Baaghi TV

Blog

  • 
جی ایچ کیو حملہ کیس میں جعلی شورٹی بانڈ کا انکشاف

    
جی ایچ کیو حملہ کیس میں جعلی شورٹی بانڈ کا انکشاف

    ‎راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں جعلی شورٹی بانڈ جمع کرانے کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
    ‎انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالت کے ساتھ کسی بھی قسم کا دھوکہ یا فراڈ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    ‎عدالت کے مطابق جی ایچ کیو حملہ کیس کے سزا یافتہ اور اشتہاری مجرم چوہدری آصف علی کے ضامن آغا عمار الحق نے ضمانت کے لیے چک جلال الدین کی اراضی سے متعلق جو شورٹی بانڈ جمع کرایا تھا، وہ سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں جعلی اور بوگس ثابت ہوا۔
    ‎عدالت نے فوری طور پر آغا عمار الحق کے خلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش سنگین جرم ہے۔
    ‎عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرکزی مجرم چوہدری آصف علی دورانِ ٹرائل مسلسل عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس پر عدالت نے اسے اشتہاری قرار دیتے ہوئے پہلے ہی 10 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ مجرم اس وقت بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب اور مفرور ہے۔
    ‎جج امجد علی شاہ نے مزید حکم دیا کہ مقدمے میں شامل دیگر 12 اشتہاری ملزمان کے ضمانتی مچلکے بھی فوری طور پر ضبط کیے جائیں۔
    ‎عدالت نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مفرور ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے تاکہ انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق جعلی شورٹی بانڈ کا معاملہ عدالتی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھا جا رہا ہے، جس پر عدالت نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

  • 
سندھ میں عید کے دوران شدید ہیٹ ویو کا الرٹ جاری

    
سندھ میں عید کے دوران شدید ہیٹ ویو کا الرٹ جاری

    ‎پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ نے عید الاضحیٰ کے دوران صوبے بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق 25 سے 31 مئی کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی ہیٹ ویو متوقع ہے، جبکہ بعض اضلاع میں درجہ حرارت 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
    ‎ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سلمان شاہ نے بتایا کہ بالائی اور وسطی سندھ کے اضلاع سکھر، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور دادو شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس کے علاوہ بدین، سجاول، ٹھٹھہ، حیدرآباد، میرپورخاص، جامشورو اور سانگھڑ میں بھی شدید گرمی کی لہر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎الرٹ کے مطابق کراچی میں موسم انتہائی گرم اور مرطوب رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں درجہ حرارت 35 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ تاہم ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہوگی۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ عید الاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کے لیے سایہ، پانی اور مناسب دیکھ بھال کا خصوصی انتظام کیا جائے تاکہ جانور شدید گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔
    ‎اتھارٹی نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہیٹ ویو سے متعلق ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
    ‎ڈی جی سلمان شاہ کے مطابق پی ڈی ایم اے کا عملہ ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ شہریوں کو بھی غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز اور زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

  • 
امریکا ایران جنگ کا بوجھ پوری دنیا اٹھا رہی ہے، بلاول بھٹو

    
امریکا ایران جنگ کا بوجھ پوری دنیا اٹھا رہی ہے، بلاول بھٹو

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا بوجھ پوری دنیا کے عوام برداشت کر رہے ہیں۔
    ‎اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جنگ کی مخالفت کی ہے اور امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی اور امن کے لیے جاری کوششیں کامیاب ہوں گی۔
    ‎بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو عوام کے لیے معاشی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ ان کے مطابق مہنگائی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معاشی دباؤ پہلے ہی عام شہریوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت و سیاسی قیادت عوامی پریشانیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تنازعات کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عام انسان متاثر ہوتا ہے۔

  • انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    قصاص زندگی ہے۔
    سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    "اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
    قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

    دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
    "یہ انصاف کا قتل ہے!”
    وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
    انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
    نہیں! ہرگز نہیں!
    تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
    عمر کی آواز بنیے۔

    ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
    Justice For Umer
    یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
    انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!

  • پاکستان مخالف ایجنڈہ، شہباز گل ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر سب سے آگے

    پاکستان مخالف ایجنڈہ، شہباز گل ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر سب سے آگے

    ‎تحریک انصاف کے دورحکومت کے وزیر، عمران خان کے قریبی ساتھی، پاکستان کی عدالتوں سے مفرور، شہباز گل پاکستان دشمنی میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر حدیں پار کر گئے
    بیرون ملک بیٹھ کر ریاست مخالف ایجنڈے کی ترویج میں شہباز گل صف اول میں ہیں، جس طرح بھارت پاکستان کے خلاف پروپگنڈہ کرتا ہے شہباز گل اس سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں،شہباز گل سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے، جو بغیر حقائق کی تصدیق کیے بھارتی بیانیےکو پھیلاتے ہیں؟ بھارتی دعوؤں کو بھارتی میڈیا کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں دیتا اور شہباز گل نے جانتے بوجھتے ہوئے برطانوی اخبار، گارڈین، کہ حوالے سے یہ خبر چلا دی کہ حمزہ برھان کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان میں آ کر قتل کیا،

    شہباز گل بھولُ گیا کہ یہ خبر بھارتی آخبار سنڈے گارڈین کی ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کی نہیں۔وہ یہ بتانا بھی بھول گئے کہ شہید ہونے والے حمزہ احمد ڈار تھے، حمزہ برھان نہیں۔ وہ یہ بتانا بھی بھول گیا کہ حمزہ کا قاتل ہماری پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے،وہ یہ بتانا بھی بھول گئے کہ کوئی بھی قاتل جرمُ کے بعد ہماری سیکورٹی ایجنسیوں سے زیادہ دیر بچ نہیں سکا-ماضی میں جو بھی واقعات ہوئے، چاہے کوئی بھی جرم ہو، پولیس نے 99% مجرموں کی شناخت کر کے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہے۔شہباز گل بھولے نہیں ہیں۔ انہیں ڈالرز اور ویوز کی چاہت نے پاکستان سے محبت بھلا دی ہے۔ شاید اسی لیے شہید کہتے ہوئے انکی زبان لڑکھڑاتی ہے۔
    سوال یہ ہے کہ شہباز گل نے بھارتی بیانیہ چلا کر کتنا کما لیا ؟؟ یہ انکے اکاونٹ پر موجود بھارتی کمنٹس سے ظاہر ہے ،
    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ‎ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے

  • قومی سلامتی،فکری ہم آہنگی،اور اسٹریٹجک قیادت کےفروغ کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

    قومی سلامتی،فکری ہم آہنگی،اور اسٹریٹجک قیادت کےفروغ کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

    کوئٹہ میں قومی سلامتی اور اسٹریٹجک قیادت ورکشاپ 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچستان کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والی اہم علمی و انتظامی شخصیات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد قومی سلامتی، داخلی و خارجی چیلنجز اور بلوچستان کے اہم مسائل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔

    ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں بلوچستان کی 12 جامعات کے وائس چانسلرز، پرو وائس چانسلرز، ڈینز، پرو ڈینز، ریکٹرز، پرو ریکٹرز اور دیگر اہم شخصیات سمیت مجموعی طور پر 55 شرکاء شریک ہوئے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو پاکستان کے اندرونی و بین الاقوامی روابط، قومی سلامتی کی صورتحال، بلوچستان کے قدرتی وسائل، تاریخی پس منظر، صوبے کو درپیش مختلف مسائل، دہشتگردی کے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکاء نے موجودہ ملکی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں اس نوعیت کی ورکشاپ کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان روابط کے فروغ سے باہمی ہم آہنگی اور شعور میں اضافہ ہوگا۔

    اختتامی تقریب کے دوران آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں اور قومی سلامتی کے فروغ میں تعلیمی اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔

  • سرکل گوجرخان میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ

    سرکل گوجرخان میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ

    سرکل میں ڈاکو اور چور بے لگام مویشی اور وہیکلز غائب، شہریوں کی راتوں کی نیندیں حرام، پولیس کا گشت کا نظام موثر بنانے کا مطالبہ
    سرکل میں بڑھتی ہوئی وارداتیں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر شہریوں میں شدید تشویش، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے اصلاح و احوال کی اپیل
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں چوری، ڈکیتی، مویشی چوری اور وہیکل لفٹنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کا جینا محال کر دیا۔ بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس پر عوامی و سماجی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گوجرخان شہر سمیت سرکل بھر کے مختلف علاقوں میں چوروں اور ڈاکوؤں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ چور قیمتی مویشی ہانک کر لے جاتے ہیں، جبکہ چوک چوراہوں اور گھروں کے باہر سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہونا معمول بن چکا ہے۔ راہزنوں نے شہریوں سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جس سے عام آدمی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے۔شہری اور سماجی حلقوں نے بدامنی کی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا روایتی گشت کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام، بالخصوص آر پی او راولپنڈی اور سی پی او سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکل گوجرخان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا سخت نوٹس لیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ سرکل بھر میں پولیس گشت کے نظام کو جدید اور مؤثر خطوط پر استوار کیا جائے، مشکوک عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے، اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز گرینڈ آپریشن کر کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • 
کراچی کی ترقی کے 3360 ارب روپے کہاں گئے؟ حافظ نعیم کا سوال

    
کراچی کی ترقی کے 3360 ارب روپے کہاں گئے؟ حافظ نعیم کا سوال

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر خرچ ہونے والے اربوں روپے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی عوام کو بتائے 3 ہزار 360 ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے۔
    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے حکومت اور بلدیاتی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے عوام آج بھی ٹوٹی سڑکوں، سیوریج مسائل، پانی کی قلت اور بدترین انفراسٹرکچر کا شکار ہیں، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میئر کراچی عوام کو جواب دیں کہ شہر کی ترقی کے لیے عملی طور پر کیا کام کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جمع ہونے والی خطیر رقم ہڑپ کر لی گئی؟
    ‎حافظ نعیم نے شاہراہ بھٹو منصوبے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے یہ سڑک بارشوں میں دوبارہ نہ بہہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ملک کی معیشت کا سب سے بڑا شہر ہے، مگر اس کے باوجود بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ان کے مطابق عوام کو ترقیاتی فنڈز کی مکمل تفصیلات اور شفاف حساب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کی ترقیاتی صورتحال اور فنڈز کے استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ مختلف جماعتیں بلدیاتی کارکردگی پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورہ پر روانہ ہو گئے ،

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دورہ ایران کے دوران ایران امریکہ بات چیت ،خطے میں قیام امن اور دیگر اہم امور پر بات چیت کرینگے، دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم اعلی ایرانی شخصیات سے ملاقات کرینگے،

    العربیہ نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، امریکا اور ایران کے دوران مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں،

    قبل ازیں وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے میں دوسری بار ایران کا دورہ کیا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ سے دو دن میں دوسری بار ملاقات کی ہے، پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین جنگ میں واحد ثالث ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہ چکے ہیں،قیام امن کے لئے عالمی دنیا بھی پاکستان کی معترف ہے

  • 
کینیا میں احتجاج کے بعد ڈیزل کی قیمت میں کمی

    
کینیا میں احتجاج کے بعد ڈیزل کی قیمت میں کمی

    کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 4 فیصد کمی کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے دو روزہ ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔
    ‎خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ ہفتے کینیا کی حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 23.5 فیصد اضافہ کیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
    ‎احتجاج کے دوران عوام نے بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے سفری اخراجات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔
    ‎عوامی دباؤ بڑھنے پر حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں فوری طور پر 4 فیصد کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے اپنی مجوزہ دو روزہ ہڑتال واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق کینیا اس وقت بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حکومت عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ احتجاج نے کینیا میں معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔