Baaghi TV

Blog

  • ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا، تازہ حملوں میں ایران کی جانب سے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی خلیجی خطے میں سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے ایرانی حملوں کی تصدیق کردی آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق یہ تازہ حملے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام کیے گئے اور اسے رمضان میں والدہ کی گود میں خاندان کے ہمراہ شہید ہونے والے شیرخواربچے مجتبیٰ کے نام منسوب کیا گیا، حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھےاس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    جنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا میرا آخری رابطہ مسٹر وٹکوف سے اُس وقت ہوا جب ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا،اس کے برعکس تمام دعوے گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔

    اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں وٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال کیا گیا ہےرپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب ”ڈراپ سائٹ نیوز“ نامی پلیٹ فارم نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی کو پیغامات بھیجے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق عراقچی ان پیغامات کو نظر انداز کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد افراد شہید ہوئے ایران نے بھی اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    کراچی: دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں گودام میں آتشزدگی،2 فائر فائٹر بے ہوش

  • سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    قصور میں سردی کی لہر واپس، بارش سے گلیاں اور بازار زیرِ آب
    17 سے 20 مارچ تک بارشوں کا الرٹ جاری
    قصور شہر اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث سردی کی لہر ایک بار پھر لوٹ آئی ہے جس سے موسم میں خنکی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
    بارش کے بعد شہر کی متعدد گلیاں اور اہم بازار پانی میں ڈوب گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے آمد و رفت دشوار ہو گئی جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں کے باہر پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں
    محکمہ موسمیات کی جانب سے 17 سے 20 مارچ تک قصور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے جس کے تحت مزید بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے
    تاجروں کے مطابق خراب موسم کے باعث خریداروں کی تعداد کم ہو گئی ہے جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے جبکہ ٹریفک کی روانی بھی سست پڑ گئی ہے
    موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے
    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید مسائل سے بچا جا سکے

  • ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    خلیجی خطے میں ایران کے حملوں سے امریکی فوج کی 17 تنصیبات متاثر ہوئیں اب تک جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہےخطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایاجنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے، کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    ایرانی حملوں سے خلیج میں 17 امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

    ایران میں حکام کے مطابق جنگ کے دوران شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 18 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لبنان میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے جہاں اب تک 850 شہری شہید ہو چکے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیکشان نے کہا ہے کہ خطے میں ایران کے خلاف امریکی فوجی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے، اس معاملے پر انہوں نے فرانسیسی صدر سے گفتگو بھی کی ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    ایران کے نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایران جب تک ضرورت ہو لڑنے کے لیے تیار ہے، ایران فی الحال سفارتی حل پر توجہ نہیں دے رہا ہے اور اگر امریکا نے ایران میں زمین فوج اتاری تو اسے ایک اور ویت نام کا سامنا ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذرا پڑھیں کہ ویت نام میں کیا ہوا تھا۔

  • کراچی: دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں گودام میں آتشزدگی،2 فائر فائٹر بے ہوش

    کراچی: دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں گودام میں آتشزدگی،2 فائر فائٹر بے ہوش

    کراچی کے مصروف تجارتی مرکز طارق روڈ پر واقع دبئی شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں قائم گودام اور دکانوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا، آگ شاپنگ مال کے بیسمنٹ میں موجود دو سے تین کپڑوں کی دکانوں میں لگی تھی۔

    آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی پانچ گاڑیوں نے حصہ لیا جبکہ بیسمنٹ میں بھر جانے والا دھواں خصوصی مشینوں کے ذریعے باہر نکالا گیا ریسکیو آپریشن کے دوران دھوئیں کے باعث دو فائر فائٹرز، بلال اور سکندر، کی حالت غیر ہوگئی جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی حکام کے مطابق واقعے میں کسی شہری کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث آگ پر قابو پا لیا گیا جبکہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے دوسری جانب مار کیٹ ایسوسی ایشن نے فائر بریگیڈ اہلکاروں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا، جبکہ بے ہوش ہونے وا لے فائر فائٹر سکندر کے لیے اضافی 2 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

    واقعے کے باعث کراچی ٹریفک پولیس نے اتحاد چوک سے لبرٹی چوک تک طارق روڈ کے دونوں اطراف ٹریفک کو متبادل گلیوں میں منتقل کر دیا شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں ٹریفک پولیس کے اہلکار موقع پر موجود رہ کر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں مصرو ف ہیں۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر  ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد:امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

    الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں،تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

  • فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ایک ترجمان کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کی غلط ترجمانی اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق مذکورہ دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے اور اس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے اصل صورتحال کو چھپانا ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں مخصوص عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان اہداف میں تکنیکی آلات کے گودام اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، جنہیں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔بیان کے مطابق کارروائی کے بعد گولہ بارود کے ذخائر میں ہونے والے دھماکے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر عسکری سامان موجود تھا، جو اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ یہ مراکز کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان عام شہریوں کو نہ پہنچے۔فیکٹ چیک میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ان تنصیبات کو منشیات بحالی مراکز قرار دینے کی کوشش دراصل عوامی جذبات کو بھڑکانے اور سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی کو چھپانے کی ایک حکمت عملی ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ طالبان ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

  • افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار اور دارالحکومت کابل میں ڈرون اسمبلی سے متعلق متعدد ورکشاپس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ڈرون بنانے کے ایک اہم نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران صوبہ ننگرہار میں چار جبکہ کابل میں دو ڈرون ورکشاپس کو تباہ کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ورکشاپس میں مختلف جدید پرزوں کی مدد سے ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق ان مراکز میں استعمال ہونے والے کئی پرزے بھارتی اور اسرائیلی ساختہ تھے، جنہیں استعمال کر کے ڈرون تیار کیے جاتے تھے۔ ان مراکز میں بننے والے ڈرون مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں ڈرون اسمبل کرنے کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کارروائیوں سے اس نیٹ ورک کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈرون تیاری کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز کے مطابق اب تک تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی یا متاثر ہوئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق یہ زخمی فوجی سات مختلف ممالک میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوئے۔ تاہم زیادہ تر زخمیوں کی حالت زیادہ تشویشناک نہیں تھی اور 180 سے زائد فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔یہ تازہ اعداد و شمار پہلے جاری ہونے والی رپورٹ سے زیادہ ہیں۔ 10 مارچ تک امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا تھا کہ 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک تھی۔ایک امریکی عہدیدار نے پہلے بتایا تھا کہ جن فوجیوں کو شدید زخمی قرار دیا گیا ہے ان میں ایسے کیسز بھی شامل ہیں جن میں جان کو سنگین خطرہ لاحق تھا یا موت کا خدشہ موجود تھا۔

    ادھر امریکی حکام کے مطابق اب تک جاری لڑائی میں 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ یا تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ بعض اوقات فوجی کسی واقعے کے فوراً بعد طبی امداد حاصل نہیں کرتے، خاص طور پر جب چوٹ معمولی نوعیت کی ہو۔ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی افواج کو مختلف محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اس ماہ متوقع ان کا دورۂ چین ایک ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، تاہم موجودہ حالات کے باعث اس دورے کو کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔“ہم چین سے بات کر رہے ہیں۔ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جنگ کی وجہ سے میں یہیں رہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس دورے کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔”امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو آبنائے ہرمز کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق چین اپنی 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کو اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے مؤقف کو جاننا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہی معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات میں زیر بحث آئے گا۔

    ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دورانیے کے بارے میں مبہم انداز میں کہا کہ یہ جنگ “جلد ختم ہو جائے گی۔”انہوں نے کہا “مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس ہفتے ختم ہو جائے گی، لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جب یہ ختم ہو گی تو دنیا زیادہ محفوظ ہو گی۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایران خلیجی خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ان کے مطابق “بڑے سے بڑے ماہرین کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملے کرے گا۔”