Baaghi TV

Blog

  • کھالوں کے پیچھے لگنے والی جماعت اسلامی کو  ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے،سعدیہ جاوید

    کھالوں کے پیچھے لگنے والی جماعت اسلامی کو ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے،سعدیہ جاوید

    ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ جہاں جماعتِ اسلامی نے کام نہیں کیا، وہاں جیالے میئر نے کام کر کے دکھایا۔

    سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ سارا دن سیاسی جماعتوں پر الزامات لگانے والے گلگت بلتستان میں اتحادی بن جاتے ہیں اور سارا دن پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے آج صدر زرداری سے ہی مطالبات کر رہے ہیں، صدر زرداری نے ہمیشہ پاکستان کھپے کا پیغام دیا اور آج بھی اُن کا مؤقف یہی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں، ادارے مل کر ترقی اور استحکام دیں،ترجمان سندھ حکومت نے سوال کیا کہ آمروں کے ادوار میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے کس منہ سے ہمیں بی ٹیم کہہ رہے ہیں،عید الاضحیٰ پر صفائی کے انتظامات سب کے سامنے ہیں، سالڈ ویسٹ کی گاڑیوں پر اپنے جھنڈے لگانے اور کھالیں جمع کرنے والی جماعتِ اسلامی کو کارکردگی نظر نہیں آتی، عوامی خدمت کے بجائے کھالوں کے پیچھے لگنے والوں کو اپنا نظام اور ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے، سالڈ ویسٹ بورڈ نے 3 دنوں میں 1 لاکھ 70 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں اٹھائیں،

  • جرمنی کے شہر برلن میں عالمی ثقافتی میلہ میں پاکستانی رنگا رنگ ثقافت توجہ کا مرکز

    جرمنی کے شہر برلن میں عالمی ثقافتی میلہ میں پاکستانی رنگا رنگ ثقافت توجہ کا مرکز

    جرمنی کے شہر برلن میں عالمی ثقافتی میلہ میں پاکستانی رنگا رنگ ثقافت توجہ کا مرکز بن گیا

    پاکستانی فنکاروں نے روایتی رقص، رنگوں اور دھنوں سے دنیا بھر کے افراد سے خوب داد حاصل کی،پنجاب سے سندھ، خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک، پرفارمنسز نے چاروں صوبوں کی ثقافتی خوبصورتی کو شاندار انداز میں پیش کیا،کارنیوال آف کلچرز میں پاکستان نے 13 سال بعد واپسی کی جو ایک اہم اور قابلِ ذکر موقع ہے،اس ایونٹ میں دنیا بھر کے 70 سے زائد گروپس نے اپنی ثقافتوں کی نمائندگی کی،برلن میں روایتی لباس، موسیقی اور رقص سے پاکستانی گروپس نے خوب پزیرائی حاصل کی ہے

    چاروں صوبوں کی جھلک نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ثقافتوں کا حسین گلدستہ ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانی اور فنکار ملکی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں پیش کر کے ملک کی مثبت پہچان کو اجاگر کر رہے ہیں

  • بلوچستان کی ترقی کا اہم سنگِ میل، گوادر ایئرپورٹ پر پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے لینڈ

    بلوچستان کی ترقی کا اہم سنگِ میل، گوادر ایئرپورٹ پر پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے لینڈ

    بلوچستان کی ترقی اور خطے میں فضائی رابطوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گوادر نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ساؤتھ ایئر کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی کے ساتھ لینڈ کر گئی۔

    پرواز کی آمد پر گوادر ایئرپورٹ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے طیارے اور عملے کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر حکام نے اس کامیاب آزمائشی لینڈنگ کو گوادر کی فضائی رابطہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔حکام کے مطابق آزمائشی پرواز کی کامیابی کے بعد گوادر سے ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے باقاعدہ آغاز کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے، جس سے علاقے میں سرمایہ کاری، تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مکمل آپریشنل ہونے سے نہ صرف بلوچستان کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ منصوبہ پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی اور بحالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

    واضح رہے کہ گوادر ایئرپورٹ کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے اور اسے خطے کے اہم فضائی مراکز میں شامل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • کراچی بندرگاہ پر جہازوں کے تصادم کے بعد ’ایم وی پاپو‘ کی روانگی روک دی گئی

    کراچی بندرگاہ پر جہازوں کے تصادم کے بعد ’ایم وی پاپو‘ کی روانگی روک دی گئی

    کراچی بندرگاہ کے قریب دو بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے بعد حکام نے جدہ جانے والے لائبیریا پرچم بردار جہاز ’’ایم وی پاپو‘‘ کو مزید کارروائی تک روانگی سے روک دیا ہے۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ذرائع کے مطابق جہاز کو تحقیقات مکمل ہونے اور ضروری قانونی و تکنیکی کارروائی کے بعد ہی بندرگاہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور حادثے کے ذمہ دار عناصر کا تعین بھی کیا جائے گا۔دوسری جانب زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل بچھانے اور ان کی مرمت کے لیے استعمال ہونے والا متحدہ عرب امارات پرچم بردار جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ اس وقت پورٹ کی برتھ پر موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز کو ہونے والے نقصان کی مرمت جاری ہے اور بڑی تکنیکی مرمت کے بعد ہی اسے دوبارہ سمندری سفر کے قابل بنایا جا سکے گا۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی رات کراچی پورٹ کے داخلی راستے کے قریب فیئر وے بوائے کے باہر ’’ایم وی نیوا‘‘ اور ’’ایم وی پاپو‘‘ آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ حادثہ رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔حادثے کے فوراً بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ہنگامی امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے اپنے چار بڑے ٹگز ایم ٹی میٹھادر، ایم ٹی کھارادر، ایم ٹی لیاری اور ایم ٹی کیماڑی کو موقع پر روانہ کیا۔ امدادی ٹیموں نے متاثرہ جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ کو بحفاظت کراچی ہاربر منتقل کیا، جہاں اسے مرمت کے لیے لنگر انداز کر دیا گیا۔کے پی ٹی کے اعلامیے کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث جہاز رانی کے نظام اور سمندری ماحول کو لاحق ممکنہ خطرات کو ٹال دیا گیا، جبکہ بندرگاہ کی سرگرمیاں بھی متاثر نہیں ہوئیں۔

    وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بحری حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود سے باہر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں، جبکہ چیئرمین کراچی پورٹ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

  • گودی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بیانیہ بے نقاب

    گودی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بیانیہ بے نقاب

    گودی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بیانیہ بے نقاب ہو گیا

    بھارتی گودی میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کو متنازعہ بیانیے سے جوڑنے کی ناکام کوشش شروع کر دی،بھارتی میڈیا نام نہاد کالعدم تنظیموں کا نام لیکر پاکستانی سفارتی و دفاعی معاہدوں کو اسرائیل سے جوڑنے کا من گھڑت پروپیگنڈا کر رہا ہے ،اس سے قبل بھی مودی نواز میڈیا مسلسل بے بنیاد اور سنسنی خیز بیانیوں کے ذریعے خطہ میں اشتعال انگیزی کو ہوا دیتا رہا ہے،بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقہ راجوڑی میں بھارتی فوجی جوانوں کی موت سے متعلق ایک اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا گیا ،بھارتی صحافیوں نے بغیر ثبوت کے راجوڑی واقعہ کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی

    گودی میڈیا نے جالندھر میں ملٹری کیمپ کے باہر دھماکے کا الزام بھی بغیر تحقیقات اور شواہد کے پاکستان پر دھر دیا تھا،بھارتی میڈیا نے پاکستان پر کرکٹ اور میچ فکسنگ سے حاصل رقم کو کینیڈا میں بھارت مخالف سرگرمیوں میں استعمال کرنے کا مضحکہ خیز الزام بھی لگا دیا ،

    ماہرین کے مطابق؛مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا مسلسل بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہے،بھارتی میڈیا ابراہام معاہدے سے متعلق بےبنیاد بیانیہ گھڑ کر پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور عالمی ساکھ متاثر کرنے کی مذموم سازش کر رہا ہے، توانائی بحران اور دیگر داخلی مسائل سےتوجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان پر الزام تراشی بی جے پی حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے، بھارتی میڈیا کا انتہا پسندانہ طرزِ رپورٹنگ صحافتی اصولوں کے بجائے سیاسی پروپیگنڈے کی عکاسی کرتا ہے

  • سگریٹ نوشی نہ کرنے والے ملازمین کو ملیں گی اضافی چھٹیاں

    سگریٹ نوشی نہ کرنے والے ملازمین کو ملیں گی اضافی چھٹیاں

    ٹوکیو: دنیا بھر میں کمپنیاں اپنے ملازمین کی صحت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں، تاہم جاپان کی ایک کمپنی نے ایک منفرد پالیسی متعارف کرا کے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    جاپانی کمپنی پیالا انک نے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے ملازمین کو ہر سال 6 اضافی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد ملازمین کے درمیان مساوات قائم کرنا اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔رپورٹس کے مطابق کمپنی نے یہ پالیسی 2017 میں اس وقت متعارف کرائی جب بعض ملازمین نے شکایت کی کہ سگریٹ نوشی کرنے والے ساتھی دورانِ کام متعدد بار سگریٹ پینے کے لیے وقفے لیتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کے کام کے اوقات متاثر ہوتے ہیں بلکہ دیگر ملازمین پر اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہو جاتی ہیں،شکایات موصول ہونے کے بعد کمپنی انتظامیہ نے ملازمین کے درمیان سروے کروایا۔ سروے کے نتائج کی روشنی میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے ملازمین کو سالانہ 6 اضافی دنوں کی چھٹی دینے کا اعلان کیا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ملازمین کے درمیان توازن پیدا ہوگا بلکہ غیر تمباکو نوش ملازمین کو بھی اپنے وقت کے بہتر استعمال کا موقع ملے گا۔ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد ملازمین کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کی ترغیب دینا بھی تھا،اطلاعات کے مطابق اضافی چھٹیوں کے اعلان کے بعد کئی ملازمین نے سگریٹ نوشی چھوڑنے یا اس میں کمی لانے کی کوشش شروع کر دی، جبکہ بعض افراد نے مستقل طور پر تمباکو نوشی ترک بھی کر دی۔

    ماہرین صحت کے مطابق سگریٹ نوشی نہ صرف انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ کام کی جگہ پر پیداواری صلاحیت میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بار بار سگریٹ نوشی کے وقفے مجموعی کام کے اوقات کو متاثر کرتے ہیں، جس سے اداروں کی کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے،جاپان میں اس منفرد اقدام کے بعد دنیا بھر کی متعدد کمپنیوں نے بھی صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات متعارف کرانا شروع کر دی ہیں۔ بعض ادارے ملازمین کو فٹنس بونس فراہم کر رہے ہیں جبکہ کچھ کمپنیاں صحت سے متعلق اہداف حاصل کرنے پر اضافی سہولیات اور مراعات دے رہی ہیں۔

  • پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،
    دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔

    دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
    تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:

    * تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
    * اینٹی شپ میزائل سسٹمز
    * آبدوزی جنگی صلاحیت
    * ساحلی میزائل بیٹریاں
    * بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس

    اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔

    اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
    * بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
    * طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
    * براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
    * اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔

    نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔

    300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
    ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
    300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
    * کراچی کے بحری راستوں کو،
    * گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
    * اہم بندرگاہوں کو،
    * اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔

    جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
    * دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
    * بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
    * میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
    * سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
    * اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

    جدید بحری جنگ میں انضمام
    جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
    * اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
    * سیٹلائٹس پر،
    * میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
    * ڈرونز پر،
    * الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
    * اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔

    دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
    * ہدف کے حصول میں،
    * میزائل رہنمائی کے نظام میں،
    * ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
    * اور مربوط بحری نگرانی میں۔

    ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
    1. بحری نگرانی کے ذرائع
    2. ساحلی کمانڈ مراکز
    3. میزائل لانچ بیٹریاں
    4. بحری فضائیہ
    5. آبدوزی قوت

    اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    “منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
    اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
    * ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
    * طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
    * موبائل کمانڈ گاڑیاں،
    * دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
    * اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔

    متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔

    یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
    * چین،
    * ایران،
    * اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
    غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔

    بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
    500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
    1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
    گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
    * تجارتی جہاز رانی کو،
    * توانائی کی سپلائی لائنز کو،
    * بحری لاجسٹکس کو،
    * اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔

    2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
    طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

    3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
    پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
    طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنجز
    ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
    * انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
    * بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
    * سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
    * الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
    * اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔

    صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
    * قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
    * محفوظ مواصلاتی نظام،
    * اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
    موجود نہ ہو۔

    وسیع علاقائی تناظر

    بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
    * بھارت،
    * چین،
    * امریکہ،
    * اور خلیجی بحری قوتوں
    کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔

    اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔

    بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔

    اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

  • غیرت کے نام پر قتل کا بدلہ،کراچی میں گولیاں چل گئیں،2 افراد کی موت

    غیرت کے نام پر قتل کا بدلہ،کراچی میں گولیاں چل گئیں،2 افراد کی موت

    کراچی،سائیٹ ایریا لیبر چوک پر واقع گودام میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد کی موت ہو گئی

    فائرنگ کے نتیجے میں جانبحق ہونے والے افراد کی شناخت قدیر ولد دوست محمد اور علی گوہر ولد حکیم خان کے نام سے ہوئی جو کہ گودام میں چوکیداری پر مامور تھے۔ضلع کیماڑی تھانہ سائیٹ بی پولیس نے فوری و بروقت رسپانس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیڈ باڈیز کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا اور موقع سے شواھد اکٹھے کرنے سمیت ملزمان کی تلاش شروع کی گئی اور فائرنگ میں ملوث ایک مرکزی ملزم کو واقع کے چند گھنٹوں میں ہی حراست میں لے لیا گیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق 6 سے 7 افراد ایک کار اور دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور گودام میں موجود دونوں افراد پر شدید فائرنگ شروع کردی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق متوفی قدیر کے لواحقین کے مطابق متوفی نے غیرت کے نام پر اپنی بہن اور بہن کے آشنا ، لڑکے کو قتل کیا تھا اور مزکورہ دوہرے قتل کے بعد قدیر نے متوفی علی گوہر کے پاس پناہ لی ہوئی تھی اور مخالفین سے بچنے کے لئے روپوش تھا۔ابتدائی تحقیقات اور مدعیان کی نشان دہی کی روشنی میں ایک مرکزی ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کا عمل جاری ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

  • سپریم کورٹ کا سرکاری ملازم میاں بیوی کی ایک ہی شہر میں تعیناتی بارے بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سرکاری ملازم میاں بیوی کی ایک ہی شہر میں تعیناتی بارے بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان کا سرکاری ملازم میاں بیوی کی ایک ہی شہر میں تعیناتی سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے ویڈلاک پالیسی کے تحت تبادلے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ میاں بیوی سرکاری ملازمت میں ہوں تو انہیں ایک ہی سٹیشن پر تعینات کیا جائے، عدالتِ عظمیٰ نے پنجاب سروس ٹریبونل اور بورڈ آف ریونیو کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا،عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازم خواتین کو شوہر سے دور رکھ کر بچوں کی اکیلے پرورش پر مجبور کرنا ظلم ہے، میاں بیوی کا الگ الگ شہروں میں تعینات ہونا شدید ذہنی تناؤ اور کارکردگی میں کمی کا باعث بنتا ہے،ویڈلاک پالیسی محض کاغذی کارروائی نہیں، اس پر روح کے مطابق عمل درآمد لازمی ہے،صوبے کے تمام محکمے اور انتظامی سربراہان وزیر اعلیٰ کی ویڈلاک پالیسی کے متعلق ہدایات کےپابند ہیں۔محکمے ‘اسامی خالی نہیں ہے’ جیسے لنگڑے بہانے بنا کر میاں بیوی کے تبادلے کی درخواستیں مسترد نہیں کر سکتے، اگر مستقل اسامی دستیاب نہ ہو تو عارضی تبادلے، ڈیپوٹیشن یا کسی دوسرے محکمے میں ایڈجسٹ کر کے میاں بیوی کو اکٹھا کیا جائے۔عدالتِ عظمیٰ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کو 15 دن کے اندر خاتون ملازمہ کے تبادلے کا نیا حکم جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے ناہیدہ عزیز بنام چیف سیکرٹری پنجاب کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے اہم فیصلہ سنایا

  • پاکستان کی تعلیمی میدان  میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی

    پاکستان کی تعلیمی میدان میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی

    پاکستان نے ایک بار پھر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے یورپی یونین کے معروف تعلیمی پروگرام ایراسمس پلس میں مسلسل پانچویں سال بھی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

    یورپی یونین کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پاکستان کے 98 طلبہ و طالبات نے ایراسمس پلس اسکالرشپس حاصل کیں، جو کسی بھی شریک ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ پاکستان نے مسلسل پانچویں سال پروگرام میں اپنی برتری ثابت کر دی۔رواں سال یورپی یونین نے اپنے فلیگ شپ تعلیمی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر ایک ہزار 872 اسکالرشپس کا اعلان کیا تھا، جن میں پاکستانی طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ وظائف اپنے نام کیے۔اس فہرست میں بنگلا دیش 80 اسکالرشپس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ بھارت 75 اسکالرشپس حاصل کرکے تیسرے نمبر پر آیا۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق پاکستانی طلبہ کی مسلسل کامیابی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی صلاحیت اور نوجوانوں کی علمی استعداد کا واضح ثبوت ہے۔ ایراسمس پلس پروگرام کے ذریعے منتخب طلبہ کو یورپ کی مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے ان کی پیشہ ورانہ اور تعلیمی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔