Baaghi TV

Blog

  • ایران کا اسرائیل کے بڑے پاور پلانٹ پر حملہ، تل ابیب میں بلیک آؤٹ

    ایران کا اسرائیل کے بڑے پاور پلانٹ پر حملہ، تل ابیب میں بلیک آؤٹ

    رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل کے شہر ہادیرا میں واقع اوروت رابن پاور اسٹیشن کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے جس کے بعد تل ابیب میں بجلی کی بندش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    اوروت رابن اسرائیل کے سب سے بڑے پاور پلانٹس میں شمار ہوتا ہے جس کی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 ہزار 590 میگاواٹ ہے۔ یہ پاور پلانٹ اسرائیل کی مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 19 فیصد فراہم کرتا ہے۔
    ‎یہ بجلی گھر بحیرہ روم کے ساحل پر تل ابیب سے تقریباً 45 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور مرکزی اسرائیلی بجلی کے نظام کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ حملے کے بعد مرکزی گرڈ متاثر ہونے کے باعث تل ابیب اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    ‎ابتدائی رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

  • اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسلام میں عورت کا مقام اور عظمت ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ آقاِ دو جہاں حضرت رسول اللہﷺ ہے؛

    "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد(وعورت) پر فرض ہے۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام وہ دینِ برحق ہے جس نے عورت کو معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے تمام بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو اہم ارکان ہیں جن کے بنا معاشرہ ارتقاء کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اسی لئیے اسلام نے عورت کے بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا ہے۔

    ہر قیمتی شے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر چھپی ہوئی شے نایاب ہوتی ہے۔ پردہ اور حیا عورت کے زیور ہیں۔ پردہ عورت پہ ناصرف واجب ہے۔ بلکہ اخلاقی و روحانی و معاشرتی تقاضا بھی ہے ۔ یہ اس کے تقدس کی علامت ہے۔

    ہر سال 8 مارچ خواتین کے عالمی دن پر ان کے حقوق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ میں اکثر کہتی ہوں کہ سب سے پہلے تو عورت کو خود اپنے مقام ،اپنے مرتبے کا شعور ہونا چاہئیے ۔آپ کسی سے اپنے حقوق کی بات تبی کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو خود اپنے مقام کا علم ہو گا۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ اور کسی مغربی گروہ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق کو جانیں۔

    مغرب جس کی ہمارے معاشرے کے نام نہاد لبرلز تقلید کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ، میں عورتوں کے قانونی طور پہ برابری کے حقوق کے حصول کی پہلی آواز 1848ء میں اٹھائی گئی۔ جسے فیمی نزم کا نام دیا گیا۔ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں عورت کو ووٹ ڈالنے تک کا حق حاصل نہ تھا۔ نہ وارثت میں کوئی حصہ۔ یعنی مغرب میں قانونی و معاشرتی طور پہ عورت کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اس تحریک میں ان حقوق کے حصول کے لئیے آواز اٹھائی گئی۔ جو کہ اسلام نے 1400 سال پہلے ہی عورت کو فراہم کر دیئے تھے۔ شاید مغرب والوں نے بھی اس تحریک کی شروعات سے پہلے اسلام میں عورت کے ان حقوق کا مطالعہ کیا ہو گا۔ عورت جسے قبل اسلام زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وارثت کا حق دیا، تعلیم کے حصول میں برابری کے حقوق عطا کئیے۔عبادت میں مساوی حقوق دئیے۔ حتی کہ نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا۔

    مغرب میں فیمی نزم تحریک ان کے معاشرے کی ضرورت تھی۔ مگر اسلام نے تو یہ ضرورت 1400 سال قبل ہی پوری کر دی۔ آج کل کا خود کو لبرلز کہنے والا سڑکوں پہ اوٹ پٹنگی حرکات کرنے والا مخصوص گروہ فیمی نزم تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے غلط عزائم کو پروان چڑھانے کی کوشش میں ہے۔ دراصل یہ عورت کے اصل حقوق سے توجہ ہٹانے کا باعث ہے۔ عورت کے آج کل کے اصل حقوق تو یہ ہیں۔ کہ اسے تعلیم سے لے کر جاب تک برابری کے امواقع حاصل ہوں، وہ اگر باپردہ کسی جاب کی اہل ہے۔ تو پردے کو وجہ ِ رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ وہ اگر حالتِ سفر میں ہو۔ تو اسے احساس ِتحفظ رہے۔ اسے کسی فحش نظر یا جملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

    اسلام سے بڑھ کر عورت کو مقام اور حقوق کسی اور نظام نے نہیں دیئے۔ ہمارے مذہب نے عورت کو جو مقام دیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی آئین یا قانون میں اور کہیں بھی نہیں۔ اسلام نے عورت کو عورت سے عظیم عورت بنایا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ جنت ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہے۔ اسلام نے ہمیں عورت کے مثالی کردار دیئے ہیں ۔ ایک شریک حیات کے روپ میں بی بی سیدہ خدیجؑہ ،ایک بیٹی کی روپ میں بنتؑ محمد ﷺ جناب بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، ایک بہن کے روپ میں جناب بی بی سیدہ زینبؑ، اور ایک ماں کے روپ میں مادرؑ ِ حسنین کریمیںنؑ ہمارے لئیے موجبِ رہنمائی ہیں۔ عورت تو وہ ہے۔ جو نہتی بھی ہو تب بھی اپنی فکر و ہمت سےقصرِ یزید (لعین) کے در و دیوار ہلا دے ۔ عورت کو کمزور کوئی کیونکر کہے ۔ اگر وہ اپنا مقام خود جان لے۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ عورت کا مقام یہ ہے۔ کہ قرآن کریم میں سورہ نساء موجود ہے۔

    عورت بہت عظیم جذبات کی مالک ہے۔وہ سفید رنگ ہے۔ جو ہر رنگ اپنے اندر سمو سکتی ہے۔اپنے عورت ہونے پہ فخر محسوس کریں۔مگر اپنے فرائض کو بھی ساتھ لے کے چلیں۔ فخر محسوس کریں۔ کہ آپ کینزِ زہرا ع اور کینزِ زینبؑ ہیں۔ آپ کے سامنے کوئی فحش گروہ نہیں بلکہ یہ عظیم ہستیاںؑ رہنمائی کے لئیے ہونے چاہئیں۔۔

    عورت کا دن تو ہر نیاء دن ہے۔ پھر صرف ایک دن ہی کیوں۔۔۔۔ میرا سلام ہے ۔ان تمام خواتین کو جو کھیتوں میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔ اور ناصرف ان کا بازو بنتی ہیں۔ بلکہ ملکی معشیت کی مظبوطی میں بھی اپنا کردار اہم ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام خواتین اساتذہ کو جو روز سینکڑوں اذہان کو شعور بخشنے کا سبب ہیں۔ ان تمام گھریلو خواتین کو جو گھر میں رہ کر گھر کو بخوبی چلا رہی ہیں۔ اور اپنے گھر کے ارکان کے لئیے باعث ِسکون ہیں۔ ان تمام ماؤں کو جو اپنے اولادوں کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔میرا سلام ہے۔ اسلام کی ہر باحیا و باپردہ بیٹی کو، جو اپنے مقام و تقدس سے آگاہ ہے۔

    آخر میں میرا خواتین کا عالمی دن میری رہنما ہستیوںؑ ، حضرت بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور سیدہ زینب الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے نام ہے۔ اللہ رحمن الرحیم سے دعا ہے۔ کہ وہ تمام بیٹیوں کو ہماری ان عظیم رہنماؤں سلام اللہ علیھا کی پیروی کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

    میں بیٹی، میں ماں، بہن ، ہم سفر میں
    سبھی کا سکوں میں سدا چاہتی ہوں

    عطاۓ خدا ہیں مرے حوصلے بھی
    میں عنبرؔ ہمیشہ نبھا چاہتی ہوں

  • گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    لاہور ( علی رضا)گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز نے ینگ جرنلسٹس سوسائٹی کے تعاون سے "میٹ دی میڈیا ماسٹرو سیریز” کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد طلبہ کو میڈیا انڈسٹری کے عملی تجربات سے روشناس کرانا ہے، جس کے تحت تجربہ کار میڈیا پروفیشنلز کی جانب سے تربیتی ورکشاپس اور انٹرایکٹو لیکچرز کا انعقاد کیا جائے گا۔

    سیریز کے افتتاحی سیشن میں آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ” آرٹ آف پروبنگ ٹروتھ: ماسٹر کلاس اِن انویسٹی گیٹو جرنلزم” کے عنوان سے خصوصی لیکچر دیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی روشنی میں تحقیقاتی صحافت کے اہم طریقۂ کار، اخلاقی تقاضوں اور اس شعبے میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر شعبۂ میڈیا اسٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر مختار احمد نے مہمانِ خصوصی کو خوش آمدید کہا اور طلبہ کو نمایاں میڈیا شخصیات کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر فوزیہ غنی نے مہمانِ مقرر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربات اور رہنمائی نے طلبہ کو تحقیقاتی صحافت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا ہے۔

    سیمینار کے بعد سینیئر اینکر پرسن مبشر لقمان کو شیلڈ سے نوازا گیا ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چودھری سے ملاقات میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور جیسی درس گاہ گی پرانی یادوں پر گفتگو ہوئی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ کس طرح گورنمنٹ کالج اپنے نام کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    تحقیقاتی صحافت اور سچ کی آواز کے اس سیمینار میں موجود فیکلٹی ممبران میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مختار احمد، چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ غنی، ڈاکٹر منیبہ فاطمہ، ڈاکٹر علی بہادر، صحافی عثمان بھٹی اور محترمہ اقدس وحید شامل تھیں، جن کی موجودگی نے طلباء میں ایک حوصلہ شکن اقدام کا سہارا پیدا کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں سیکھنے کیلئے اساتذہ کا سہارا طالب علموں کو تقویت دیتا ہے۔ تحقیقاتی صحافت پر گفتگو کا یہ دن نوجوانوں میں صحافتی ہم آہنگی، صحافتی اصولوں، میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں اور مستقبل میں تحقیقاتی جرنلزم اور سچ کی اہمیت پر ختم ہوا۔

  • 
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    
ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کے اثرات عالمی منڈی پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    عالمی منڈی میں سال 2022 کے بعد پہلی مرتبہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس صورتحال پر غور کے لیے آج جی سیون ممالک کا ایک اہم اجلاس متوقع ہے جس میں عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر جاری کرنے کی تجویز زیر غور آئے گی۔
    ‎فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا سمیت جی سیون میں شامل دیگر ممالک ابتدائی طور پر اس تجویز کی حمایت کر چکے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔

  • 
ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1900 سے زائد زخمی

    
ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1900 سے زائد زخمی

    
اسرائیلی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 13 شہری ہلاک جبکہ 1900 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 157 زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس وقت بھی 112 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق دارالحکومت تل ابیب پر ایران کے تازہ میزائل حملے میں مزید 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف جگہوں پر پڑنے والے اثرات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔

  • 
مصنوعی ذہانت نے بھارت میں کھربوں روپے کی ٹیکس چوری بے نقاب کر دی

    
مصنوعی ذہانت نے بھارت میں کھربوں روپے کی ٹیکس چوری بے نقاب کر دی

    
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مالیاتی شعبے میں بھی بڑی پیش رفت دکھانا شروع کر دی ہے اور اس کی مدد سے بھارت میں کھربوں روپے کی ٹیکس چوری کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔
    بھارتی میڈیا کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ امیجنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے زرعی زمین کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹیکس چوری کا پتہ لگایا ہے۔
    ‎اس معاملے میں راجستھان میں تقریباً 900 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور انہیں اپنے انکم ٹیکس ریٹرن پر نظرثانی کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق یہ معاملات جے پور کے شہری علاقے اور اس کے اردگرد تقریباً 8 کلومیٹر کے بفر زون میں ہونے والی زمین کی خرید و فروخت سے متعلق ہیں۔ اندازوں کے مطابق ٹیکس چوری کی مجموعی مالیت 7 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے جو پاکستانی کرنسی میں 2 کھرب روپے سے زائد بنتی ہے۔
    ‎اس علاقے میں تقریباً 250 گاؤں شامل ہیں جہاں گزشتہ چند برسوں میں زرعی زمین کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوئی۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متعدد لین دین میں کیپٹل گین ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تھا۔
    ‎ٹیکس حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آئی آئی ٹی دہلی کے ساتھ تعاون کیا۔ تکنیکی ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیجیٹل میپنگ کے ذریعے زمینوں کے ریکارڈ کا تفصیلی تجزیہ کیا اور جے پور میونسپل حدود سے 8 کلومیٹر تک کے بفر زون کی نشاندہی کر کے زمین کے سودوں کا جائزہ لیا۔
    ‎اس حوالے سے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کے چیئرمین روی اگروال کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکس دہندگان کے مالی رویوں میں موجود پیٹرنز کی نشاندہی کی جا رہی ہے جس سے ٹیکس چوری کے کیسز سامنے لانے میں مدد مل رہی ہے۔

  • 
ایران اسرائیل جنگ کے اثرات، چین نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روک دیں

    
ایران اسرائیل جنگ کے اثرات، چین نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روک دیں

    
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد چین نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کو تقریباً دس روز گزر چکے ہیں اور دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
    ‎اس جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر چین نے اپنی بڑی آئل ریفائنریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیزل اور پیٹرول کی برآمدات روک دیں اور ملکی ضروریات کو ترجیح دیں۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاپان، انڈونیشیا اور بھارت سمیت کئی ممالک بھی اس بحران کے باعث اپنی ریفائنریز کی پیداوار کم کر رہے ہیں یا عارضی طور پر برآمدات محدود کر چکے ہیں۔ تاہم چین خطے میں ایندھن کی ترسیل کرنے والے بڑے برآمد کنندگان میں شامل نہیں ہے۔

  • 
ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سیاہ بارش، پڑوسی ممالک میں ماحولیاتی خدشات

    
ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سیاہ بارش، پڑوسی ممالک میں ماحولیاتی خدشات

    
ایران میں تیل کی تنصیبات پر شدید بمباری کے بعد ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں تہران میں سیاہ بادل چھا گئے اور بعض علاقوں میں تیل سے آلودہ کالے پانی کی بارش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ایران پر جاری حملوں کے دوران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد فضاء میں دھوئیں اور آلودگی کی بڑی مقدار شامل ہو گئی۔ اس صورتحال کے باعث تہران اور قریبی علاقوں میں غیر معمولی موسمی کیفیت دیکھنے میں آئی۔
    ‎اس واقعے کے بعد پڑوسی ممالک میں بھی ممکنہ موسمی اور ماحولیاتی اثرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر اس حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق تیل کی تنصیبات پر حملوں سے ایران میں شدید ماحولیاتی نقصان ہوا ہے اور بعض علاقوں میں کالی تیزابی بارش کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم اب تک پاکستان میں اس کے براہ راست اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران پاکستان سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور کسی فوری ماحولیاتی اثر کا سب سے پہلے افغانستان پر پڑنے کا امکان زیادہ ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق حملوں کے باعث فضاء میں کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے جو اوپری ماحول کے درجہ حرارت اور نمی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں بارش کے پیٹرن میں تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملوں سے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو طویل مدت میں زراعت، آبی وسائل اور صحت عامہ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے آلودگی اور ہوا کے معیار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔

  • 
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
بین الاقوامی مارکیٹ اور پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 6 ہزار 500 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 33 ہزار 362 روپے کا ہو گیا ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 573 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 57 ہزار 271 روپے ہو گئی ہے۔
    ‎اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 65 ڈالر کمی کے بعد 5106 ڈالر تک آ گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی اور فی تولہ چاندی 37 روپے کمی کے بعد 8 ہزار 894 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی صورتحال میں اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔ جب سرمایہ کار دیگر اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں تو وہ اکثر سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت انٹرنیشنل ریٹ سے فی اونس تقریباً 20 ڈالر زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔

  • امریکی فوج کا ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

    امریکی فوج کا ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

    
امریکی فوجی کمان سینٹ کام نے ایرانی شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایت جاری کرتے ہوئے انہیں گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی افواج گنجان آباد شہری علاقوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
    مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تہران شہری علاقوں کو عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎سینٹ کام کے اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی افواج خاص طور پر گنجان آباد مقامات کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں جس سے شہری آبادی خطرے میں پڑ رہی ہے۔
    ‎امریکی حکام کے مطابق شہری آبادی کو عسکری کارروائیوں کے لیے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ مقامات جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں اپنی حفاظتی حیثیت کھو دیتے ہیں اور ایسے مقامات قانونی طور پر فوجی ہدف بن سکتے ہیں چاہے وہ شہری علاقوں کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔
    ‎امریکی حکام نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ایرانی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔