Baaghi TV

Blog

  • ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

    امریکی ٹی وی نے سیٹیلائیٹ تصاویر کی مدد سے ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی اردن میں جدید ترین تھاڈ دفاعی نظام کا ریڈار تباہ کردیا تھا۔

    امریکی ٹی وی کے مطابق ایران نے کمیونیکیشن، ریڈار اور جاسوسی آلات سےائیر ڈیفنس کمزور کرنے کی کوشش کی،رپورٹ کے مطابق ایران نے عرب امارات میں بھی دو مقامات پر تھاڈ ریڈار پر تاک کر حملہ کیا تاہم اماراتی ریڈار عمارت کے اندر ہونے کے سبب ٹھیک نقصان کا اندازہ ممکن نہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایک تھاڈ ڈیفنس سسٹم کی قیمت 50 کروڑ ڈالر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے قطر کے ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کیاگیاہے۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرق وسطیٰ جنگ،سعودی،عرب امارات،کویت،قطر کا امریکہ سے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکہ کے ساتھ اپنے بعض معاہدوں اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر نظرثانی کا سوچ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ان ممالک کے حکام نے داخلی سطح پر ایسی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت امریکہ کے ساتھ کچھ مالی معاہدوں سے دستبرداری یا مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگ کے باعث پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے خلیجی ممالک کی معیشت پر کئی طرح کے دباؤ پیدا کر دیے ہیں۔ ایران ان ممالک میں‌امریکی اڈوں کو نشانے بنا رہا ہے،توانائی کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔خلیجی فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔سیاحت اور ہوا بازی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ان عوامل کے باعث کئی خلیجی حکومتیں اپنی بیرونی سرمایہ کاری اور مالی وعدوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں۔اگر یہ ممالک واقعی سرمایہ کاری کم کرتے ہیں تو اس سے امریکی معیشت اور عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان کے ہاتھوں بدترین ہزیمت،افغان طالبان رجیم کی میڈیا پر سچ کو چھپانے کی کوشش

    پاکستان کے ہاتھوں بدترین ہزیمت،افغان طالبان رجیم کی میڈیا پر سچ کو چھپانے کی کوشش

    افغان طالبان رجیم نے آپریشن غضب للحق میں پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کو چھپانے کیلئے میڈیا پر دباو اور پابندیاں بڑھا دیں

    افغان میڈیا آمو ٹی وی کے مطابق افغان طالبان کیخلاف پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان نے مقامی میڈیا پر دباو اور سنسرشپ مزید بڑھا دی ہے،افغان طالبان نے صحافیوں کو خبردار کیا کہ وہ حملوں کی رپورٹنگ نہ کریں خصوصاوہ جو انکے فوجی مراکز پر ہوئے ہیں،افغان طالبان نے میڈیا کو پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے مقامات یاتعداد سے متعلق رپورٹنگ سے بھی روک دیا ہے ،افغان میڈیا کوانتباہ جاری کیا گیاہےکہ طالبان کی فوجی تنصیبات پر حملوں سے متعلق کوئی خبر شائع یا نشر نہ کی جائے ،

    ماہرین کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں تباہ شدہ ٹھکانوں سے متعلق رپورٹنگ پر پابندی نے افغان طالبان رجیم کی منافقت اور ناکامی بے نقاب کر دی ہے،میڈیا پر پابندی اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں ،ماہرین

  • کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان بارڈر پرکرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ کردیں،پاک فوج نے بھاری آرٹلری فائر سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا،

  • ایران کا خیبرشکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ، ابراہام لنکن پر بھی میزائل برسا دیئے

    ایران کا خیبرشکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ، ابراہام لنکن پر بھی میزائل برسا دیئے

    ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیب پر حملہ کردیاہے،

    روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان حملوں میں کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے،روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک کی جانب کردیا گیا تاکہ فضاؤں میں ایرانی میزائل داخل ہوتے نہ دیکھے جاسکے ۔ حملے کےوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔

    ادھر ایرانی ڈرونز نے خلیج عمان میں امریکی طیارہ بردارجہاز ابراہام لنکن پر بھی حملہ کردیا۔ روسی میڈیا کےمطابق ایرانی حملےکے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز خلیج سے دور چلا گیا، بحرین کے دارالحکومت منامہ کے2 ہوٹل اوررہائشی عمارت بھی ڈرون کا نشانہ بنے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    طالبان کی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں ناکام، متعدد ممالک کا ثالثی سے انکار

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک ان کوششوں کو زیادہ تر ممالک کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک سے رابطے کر کے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان حکام نے 15 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات شروع کرانے میں کردار ادا کریں۔تاہم ذرائع کے مطابق بیشتر ممالک نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا کہ افغانستان کو سب سے پہلے پاکستان کے تحفظات اور شرائط پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض ممالک نے طالبان قیادت کو یہ بھی بتایا کہ کشیدگی میں کمی کا راستہ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرنے اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے ثالثی کے لیے روس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اب تک ماسکو کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حالیہ رابطہ ملائیشیا کے ساتھ کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر جنگ بندی کی اس سفارتی کوشش کو مختلف ممالک کی جانب سے پذیرائی نہیں مل سکی۔

  • سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    سعودی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے اعلان پر ایران مشکور

    ایران نے سعودی عرب کی جانب سے اس کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کے اعلان پر سعودی عرب سے اظہار تشکر کیا۔

    سعودی عرب میں ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب کے اس اعلان کو سراہتا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مملکت کی فضائی، سمندری یا زمینی حدود اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی، جس پر ایران ان کا شکر گزار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل بھی سعودی عرب نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کی تھی اور واضح کیا تھا کہ ایران پر کسی حملے کیلئے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • قصور کی معتبر صحافتی تنظیم ،ایمرا ویب ویب ٹی وی, کی تقریب حلف برداری و دعوت افطار آج ہو گی

    قصور کی معتبر صحافتی تنظیم ،ایمرا ویب ویب ٹی وی, کی تقریب حلف برداری و دعوت افطار آج ہو گی

    قصور میں معتبر صحافتی تنظیم ایمرا ویب ٹی وی جرنلسٹس کی حلف برداری تقریب آج منعقد ہوگی
    ایمرا ویب جرنلسٹس قصور کے امیدوار ممبران، ووٹرز آج March 6, 2026 بروز جمعہ سہ پہر 3 بجے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرینگے
    یہ تقریب منیر پلیس ہال، بی سائیڈ علی احمد شاہ کالونی، شہباز خان روڈ قصور میں منعقد کی جائے گی
    تقریب کے اختتام پر تمام ممبران، ووٹرز اور سپورٹرز کے اعزاز میں افطار ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے
    تقریب میں مہمانانِ خصوصی میں
    محمد افضل بابر ایڈووکیٹ، مصطفیٰ علی فارانی، سردار جمال ڈوگر، صابر علی بابر زرگر اور عبداللہ لطیف بھٹی شریک ہوں گے
    منتظمین کے مطابق تمام ممبران اور سپورٹرز کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ کی شرکت اس تقریب کی کامیابی اور ہمارے لیے باعثِ فخر ہوگی

  • پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین  مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں امن اور استحکام کے لیے متعدد مواقع پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دے،صرف اس صورت میں جب طالبان کے فنانسرز ان کی مالی امداد بند کر سکیں اور افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں، اگر طالبان کو مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو نہ روکا گیا تو دہشت گردی کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، دہشت گردی کی نہ کوئی جغرافیائی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کسی مذہب سے تعلق ہے۔ اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

  • بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک جدید لڑاکا طیارہ Sukhoi Su‑30MKI گر کر تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    حادثہ ریاست کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پائلٹ کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کا یہ قیمتی لڑاکا طیارہ آسام کے پہاڑی علاقے میں پرواز کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم پائلٹ کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران Su-30MKI طیاروں کے حادثات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ایک بھارتی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا “آسام کی فضاؤں میں ایک اور دل دہلا دینے والا نقصان… Su-30MKI کاربی آنگلونگ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، پائلٹ لاپتہ ہے۔ ہمارے قیمتی سخوئی طیاروں کے مسلسل حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟”اسی پوسٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی سوال کیا گیا کہ شمال مشرقی بھارت میں تعینات افواج کو بہتر تحفظ اور جدید سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    اس واقعے پرسینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتا،لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستانی پائلٹس بھارتی پائلٹس کو تربیت دے سکتے ہیں ،بھارتی جنگ میں تو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن کم از کم اپنے جدید طیارے بلا وجہ گرنے سے بچا سکیں گے۔