کراچی میں پانی کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوگئی ہے، جہاں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے کیے گئے جبری بجلی شٹ ڈاؤن کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق بجلی کی بندش نے پانی کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے دھابیجی گرڈ کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک میں پیدا ہونے والے ایک اہم فنی نقص کی ہنگامی مرمت کے لیے 30 مئی کی شام ساڑھے چھ بجے بجلی کی فراہمی بند کی۔ اس اچانک شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس کام کرنا چھوڑ گئے، جس سے کراچی کو پانی کی فراہمی کا پورا نظام متاثر ہوا۔
واٹر بورڈ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر کے الیکٹرک نے صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی واضح وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پانی کی فراہمی کی بحالی بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ترجمان کے مطابق اس وقت کراچی کو تقریباً 54 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بجلی کی معطلی سے کے ٹو پمپنگ اسٹیشن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کے تھری فیڈر کے ذریعے بیک فیڈ فراہم کی گئی، تاہم محدود برقی استعداد کی وجہ سے پمپنگ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم بجلی کی مکمل بحالی تک صورتحال معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پانی کا استعمال انتہائی احتیاط اور کفایت شعاری سے کریں تاکہ قلت کے دوران زیادہ سے زیادہ افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
Blog
-
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی بند، کراچی میں پانی کا بحران
-

بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی
کچھ ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی روشن گوشے میں محفوظ رہتی ہیں۔ میرے لیے بحریہ یونیورسٹی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس سے میری بے شمار کھٹی میٹھی یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا سفر، ایک عہد اور ایک خوبصورت داستان تازہ ہو جاتی ہے۔
بحریہ یونیورسٹی کا قیام سن 2000ء میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام عمل میں آیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چارٹر ملنے کے بعد اس جامعہ نے مختصر عرصے میں پاکستان کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام بنا لیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر E-8 میں واقع اس کا مرکزی کیمپس آج علم، تحقیق اور کردار سازی کا ایک اہم مرکز ہے، جبکہ ایچ الیون ۔نیول اینکریچ، کراچی اور لاہور کے کیمپس بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
جب میں اس جامعہ کی ترقی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک بیج سے تناور درخت بننے کی داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنے محدود وسائل اور ایک عمارت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا، مگر آج یہ ایک وسیع، متحرک اور ہمہ جہت تعلیمی دنیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قائد بلاک، سر سید بلاک، اقبال بلاک، فاطمہ گرلز ہاسٹل، بزنس اسکول، بحریہ انوویشن سینٹر، سِک بے، اسٹوڈنٹس اسپورٹس سینٹر اور جہانگیر خان جمنازیم اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی اور بہتری کی راہ پر گامزن رہا ہے۔اس جامعہ کی نمایاں خصوصیت صرف اس کی جدید عمارتیں یا تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ وہ نصابی اور ہم نصابی ماحول ہے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، مینجمنٹ سائنسز، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ یہاں سے صرف ڈگری لے کر نہیں نکلتے بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا بین الاقوامی معیار اور متنوع تعلیمی ماحول ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو اس جامعہ کے عالمی معیار اور وسیع تعلیمی افق کی عکاسی کرتے ہیں۔ طلبہ کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختلف اسکالرشپس، لیپ ٹاپ اسکیم، تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی مقابلے اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ مواقع نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی کا ایک نمایاں طرۂ امتیاز مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کاوشیں ہیں۔ جامعہ میں ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح کی اقبال کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز محققین، دانشور اور ماہرینِ اقبالیات شرکت کرتے ہیں۔ یہ علمی روایت نہ صرف اقبال کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے بلکہ تحقیق، مکالمے اور فکری بیداری کو بھی فروغ دیتی ہے۔اور اس سلسلے میں،اقبال چئیر کے نام سے ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہےمیری اس جامعہ سے وابستگی صرف ایک مشاہدے تک محدود نہیں۔ میرے اپنے گھر کی ایک کامیاب داستان بھی اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔ میرا ایک بیٹا اسی جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوا اور آج ماشاءاللہ National University of Sciences and Technology (NUST) میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اس کامیابی میں بحریہ یونیورسٹی کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کا نمایاں کردار شامل ہے۔ میرا دوسرا بیٹا بھی اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ جامعہ اس کے خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
آج جب میں بحریہ یونیورسٹی کے پھیلتے ہوئے تعلیمی افق کو دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ ایک گھنے اور سرسبز باغ میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس باغ کی شاخوں پر علم، تحقیق، کردار، قیادت اور کامیابی کے بے شمار پھول کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مختلف کیمپس دن رات ایک بہتر تعلیمی معاشرہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک ایسا روشن تعلیمی جہان ہے جہاں صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے، خوابوں کو پرواز ملتی ہے اور امکانات کامیابیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید ترقی، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے۔ بحریہ یونیورسٹی ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی رہے اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور فکری بالیدگی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔
آمین۔
بحریہ یونیورسٹی — جہاں خواب حقیقت بنتے -

آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کی تاریخ پر غور، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کے حوالے سے انتظامات پر غور جاری ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث جنازے کی تقریب کو مؤخر کیا گیا تھا، جبکہ اب اس کے انعقاد کے لیے مختلف تاریخوں پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے اعلان کے بعد ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی اور انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ تقریب منظم انداز میں منعقد ہو سکے۔
تہران کی اسلامی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنازے کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو بھرپور انداز میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے اور تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام 14 جون سے 17 جون کے درمیان نماز جنازہ کے انعقاد کی مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حتمی تاریخ کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ حکام کی جانب سے تاریخ کے تعین کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنازے کی تقریب ملک کی حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی ادارے، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے ممکنہ انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ اطلاعات ایرانی میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ جنازے کی حتمی تاریخ اور تفصیلات کے بارے میں سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ -

اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کا آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ یکم جون کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس شرکت کریں گی۔ سفارتی اور سیاسی حلقے اس دورے کو دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا کو بدلتی ہوئی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال کا سامنا ہے۔ پاکستان اپنی اقتصادی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ یورپی یونین جنوبی ایشیا میں قابل اعتماد اور مؤثر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز 2012 میں ہوا تھا۔ اس مکالمے کا مقصد سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
2019 میں اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر دستخط کے بعد دوطرفہ تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کی گئیں۔ اس معاہدے کے تحت تجارت، تعلیم، ماحولیات، انسانی ترقی اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا گیا۔
یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2014 میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور سرجیکل آلات نے یورپی منڈیوں میں مضبوط مقام حاصل کیا، جس سے ملکی معیشت کو اہم فوائد حاصل ہوئے۔
تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایراسمس پلس جیسے پروگرام پاکستانی طلبہ کو یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تجربے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ صحت، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی ترقی کے مختلف منصوبوں میں بھی یورپی تعاون جاری ہے۔
کاجا کالاس اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، افغانستان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی تعاون جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔ -

خواجہ آصف کا لیسکو میں مبینہ کرپشن سے متعلق بڑا انکشاف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں مبینہ بدعنوانی اور غیر شفاف طرز عمل کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے ادارے کے اندر موجود مسائل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے لیسکو عملے نے مبینہ طور پر 80 ہزار روپے طلب کیے۔
خواجہ آصف کے مطابق گاؤں میں ٹرانسفارمر جل جانے کے بعد مقامی افراد کو بجلی کی بحالی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے خود لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے رابطہ کیا اور مسئلے کے حل میں تعاون کی درخواست کی۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ ان کی مداخلت اور اعلیٰ حکام سے رابطے کے باوجود گاؤں کے مکینوں کو اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرنا پڑا تاکہ مطلوبہ رقم ادا کی جا سکے۔ ان کے مطابق دیہاتیوں نے آپس میں رقم اکٹھی کرکے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے ادائیگی کی، تاہم اس تمام عمل نے ادارے کے طریقہ کار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید دعویٰ کیا کہ رقم وصول کیے جانے کے باوجود متعلقہ افراد کو کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی گئی۔ ان کے بقول اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف مالی بے ضابطگی بلکہ شفافیت اور احتساب کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
وزیر دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ صارفین کی جانب سے معاملے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے شہریوں سے غیر قانونی ادائیگیاں طلب کی جا رہی ہیں تو اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ -

جنوبی لبنان میں جھڑپ، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران حزب اللہ کے مبینہ ڈرون حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح جاری بیان میں تصدیق کی کہ جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران اس کا ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت اسٹاف سارجنٹ مائیکل تیوکن کے نام سے کی گئی ہے۔
فوجی حکام کے مطابق حملہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں مائیکل تیوکن موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ چار دیگر اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیکل تیوکن کا تعلق اصل میں یوکرین سے تھا اور وہ تقریباً چھ سال قبل اسرائیل منتقل ہوا تھا۔ بعد ازاں اس نے اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کی۔
زخمی فوجیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں جھڑپوں اور حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ڈرونز اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے استعمال نے تنازعات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے جانی نقصانات اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ -

استنبول میں کانئیے ویسٹ کے کنسرٹ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ترکیہ کے شہر استنبول میں امریکی ریپر اور گریمی ایوارڈ یافتہ فنکار کانئیے ویسٹ کے شاندار کنسرٹ نے مداحوں کی غیر معمولی شرکت کے باعث نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
استنبول کے معروف اتاترک اولمپک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے اس میگا میوزک ایونٹ میں تقریباً ایک لاکھ 18 ہزار افراد نے شرکت کی، جسے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے موسیقی پروگراموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
کنسرٹ میں نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے بھی مداحوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکا میں روس، قازقستان، برطانیہ، جرمنی، امریکا اور پولینڈ سمیت کئی ممالک سے آنے والے موسیقی کے شوقین افراد شامل تھے۔
رات بھر جاری رہنے والے اس رنگا رنگ پروگرام میں جدید لیزر لائٹ شو، شاندار اسٹیج پرفارمنس اور موسیقی کے منفرد امتزاج نے حاضرین کو محظوظ کیے رکھا۔
مشہور امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ نے بھی کنسرٹ میں خصوصی پرفارمنس پیش کی، جس پر مداحوں نے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا۔
اپنی پرفارمنس کے دوران کانئیے ویسٹ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنسرٹ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس ایونٹ کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں مداح اسے سال کا سب سے بڑا میوزیکل ایونٹ قرار دے رہے ہیں۔
موسیقی کے ماہرین کے مطابق عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کے بڑے کنسرٹس نہ صرف تفریحی صنعت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ -

شفاف انتخابات اولین ترجیح ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے گا-
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 2020 کی طرح اس بار بھی اضافی انتخابی عملہ دیگر صوبوں سے طلب کیا گیا ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی ، وفاقی و صوبائی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، گورنرز، وزراء اور سرکاری عہدیداروں کے انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے، مقدمات اور دیگر قانونی کارروائی ہو گی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیاسی جماعتیں اورامیدوار اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں انتخابی عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تعاون کیا جائے ، مانیٹرنگ افسران ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد یقینی بنائیں، سیاسی جماعتوں کو دوبارہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے سرکلرجاری کر دیا گیا ،شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات اولین ترجیح ہے ، نفرت اور انتشار پھیلانے والوں کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی ہو گی۔
-

دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقینی ضمانت موجود نہ ہو۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بیان آج صبح منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران دیا کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،ایران کے لیے واحد معیار یہ ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی بھی عہد و ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔
یہ بیان انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے اور پارلیمانی پریزیڈیم کے ہمراہ حلف اٹھانے کے بعد دیا کہا کہ تہران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب اس بات کا یقین ہو کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معاہدے کے نتائج عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں،محض وعدوں یا یقین دہانیوں کی بنیاد پر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گااگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
-

کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، شرجیل انعام میمن
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم بے بنیاد الزامات اور پرانی فرسودہ کہانیوں کے سہارے اپنی سیاست زندہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاست ہمیشہ نعروں، الزامات اور بحران پیدا کرنے کے گرد گھومتی رہی ہے، آج بھی وہی پرانا طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے، صوبائی خود مختاری، آئینی اختیارات اور بلدیاتی نظام کو سب سے زیادہ ایم کیو ایم نے متنازع بنانے کی کوشش کی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے زمینی حقائق ہیں جنہیں کسی بھی پروپیگنڈے سے جھٹلایا نہیں جا سکتا، یلو لائن، شاہراہ بھٹو اور دیگر منصوبے ثبوت ہیں کہ سندھ حکومت عملی کام پر یقین رکھتی ہے، کسی بھی عوامی مقام کے حوالے سے اگر کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ ہے تو اس کا حل عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہونا چاہئے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ افسوس ہے کہ جو عناصر برسوں اپنی ناکام انتظامیہ اور مفاداتی سیاست کے ذریعے شہر کے مسائل بڑھاتے رہے، آج دوبارہ خود کو نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو نہ صرف اختیارات دیے ہیں بلکہ مالی وسائل اور قانونی سپورٹ بھی فراہم کی ہے،کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، جو عناصر ترقی کے ہر قدم پر تنقید کو اپنا سیاسی ہتھیار بناتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے سیاسی زوال کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔