Baaghi TV

Blog

  • آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں سمندری سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے کوئی بین الاقوامی اقدام سامنے آتا ہے تو وہ اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہی۔

    منگل کو کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ ابوظہبی کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے پر توجہ دے رہا ہے، تاہم اہم عالمی گزرگاہ میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی درخواست پر کئی امریکی اتحادی ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیے۔

    انور قرقاش نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری صرف خطے کے ممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کا ممکنہ کردار کسی وسیع تر بین الاقوامی اقدام کا حصہ ہوگا، جس کی قیادت ممکنہ طور پر امریکہ کرے گا اور جس میں ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کے ممالک بھی شامل ہوں گے۔ان کے بقول، “فی الحال کسی باقاعدہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور تجارت یا توانائی کے معاملات پر دنیا کو یرغمال بنانا قابل مذمت ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے اور جیسے ہی کوئی مربوط حکمت عملی سامنے آئے گی، متحدہ عرب امارات اس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوگا۔

  • اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طاقتور ترین فیصلہ سازوں میں شمار ہونے والے علی لاریجانی مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایک کارروائی میں “ختم” کر دیا گیا ہے۔اسی دوران ایران کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے سربراہ کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو نیٹو میں اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک نہ تو ایران کے خلاف جاری جنگ میں مؤثر مدد فراہم کر رہے ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، جس میں میرینز اور سیلرز سوار ہیں، آبنائے ملاکا کے قریب سنگاپور کے ساحل سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

    امریکہ کے ایک سینئر انسداد دہشتگردی انٹیلی جنس عہدیدار، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، نے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ “ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے اس استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے “اچھی بات” قرار دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سلامتی کا دارومدار موجودہ صورتحال پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایرانی جیلوں کو نشانہ نہیں بناتے تو ان قیدیوں کو محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔‎ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف پہلوؤں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں قیدیوں کی صورتحال بھی شامل ہے۔‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف نوعیت کے بیانات اور اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے امریکی میڈیا اداروں کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق خبریں شائع کر رہے ہیں۔‎انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی رپورٹس قومی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں، اس لیے ان پر سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‎ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی عوام کو آزادی دلانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔‎ان کے اس بیان کے بعد میڈیا کی آزادی اور حکومتی پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ حامی اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام سمجھتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایک غیر معمولی احتیاطی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔‎حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔‎اس سے قبل امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی بتایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی نگرانی، سراغ رسانی اور انہیں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات بہتر ہونے پر فضائی حدود کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو مخصوص بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صیہونی میڈیا ادارہ خطے کے بعض ممالک کی سیٹلائٹ اور میڈیا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اشتعال انگیزی، غلط معلومات کی ترسیل اور نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے۔‎ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس میڈیا کو معاونت جاری رہی تو اس سے منسلک تمام مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔‎بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے تمام عناصر اور سہولیات کو ایران کی ہدف فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جو اس سرگرمی میں کسی بھی شکل میں تعاون کر رہے ہوں۔‎اس بیان کے بعد خطے میں میڈیا تنصیبات اور سیٹلائٹ مراکز کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے

    
اطالوی میڈیا کے مطابق کویت میں واقع علی السالم ایئربیس پر ایک حملے کے نتیجے میں اٹلی کا جدید نگرانی ڈرون ایم کیو 9 اے پریڈیٹر تباہ ہو گیا ہے۔‎رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ایک محفوظ شیڈ میں موجود تھا جب ایک ڈرون حملے کے ذریعے اس شیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔‎ذرائع کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے اس ڈرون کی مالیت تقریباً 30 سے 35 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو اسے ایک قیمتی عسکری اثاثہ بناتی ہے۔‎واقعے کے بعد ایئربیس پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  • کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    افغان میڈیا نے کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں ، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے، افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔

    کابل اور ننگرہار میں حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔پاکستانی مؤقف کے مطابق 16 مارچ 2026 کی شب کیے گئے حملے مکمل طور پر مخصوص عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اہداف کے خلاف تھے، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہیں، تکنیکی انفراسٹرکچر اور وہ مراکز شامل تھے جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا اور تمام اہداف کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ویڈیو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جن میں ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‎پاکستانی حکام نے طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کسی منشیات بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ کارروائیاں انہی خطرات کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‎پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ضروری اقدام جاری رکھے گی

  • ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔قبل ازیں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کو تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما علی ریجانی کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے سمیت موت ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا،مقامی ذرائع اور بعض غیر سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ نے ایران میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کے اندرونی حالات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نظام گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ہو چکا ہے اور اس میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے حملے ممکن ہو رہے ہیں۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر عالمی ذرائع اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے، اس خبر کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

    صدر ٹرمپ علی لاریجانی کے قتل پر کہا کہ ان کے اعلیٰ ترین شخص کو دراصل کل قتل کر دیا گیا تھا۔وہ مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ وہ شخص جو پچھلے دو ہفتوں کے دوران 32,000 افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا – وہ مظاہرین کے قتل کا انچارج تھا۔میرا مطلب ہے کہ انہوں نے 32,000 سے زیادہ لوگ مارے ہیں۔

    علی ہاشم لاریجانی آملی 1958ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور اپنا بچپن وہیں گزارا۔ اس کے بعد، ان کے والد شیخ مرزا ہاشم آملی، ستر کی دہائی میں بعث پارٹی کی جانب سے کی جانے والی جبری ملک بدری کے نتیجے میں ایران ہجرت کر گئے۔ان کے والد، شیخ المیرزا ہاشم آملی، حوزہ علمیہ قم کے بڑے مراجع اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ علی لاریجانی کے بھائی بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صادق لاریجانی (سابق چیف جسٹس) اور جواد لاریجانی (انسانی حقوق کے مشیر) شامل ہیں۔

    قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائےگا۔عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائےگا۔انہوں نےکہا کہ لاریجانی دونوں سیاسی دھڑوں سے بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایران میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برکات کے مطابق وہ نہایت تعلیم یافتہ ہیں اور مغرب کے علاوہ ایرانی قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں سے بھی بات کرنا جانتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے جو فوجی تصادم کے بجائے متبادل حل چاہتے ہیں

    علی لاریجانی ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت ہیں ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے لاریجانی ہیں ۔لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بھی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ 6 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ان کی رائے کو حرفِ آخر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے گہرے رازوں کے امین اور مشکل وقت میں تزویراتی فیصلے کرنے والے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتیں علی لاریجانی کو ایک "سخت گیر لیکن حقیقت پسند” حریف سمجھتی تھیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا تھا کہ لاریجانی نظریاتی طور پر انقلاب کے وفادار ہیں، لیکن وہ جذبات کے بجائے عقل اور مصلحت کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ امریکہ انہیں ایک ایسا "شطرنج کا کھلاڑی” سمجھتا تھا جو میز پر بیٹھ کر سخت ترین سودے بازی کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے مغرب انہیں ایک "قابلِ اعتبار مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتا تھا۔

    دوسری جانب پاسدارن انقلاب نے پاسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسیج فورس کے تنصیبات پر حملہ کیا جس میں غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے.

  • 
عراق میں طیارہ حادثہ، 6 امریکی اہلکاروں کی شناخت ظاہر

    
عراق میں طیارہ حادثہ، 6 امریکی اہلکاروں کی شناخت ظاہر

    
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے عراق میں پیش آنے والے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 6 فضائیہ اہلکاروں کی شناخت ظاہر کر دی ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
    پینٹاگون کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 33 سالہ میجر جان اے کلنر، 31 سالہ کیپٹن آریانا جی ساوینو، 34 سالہ ٹیک سارجنٹ ایشلے بی پروئٹ، 38 سالہ کیپٹن سیٹھ آر کوول، 30 سالہ کیپٹن کرٹس جے اینگسٹ اور 28 سالہ ٹیک سارجنٹ ٹائلر ایچ سمنز شامل ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق یہ حادثہ حالیہ دنوں میں پیش آیا، تاہم اس کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
    ‎امریکی حکام نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

  • 
تہران میں امریکی و اسرائیلی فضائی حملے، کئی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    
تہران میں امریکی و اسرائیلی فضائی حملے، کئی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    
تہران کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
    اطلاعات کے مطابق یہ حملے دارالحکومت کے مختلف حصوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں نقصان کی بھی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
    ‎حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ حملے ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • 
ایران کے ممکنہ حملوں پر اسرائیل ہائی الرٹ

    
ایران کے ممکنہ حملوں پر اسرائیل ہائی الرٹ

    
ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل نے ملک بھر میں ہائی ملٹری الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے مزید میزائل فائر کیے جانے کی نشاندہی ہو چکی ہے، جنہیں روکنے کے لیے دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو موبائل الرٹس کے ذریعے خبردار بھی کیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکا سے منسلک صنعتوں اور فیکٹریوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران ایسے تمام صنعتی مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکی مفادات یا سرمایہ کاری موجود ہے۔
    ‎ایرانی فورسز نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر ان صنعتی علاقوں اور تنصیبات سے دور ہو جائیں، تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
    ‎مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اس وقت انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • 
ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، انسداد دہشتگردی مرکز کے ڈائریکٹر مستعفی

    
ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، انسداد دہشتگردی مرکز کے ڈائریکٹر مستعفی

    
ایران سے متعلق جنگی پالیسی پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
    ‎غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جو کینٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران سے امریکا کو فوری طور پر کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں تھا، جبکہ جنگ کا آغاز اسرائیل اور اس سے منسلک اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے دباؤ پر کیا گیا۔
    ‎ان کے استعفے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    ‎جو کینٹ بطور سربراہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر دہشت گردی کے خطرات کی نگرانی، تجزیہ اور انسداد کی حکمت عملی کے ذمہ دار تھے۔
    ‎سرکاری ذمہ داریوں سے قبل وہ ریاست واشنگٹن سے کانگریس کے لیے انتخابی مہم بھی چلا چکے ہیں، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی فوج میں گرین بیریٹ کے طور پر متعدد تعیناتیاں کیں اور بعد ازاں سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دیں۔
    ‎یاد رہے کہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ 2019 میں شام میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

  • 
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی مکمل حفاظت ممکن نہیں، عالمی بحری تنظیم کا انتباہ

    
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی مکمل حفاظت ممکن نہیں، عالمی بحری تنظیم کا انتباہ

    
عالمی بحری تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کو سو فیصد یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نگرانی کے نظام کے باوجود اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہاز مکمل طور پر محفوظ نہیں کہے جا سکتے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی صورتحال کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہے۔
    ‎ارسینیو ڈومنگیز نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کوئی دیرپا یا پائیدار حل نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے سفارتی اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارت کے لیے اس اہم راستے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

  • 
آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی طورخم سمیت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز

    
آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی طورخم سمیت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز

    
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔
    سکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سیکٹر میں پاک فوج نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں اور پاک افواج اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گی جب تک دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
    ‎اس سے قبل 16 مارچ کی شب بھی پاک افواج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں کابل اور ننگرہار شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں کابل کے دو مختلف مقامات پر موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا، جس سے دشمن کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔