Baaghi TV

Blog

  • طبی معائنے کے بعدصدر ٹرمپ کو مکمل طور پر فٹ قرار

    79 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معالج نے طبی معائنے کے بعد انہیں بہترین صحت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور صدر اپنی تمام ذمہ داریا ں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں تاہم انہیں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکی بحریہ کے کیپٹن اور صدارتی معالج شان باربابیلا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بہترین ہے اور ان کی قلبی، پھیپھڑوں، اعصابی اور مجموعی جسمانی کارکردگی مضبوط ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طبی مشوروں میں متوازن غذا، کم مقدار میں اسپرین کا استعمال، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور وزن میں کمی کی ہدایت شامل ہے۔

    3 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ واشنگٹن کے قریب واقع والٹر ریڈ میڈیکل اسپتال میں منگل کے روز کیے گئے طبی معائنے اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی تفصیلات پر مشتمل ہےڈاکٹر باربابیلا نے صدر کو کمانڈر اِن چیف اور سربراہ مملکت کے تمام فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دیا۔

    اگلے ماہ 80 برس کے ہونے والے ٹرمپ اس وقت 3 ادویات استعمال کر رہے ہی جن میں 2 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے جبکہ ایک دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرین شامل ہے ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر) ہے جبکہ ان کا وزن 238 پاؤنڈ (108 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے طبی معائنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ان کا وزن 224 پاؤنڈ تھا،رپورٹ میں ٹرمپ کی ٹانگوں میں معمولی سوجن اور ہاتھوں پر نشانات کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں ڈاکٹرز نے معمولی اور بے ضرر قرار دیا۔

    معالج کے مطابق صدر کی قلبی کارکردگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے جبکہ جامع اعصابی معائنے میں ان کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی جس میں ڈپریشن اور بے چینی کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔

    یہ معائنہ صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد تیسرا طبی معائنہ تھا اور یہ ان کی صحت سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں ہاتھوں پر نیل پڑنے اور بعض ملاقاتوں کے دوران غنودگی کے تاثر جیسے معاملات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے طبی معائنے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا طبی معائنہ بالکل بہترین رہا۔

  • موہنجوداڑو سے دریافت مہر  پر تاریخ دانوں اور ماہرین کی رائے نے بھارت میں تنازع کھڑا کر دیا

    موہنجوداڑو سے دریافت مہر پر تاریخ دانوں اور ماہرین کی رائے نے بھارت میں تنازع کھڑا کر دیا

    موہنجوداڑو سے دریافت کی گئی تقریباً تینتالیس سو سال پرانی مہر کے حوالے سے تاریخ دانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود تصویر شیوا کی نہیں ہے،جس نے بھارت میں نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے-

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ہندوستان کی وزارتِ ثقافت نے انٹرنیٹ پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے بھارت کی قدیم اور مسلسل تہذیب کی علامت قرار دیا اور مہر پر موجود شکل کو شیوا پشوپتی یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل قرار دیا۔

    اس دعوے کے سامنے آتے ہی امریکا کی ایک معروف خاتون تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے اس پر اعتراض اٹھا دیا انہوں نے کہا کہ یہ تصویر شیو کی نہیں ہے بلکہ یہ پرانے زمانے کے ایران کی ایک قدیم تہذیب کے فن اور علامات سے ملتی جلتی ہے یہ تصویر پورے یورپ اور ایشیا کے خطے میں مانے جانے والے کسی ایسے قدیم دیوتا کی ہو سکتی ہے جسے جانوروں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔

    ان کے اس بیان نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ برصغیر کی قدیم تاریخ کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے ہندوستا ن کے بہت سے ادیبوں اور تاریخ دانوں نے آڈری ٹروشکے کے اس خیال کو مسترد کر دیا کہا کہ وہ مقامی تاریخ کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

    مثال کے طور پر مشہور مصنف امیش تریپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس مہر پر ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بنے ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان ہی میں پائے جات ے ہیں، جبکہ ایران کے ان علاقوں میں یہ جانور نہیں ہوتے تھے انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مہر پر موجود شکل یوگا کے انداز میں بیٹھی ہے، تو کیا یوگا بھی ایران سے آیا تھا؟ اسی طرح ایک اور پروفیسر لاونیا ویمسانی نے کہا کہ ایرانی تہذیب کی مہریں اس مہر سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں ایک فیصد بھی مماثلت نہیں ہے۔

    دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ دان بھی ہیں جو آڈری ٹروشکے کی بات سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس مہر کو شیو سے جوڑنے کا نظریہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے پہلی بار اسے شیو کی ابتدائی شکل کہا تھا، لیکن وہ کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر نہیں تھے اور انہوں نے صرف اندازے سے یہ بات کہی تھی مہر پر موجود شکل کے سر پر جو چیز ہے وہ شیو کا تریشول نہیں بلکہ بھینس کے سینگ ہیں، اور یہ تصویر کسی مقامی جادوگر یا کسی اور قدیم عقیدے کی ہو سکتی ہے۔

    اس مہر کے بارے میں مشہور مصنف دیودت پٹنائک کا ایک الگ ہی نظریہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا شیو سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ عام کتابوں میں اب بھی یہی لکھا جاتا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ اس مہر کے دو ورژن ہیں، ایک دلی میں ہے اور دوسرا اسلام آباد میں۔

    ان کے مطابق مہر پر موجود شکل کے سینگ بنے ہوئے ہیں جو عام طور پر شیو کی تصویروں میں نہیں ہوتے، البتہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شکل کے بیٹھنے کا انداز بالکل یوگا کے ایک خاص آسن جیسا ہی ہے لندن کی یونیورسٹی سے وابستہ ایک نارویجن محقق الیگزینڈر اینجسکاگ نے بھی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہر کا شیو، یوگا یا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    یہ بحث اب صرف پرانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکی ہے وزارتِ ثقافت اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مہر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ہندو روایات اور یوگا کا سلسلہ ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑا ہوا ہے جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی لکھائی کو آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے بعد کے دور کے مذہبی عقائد کو اتنی پرانی تہذیب پر زبرد ستی تھوپنا درست نہیں ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ دریافت کے سو سال بعد بھی موہنجوداڑو کی یہ مہر ایک ایسا معمہ بنی ہوئی ہے جس کی حقیقت اب بھی الگ الگ نظریات کے پردوں میں چھپی ہے۔

  • ایران کا  جزیرہ قشم میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کا جزیرہ قشم میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریبی علاقے جزیرہ قشم میں امریکا کا جدید آربٹر ڈرون مار گرایا۔

    ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایئرڈیفنس فورس نے ہفتے کو امریکا-صہیونی جارح دشمن کا ڈرون کا سراغ لگایا گیا اور اس کے بعد گرایا گیا، جوائنٹ ایئرڈیفنس ہیڈکوارٹرز کے مشترکہ نیٹ ورک کے تحت فعال ایرانی فوج کے ایئر ڈیفنس نے بغیرپائلٹ کے طیارے کو مار گرایا۔

    واضح رہے کہ 26 مئی کو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے ایئرڈیفنس یونٹ نے خلیج فارس کی فضا میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو نشانہ بنایا تھا اور خبرادار کیا تھا کہ امریکی کی جانب سے جارحیت کے ذریعے جنگ بندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی کا جواب بھی بدترین دیا جائے گا، امریکی دہشت گرد فوج نے خطے میں کشیدگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئےخلیج فارس کے خطے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم خفیہ نگرانی کے ذریعے پاسداران انقالب کے ایئرڈیفنس نے ایم کیو-9 ڈرون کی نشان دہی کی اور مار گرایا پاسداران انقلاب نے آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایرانی فضائی حدود سے فرار ہوگئے۔

  • عرفات منہاس نے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا 42 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

    عرفات منہاس نے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا 42 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

    ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ میں اب تک صرف 17 کھلاڑیوں نے اپنے ڈیبیو میچ پر 5 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ عرفات منہاس اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں راولپنڈی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے میچ میں بائیں ہاتھ سے اسپن بولنگ کرنے والے عرفات منہاس نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور پانچ کھلاڑیوں کو پویلین روانہ کیا۔

    وہ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں یہ منفرد اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں،پاکستان کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ذاکر خان تھے، یہ ریکارڈ 42 سال تک ان کے پاس رہا ذاکر خان نے 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ڈیبیو میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم آج عرفات منہاس نے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

  • مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل  کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔

    ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہےترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی، اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھاابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔

    ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ اسرا ئیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اس کے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسر ا ئیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہاکان نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئےجو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہےانہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔

  • ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حالیہ تنازع کے دوران ایران پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں امریکا اور اسرائیل کی بالواسطہ شمولیت بھی رہی۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئے۔ اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد تک جاری رہے ان کارروائیوں میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا رہا تاکہ حملے زیادہ مؤثر بنائے جا سکیں، مبینہ طور پر ایران کے اندر کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب قشم اور ابو موسیٰ جزائر، بندر عباس کا علاقہ، خلیج فارس میں لاوان آئل ریفائنری اور اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں ان حملوں کو ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس تنصیبات پر ہونے والے پہلے حملوں کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی تھی۔ جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات، ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔

  • ستھرا  پنجاب کے  ہر ورکر کو  10 ہزار   روپے  انعام  دیا جائے گا،مریم اورنگزیب

    ستھرا پنجاب کے ہر ورکر کو 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ عید پر پنجاب بھر سے 3 لاکھ 76 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں ٹھکانے لگائی گئیں، ستھرا پنجاب کے ہر ورکر کو 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔

    لاہور میں وزیربلدیات ذیشان رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی نے عیدالاضحیٰ پر صفا ئی کےحوا لے سےشاندار کارکردگی دکھائی،صفائی مانیٹرنگ کے لیے پہلی بار ڈرونز اورجدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی عید پرصفائی آپریشن مثالی رہااور ستھرا پنجاب پروگرا م پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا،صفائی مہم میں ایک لاکھ 84 ہزارسے زائد ورکرز نے حصہ لیا، کیٹل مار کیٹس کی نگرانی اور صفائی بھی یقینی بنائی گئی، مریم نواز کا بنایا ہوا نظام فلیگ شپ پروجیکٹ بہترین انداز میں چل رہا ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی عید کے روز سرجری ہوئی تھی، وہ سرجری کے باوجود صفائی آپریشن کی نگرانی کرتی رہیں، آئی سی یو سے باہر آتے ہی ان کا پہلا سوال عوام کی سہولت اور صفائی کے نظام کے بارے میں تھا، جو ان کی عوامی درد مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے, اللہ کا شکر ہے وزیرا علیٰ صحت مندہوگئی ہیں، سرجری بھی کامیاب رہی، وزیراعلیٰ کسی دوسرے ملک علاج کے لیے نہیں جا رہیں، کراچی میں بھی صفائی جیسی سہو لت ہونی چاہیے، کوئی صوبہ اچھا کام کرتا ہے تو دوسرے صوبے بھی اس سے سیکھیں، اگلے سال محکمہ بلدیات کویونین کونسل سطح پر مذبح خانے بنا نےکی ہدایات دے دی گئی ہیں۔

  • سہیل آفریدی کا انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط

    سہیل آفریدی کا انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط لکھ دیا-

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے، اور خط کی کاپی چیف جسٹس آف پا کستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

    خط میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت و کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہےسیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو اگر نہ روکی گئیں تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات میں حصہ لینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ ان آئینی اور جمہوری اصولوں سے انحراف نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں،سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی، گرفتاریوں اور پابندیوں کو فوری طور پر روکا جائے،تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز اپنی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق دیا جائے،انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

    وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرےانہوں نے امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بروقت مداخلت گلگت بلتستان میں شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ ہوگا۔

  • ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکی وزیر جنگ

    ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکی وزیر جنگ

    واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی-

    امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ طے پائے گا وہ ایک اچھا اور مؤثر معاہدہ ہو گا تاہم ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتاامریکا اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اور ضرورت پڑنے پر جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ تہران بخوبی جانتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسے کیا اقدامات کرنا ہوں گے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے ہیں۔

    امریکی وزیر جنگ نے میری چینی وزیر دفاع کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جس میں مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی منظوری دیتے وقت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔

    انہوں نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن کی دفاعی کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ضرورت سے زیادہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے ہیں انہیں امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک حقیقی دوستی فروغ پا رہی ہے۔

    انہوں نے یہ بات شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم کے موقعے پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی، سنگاپور میں منعقدہ اس اہم سیکیورٹی فورم میں تقریباً 45 ممالک کے دفاعی حکام اور سیکیورٹی ماہرین شریک ہوئے پیٹ ہیگستھ نے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیا ن امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں بھارت کا ذکر کیا لیکن میں آسانی سے پاکستان اور ان کرداروں کا بھی ذکر کر سکتا تھا جو فیلڈ مارشل اور وزیراعظم امن مذاکرات میں ادا کر رہے ہیں،میرے خیال میں ایک غیر متوقع پیش رفت اور حقیقی دوستی وہاں فروغ پا رہی ہے، جو نہایت اہم ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں پاک امریکا تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے مارچ 2025 میں پاکستان نے دا عش خراسان کے ایک اہم رکن محمد شریف اللہ کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا جس پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر جنگ بندی میں امریکی ثالثی اور پھر پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔

    صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستانی قیادت اور خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی، امریکا اور ایران کے درمیان رواں برس پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا، اسلام آباد کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد مذاکراتی نشستیں ہوئیں جن میں جنگ بند ی اور کشیدگی کے خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق پیٹ ہیگستھ کے حالیہ بیانات پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

  • پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ  سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کل شام 7 بجے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی ہے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اندرونی اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزراء ناراض ارکان اسمبلی سے رابطے کر کے انہیں منانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،دوسری جانب ناراض ارکان نے بھی باہمی مشاورت کے لیے کل سہ پہر 4 بجے اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ سے قبل ناراض ارکان کے گروپ کا سامنے آنا وزیراعلیٰ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے جبکہ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی آزاد حیثیت بھی ناراض ارکان کو اہم کردار دے سکتی ہے۔