Baaghi TV

اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کا آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ

‎پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ یکم جون کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس شرکت کریں گی۔ سفارتی اور سیاسی حلقے اس دورے کو دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
‎یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا کو بدلتی ہوئی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال کا سامنا ہے۔ پاکستان اپنی اقتصادی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ یورپی یونین جنوبی ایشیا میں قابل اعتماد اور مؤثر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
‎پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز 2012 میں ہوا تھا۔ اس مکالمے کا مقصد سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
‎2019 میں اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر دستخط کے بعد دوطرفہ تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کی گئیں۔ اس معاہدے کے تحت تجارت، تعلیم، ماحولیات، انسانی ترقی اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا گیا۔
‎یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2014 میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور سرجیکل آلات نے یورپی منڈیوں میں مضبوط مقام حاصل کیا، جس سے ملکی معیشت کو اہم فوائد حاصل ہوئے۔
‎تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایراسمس پلس جیسے پروگرام پاکستانی طلبہ کو یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تجربے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ صحت، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی ترقی کے مختلف منصوبوں میں بھی یورپی تعاون جاری ہے۔
‎کاجا کالاس اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، افغانستان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی تعاون جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

More posts