Baaghi TV

Blog

  • 
ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سیاہ بارش، پڑوسی ممالک میں ماحولیاتی خدشات

    
ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سیاہ بارش، پڑوسی ممالک میں ماحولیاتی خدشات

    
ایران میں تیل کی تنصیبات پر شدید بمباری کے بعد ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں تہران میں سیاہ بادل چھا گئے اور بعض علاقوں میں تیل سے آلودہ کالے پانی کی بارش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ایران پر جاری حملوں کے دوران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد فضاء میں دھوئیں اور آلودگی کی بڑی مقدار شامل ہو گئی۔ اس صورتحال کے باعث تہران اور قریبی علاقوں میں غیر معمولی موسمی کیفیت دیکھنے میں آئی۔
    ‎اس واقعے کے بعد پڑوسی ممالک میں بھی ممکنہ موسمی اور ماحولیاتی اثرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر اس حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق تیل کی تنصیبات پر حملوں سے ایران میں شدید ماحولیاتی نقصان ہوا ہے اور بعض علاقوں میں کالی تیزابی بارش کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم اب تک پاکستان میں اس کے براہ راست اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران پاکستان سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور کسی فوری ماحولیاتی اثر کا سب سے پہلے افغانستان پر پڑنے کا امکان زیادہ ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق حملوں کے باعث فضاء میں کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے جو اوپری ماحول کے درجہ حرارت اور نمی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں بارش کے پیٹرن میں تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملوں سے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو طویل مدت میں زراعت، آبی وسائل اور صحت عامہ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے آلودگی اور ہوا کے معیار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔

  • 
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
بین الاقوامی مارکیٹ اور پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 6 ہزار 500 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 33 ہزار 362 روپے کا ہو گیا ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 573 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 57 ہزار 271 روپے ہو گئی ہے۔
    ‎اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 65 ڈالر کمی کے بعد 5106 ڈالر تک آ گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی اور فی تولہ چاندی 37 روپے کمی کے بعد 8 ہزار 894 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی صورتحال میں اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔ جب سرمایہ کار دیگر اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں تو وہ اکثر سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت انٹرنیشنل ریٹ سے فی اونس تقریباً 20 ڈالر زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔

  • امریکی فوج کا ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

    امریکی فوج کا ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

    
امریکی فوجی کمان سینٹ کام نے ایرانی شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایت جاری کرتے ہوئے انہیں گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی افواج گنجان آباد شہری علاقوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
    مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تہران شہری علاقوں کو عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎سینٹ کام کے اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی افواج خاص طور پر گنجان آباد مقامات کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں جس سے شہری آبادی خطرے میں پڑ رہی ہے۔
    ‎امریکی حکام کے مطابق شہری آبادی کو عسکری کارروائیوں کے لیے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ مقامات جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں اپنی حفاظتی حیثیت کھو دیتے ہیں اور ایسے مقامات قانونی طور پر فوجی ہدف بن سکتے ہیں چاہے وہ شہری علاقوں کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔
    ‎امریکی حکام نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ایرانی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

  • 
پیوٹن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد، روسی حمایت کا اعادہ

    
پیوٹن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد، روسی حمایت کا اعادہ

    
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے اور مشکل حالات میں ایرانی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
    اپنے پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران بیرونی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، اس اہم منصب پر ذمہ داریاں سنبھالنا یقیناً ہمت اور عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو وقار کے ساتھ آگے بڑھائیں گے اور سخت حالات میں ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔
    ‎روسی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے ساتھ روس کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس اسلامی جمہوریہ ایران کا قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
    ‎یاد رہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ کے تیسرے سپریم لیڈر بنے ہیں۔ اس سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں تہران میں ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔

  • 
معاشی دباؤ کے پیش نظر حکومت کے کفایت شعاری اقدامات، سرکاری اخراجات اور تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان

    
معاشی دباؤ کے پیش نظر حکومت کے کفایت شعاری اقدامات، سرکاری اخراجات اور تنخواہوں میں کٹوتی کا اعلان

    
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور پاکستان مشکل وقت میں ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔ ان کے مطابق عالمی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں، اسی لیے حکومت کو توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔
    ‎وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ایمبولینسز اور عوامی بسوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں عارضی طور پر گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین دو ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں سے بھی دو دن کی کٹوتی کر کے اسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعظم کے مطابق سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری اشیا کی خریداری پر پابندی ہوگی۔ سرکاری افسران، وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سرکاری امور کے لیے ٹیلی کانفرنس اور آن لائن اجلاس کو ترجیح دی جائے گی جبکہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسی طرح سیمینار اور کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔
    ‎توانائی کی بچت کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں ضروری خدمات کے علاوہ 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے اور ایک دن اضافی تعطیل ہوگی۔ تاہم یہ فیصلہ بینکوں، صنعت اور زراعت کے شعبے پر لاگو نہیں ہوگا۔
    ‎وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ رواں ہفتے کے آخر سے ملک بھر کے اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

  • 
ایران تنازع میں ایک اور امریکی فوجی ہلاک، تعداد سات ہو گئی

    
ایران تنازع میں ایک اور امریکی فوجی ہلاک، تعداد سات ہو گئی

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد اس جھڑپ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
    ‎امریکی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والا فوجی کینٹکی سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ آرمی سارجنٹ تھا۔ اس کی شناخت کی تصدیق سی این این کی جانب سے جاری بریکنگ نیوز میں کی گئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی افواج خطے میں مختلف فوجی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران حالیہ مہینوں میں تنازع شدت اختیار کر چکا ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎امریکی محکمہ دفاع نے تاحال فوجی کی ہلاکت کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی اور وہاں تعینات اہلکاروں کو درپیش خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

  • ‎آئرن ڈوم ناکام ہو چکا، ایران جہاں چاہے حملہ کر سکتا ہے، قالیباف

    ‎آئرن ڈوم ناکام ہو چکا، ایران جہاں چاہے حملہ کر سکتا ہے، قالیباف

    
تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم اب مؤثر نہیں رہا اور ایران اب جہاں چاہے میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ ایران مؤثر اور طاقتور حملے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ خیال کہ جنگ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی ایک بڑی غلطی ثابت ہوا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران اپنے وجود اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے اور اس راستے پر ثابت قدمی سے آگے بڑھتا رہے گا۔

  • 
متحدہ عرب امارات میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو اہلکار ہلاک

    
متحدہ عرب امارات میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو اہلکار ہلاک

    
متحدہ عرب امارات میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں مسلح افواج کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
    اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ حادثہ پیر 9 مارچ 2026 کو اس وقت پیش آیا جب فوجی ہیلی کاپٹر قومی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔
    ‎وزارتِ دفاع نے بتایا کہ حادثے میں مسلح افواج کے دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا مکمل تعین کیا جا سکے۔
    اماراتی وزارتِ دفاع نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا اور ان کے لیے ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام جاری کیا۔

  • 
افغانستان شدید غذائی بحران کا شکار، لاکھوں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا

    
افغانستان شدید غذائی بحران کا شکار، لاکھوں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا

    
عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان دنیا کے شدید ترین غذائی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں لاکھوں افراد کو خوراک تک رسائی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    جمعرات کو جاری کی گئی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ ملک بھر میں شدید غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث ہزاروں بچے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔
    ‎ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے باعث کمزور اور ضرورت مند آبادی کے لیے صحت کی سہولیات اور انسانی امداد تک رسائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
    ‎ادارے نے خبردار کیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں لڑائی جاری رہی تو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے حالات زندگی مزید خراب ہو جائیں گے۔
    ‎یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی صوبوں پکتیا اور خوست میں افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق حالیہ سرحدی جھڑپوں کے باعث مشرقی افغانستان میں کم از کم 16 ہزار 370 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
    ‎انسانی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معاشی بحران، خشک سالی اور امداد کی کمی کے باعث دیہی علاقوں میں لاکھوں افراد ہنگامی غذائی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
    ‎امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقل انسانی امداد اور بہتر سکیورٹی صورتحال فراہم نہ کی گئی تو آنے والے مہینوں میں افغانستان کا غذائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

  • 
ایران جنگ کے خاتمے کا فیصلہ نیتن یاہو سے مشاورت کے بعد ہوگا، ٹرمپ

    
ایران جنگ کے خاتمے کا فیصلہ نیتن یاہو سے مشاورت کے بعد ہوگا، ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
    اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو اس تنازع کے حل کے حوالے سے اپنی رائے دینے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ مشترکہ نوعیت کا ہے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری ہے۔
    ‎امریکی صدر نے مزید کہا کہ مناسب وقت آنے پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور اس دوران تمام اہم عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔
    ‎دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس وقت سعودی عرب سے پروازیں جاری ہیں اور امریکی شہری اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔