Baaghi TV

Blog

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،امریکا کا میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،امریکا کا میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ

    واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر تین امریکی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ یہ یونٹ ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل دینے والی فورس ہوتی ہے۔

    حکام کے مطابق میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ عام طور پر تقریباً 2500 میرینز اور بحریہ کے اہلکاروں پر مشتمل ہوتی ہے، جو سمندر اور خشکی دونوں محاذوں پر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس یونٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا یا اسے خطے میں کس مقام پر تعینات کیا جائے گا۔فوجی ماہرین کے مطابق ایسے یونٹس ماضی میں بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائیوں، سمندر سے خشکی تک فوجی آپریشنز، چھاپہ مار کارروائیوں اور حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان یونٹس میں زمینی اور فضائی جنگی دستے بھی شامل ہوتے ہیں، جبکہ بعض دستوں کو خصوصی آپریشنز کے لیے بھی تربیت دی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کی تعیناتی سے امریکی فوجی کمانڈرز کو خطے میں پیدا ہونے والی مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید آپشنز دستیاب ہو جائیں گے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ فی الحال متعلقہ ملک میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے اس تعیناتی کی خبر رپورٹ کی تھی، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نیشنل پریس کلب اسلام آباد انتخابات،صدر،سیکرٹری کی سیٹ ڈیموکریٹک پینل جیت گیا

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد انتخابات،صدر،سیکرٹری کی سیٹ ڈیموکریٹک پینل جیت گیا

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات ،ڈیموکریٹ پینل کے عبدالرزاق سیال 1067 ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے

    جرنلسٹ پینل کی صدارتی امیدوار نیئر علی 1052 ووٹ لے سکیں،ڈیموکریٹ پینل کے فرقان راو 1024 ووٹ لے کر سیکرٹری منتخب ہو گئے،جرنلسٹ پینل کے خالد محمود 1002 ووٹ لے کر رنر آپ رہے،جرنلسٹ پینل کے عابد عباسی 1061 ووٹ لے کر سیکرٹری خزانہ منتخب ہو گئے، ڈیموکریٹ پینل کے خاور نواز راجہ 1032 ووٹ لے سکے

    جرنلسٹ گروپ بیس سال بعد صدر اور سیکرٹری کی دونوں پوزیشن کھو بیٹھا ،اپوزیشن اتحاد نے ایگزیکٹوز کی گیارہ سیٹوں میں سے صدر ، سیکرٹری اور دو نائب صدور کی سیٹیں جیت لیں ،ڈیموکریٹ پینل کے عبدالرزاق سیال 1067 ووٹ لیکر صدر منتخب ہوئے،سیکرٹری کی سیٹ پر ڈیموکریٹ پینل کے ڈاکٹر فرقان راؤ نے 1025 ووٹ حاصل کئے ،فنانس سیکرٹری کی سیٹ پر جرنلسٹ پینل کے عابد عباسی نے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار رکو شکست دی،احتشام الحق نے 1202ووٹ لیکر سینئر نائب صدر منتخب ہو گئے،نائب صدور کی پوزیشن پر جرنلسٹ پینل کی سحر قریشی 1049 ووٹ حاصل کئے،یموکریٹ پینل کے عثمان خان نے 1015ووٹ اور بشیر چوہدری نے 1076ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ، جوائنٹ سیکرٹریز کی چاروں پوزیشن جرنلسٹ پینل کے امیدواران اپنےنام کرنے میں کامیاب رہے،جرنلسٹ گروپ کے شیراز گردیزی ۔1228ووٹ لیکر سینئر جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے،شکیلہ جلیل 1162 ، عون شیرازی نے 1121 اور جاوید بھاگٹ نے 865 ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی،گورننگ باڈی کی پندرہ نشستوں پر نتائج اتوار کو سنائے جائیں گے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ نیشنل پریس کے انتخابات میں نو منتخب صدر رزاق سیال کو کامیابی پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں. پر امید ہوں کہ نیشنل پریس کلب کی نو منتخب کابینہ صحافتی اقدار کی پاسداری اور صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے شب روز محنت کریں گے اور عوامی ایشوز کو اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر احتشام الحق کو سینئر نائب صدر، سحرش قریشی، عثمان خان اور بشیر چوہدری کو نائب صدور، فرقان راؤ کو سیکریٹری، عابد عباسی، شیراز گردیزی، عون شیرازی، جاوید بھاگٹ اور شکیلہ جلیل سمیت تمام کابینہ کو بھی بھرپور مبارکباد. انشاءاللہ ہم مل کر صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔

  • 
ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت جواب دینے کا اعلان

    
ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت جواب دینے کا اعلان

    
ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔
    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اس صورتحال کو قبول نہیں کرسکتا کہ ایک طرف مذاکرات اور جنگ بندی کی بات کی جائے جبکہ دوسری جانب دوبارہ فوجی کارروائیاں اور حملے جاری رکھے جائیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
    ‎اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی مسلح افواج دشمن کو سخت اور ناقابلِ فراموش جواب دینے کے لیے پُرعزم ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،فتنہ الخوارج کے دو ڈرون مار گرائے ، وزارت اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے دو ڈرون کامیابی کے ساتھ مار گرائے ہیں، جس کے نتیجے میں کسی فوجی تنصیب یا اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گرد تنظیم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دو ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز استعمال کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ڈرونز کو مؤثر کارروائی کے بعد مار گرایا گیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم گرنے والے ملبے کی وجہ سے قریبی علاقے میں معمولی نقصان ہوا، جسے فوری طور پر کنٹرول کر لیا گیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ افغان طالبان رجیم خطے میں سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے، جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کیے جانے والے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ افغان وزارت دفاع اور رجیم سے وابستہ دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کے حوالے سے بدنام ہیں۔حالیہ دنوں میں انہی اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کا ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ پائلٹوں کی گرفتاری سے متعلق بھی بے بنیاد اطلاعات پھیلائی گئیں۔ بعد ازاں افغان رجیم سے منسلک اکاؤنٹس نے خاموشی سے یہ دعوے حذف کر دیے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت سامنے آ کر رہتی ہے اور سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور کسی بھی دہشت گرد خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • 
ٹرمپ کا جی سیون اجلاس میں دعویٰ، ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے

    
ٹرمپ کا جی سیون اجلاس میں دعویٰ، ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے

    
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس میں ایران سے جاری جنگ کی صورتحال پر گفتگو کی۔
    اجلاس میں شریک تین عہدیداروں نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے جی سیون رہنماؤں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران میں اس وقت کوئی ایسا اعلیٰ عہدیدار باقی نہیں رہا جو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر سکے۔
    ‎عہدیداروں کے مطابق ٹرمپ نے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور تجارتی جہازوں کو دوبارہ اپنے آپریشنز شروع کر دینے چاہئیں۔
    ‎صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ کارروائیوں کو مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ آئندہ پانچ سال کے اندر ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کی نوبت نہ آئے۔ تاہم انہوں نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنے مقاصد یا کسی واضح ٹائم لائن کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی۔
    ‎امریکی میڈیا کے مطابق جی سیون کے دیگر رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو جلد ختم کیا جائے اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد محفوظ بنایا جائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

  • ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران کے کلسٹر ہتھیار اسرائیلی فضائی دفاع کے لیے نیا چیلنج

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اب اپنے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر میونیشنز (Cluster Munitions) نصب کر رہا ہے، جس سے اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    رات کے وقت اسرائیلی آسمان پر نارنجی روشنی کے چھوٹے چھوٹے ذرات تیزی سے زمین کی طرف گرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فضا میں خطرے کے سائرن گونج رہے ہوتے ہیں۔ دراصل یہ روشنی کے ذرات چھوٹے بم ہوتے ہیں جو ایک بیلسٹک میزائل کے سرے سے بلند فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر وسیع علاقے میں بکھر کر زمین پر گرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کے بیشتر بیلسٹک میزائل تقریباً 24 چھوٹے بم (بومبلٹس) لے جا سکتے ہیں جبکہ ایران کا ایک میزائل خرمشہر (Khorramshahr) 80 تک بومبلٹس لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر بومبلٹ میں تقریباً 11 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ایران کے دو حملوں میں یہ بومبلٹس 7 سے 8 میل تک پھیلے علاقے میں گرے۔ ان میں گھروں، کاروباری مراکز، سڑکوں اور پارکوں سمیت مختلف شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل میں میزائل حملوں سے پہلے وارننگ سسٹم اور بنکرز کی موجودگی شہریوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے تل ابیب کے مضافات میں ایک بومبلٹ گرنے سے دو تعمیراتی مزدور ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مزدور حملے کے وقت کسی محفوظ مقام پر موجود نہیں تھے۔

    کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ وسیع علاقے میں بغیر امتیاز کے تباہی پھیلاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آباد علاقوں میں ان کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ سال ایران کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے مشکل
    اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام نے اگرچہ اکثر بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن چھوٹے بومبلٹس کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا سائز چھوٹا اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے انہیں بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔اسرائیلی میزائل ماہر تال انبار کے مطابق ایران کا مقصد فعال میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات اسرائیلی دفاعی نظام میزائل کو فضا میں تباہ کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بومبلٹس زمین پر گر جاتے ہیں، کیونکہ یا تو میزائل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا یا وہ پہلے ہی بومبلٹس چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا ایک مقصد اسرائیل کو اپنے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل زیادہ تعداد میں استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات کئی انٹرسیپٹر داغنے پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب ممکنہ طور پر طویل المدتی تھکا دینے والی جنگ کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایک میزائل بھی اسرائیل کے لاکھوں شہریوں کو بنکروں میں جانے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔اسلحہ ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری آبادی میں خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج اور ہوم فرنٹ کمانڈ نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں کیونکہ بومبلٹس بعد میں بھی گر سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر پھٹنے والے بومبلٹس کے قریب جانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ جیسی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسی حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اسرائیل کے فضائی دفاع بلکہ پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

  • ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی دیں گے، ٹرمپ

    ضرورت پڑی تو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی دیں گے، ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گا اور ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو امریکا تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
    ‎صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے ایران پر مزید سخت حملے کیے جا سکتے ہیں اور امریکا اپنی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کرے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

  • ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پریو اے ای میں برطانوی سیاح سمیت 21 افرادگرفتار

    متحدہ عرب امارات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں ایک برطانوی سیاح سمیت 21 افراد کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    یہ معلومات قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیم Detained in Dubai نے جاری کی ہیں۔تنظیم کے مطابق 60 سالہ برطانوی سیاح کو پیر کے روز دبئی میں اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جو ایسی تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے یا شیئر کرنے سے روکتا ہے جو عوام میں خوف و ہراس یا افواہیں پھیلانے کا باعث بن سکتی ہوں۔
    برطانوی سیاح نے مبینہ طور پر اپنے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی ویڈیو بنائی تھی تاہم پولیس کی ہدایت پر اس نے ویڈیو فوراً حذف کر دی۔ اس کے باوجود حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔تنظیم کی سربراہ کے مطابق اس شخص سمیت 20 دیگر افراد کو بھی اسی فردِ جرم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت صرف ویڈیو شیئر کرنے ہی نہیں بلکہ اسے دوبارہ پوسٹ کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے والے افراد کو بھی مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو کے باعث درجنوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بن سکتے ہیں کیونکہ حکام ان سرگرمیوں کو جھوٹی خبروں، افواہوں یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت قرار دے سکتے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ایک علیحدہ واقعے میں دبئی یونیورسٹی کے ایک بھارتی طالب علم کو بھی پام آئی لینڈز کے قریب میزائل حملے کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ طالب علم نے ویڈیو صرف اپنے اہلِ خانہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کی تھی، تاہم وہ اب بھی حکام کی تحویل میں ہے۔تنظیم کے مطابق اس سے قبل دو فرانسیسی شہریوں کو بھی میزائلوں کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بغیر کسی مقدمے کے رہا کر دیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی پر کم از کم دو سال قید اور دو لاکھ درہم (تقریباً 54 ہزار امریکی ڈالر) جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایک شخص پر متعدد الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ امارات میں ایک برطانوی شہری کی گرفتاری کے معاملے پر مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات یا حملوں کے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے قومی سلامتی اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے شہریوں اور غیر ملکیوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں۔

    سرکاری حکام کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے “شیئر کرنے سے پہلے سوچیں، افواہیں پھیلانا جرم ہے۔”

  • 
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    
پاکستان کرکٹ ٹیم نے تین میچوں کی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں بنگلادیش کو ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت 128 رنز سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔
    میرپور میں کھیلے گئے میچ میں بنگلادیش نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 48ویں اوور میں 274 رنز بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔
    ‎پاکستان کی جانب سے نوجوان بیٹر معاذ صداقت نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 46 گیندوں پر 75 رنز بنائے جس میں 6 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ سلمان علی آغا نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز اسکور کیے جبکہ محمد رضوان 44 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ صاحبزادہ فرحان نے 31 اور فہیم اشرف نے 14 رنز بنائے۔
    ‎بنگلادیش کی جانب سے رشاد حسین نے 3 جبکہ مہدی حسن میراز نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
    ‎میچ کے دوران بارش کے باعث کھیل متاثر ہوا جس کے بعد ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت بنگلادیش کو 32 اوورز میں 243 رنز کا ہدف دیا گیا۔
    ‎ہدف کے تعاقب میں بنگلادیشی ٹیم 24ویں اوور میں 114 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ بنگلادیش کی جانب سے لٹن داس 41 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ توحید نے 28 اور سیف حسن نے 12 رنز اسکور کیے۔
    ‎پاکستان کی جانب سے معاذ صداقت اور حارث رؤف نے تین تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
    ‎اس کامیابی کے بعد تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے۔ پہلے میچ میں بنگلادیش نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

  • عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    عالمی جنگیں اور امن کی ضرورت۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    آج کی دنیا سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے باوجود بے چینی اور عدمِ استحکام کا شکار نظر آتی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں اور سیاسی کشیدگیاں انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال بن چکی ہیں۔ طاقتور ممالک کی سیاسی اور فوجی رقابتوں کا سب سے زیادہ اثر عام انسان پر پڑ رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی، عدمِ تحفظ، ہجرت اور خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    بیسویں صدی میں دنیا نے دو بڑی تباہ کن جنگیں دیکھیں: World War I اور World War II۔ ان جنگوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لے لیں اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان سانحات کے بعد عالمی امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے ادارے قائم کیے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں جاری ہیں۔

    موجودہ دور میں عالمی سیاست کے مرکز میں بڑی طاقتیں اور ان کے مفادات ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ عالمی سیاست اور فوجی طاقت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عالمی سطح پر اثر ڈالتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حماس جنگ جیسے تنازعات نے دنیا کے امن کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ان جنگوں کی بنیادی وجوہات میں سیاسی مفادات، قدرتی وسائل پر قبضہ، علاقائی بالادستی، نظریاتی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی رقابت شامل ہیں۔ جب ممالک اپنے مفادات کو انسانیت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو تنازعات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، معیشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور معاشروں میں خوف اور عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔

    عام آدمی آج واقعی تھک چکا ہے۔ وہ مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور جنگوں کے خطرات میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا فرد چاہتا ہے کہ دنیا میں سکون اور استحکام ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو سکے۔ عام انسان کو جنگ نہیں بلکہ امن، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔

    بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ عالمی اداروں کو بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

    آخرکار دنیا میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانیت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی رہنما اپنے سیاسی اور معاشی مفادات سے بڑھ کر انسانیت کے درد کو سمجھیں تو دنیا میں جنگوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ آج پوری دنیا کا عام انسان یہی دعا اور امید رکھتا ہے کہ جنگوں کے بجائے امن، سکون اور بھائی چارے کا دور آئے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور بہتر دنیا میں زندگی گزار سکیں۔