Baaghi TV

Blog

  • وطنِ عزیز کا امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے،فیلڈ مارشل

    وطنِ عزیز کا امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہدا اور غازیوں کی ملک و ملت کے لیے لازوال قربانیوں اور ان کے لواحقین کی بے مثال استقامت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقدہ نقریب، تقسیمِ اعزازات سے خطاب کر رہے تھے شہدا اور غازیوں کو قوم کا لازوال فخر قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ شہدا کی عزت اور ان کی عظیم قربانیاں ہر پاکستانی کے لیے ایک مقد س امانت ہیں اور وطنِ عزیز کا امن و استحکام انہی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے۔

    اس پروقار تقریب کا انعقاد پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عسکری اعزازات سے نوازنے کے لیے کیا گیا تھا اور جنرل سید عاصم منیر کے اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، انہوں نے مختلف فوجی آپریشنز کے دوران غیر معمولی شجاعت، بہادری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے والے افسران، جوانوں اور شہدا کے اہلخانہ کو تمغوں اور اعزازات سے نوازا اس موقع پر پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں اور دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک کوششوں کو بھی سراہا گیا۔

    فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز پرعزم ہیں، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ پوری قومی قوت سے جاری رہے گی۔

    تقریب کے دوران دفاعِ وطن کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں 50 افسران کو ستارہِ امتیاز (ملٹری) جبکہ 12 افسران و جوانوں کو تمغہِ بسالت سے نوازا گیا،بعد از شہادت اعزازات وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا کے لواحقین نے وصول کیے۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ شہداء اور غازی قوم کا ہمیشہ قائم رہنے والا فخر ہیں، شہداء کی عزت اور قربانی ہر پاکستانی کے لیے مقدس امانت ہے۔

    پاک فوج کے افسران و جوانوں کو عسکری اعزازات دینے کے لیے جی ایچ کیو میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جس کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ شہداء اور غازی قوم کا لازوال فخر ہیں، مادرِ وطن کا امن و امان شہداء کی عظیم قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کے مرہونِ منت ہے،ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے شہداء کے اہلِ خانہ، افسران اور جوانوں کو اعزازات سے نوازا، آپریشنز میں غیر معمولی بہادری اور وطن کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ کی ثابت قدمی، وقار اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا،فیلڈ مارشل نے شہداء کی بے مثال قربانیوں اور وطن سے لازوال وابستگی کو بھی سراہا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل تیاری اور غیر متزلزل عزم کو بھی سراہا

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    گزشتہ روز سونے کے فی تولہ نرخ میں 6 ہزار 800 روپے کی کمی ہوئی ، آج پھر سونا مہنگا ہو گیا ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 50 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 530 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ،جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5000 روپے کے اضافے سے 4لاکھ 75ہزار 362روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 4287روپے بڑھ کر 4لاکھ 7ہزار 546روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 60 روپے کے اضافے سے 8ہزار 034 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 51روپے کے اضافے سے 6ہزار 887روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونا 68 ڈالر کی کمی سے 4480 ڈالر فی اونس اور مقامی سطح پر 6800 روپے کم ہونے سے 4 لاکھ 70 ہزار 362 روپے فی تولہ اور 5830 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 3 ہزار 259 روپے فی 10 گرام کی سطح پر آگیا تھا۔

  • پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان کی اسرائیلی فورسز کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی شدید مذمت

    پاکستان نے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے روکے جانے اور اس میں موجود انسانی حقوق کے کار کنوں کی گرفتاری کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے-

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں پاکستانی شہری سعد ادھی بھی شامل ہیں۔

    پاکستان نے اس اقدام کو انسانی امدادی مشن کی روک تھام اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروا ئیاں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بحری اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہیں،جو انسانی رسائی کو محدود اور بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے مشنز کے خلاف کسی بھی جابرانہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں موجود اپنے سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بیرون ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی سلامتی، وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے پاکستان مسلم دنیا کے مسائل، خصوصاً فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کی مسلسل رکاوٹ کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مشترکہ دباؤ ڈالے اور جنگی و تنازعاتی علاقوں میں انسانی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کے خلاف تمام شکایات مسترد کر دیں

    سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کے خلاف تمام شکایات مسترد کر دیں

    سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا،جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے خلاف موصول ہونے والی تمام شکایات اور ان پر ہونے والے فیصلوں کو عوامی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کے گزشتہ اجلاس کے حوالے سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اپنے خلاف دائر پانچ شکایات کی تفصیلات پبلک کر دی ہیں اعلامیے کے مطابق تمام شکایات مختلف ادوار میں مختلف افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جنہیں کونسل نے متفقہ طور پر خارج کر دیا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مختلف شہریوں اور وکلا کی جانب سے دائر شکایات کا تفصیلی خلاصہ اور ان پر کیے گئے فیصلے جاری کر دیے گئے ہیں۔

    کونسل نے میاں صبغت اللہ شاہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر شکایت بھی خارج کر دی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے 2016 میں پشاور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے ایڈیشنل سیشن ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی خلاف ورزی کی، تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 مئی کے اجلاس میں اس شکایت کو متفقہ طور پر خارج کر دیا۔

    اسی طرح کراچی کے شہری امجد حسین درانی کی شکایت بھی متفقہ طور پر مسترد کر دی گئی شکایت کنندہ کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ میں ان کا مقدمہ بغیر شنوائی کے خارج کیا گیا، جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، شکایت میں 12 جنوری 2022 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا-

    سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور کے وکیل اجمل محمود کی شکایت بھی خارج کر دی، جس میں سپریم کورٹ اور برانچ رجسٹریز میں داخلے پر پابندی کی توسیع کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

    کراچی کے رہائشی کامران خان کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ شکایت کنندہ کو شنوائی کا موقع دیے بغیر ان کی درخواست خارج کی گئی۔

    علاوہ ازیں تحصیل بورے والا، ضلع وہاڑی کے رہائشی محمد آصف مسعود کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ مارچ 2023 میں دیوانی مقدمے میں قانون اور حقائق کے برعکس فیصلہ دیا گیا، جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی بنچ کا حصہ تھے۔

  • وزیراعظم ہاؤس میں اہم انتظامی تبدیلی ، سید فرخ محبوب عہدے سے ہٹا دیئے گئے

    وزیراعظم ہاؤس میں اہم انتظامی تبدیلی ، سید فرخ محبوب عہدے سے ہٹا دیئے گئے

    حکومت نے وزیراعظم ہاؤس میں اہم انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری سید فرخ محبوب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق انہیں فوری طور پر عہدے سے فارغ کر کے ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئی ہیں،اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق سید فرخ محبوب کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاہم ان کی جگہ نئی تعیناتی کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا،حکومتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام انتظامی امور میں ردوبدل کے سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    pm house

  • معاشی طوفان سر پر منڈلا رہا ہے،آپ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں،راہول گاندھی مودی پر برس پڑے

    معاشی طوفان سر پر منڈلا رہا ہے،آپ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں،راہول گاندھی مودی پر برس پڑے

    بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ویڈیوز اور ’ٹافیاں‘ دینے پر شدید تنقید کی ہے۔

    راہول گاندھی نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین معاشی دباؤ کا شکار ہے جبکہ وزیرِاعظم بیرونِ ملک سرگرمیوں میں مصروف ہیں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ معاشی طوفان ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور وزیرِاعظم اٹلی میں ٹافیاں تقسیم کر رہے ہیں،وہ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں کہ انڈیا کے لوگوں کی بے عزتی ہے،موجودہ صورتحال میں عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہ قیادت نہیں بلکہ تماشا ہے۔

    اس سے قبل بھی کانگریس کے ایک رہنما نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ’میلونی، میلونی، میلوڈی میلوڈی‘ یہ کیا ہورہا ہے، آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، 140 کروڑ لوگوں کا لیڈر ہوکر آپ یہ کیسی حرکتیں کررہے ہو، کیا مذاق ہے-

    واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہیں جہاں انہوں ںے اطالوی وزیراعظم کو ٹافیاں تحفے میں دیں میلونی نے بھی مودی کے ساتھ ٹافیوں کا پیکٹ دکھایا اور کہا کہ یہ ٹافیاں نریندر مودی نے تحفے میں دی ہیں۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن (International Tea Day) ہر سال 21 مئی کو منایا جاتا ہے ، اس دن کو منانے کا مقصد چائے کی عالمی تجارت کو فرو غ دینا، اس کی پیداوار میں پائیداری لانا اور لاکھوں کسانوں کی معاش میں بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

    چائے کا عالمی دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام الناس میں شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔

    گرمی ہو یا سردی چائے پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک مقبول ترین مشرو ب ہے دن بھر کی تھکان میں چائے کی چسکیاں سارے مسائل حل کردیتی ہیں پاکستان میں تو ویسے بھی چائے پیش کرنا ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، مہمان آئیں یا بزرگوں کی سیاسی بیٹھک ہو، خوشی کا موقع ہو ہو یا دکھ کی گھڑی، چائے پیش کرنا ہماری تہذیبی روایات میں شامل ہو چکا ہےمہمانوں کے چائے بمعہ لوازمات پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    چائے کا استعمال عام طور پر صبح ناشتے میں کیا جاتاہے جبکہ کچھ افراد ایسے دن بھر کی تھکاوٹ سے چھٹکارا اور ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چائے ایک مقبول ترین مشروب کا درجہ اختیار کر چکی ہے، روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں۔

    اس ہر دلعزیز مشروب کا آغاز ہزاروں سال قبل قدیم چین سے ہوا، جہاں اسے آغاز میں ایک جڑی بوٹی اور دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چائے کا پودا، جسے سائنسی زبان میں کیمیلیا سائنینسز کہا جاتا ہے، سرحدیں عبور کرتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔

    اجناس کی تاریخ میں چائے کی تجارتی اور سیاسی اہمیت اتنی زیادہ رہی ہے کہ اس نے سلطنتوں کے عروج و زوال اور مختلف تہذیبوں کے سماجی رنگ ڈھنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ آج سبز چائے کے روایتی اور پرسکون انداز سے لے کر، برصغیر کی کڑک، دودھ اور مصالحہ جات سے بھرپور ”مسالہ چائے“ تک، یہ مشروب دنیا کے ہر کونے میں اپنے الگ ذائقے، خوشبو اور پہچان کے ساتھ راج کر رہا ہے۔

    چینی روایات کے مطابق اس مشروب کی دریافت کا تعلق شین نونگ سے جوڑا جاتا ہے، جو زراعت اور جڑی بوٹیوں کے علم کے بانی مانے جاتے ہیں، تقریباً پانچ ہزار سال قبل شین نونگ ایک دن کھلے آسمان تلے گرم پانی پی رہے تھے اسی دوران قریبی درخت سے چائے کے چند پتے اڑ کر ان کے پیالے میں آ گرے۔ جب انہوں نے وہ پانی پیا تو اس کا ذائقہ، خوشبو اور جسم میں پیدا ہونے والی تازگی انہیں بہت پسند آئی۔ یوں اس روایت کے مطابق چائے کی پہلی پیالی کا تصور سامنے آیا شروع میں چائے کو موجودہ دور کی طرح ایک عام تفریحی مشروب کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ ایک قیمتی دوا سمجھی جاتی تھی۔

    قدیم چینی طبیبوں کا ماننا تھا کہ چائے کے پتوں کو ابال کر پینے سے جسمانی تھکن دور ہوتی ہے، نظر تیز ہوتی ہے اور ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ صدیوں تک چینی لوگ اسے صرف مختلف بیماریوں کے علاج اور ذہنی توانائی اور چستی بڑھانے کے لیے ایک ٹانک کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ بعد میں ہان خاندان کے دور میں یہ شاہی درباروں سے نکل کر عام لوگوں کے روزمرہ کے پینے کا مشروب بنی۔

    چینی تاجروں کے ذریعے چائے کا یہ سفر آگے بڑھا اور یہ یورپ تک پہنچ گئی۔ 17ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انگریز اس مشروب کے دیوانے ہو چکے تھے لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ تھا چائے کی پوری عالمی تجارت پر چین کی اجارہ داری تھی اور برطانوی سلطنت اس اجارہ داری کو توڑنا چاہتی تھی یہی وہ ضرورت تھی جو چائے کو بڑے پیمانے پر ہندوستان میں لے کر آئی۔

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شروع میں چین سے چائے کے بیج لا کر ہندوستان میں کاشت کرنے کی کوشش کی، لیکن اصل کامیابی اس وقت ملی جب آسام کے جنگلوں میں چائے کے پودے پائے گئے اس دریافت کے بعد آسام، دارجیلنگ اور نیلگیری جیسے علاقوں میں چائے کے وسیع باغات پھیل گئے حیرت کی بات یہ ہے کہ شروع میں یہ تمام چائے صرف باہر کے ملکوں میں برآمد کرنے کے لیے اگائی جاتی تھی اور مقامی لوگ خود چائے پینے کے عادی نہیں تھے، یہ تو 20ویں صدی میں چائے کی تشہیر کے لیے چلائی جانے والی بڑی مہمات کا نتیجہ تھا کہ چائے برصغیر کے ہر گھر کی بنیادی ضرورت بن گئی۔

    جب چائے مقامی لوگوں کے ہاتھ لگی، تو انہوں نے اس کی پوری شخصیت ہی بدل دی۔ جہاں چینی لوگ چائے کو بالکل سادہ پینا پسند کرتے تھے، وہیں یہاں کے لوگوں نے اس میں دودھ، چینی، ادرک، الائچی اور مختلف مصالحہ جات شامل کر دیے۔ اس ملاپ سے ”مسالہ چائے“ نے جنم لیا، جو ذائقے میں زیادہ بھرپور، کڑک اور خوشبودار تھی۔

    چینی چائے ہلکی، دھیمی اور پھولوں یا مٹی کی خوشبو جیسی ہوتی ہے، جسے بہت سکون اور گہرائی سے محسوس کیا جاتا ہے اس کے برعکس برصغیر کی چائے کڑک، تیز اور بھرپور ہوتی ہے، جو انسان کو فوری طور پر بیدار کرنے والی کیفیت رکھتی تھی حتیٰ کہ ان کو پینے کے انداز میں بھی واضح فرق ہے چین میں چائے نوشی کا مطلب خاموشی، تامل اور فکری سوچ ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف چائے کا مطلب گفتگو، رونق اور چائے کے ساتھ کھانے کے مختلف لوازمات ہیں یہاں چائے خاندانی باتوں، دفتری وقفوں، ٹرین کے سفر اور رات دیر تک ہونے والی محفلوں کا بہانہ بنتی ہے۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات

    ایران کے دورے پر گئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے سمیت اہم علاقائی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور عباس عراقچی کے درمیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی رابطوں کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ محسن نقوی 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ کا ایک ہفتے کے دوران ایران کا یہ دوسرا دورہ دونوں ممالک کے قریبی روابط اور خطے میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔