Baaghi TV

Blog

  • عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    اسلام آباد میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کردیا گیا۔

    چیف ٹریفک آفیسر کی جانب سے جاری کردہ پلان کے مطابق شہر بھر کی مویشی منڈیوں کے اطراف خصوصی ٹریفک انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے 350 سے زائد افسران اور جوان فرائض انجام دیں گے۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مویشی منڈیوں میں روڈ پر گاڑیاں پارک کرنے سے گریز کریں اور صرف مختص پارکنگ مقامات پر ہی گاڑیاں کھڑی کریں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اضافی نفری بھی مختلف مقامات پر تعینات کی جائے گی تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جاری کردہ ٹریفک پلان پر عمل کریں اور اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ عیدالاضحیٰ کے دوران شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

  • سابق ایرانی صدر کو نئی قیادت کے طور پر لانے کی امریکہ واسرائیل کی منصوبہ بندی ناکام

    سابق ایرانی صدر کو نئی قیادت کے طور پر لانے کی امریکہ واسرائیل کی منصوبہ بندی ناکام

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران میں اقتدار کسی اندرونی سیاسی شخصیت کو منتقل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے محمود احمدی نژاد کا نام زیرِ غور آیا تھا۔
    اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں احمدی نژاد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد انہیں مبینہ نظر بندی سے نکالنا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں وہ زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر محمود احمدی نژاد اس منصوبے سے آگاہ تھے، تاہم حملے کے بعد وہ بددل ہو گئے اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ تعاون سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس کے بعد سے ان کے موجودہ مقام اور حالت کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ محمود احمدی نژاد ماضی میں اسرائیل مخالف بیانات، ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت اور امریکا مخالف مؤقف کے باعث سخت گیر رہنما سمجھے جاتے تھے، تاہم بعد میں ان کے ایرانی قیادت کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔

  • پنکی کے قریبی ساتھی سےتحقیقات کے لیے پولیس کا عدالت سے رجوع

    پنکی کے قریبی ساتھی سےتحقیقات کے لیے پولیس کا عدالت سے رجوع

    کراچی میں منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے قریبی ساتھی محمد سمیر سے تفتیش کے لیے پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔

    پولیس کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں پہلے سے گرفتار سہولت کار محمد سمیر کی باقاعدہ گرفتاری اور مزید تفتیش کی اجازت طلب کی گئی۔ عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے 2 مقدمات میں ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کی اجازت دے دی۔عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ سینٹرل جیل جا کر ملزم محمد سمیر سے تفتیش کریں اور مقدمات سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزم محمد سمیر جون 2021ء میں درج ایک مقدمے میں پہلے ہی گرفتار ہو کر جیل میں قید ہے، جبکہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں موجود ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ محمد سمیر موٹر سائیکل کے ذریعے منشیات سپلائی کرتا تھا، جبکہ منشیات فروشی سے حاصل ہونے والی رقوم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی تھیں۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ اور اس کے ساتھیوں کے مالی لین دین اور نیٹ ورک سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کیس میں مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
    ” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
    سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
    عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
    لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

    دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
    جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔

    ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
    اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
    اپنی منزل سے مل نہ سکا!
    مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
    اک پل میں مسل ڈالا تم نے
    روئیں گے بدن کے زخم میرے
    جب روح کے زخم دکھاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
    "عمر کو انصاف دو ۔”

  • انتہائی مطلوب خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک

    انتہائی مطلوب خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک

    شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی فورسز کو آپریشن میں بڑی کامیابی ملی ہے

    انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک ہو گیا،خارجی سرغنہ عمرعرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30لاکھ روپے مقرر تھی،ہلاک فتنہ الخوارج کا سرغنہ سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر کئی دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا
    خارجی عمر عرف ثاقب تور نے اسپین وام میں بوبالی مسجد کے اطراف علاقے میں زیر زمین بنکر، سرنگیں اور بارودی جال بچھا رکھا تھا،سیکیورٹی فورسز نے مربوط حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر ہلاک کیا

  • اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

    اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

    پنجاب کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کا معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ کی درخواست پر فریقین کو آج طلب کر لیا ہے۔ دوسری جانب متعلقہ ایم پی اے کی جانب سے بھی اپنے آبائی ضلع میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس سے رجوع کیا، تاہم مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کارروائی نہ ہو سکی۔مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے اہلخانہ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

    اداکارہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ٹیگ کیا۔ بعد ازاں ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں مومنہ اقبال نے این سی سی آئی اے کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے پر مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا باضابطہ بیان ریکارڈ ہونے سے قبل کسی پر الزام عائد نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کا نام لیا جائے۔

    اداکارہ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں دیگر خواتین کے بھی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جنہوں نے اسی ایم پی اے کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف مذکورہ ایم پی اے کی جانب سے بھی اپنے کزن کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

  • آٹزم سروسز میں سندھ کے جامع ماڈل کو قومی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، شرجیل میمن

    آٹزم سروسز میں سندھ کے جامع ماڈل کو قومی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، شرجیل میمن

    وفاقی حکومت نے آٹزم بحالی اور خصوصی تعلیم کے شعبے میں سندھ کی نمایاں کارکردگی اور قائدانہ کردار کا اعتراف کرتے ہوئے اسلام آباد میں آٹزم سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کے لیے سندھ حکومت سے تعاون طلب کر لیا ہے۔

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سی-آرٹس سندھ سے تعاون کی درخواست ایک تاریخی پیش رفت ہے، جو خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے سندھ کے مؤثر اور جامع ماڈل پر اعتماد کا اظہار ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ڈی ای پی ڈی ڈیپارٹمنٹ کو وفاقی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آٹزم بحالی، خصوصی تعلیم اور جدید سہولیات کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    شرجیل انعام میمن کے مطابق خصوصی افراد کی نگہداشت، پیشہ ورانہ تربیت، اسسٹو ٹیکنالوجیز اور آٹزم سروسز کے شعبے میں سندھ حکومت کے کامیاب اقدامات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا جامع ماڈل ملک بھر کے لیے مثال بن چکا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سندھ حکومت خصوصی افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں بہتر تعلیمی و تربیتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، جبکہ وفاقی سطح پر تعاون سے ان خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔

  • ترک اور امریکی صدور  کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترک اور امریکی صدور کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران سے جنگ بندی، شام اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترک صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع امور کا معقول اور سفارتی حل ممکن ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر اردوان نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مستقل استحکام کا قیام پورے خطے کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ شام کے استحکام اور تعمیر نو کے لیے اپنی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گا جبکہ انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہاں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

    صدر اردوان نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد پر حالیہ حملے پر صدر ٹرمپ سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ ترکیہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی مخالفت کرتا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا اور ترک صدر کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سراہا ٹرمپ نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ میرے تعلقات بعض مضبوط رہنماؤں کے ساتھ ہیں، اردوان ایک مضبوط شخصیت ہیں اور میرے ان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جیسے کسی اور کے نہیں، انہوں نے اچھا کام کیا ہے، صدر اردوان امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس پر شبہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول ترکیہ ایک بہترین اتحادی ثابت ہوا ہے اور ترک عوام اپنے صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا،کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں ہی انڈیکس 3,000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔

    صبح 10:10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 167,892.19 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,060.77 پوائنٹس یعنی 1.86 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے،مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،بڑے انڈیکس شیئرز میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت متعدد کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 164,831.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔

  • برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانیہ کے معروف ریڈیو اسٹیشن ’ریڈیو کیرولائن‘ نے کمپیوٹر خرابی کے باعث غلطی سے شاہ چارلس سوم کی وفات کا اعلان نشر کرنے پر معذرت کرلی۔

    ریڈیو کیرولائن کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ منگل کی دوپہر مشرقی ایسکس کے شہر مالڈن میں قائم مرکزی اسٹوڈیو میں کمپیوٹر خرابی کے باعث یہ غلط اعلان نشر ہوا۔

    اسٹیشن منیجر پیٹر مور کے مطابق تکنیکی خرابی کے نتیجے میں وہ خصوصی طریقۂ کار متحرک ہوگیا جو برطانیہ کے تمام نشریاتی ادارے بادشاہ یا ملکہ کی وفات کی صور ت میں استعمال کے لیے تیار رکھتے ہیں، اگرچہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے، مذکورہ پروٹوکول فعال ہونے کے بعد ریڈیو کی نشریات بھی وقتی طور پر معطل ہوگئیں، جس سے انتظامیہ کو صورتحال کا علم ہوا، بعد ازاں نشریات بحال کرکے آن ایئر معذرت نشر کی گئی۔

    پیٹر مور نے کہا کہ ریڈیو کیرولائن کو ماضی میں ملکہ الزبتھ دوم اور اب شاہ چارلس کے کرسمس پیغامات نشر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ادارہ مستقبل میں بھی یہ روایت جاری رکھنے کا خواہاں ہےہم اس غلطی سے ہونے والی پریشانی پر شاہ معظم اور اپنے سامعین سے معذرت خواہ ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شاہ چارلس اور ملکہ کیملا شمالی آئرلینڈ کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے ایک آئرش فوک میوزک گروپ کی پرفارمنس میں شرکت بھی کی، ریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹ پر منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے سے شام 5 بجے تک کی نشریات بعد میں دستیاب نہیں تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ غلطی کتنی دیر بعد سامنے آئی۔

    واضح رہے کہ ریڈیو کیرولائن 1964 میں بی بی سی کی نشریاتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا یہ ریڈیو اسٹیشن ابتدا میں برطانوی ساحل کے قریب سمندر میں موجود جہازوں سے نشریات نشر کرتا تھا 1967 میں قانون سازی کے بعد متعدد پائریٹ ریڈیو اسٹیشن بند ہوگئے، تاہم ریڈیو کیرولائن مختلف وقفوں سے نشریات جاری رکھتا رہا اور بالآخر 1990 میں اس کی سمندری نشریات ختم ہوگئیں۔