Baaghi TV


کینیا میں احتجاج کے بعد ڈیزل کی قیمت میں کمی

کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 4 فیصد کمی کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے دو روزہ ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔
‎خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ ہفتے کینیا کی حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 23.5 فیصد اضافہ کیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔
‎رپورٹس کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
‎احتجاج کے دوران عوام نے بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے سفری اخراجات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔
‎عوامی دباؤ بڑھنے پر حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں فوری طور پر 4 فیصد کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے اپنی مجوزہ دو روزہ ہڑتال واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
‎معاشی ماہرین کے مطابق کینیا اس وقت بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حکومت عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ احتجاج نے کینیا میں معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

More posts