Baaghi TV

Blog

  • بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔

    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔

    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • 
بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف اہم موڑ ہے، نیتن یاہو

    
بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف اہم موڑ ہے، نیتن یاہو

    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بیفورٹ قلعے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی نئی سیکیورٹی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
    ‎ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل آج ایک مختلف انداز میں بیفورٹ واپس آیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل پہلے سے زیادہ متحد، پرعزم اور طاقتور ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ بیفورٹ قلعے پر قبضہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اب دفاعی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے مختلف محاذوں پر فعال کردار اختیار کر لیا ہے۔
    ‎نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے خوف کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے اور اب وہ حالات کے مطابق فوری فیصلے اور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہیں اور اپنے سیکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎بیفورٹ قلعہ جنوبی لبنان کا ایک تاریخی اور اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے باعث ماضی میں بھی یہ مختلف فوجی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ قبضے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
    ‎دوسری جانب لبنان اور خطے کے مختلف حلقوں کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنوبی لبنان کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ کئی ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بیفورٹ قلعے پر قبضے اور نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی علاقائی سیکیورٹی پالیسی میں مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
کویت میں شدید گرمی کے باعث ڈیلیوری بائیکس پر وقتی پابندی

    
کویت میں شدید گرمی کے باعث ڈیلیوری بائیکس پر وقتی پابندی

    ‎کویت نے گرمی کی شدت میں اضافے کے پیش نظر مزدوروں اور ڈیلیوری رائیڈرز کی حفاظت کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے مخصوص اوقات میں ڈیلیوری بائیکس چلانے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد شدید موسمی حالات میں کام کرنے والے افراد کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق کویت کی وزارت داخلہ اور ٹریفک اینڈ آپریشنز افیئرز سیکٹر نے تمام کمپنیوں اور آجروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پبلک اتھارٹی فار مین پاور کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ‎اعلان کے مطابق یکم جون سے 31 اگست تک دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک کھلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی ہوگی۔ اس دوران تعمیراتی، فیلڈ اور دیگر بیرونی نوعیت کے کاموں کے ساتھ ساتھ ڈیلیوری کمپنیوں کی جانب سے استعمال ہونے والی موٹر سائیکلوں کے آپریشنز بھی محدود رہیں گے۔
    ‎وزارت کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ فیصلہ مزدوروں کے تحفظ اور بہتر کام کے ماحول کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔
    ‎حکام نے مزید وضاحت کی کہ پابندی کے دوران تمام سڑکوں اور علاقوں میں ڈیلیوری کمپنیوں کی بائیکس چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے ہزاروں ڈیلیوری ورکرز متاثر ہوں گے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
    ‎وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ جو کمپنیاں یا افراد ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں جرمانوں، اجازت ناموں کی منسوخی اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

  • 
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی ایم کیو 1 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون کو ایرانی سرزمین کے قریب داخل ہونے کے فوراً بعد شناخت کر لیا گیا تھا، جس کے بعد دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ڈرون صبح کے وقت ایرانی حدود میں داخل ہوا۔ ایرانی نگرانی اور مانیٹرنگ سسٹمز نے اس کی نقل و حرکت کا فوری طور پر سراغ لگایا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسے خطرہ قرار دیا گیا۔
    ‎بیان کے مطابق ڈرون کے خلاف جدید فضائی دفاعی میزائل نظام استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہدف بن گیا اور تباہ ہو گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی فورسز ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب نے اس واقعے کو ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور نگرانی کے مؤثر نظام کا ثبوت قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملکی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی غیر مجاز فضائی سرگرمی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
    ‎دوسری جانب اس دعوے کے حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی اس واقعے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  • 
گوجرانوالہ میں ڈانس ویڈیو بنانے والے دو افراد گرفتار

    
گوجرانوالہ میں ڈانس ویڈیو بنانے والے دو افراد گرفتار

    ‎گوجرانوالہ میں عوامی مقام پر ڈانس کرتے ہوئے ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چار افراد کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہے۔
    ‎پولیس ترجمان کے مطابق عید کے روز سوشل میڈیا پر دو خواتین اور دو نوجوانوں کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئی تھیں۔ یہ ویڈیوز گوجرانوالہ کے علاقے چھچھروالی نہر کے کنارے بنائی گئی تھیں، جہاں چاروں افراد کو عوامی مقام پر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
    ‎وائرل ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا اور اس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
    ‎پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
    ‎ترجمان پولیس نے بتایا کہ کارروائی عوامی مقامات پر مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکات کرنے کے الزام میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عوامی مقامات پر قانون اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے واقعات کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
    ‎واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض صارفین پولیس کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض اس معاملے پر مختلف نقطہ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

  • 
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر فرانس کا سلامتی کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر فرانس کا سلامتی کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    ‎لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے اور تاریخی الشقیف قلعے پر قبضے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس پر فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
    ‎فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس حق کو لبنان میں مسلسل فوجی کارروائیوں اور علاقوں پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام تمام فریقین کی ذمہ داری ہے اور خطے میں امن کے لیے ان اصولوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔
    ‎فرانس نے خاص طور پر تاریخی الشقیف قلعے پر اسرائیلی قبضے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قلعہ جنوبی لبنان میں واقع ایک اہم تاریخی اور ثقافتی مقام سمجھا جاتا ہے اور اسے لبنان کی قومی وراثت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر پیش رفت نے لبنانی عوام اور حکام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
    ‎فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا، کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی اقدامات پر غور کرنا اور خطے میں مزید تصادم کو روکنے کے لیے عالمی برادری کا مشترکہ مؤقف سامنے لانا ہے۔ فرانس نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
    ‎ادھر لبنان کی حکومت نے بھی اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

  • 
200 یونٹ تک صارفین کی سبسڈی ختم نہیں ہوگی، اویس لغاری

    
200 یونٹ تک صارفین کی سبسڈی ختم نہیں ہوگی، اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی ختم کیے جانے سے متعلق خبروں اور خدشات پر اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کی سبسڈی برقرار رکھے گی اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سبسڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔
    ‎وزیر توانائی کے مطابق حکومت کا مقصد مستحق اور حق دار صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اسی لیے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ سبسڈی نظام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کو سہولت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
    ‎اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کے بلوں پر سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین سے اب کیو آر کوڈ کے ذریعے کچھ اضافی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ اس نئے نظام کا مقصد سبسڈی کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ اصل مستحق افراد تک حکومتی ریلیف پہنچ سکے اور کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے تحت اہل صارفین کی شناخت اور تصدیق کا عمل آسان ہوگا، جس سے سبسڈی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو دی جانے والی مالی معاونت درست افراد تک پہنچے اور کسی مستحق صارف کو اس سہولت سے محروم نہ ہونا پڑے۔
    ‎وفاقی وزیر توانائی کے مطابق آئندہ سبسڈی کی فراہمی قومی شناختی کارڈ نمبر اور گھرانے کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس طریقہ کار سے ایک ہی خاندان یا گھرانے کے بجلی استعمال کے اعداد و شمار کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے گا اور سبسڈی کا نظام مزید منظم اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی کا نظام درست انداز میں ہدفی بنیادوں پر نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مستحق افراد کو فائدہ ہوگا بلکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ بھی کم کیا جا سکے گا۔

  • 
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی بند، کراچی میں پانی کا بحران

    ‎کراچی میں پانی کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوگئی ہے، جہاں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے کیے گئے جبری بجلی شٹ ڈاؤن کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق بجلی کی بندش نے پانی کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے دھابیجی گرڈ کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک میں پیدا ہونے والے ایک اہم فنی نقص کی ہنگامی مرمت کے لیے 30 مئی کی شام ساڑھے چھ بجے بجلی کی فراہمی بند کی۔ اس اچانک شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس کام کرنا چھوڑ گئے، جس سے کراچی کو پانی کی فراہمی کا پورا نظام متاثر ہوا۔
    ‎واٹر بورڈ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر کے الیکٹرک نے صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی واضح وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پانی کی فراہمی کی بحالی بھی تاخیر کا شکار ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق اس وقت کراچی کو تقریباً 54 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بجلی کی معطلی سے کے ٹو پمپنگ اسٹیشن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کے تھری فیڈر کے ذریعے بیک فیڈ فراہم کی گئی، تاہم محدود برقی استعداد کی وجہ سے پمپنگ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم بجلی کی مکمل بحالی تک صورتحال معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
    ‎کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پانی کا استعمال انتہائی احتیاط اور کفایت شعاری سے کریں تاکہ قلت کے دوران زیادہ سے زیادہ افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

  • بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    کچھ ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی روشن گوشے میں محفوظ رہتی ہیں۔ میرے لیے بحریہ یونیورسٹی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس سے میری بے شمار کھٹی میٹھی یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا سفر، ایک عہد اور ایک خوبصورت داستان تازہ ہو جاتی ہے۔

    بحریہ یونیورسٹی کا قیام سن 2000ء میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام عمل میں آیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چارٹر ملنے کے بعد اس جامعہ نے مختصر عرصے میں پاکستان کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام بنا لیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر E-8 میں واقع اس کا مرکزی کیمپس آج علم، تحقیق اور کردار سازی کا ایک اہم مرکز ہے، جبکہ ایچ الیون ۔نیول اینکریچ، کراچی اور لاہور کے کیمپس بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
    جب میں اس جامعہ کی ترقی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک بیج سے تناور درخت بننے کی داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنے محدود وسائل اور ایک عمارت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا، مگر آج یہ ایک وسیع، متحرک اور ہمہ جہت تعلیمی دنیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قائد بلاک، سر سید بلاک، اقبال بلاک، فاطمہ گرلز ہاسٹل، بزنس اسکول، بحریہ انوویشن سینٹر، سِک بے، اسٹوڈنٹس اسپورٹس سینٹر اور جہانگیر خان جمنازیم اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی اور بہتری کی راہ پر گامزن رہا ہے۔

    اس جامعہ کی نمایاں خصوصیت صرف اس کی جدید عمارتیں یا تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ وہ نصابی اور ہم نصابی ماحول ہے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، مینجمنٹ سائنسز، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ یہاں سے صرف ڈگری لے کر نہیں نکلتے بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

    بحریہ یونیورسٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا بین الاقوامی معیار اور متنوع تعلیمی ماحول ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو اس جامعہ کے عالمی معیار اور وسیع تعلیمی افق کی عکاسی کرتے ہیں۔ طلبہ کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختلف اسکالرشپس، لیپ ٹاپ اسکیم، تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی مقابلے اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ مواقع نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
    بحریہ یونیورسٹی کا ایک نمایاں طرۂ امتیاز مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کاوشیں ہیں۔ جامعہ میں ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح کی اقبال کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز محققین، دانشور اور ماہرینِ اقبالیات شرکت کرتے ہیں۔ یہ علمی روایت نہ صرف اقبال کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے بلکہ تحقیق، مکالمے اور فکری بیداری کو بھی فروغ دیتی ہے۔اور اس سلسلے میں،اقبال چئیر کے نام سے ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے

    میری اس جامعہ سے وابستگی صرف ایک مشاہدے تک محدود نہیں۔ میرے اپنے گھر کی ایک کامیاب داستان بھی اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔ میرا ایک بیٹا اسی جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوا اور آج ماشاءاللہ National University of Sciences and Technology (NUST) میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اس کامیابی میں بحریہ یونیورسٹی کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کا نمایاں کردار شامل ہے۔ میرا دوسرا بیٹا بھی اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ جامعہ اس کے خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    آج جب میں بحریہ یونیورسٹی کے پھیلتے ہوئے تعلیمی افق کو دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ ایک گھنے اور سرسبز باغ میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس باغ کی شاخوں پر علم، تحقیق، کردار، قیادت اور کامیابی کے بے شمار پھول کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مختلف کیمپس دن رات ایک بہتر تعلیمی معاشرہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک ایسا روشن تعلیمی جہان ہے جہاں صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے، خوابوں کو پرواز ملتی ہے اور امکانات کامیابیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید ترقی، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے۔ بحریہ یونیورسٹی ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی رہے اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور فکری بالیدگی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔
    آمین۔
    بحریہ یونیورسٹی — جہاں خواب حقیقت بنتے

  • 
آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کی تاریخ پر غور، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع

    
آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کی تاریخ پر غور، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع

    ‎ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کے حوالے سے انتظامات پر غور جاری ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث جنازے کی تقریب کو مؤخر کیا گیا تھا، جبکہ اب اس کے انعقاد کے لیے مختلف تاریخوں پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
    ‎ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے اعلان کے بعد ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی اور انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ تقریب منظم انداز میں منعقد ہو سکے۔
    ‎تہران کی اسلامی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنازے کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو بھرپور انداز میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے اور تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام 14 جون سے 17 جون کے درمیان نماز جنازہ کے انعقاد کی مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حتمی تاریخ کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ حکام کی جانب سے تاریخ کے تعین کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
    ‎ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنازے کی تقریب ملک کی حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی ادارے، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے ممکنہ انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ مذکورہ اطلاعات ایرانی میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ جنازے کی حتمی تاریخ اور تفصیلات کے بارے میں سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔