Baaghi TV

Blog

  • 31 مئی کو آسمان پر  ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا

    31 مئی کو آسمان پر ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 31 مئی کو آسمان پر ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا جب ایک ہی وقت میں بلیو مون اور مائیکرو مون کا نظارہ کیا جا سکے گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق مئی 2026 کے آغاز پر یکم مئی کو مکمل چاند طلوع ہوا تھا جبکہ 31 مئی کو اسی مہینے کا دوسرا مکمل چاند نمودار ہو گا فلکیاتی اصطلاح میں ایک ہی کیلنڈر مہینے میں ظاہر ہونے والے دوسرے مکمل چاند کو “بلیو مون” کہا جاتا ہے اس سال کا بلیو مون ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہو گا کیونکہ یہ 2026 کا “مائیکرو مون” بھی ہو گا اس دوران چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہو گا جس کے باعث وہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں قدر ے چھوٹا دکھائی دے سکتا ہے۔

    ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نام کے برعکس بلیو مون کا رنگ نیلا نہیں ہو گا بلکہ یہ اپنی معمول کی سفید اور چمکدار شکل میں ہی نظر آئے گا بلیو مون دراصل ایک فلکیاتی اصطلاح ہے جس کا تعلق چاند کے رنگ سے نہیں بلکہ اس کے ظہور کے وقت سے ہےچاند 31 مئی کو اپنی مکمل ترین حالت میں ہو گا اور مشرقی افق پر طلوع ہوتے وقت سرخ رنگ کے روشن ستارے Antares کے قریب دکھائی دے گا، جس سے یہ منظر مزید دلکش بن جائے گا۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بلیو مون کا انسانی صحت، قسمت یا کسی غیر معمولی روحانی اثر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے ان کے مطابق ایسا منظر عموماً ہر دو سے تین سال بعد دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ اگلا بلیو مون دسمبر 2028 سے پہلے متوقع نہیں-

  • سونا مزید مہنگا، چاندی کی قیمت میں کمی

    ہفتے کو ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اب ایک تولہ سونا 4 لاکھ 76 ہزار 162 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں 13 ڈالر کا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 538 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی جس کےبعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے بڑھ گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 76 ہزار 162 روپے فی تولہ ہو گئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت میں 1115 روپے کا اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 8 ہزار 232 روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 75.29 ڈالر ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹ میں 21 روپے کی کمی سے فی تولہ چاندی 8013 روپے اور فی 10 گرام چاندی کے نرخ 18 روپے کی کمی سے 6869 روپے کی سطح پر آ گئے۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ مقامی بازار میں سونا مہنگا ہونے کی بنیادی وجوہات ہیں، اور موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پہلا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی

    پہلا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی

    پاکستان نے آسٹریلیا کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایک-صفر کی برتری حاصل کر لی ہے،ون ڈے میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ،آسٹریلیا نے تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے 200 رنز کا ہدف دیا ، نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے بھی ’ڈریم ڈیبیو‘ کیا ہے اور ون ڈے کیریئر کے پہلے میچ میں 5وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

    عرفات منہاس نے پہلے آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کو 13 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا اس کے بعد انہوں نے مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس بھیج کر آسٹریلوی ٹیم پر دباؤ بڑھا دیاستائیسویں اوور میں نصف سنچری بنانے کے بعد اوپنر میتھیو شارٹ بھی عرفات منہاس کی گیند پر آؤٹ ہو گئے اس کے بعد 145 رنز کے مجموعی اسکور پر سلمان آغا نے اولیور پیک کو آؤٹ کیا جب کہ ابرار احمد نے میٹ رینشا کی وکٹ لے کر ٹیم کے لیے ساتو یں وکٹ لی،میچ کے تینتالیسویں اوور میں عرفات منہاس پھر نیتھن ایلس کو بولڈ کرکے ون ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں،200 رنز کے مجموعی اسکور پر تنویر سانگھا اور میتھیو کوہنیمن بھی آؤٹ ہوگئے۔

    پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس کے علاوہ ابرار احمد نے 2، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان آغا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی،آسٹریلیا کے 201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور 43ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔

    بابر اعظم اور غازی غوری نے نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی۔ بابر اعظم 69 رنز جب کہ غازی غوری 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے،عرفات منہاس نے آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کی جیت پر مہر لگائی اور بہترین کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار پائے۔

    میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے منیجر نوید اکرم نے عرفات منہاس کو ڈیبیو کیپ پیش کی ،اس موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف نے نوجوان کرکٹر کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا شاہین آفریدی کا کہنا تھا پاکستانی ٹیم ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں آج اپنا ہزارواں میچ کھیل رہی ہے، پاکستان کیلئے ہزارویں میچ میں شرکت اور کپتانی کرنا اعزاز کی بات ہے، پوری ٹیم کیلئے یہ تاریخی موقع ہے، کوشش کریں گے کہ عمدہ پرفارمنس پیش کریں اور میچ میں کامیابی حاصل کریں۔

    قومی ٹیم میں شاہین آفریدی کپتان، صاحبزادہ فرحان، معاذصداقت، بابراعظم، غازی غوری وکٹ کیپر، سلمان علی آغا اور عبد الصمد شاداب خان، عرفات منہا س، حارث رؤف اور ابراراحمد بھی ٹیم کا حصہ ہیں،نوجوان کھلاڑی عرفات منہاس اپنا ون ڈے ڈیبیو کررہے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے کرکٹ میں مجموعی طور پر 111 میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں آسٹریلیا کو واضح برتری حاصل ہے، آسٹریلیا نے 71 جبکہ پاکستان نے 36 میچز جیتے ہیں، جبکہ تین میچز بے نتیجہ اور ایک ٹائی ہوا، حالیہ فارم کے لحاظ سے دونوں ٹیمیں تقریباً ایک جیسی کارکردگی کے ساتھ میدان میں اتری ہیں اور اپنی آخری پانچ میچز میں تین، تین فتوحات حاصل کر چکی ہیں۔

  • سابق  بنگلہ دیشی صدر ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی، وزیراعظم کا خراج عقیدت

    سابق بنگلہ دیشی صدر ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی، وزیراعظم کا خراج عقیدت

    سابق بنگلہ دیشی صدر ضیاء الرحمان کو دنیا سے رخصت ہوئے 45 برس ہو گئے-

    بنگلہ دیش کے وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے ہفتے کے روز اپنے والد، سابق صدر اور بی این پی کے بانی ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

    طارق رحمان نےڈھاکا کے شیر بنگلہ نگر میں واقع ضیاء الرحمان کی قبر پر حاضری دی جہاں انہوں نے پہلے وزیراعظم اور بعد ازاں بی این پی چیئرمین کی حیثیت سے پھولوں کی چادریں چڑھائیں، اس موقعے پر پارٹی کے سینیئر رہنما، کابینہ کے ارکان اور حکومتی مشیر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے مختصر خاموشی اور دعا کے بعد طارق رحمان نے پارٹی کے مذہبی ونگ کے زیر اہتمام منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

    بعد ازاں انہوں نے ڈھاکا کے مانک میا ایونیو پر واقع راجدھانی ہائی اسکول میں مستحق خاندانوں میں کپڑوں کی تقسیم کے ذریعے ملک گیر فلاحی پروگرام کا آغاز کیا یہ اقدام ضیاء الرحمان کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات کا حصہ ہے جن میں خوراک، امدادی سامان اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے۔

    اس موقعے پر کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ضیاء الرحمان کی سیاست عوامی خدمت، محروم طبقات کی مدد اور قومی تعمیر پر مبنی تھی، شہید صدر ضیاء الرحمان کی سیاست عوام کے ساتھ کھڑے ہونے، ان کی مدد کرنے اور قوم کی تعمیر کے لیے تھی ان کے نظریات سے رہنمائی لیتے ہوئے ملک کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔

  • شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ شادی کے موقع پر کیے گئے علیحدہ معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا بھی پابند ہے۔

    جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ شادی کے روز شوہر نے ایک الگ معاہد ے کے تحت بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، لہٰذا اس وعدے کی قانونی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، اسے شوہر کا احسان یا صوابدیدی رعایت نہیں سمجھا جا سکتا قانون کی نظر میں حق مہر شوہر پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ادائیگی لازم ہے، شادی کے دوران یا بعد میں حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا عدالت نے مشاہدہ کیا کہ معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین اپنے حقوق کا فوری مطالبہ نہیں کرتیں، اس لیے خاموشی کو رضامندی یا حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جا سکتا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی بھی اجازت ہے،خاندانی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی حقائق اور فریقین کے جائز حقوق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ شادی کے وقت کیے گئے تحریری وعدے اور معاہدے محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی بن سکتے ہیں، جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

  • عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔

    دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
    کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
    اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
    کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟

    اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
    کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
    کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
    کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔

    یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
    کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
    اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔

    عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟

    ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
    اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
    اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
    کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
    کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
    کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
    ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
    ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟

    اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
    خدارا اب تو بولو!
    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
    کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔

  • پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی

    پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی

    راولپنڈی: پاکستان کرکٹ ٹیم نے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنے 1000ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں میدان میں اتر کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

    پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جانے والا سیریز کا پہلا ون ڈے میچ قومی ٹیم کا 1000واں ون ڈے میچ ہے۔ اس اعزاز کے ساتھ پاکستان دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی ہے جس نے ون ڈے کرکٹ میں ایک ہزار میچز مکمل کیے ہیں۔اس سے قبل صرف بھارت اور آسٹریلیا ہی یہ سنگِ میل عبور کر چکی تھیں۔

    قومی ٹیم کے گزشتہ 999 ون ڈے میچز کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے 527 میچز میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 442 مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ 9 میچز ٹائی ہوئے اور 12 مقابلے بغیر نتیجہ ختم ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے ون ڈے کرکٹ میں کئی یادگار فتوحات اپنے نام کیں، تاہم ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ قومی ٹیم اب تک ون ڈے اننگز میں 400 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی۔ پاکستان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور 399 رنز ہے، جبکہ کم ترین مجموعہ صرف 43 رنز رہا ہے۔کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ 1000 ون ڈے میچز مکمل کرنا پاکستان کرکٹ کی طویل اور شاندار تاریخ کا مظہر ہے، اور یہ سنگِ میل قومی ٹیم کے عالمی کرکٹ میں نمایاں کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

  • بڑھاپے میں دوسری شادی کرنیوالے حکیم بابر کو دوست نے زہرپلا دیا

    بڑھاپے میں دوسری شادی کرنیوالے حکیم بابر کو دوست نے زہرپلا دیا

    حکیم بابر جو حال ہی میں نوجوان بیوی کی وجہ سے اور دوسری شادی کی وجہ سے سوشل میڈیا اور خبروں کی زینت بنے تھے حال ہی میں انہیں اپنے ہی گاوں میں بلا کر زہر دے دیا گیا تاہم اب حکیم بابر کی حالت خطرے سے باہر ہے

    حکیم بابر کا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد میں پہلی دفعہ گاؤں آیا، ایک دوست صفدر نے بلایا میں چلا گیا اس نے چائے پلائی اور پھر کہا کہ اپنی بیگم کو بلائیں ،تصویریں بنانی ہیں ،کافی لڑکیاں ہیں یہاں،میں نے بیگم کو بلایا،وہ آئیں اور انکو انہوں نے کوک پلائی بیگم کو کچھ نہیں‌ہوا،لیکن مجھے جوس پلایا گیا جس میں زہر تھا ، ایک گھونٹ میں نے پیا اور رکھ دیا وہ مجھے کہتے رہے کہ گلاس خالی کر کے جائیں،میں نے کہا نہیں پیتا، لیکن اس کے بعد پینا پڑا، میری طبیعت خراب ہو گئی ،مجھے ہسپتال لے جایا گیابھانجا تھا میرے ساتھ ،ہسپتال میں میرا معدہ واش کیا گیا، وزیراعلی مریم نواز میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میری جان کو خطرہ ہے، تحقیقات کرائیں اور ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلوائیں،میری کسی سے کوئی دشمنہی نہیں ،کبھی کسی کا برا نہیں سوچا،

  • مانچسٹر ایئرپورٹ تشدد واقعہ، پاکستانی نژاد دو بھائی الزامات سے بری

    مانچسٹر ایئرپورٹ تشدد واقعہ، پاکستانی نژاد دو بھائی الزامات سے بری

    لندن: مانچسٹر ایئرپورٹ پر پولیس افسران پر حملے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والے دو پاکستانی نژاد بھائیوں، محمد فہیر عماز اور محمد عماد، کو کراؤن کورٹ کی جیوری نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نیل فلیویٹ کے سی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ دونوں بھائیوں کے خلاف عائد الزامات ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دیا،اس سے قبل محمد فہیر عماز کو دو پولیس افسران سمیت تین افراد پر حملے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا، تاہم جیوری اس معاملے میں متفقہ طور پر حتمی فیصلہ دینے میں ناکام رہی تھی۔

    واضح رہے کہ 23 جولائی 2024 کو مانچسٹر ایئرپورٹ پر پیش آنے والے تصادم کی ایک موبائل فون ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد برطانیہ کے مختلف شہروں میں پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ واقعے کے بعد ایک پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا تھا جبکہ تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

    دونوں بھائی، جو راچڈیل میں مقیم ہیں، اپنی والدہ کو لینے مانچسٹر ایئرپورٹ پہنچے تھے جو پاکستان سے قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچی تھیں۔

  • تحریک انصاف کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش

    تحریک انصاف کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش

    خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کا شکوہ ہے کہ صوبے میں گورننس اور امن وامان کی صورتحال ابتر ہے، وزیراعلیٰ بیوروکریسی سے اپنی بات منوانے میں ناکام ہیں، افسران وزیراعلیٰ کے بجائے وفاق کی بات مانتے ہیں،ناراض ارکان کا یہ شکوہ بھی ہے کہ متعدد بار تحفظات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے مگر عملدرآمد نہ ہوسکا، فنڈز کی غیرمنصفانہ تقسیم اور کابینہ میں توسیع پر بھی ناراض ارکان کو تحفظات ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ تحفظات اور حکمت عملی طے کرنے کیلئے ناراض ارکان کا جلد اجلاس بلائے جانےکا امکان ہے۔

    وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے صوبائی حکومت سے متعلق خبروں پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی کی گروپ بندی سے متعلق خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بےبنیاد ہیں، خیبر پختونخوا میں پارٹی ارکان اسمبلی کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے مایوس ہوں گے،شفیع جان کا کہنا ہے کہ تمام ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں متحد ہیں اور پُرعزم ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔