوں میں چونیاں، الہ آباد، چھانگامانگا اور کنگن پور کی گلیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں۔ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا ایم این اے (MNA) ہو یا ایم پی اے (MPA)، ووٹ لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ انہوں نے آج تک چونیاں کی پیاسی عوام کے اس سنگین مسئلے پر اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھانا تو دور، کبھی مقامی سطح پر بھی اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں عوام کی صحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور میونسیپل کمیٹی کے افسران تک، سب ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ شہریوں اس مسلئے پر ہونے ولے متعدد احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھتی آوازیں اور میڈیا رپورٹس ان خاموش تماشائیوں کو جگانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور مٹھی بھر بیوروکریسی پورے علاقے کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔

    جب ایک لاکھ سے زائد آبادی والا مرکزی شہر چونیاں اس بنیادی ترین سہولت کے حق سے محروم ہے، تو الہ آباد، کنگن پور، چھانگا مانگا اور ان سے ملحقہ سینکڑوں دیہاتوں کا تو کوئی نام لینے والا ہی نہیں ہے۔ ان دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہنے والے لاکھوں انسانوں کو تو شاید حکومت انسان ہی نہیں سمجھتی۔ وہاں کے لوگ آج بھی دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں یا پھر زیادہ ٹی ڈی ایس کا حامل گندا پانی پی کر اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر ترقی کا جائزہ لیں تو دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں بھی پینے کا صاف پانی ریاست بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جدید دور کے دعووں کے باوجود، پاکستان بھر میں زیر زمین پانی ہونے کے باوجود تمام شہر پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آخر اس بدترین مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کب تک چونیاں اور اس کے گردونواح کے لوگ یہ زہر پی کر بیمار ہوتے رہیں گے؟ اگر عوام اپنے کسی بھی حق تلفی پر روڈ بلاک یا احتجاج کرے تو ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہیں۔ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں بھول چکی ہے تو عوام جائے تو کہاں جائے۔

    چونیاں شہر کا پانی تو مکمل طور پر کھارا یعنی نمکین ہونے کی بنا پر پینے لائق ہی نہیں۔ لیکن تحصیل بھر کے شہروں اور متعدد گاؤں دیہات میں جا کر جب ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی چیک کیا گیا تو وہاں بھی پانی کے ٹی ڈی ایس 400 سے 600 تک آ رہے ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ پانی ہے۔ چونیاں تحصیل بھرکی تقریباً 9 لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی آج صاف پانی جیسی عظیم نعمت سے مزید محروم ہوتی جا رہی ہے۔
    شہریوں نے نہ صرف حکومتِ پاکستان سے بلکہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ یہاں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور پانی چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چونیاں میں پینے کے پانی کے اس سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیں۔ ان عالمی اداروں کو یہاں آ کر پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ کیسے شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر کے "سلو پوائزن” پلایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں کی واٹر سپلائی لائنوں کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے، بند فلٹریشن پلانٹس کو چالو کر کے مزید نئے پلانٹس لگائے جائیں اور الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے لیے بھی فوری طور پر کلین واٹر اسکیمیں شروع کی جائیں۔ اگر پبلک ہیلتھ اور مقامی انتظامیہ یہ بنیادی ترقیاتی کام نہیں کر سکتی، تو تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام ناکارہ عملے کو فارغ کیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ان افسران کی عیاشیوں اور تنخواہوں پر ضائع ہونے کے بجائے مقامی واٹر اسکیموں پر لگے۔ چونیاں کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کی زندگیوں کو بچانا اب ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پانی کی فراہمی نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ عوام سے ان کا کوئی بھی حق چھیننا یا فراہم نہ کرنا ریاست کو ظالم بناتا ہے۔

  • 
حزب اللہ حملوں کے بعد اسرائیل میں سرحدی علاقوں کے اسکول بند

    
حزب اللہ حملوں کے بعد اسرائیل میں سرحدی علاقوں کے اسکول بند

    ‎حزب اللہ کی جانب سے راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنی شمالی سرحدی پٹی میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے اسکول بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
    ‎اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی سرحدی علاقوں میں تمام تعلیمی ادارے پیر کے روز بند رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ خطرات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا تاکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
    ‎اس کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق شمالی علاقوں میں کسی بھی اجتماع میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کے شریک ہونے کی اجازت ہوگی۔ ان پابندیوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جانی نقصان کو کم سے کم رکھنا ہے۔
    ‎اسرائیلی حکام نے شمالی اسرائیل کے ساحلی علاقوں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان علاقوں میں عوامی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیل کی وزارت صحت نے بھی ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت کے مطابق شمالی علاقے میں واقع ایک اہم میڈیکل سینٹر کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر زیر زمین محفوظ کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور مریضوں و طبی عملے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔

  • مجرمانہ خاموشی یا اثر و رسوخ کی چھتری؟ دوہرا قتل کیس سرد خانے کی نذر

    مجرمانہ خاموشی یا اثر و رسوخ کی چھتری؟ دوہرا قتل کیس سرد خانے کی نذر

    گوجرخان خون کی ہولی دوہرے قتل کو دو ہفتے بیت گئے، پولیس اور سی سی ڈی کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
    سفید پوشی کا جنازہ نام نہاد سماجی تنظیمیں اور سیاسی پیشوا مصلحت کا شکار، حافظ آباد کے بااثر پٹواری کے سامنے قانون بے بس؟
    انصاف کا تقاضا یا بااثر کی لونڈی؟ مقتولین کے ورثاء کی دہائی، کیا گوجرخان میں قانون کی رٹ صرف غریب کے لیے ہے؟ وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    گوجرخان(قمرشہزاد)گوجرخان کے قلب ریلوے روڈ پر دن دیہاڑے دو تاجر بھائیوں کے بہیمانہ قتل کی لرزہ خیز واردات خون کی ہولی کھیلے ہوئے 14 دن گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بڑی پیش رفت میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مقتول کے کمسن بیٹے نے سرِعام نصیر پٹواری کے بیٹوں معظم اور احسن کو اپنے والد اور چچا کا قاتل نامزد کیا، ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن پولیس اور سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہ آنا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ گوجرخان شہر، جو کہنے کو تو سماجی تنظیموں، صدور اور نام نہاد عوامی نمائندوں سے بھرا پڑا ہے، اس وقت ایک مجرمانہ خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے والد نصیر پٹواری کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں گہرے مراسم انصاف کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ ہر گلی محلے میں مصلحت کی چادر اوڑھ کر بیٹھنے والے سیاسی نمائندے اور سماج سیوک مقتولین کے لہو پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ حافظ آباد کے یہ ملزمان قانون سے بالاتر ہیں۔

    عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں سنگین وارداتوں کے ملزمان چند ہی دنوں میں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں، تو کیا گوجرخان کیس کے ملزمان کو کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے؟ کیا سی سی ڈی اور مقامی پولیس اس کیس کو سرد خانے کی نذر کرنے کے لیے فائل پر مٹی ڈالنے کی منتظر ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس گوجرخان پولیس اور بالخصوص سی سی ڈی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کرتے ہیں یا قانون ایک بار پھر بااثر طبقات کے گھر کی لونڈی ثابت ہوگا۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو نشانِ عبرت بنایا جائے، ورنہ یہ خاموشی کسی بڑے عوامی لاوے کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • 
دبئی ایئرپورٹ پر 20 ہزار ڈالر اور سونا بھرا گمشدہ بیگ مسافر کو واپس مل گیا

    
دبئی ایئرپورٹ پر 20 ہزار ڈالر اور سونا بھرا گمشدہ بیگ مسافر کو واپس مل گیا

    ‎دبئی ایئرپورٹ پر ایمانداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی ایک قابلِ ستائش مثال سامنے آئی ہے جہاں ایک عرب مسافر کا قیمتی سامان بروقت تلاش کرکے اسے روانگی سے قبل واپس کر دیا گیا۔ گمشدہ بیگ میں ہزاروں ڈالر نقدی، سونا اور اہم ذاتی دستاویزات موجود تھیں۔
    ‎خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 پر ایک سیاہ رنگ کا بیگ ملا جس میں 20 ہزار امریکی ڈالر نقد، 150 گرام سونا، مختلف غیر ملکی کرنسیاں، متعدد موبائل فونز اور سرکاری و ذاتی دستاویزات موجود تھیں۔ یہ بیگ ایک ایئرپورٹ ملازم کو ٹرمینل کے کھلے حصے میں ملا تھا۔
    ‎اطلاع ملنے کے بعد دبئی پولیس اور ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیگ کے مالک کی تلاش شروع کر دی۔ چونکہ اس وقت تک مسافر کی جانب سے گمشدہ سامان کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی تھی، اس لیے سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی شناخت اور ایئرپورٹ کے اندر نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنا پڑے۔
    ‎ٹرمینل 1 سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل عبداللہ فیصل الدوساری کے مطابق ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے دستیاب معلومات اور سفری ریکارڈ کی مدد سے مسافر تک رسائی حاصل کی۔ حکام نے روانگی سے کچھ دیر قبل متعلقہ مسافر کو ٹرمینل کے اندر تلاش کر لیا۔
    ‎بعد ازاں قانونی ضوابط کے مطابق بیگ میں موجود سامان کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا اور مسافر کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ضروری دستاویزات اور اجازت ناموں کی تصدیق کی گئی۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد بیگ اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مسافر اپنی پرواز کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہونے والا تھا اور اگر بروقت تلاش نہ کیا جاتا تو اسے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ دبئی پولیس اور ایئرپورٹ حکام کے اس اقدام کو مسافروں کے اعتماد اور سیکیورٹی نظام کی مؤثریت کی ایک بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔

    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔

    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com